Skip to content
Home » ضربِ کلیم 183: فلسطینی عرب سے

ضربِ کلیم 183: فلسطینی عرب سے

”فلسطینی عرب سے“ از علامہ اقبال

تعارف

جیسا کہ نظم ”شام و فلسطین“ میں لکھا جا چکا ہے، جب یہودی انگریز کی سرپرستی میں فلسطین آنے لگے تو یہ عربوں کے لیے بہت بڑی مصیبت تھی۔ چنانچہ کئی مرتبہ باہمی کشاکش کے موقعے آئے جس پر عربوں نے جمعیتِ اقوام (League of Nations) سے اس حالت کو دُور کرنے کی درخواستیں کیں، لیکن اس کا کوئی نتیجہ سامنے نہ آیا۔ نظم ”فلسطینی عرب سے“ میں علامہ نے عربوں کو خودی کی پرورِش کا پیغام دیا ہے۔

(حوالہ: شرح ضربِ کلیم از ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی)


اس نظم میں اقبالؔ نے عربوں کو ساحرانِ فرنگ کے طلسم سے رہائی حاصل کرنے کا طریقہ بتایا ہے۔ جن لوگوں نے کلامِ اقبالؔ کا مطالعہ کیا ہے اُن سے یہ حقیقت مخفی نہیں کہ علامہ کے دِل میں مِلتِ اسلامیہ کی بہبود کا کس قدر درد تھا۔ وہ رات دِن فلسطینی عربوں کے غم میں گھُلتے رہتے تھے اور یہ نظم اُن کے خلوص اور محبت کی، جو اُنہیں اس قوم کے ساتھ تھی، بڑی حد تک عکاسی کرتی ہے۔ واضح ہو کہ مجھ سے علامہ مرحوم نے خود ایک مرتبہ فرمایا تھا کہ ”مجھے عربوں سے غیر معمولی محبت ہے کیونکہ یہ لوگ سرکارِ دو عالم ﷺ سے ایک نسبت رکھتے ہیں، عربی بولتے ہیں، وہ زبان جس میں حضور اکرم ﷺ گفتگو فرماتے تھے۔“

(حوالہ: شرح ضربِ کلیم از پروفیسر یوسف سلیم چشتی)

YouTube video

نظم ”فلسطینی عرب سے“ کی تشریح

زمانہ اب بھی نہیں جس کے سوز سے فارغ
میں جانتا ہوں وہ آتش ترے وجود میں ہے

حلِ لغات:

سوزحرارت
آتشآگ
وجودذات، ہستی، جسم
حلِ لغات (ضربِ کلیم 183: فلسطینی عرب سے)

تشریح:

اے فلسطین کے عرب! میں جانتا ہوں کہ تیرے وجود میں ابھی تک وہی آتش موجود ہے جس کے سوز سے زمانہ (دُنیائے کفر) ابھی تک فارغ نہیں ہوا ہے یعنی کفارِ فرنگ ہنوز مطمئن نہیں ہوئے ہیں کہ ہم نے عربوں کو زیر کر لیا ہے۔ وہ ابھی تک اُس آگ کو جو صلاح الدین ایوبیؒ بلکہ حضرت خالد بن ولیدؓ نے بھڑکائی تھی، بجھانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔

”سوز“ سے اقبالؔ کی مراد وہ جذبۂ جہاد ہے جو سرکارِ دو عالم ﷺ کی تعلیمات سے پیدا ہوا تھا اور اکبر الہ آبادی نے اپنے اس مشہور شعر میں اسی طرف اشارہ کیا ہے۔ یہ شعر اس نظم میں ہے جس میں ایک انگریز لڑکی مسلمان قوم سے اپنی نفرت کا سبب بیان کرتی ہے، چنانچہ کہتی ہے:-

؎ مطمئن ہو کوئی کیونکر کہ یہ ہیں نیک نہاد
ہے ہنوز ان کی رگوں میں اثرِ حکمِ جہاد

اللہ اکبر! اکبر الہ آبادی نے ایک شعر میں انگریز قوم کی پوری ذہنیت اُسی قوم کی ایک لڑکی کی زبان سے واضح کر دی ہے۔

عربوں نےصحرائے عرب سے اُٹھ کر ایمان کے زور پر اقوامِ عالم پر فتح یاب ہو کر مُدت تک حکومت کی ہے۔ آزادی کی حرارت عربوں کی گھُٹی میں موجود ہے۔ اس تناظر میں علامہ کہتے ہیں کہ فلسطین کے عربو! میں جانتا ہوں کہ تمہارے جسموں میں وہ آگ موجود ہے جس نے کبھی فارس اور روما کے تخت اُلٹ دیے تھے لیکن تمہارے انگریز حاکم (جو پہلی جنگِ عظیم میں ترکوں کی شکست کے بعد فلسطین پر قابض ہو گئے تھے اور انہوں نے وہاں یہودیوں کو اس لیے بسانا شروع کر دیا تھا کہ اس ملکِ فلسطین میں یہودیوں کی ایک آزاد ریاست اسرائیل کے نام سے قائم کی جائے)۔ تمہاری تقریروں اور تحریروں اور مطالبوں سے تمہیں آزاد نہیں کریں گے اور یہودیوں کو تمہارے ملک میں لا کر بسانے سے باز نہیں آئیں گے تاوقتیکہ تم اسی سوز اور آگ سے کام نہ لو گے جو تمہاری سرِشت میں موجود ہے۔


تری دوا نہ جنیوا میں ہے نہ لندن میں
فرنگ کی رگ جاں پنجہ یہود میں ہے

حلِ لغات:

دواعلاج
جنیواوہ مقام جہاں لیگ آف نیشنر (League of Nations) قائم ہوئی
فرنگاہلِ یورپ
رگِ جاںشہ رگ، مراد جان
پنجۂ یہودیہودیوں کا پنجہ، مراد یہودیوں کا قبضہ
حلِ لغات (ضربِ کلیم 183: فلسطینی عرب سے)

تشریح:

تیرا علاج جہاد میں، اپنے بدن کی حرارت کو عمل میں لا کر آزادی حاصل کرنے میں پوشیدہ ہے۔ اپنے بدن کی حرارت کو عمل میں لا کر آزادی حاصل کرنے میں ہے، نہ اس میں کہ تُو جنیوا میں جا کر اقوامِ متحدہ سے فریاد کرے یا انگلستان میں جا کر انگریزوں کی منت کرے کہ وہ تمہارے ملک میں یہودیوں کو لانے اور لا کر بسانے سے باز رہیں۔ وہاں کوئی تمہاری بات نہیں سنے گا۔ کیونکہ اہلِ مغرب کی جان کی رگ (جو اقوامِ متحدہ بنائے بیٹھے ہیں) یا انگریزوں کی جان کی رگ (جو تمہارے ملک کے حاکم بنے ہوئے ہیں) یہودیوں کے پنجے میں ہے۔

یورپ کے سارے ملکوں خصوصاً مغربی ممالک (انگلستان سمیت اور آج امریکہ سمیت) کی تجارت، صنعت اور اقتصادیات پر یہودی قابض ہو چکے ہیں، اس لیے انگریز وہی کچھ کریں گے اور اقوامِ متحدہ وہی کچھ کرے گی جو یہودی چاہیں گے۔ اس لیے اقوامِ متحدہ یا انگلستان کے پیچھے دوڑنے کی بجائے اپنی خود داری سے کام لو اور اپنی جد و جہد کے سوز سے انگریزوں اور یہودیوں کو اپنے ملک سے باہر پھینک دو۔

لہذا تیری دوا جنیوا (اقوامِ متحدہ) یا لندن (اقوامِ یورپ) پاس نہیں ہے، کیونکہ اُن کی رگِ جان پر یہودی قابض ہو چکے ہیں۔ اس لیے تُو اقوامِ متحدہ یا اقوامِ یورپ سے انصاف کی کوئی اُمّید نہ رکھ!


سُنا ہے میں نے غلامی سے امتوں کی نجات
خودی کی پرورش و لذت نمود میں ہے

حلِ لغات:

نجاتچھُٹکارا
خودی کی پرورِشاپنی مخفی قوّتوں اور صلاحیّتوں کو ترقی دینا
لذّتِ نمودعمل کرنے کی لذت
حلِ لغات (ضربِ کلیم 183: فلسطینی عرب سے)

تشریح:

تمہیں چاہیے کہ اپنے اسلاف (بزرگوں) کی طرح اپنی خودی کی تربیت کرو اور ترقی کی منازل طے کرو۔ اسی خودی کی بدولت ہمارے اسلاف کے پوشیدہ جوہر ظاہر ہوتے تھے، جن سے دنیا کانپ اُٹھتی تھی اور اُنہوں نے ایک عالم کو تسخیر کر لیا تھا۔ چنانچہ میں نے تجربہ کار، اور بزرگ لوگوں سے یہ بات سُن رکھی ہے کہ اگر کوئی غلام قوم غلامی سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے پہلے اپنے اندر اپنی خودی کو بیدار کرنا چاہیے۔ اپنی خود آگاہی حاصل کرکے اپنی قوتوں اور صلاحیتوں سے آشنا ہونا چاہیے اور پھر ان کو عمل میں لا کر آقاؤں اور مالکوں کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونا چاہیے۔ اسی میں آزادی کا راز پوشیدہ ہے۔

یاد رکھو کہ اقوامِ عالم یا انگریزوں کے سامنے مطالبات پیش کرنے سے کچھ حاصل نہیں آئے گا۔

اگر تم نے اپنی ذات کو فروخت نہ کیا اور اس کی حفاظت کی تو کوئی وجہ نہیں کہ تم دوبارہ آزاد اور حاکم نہ بن جاؤ۔ یہ فطرت کا اٹل فیصلہ ہے جو بدل نہیں سکتا۔ سو تُمہیں چاہیے کہ اپنی خودی کی تربیت طرف توجہ کرو، تاکہ تم ان ظالموں کے پنجوں سے نجات حاصل کر سکو۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں کہ غلامی سے نجات کا طریقہ صرف ایک ہی ہے، اس کے علاوہ ابھی تک دوسرا طریقہ ایجاد نہیں ہوا۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ مسلمان:

  • پہلے خودی کی پرورِش کرے یعنی اُسے نقطۂ کمال تک پہنچائے۔
  • پھر اس کے اظہار کی لذت کا احساس پیدا کرے۔ دوسرے الفاظ میں پہلے شعورِ خودی پیدا کرے اور پھر جذبۂ نمودِ خودی۔ ان دو باتوں کے بعد عمل یا جہاد خودبخود سرزد ہوگا اور اس شدت کے ساتھ کہ اس کے سامنے پہاڑ بھی قائم نہیں رہ سکتا۔ یہ شعور کہ میرے سامنے غیر اللہ کی کوئی حقیقت نہیں ہے، انسان کو ”سیلِ بے پناہ“ بنا دیتا ہے۔

نوٹ

کاش پاکستان کے اربابِ اقتدار، اقتصادی پروگرام کے ساتھ ساتھ، پاکستانی مسلمانوں کی خودی کی پرورِش کا بھی کوئی پروگرام مُدوّن فرمائیں تاکہ حصولِ مقصد کی طرف پہلا قدم تو بڑھا سکے!

اقبالؔ نے کہنے کی حد تک سب کچھ کہہ دیا ہے، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اُن کے ارشادات پر عمل کریں اور میں اپنے یقین کی پوری طاقت کے ساتھ اس حقیقت کا اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ جب تک اربابِ حکومت خود عمل کرنا شروع نہیں کریں گے، عوام میں عمل کا جذبہ اور داعیہ پیدا نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ بچپن ہی میں میرے بزرگوں (والدین) نے یہ حقیقت میرے دِل پر نقش کر دی تھی کہ ”جیسا راجہ، ویسی پرجا“، لہذا یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ راجہ تو ہوٹلوں میں بُعتانِ فرنگ کے کمالاتِ رقص کی داد دے اور پرجا مسجدوں میں جا کر خودی کی تربیت کرے۔

(حوالہ: شرح  ضربِ کلیم از پروفیسر یوسف سلیم چشتی)

حوالہ جات

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments