Skip to content
Home » ضربِ کلیم 62: مردِ مُسلمان

ضربِ کلیم 62: مردِ مُسلمان

”مردِ مُسلمان“ از علامہ محمد اقبال

تعارف

اِس نظم میں اقبالؔ نے مردِ مومن کی صفات بیان کی ہیں۔

(حوالہ: شرح ضربِ کلیم از پروفیسر یوسف سلیم چشتی)

تشریح

ہرلحظہ ہے مومن کی نئی شان، نئی آن
گُفتار میں، کردار میں، اللہ کی برُہان!

قرآن پاک میں اللہ تعالی اپنے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ:-

”کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِیْ شَاْنٍ“
ہر روز اُس (اللہ تعالی) کی ایک نئی شان ہے۔ْ
(حوالہ: القرآن: سورۃ الرحمن: آیت نمبر 29)

مردِ مسلمان چونکہ صفاتِ ایزدی (اللہ تعالی کی صفات) کا حامل ہوتا ہے، اس لیے وہ بھی ہر لمحہ ایک نئی شان، ایک نئے شِکوہ اور ایک نئے اکرام کی صورت میں جلوہ فروز ہوتا ہے اور ہر لمحہ تقویٰ اور پاکیزگی میں ترقی کرتا رہتا ہے، ایک حالت پر قانع نہیں رہتا۔

اِس کی گفتگو (گفتار) سُنیں یا اِس کا عمل (کردار) دیکھیں؛ دونوں چیزیں اللہ تعالی کی حُجّت کی دلیل اور نشان ہوتی ہیں۔ وہ اپنے اقوال و اعمال سے اللہ اور کلام اللہ کی حقانیت کے دلائل پیش کرتا رہتا ہے۔ اُس کے اقوال و اعمال کو دیکھ کر دُنیا اللہ کی ہستی پر ایمان لاتی ہے۔ اس کی مثال ہندوستان کے صوفیائے اکرامؒ کی زندگیوں کے مطالعہ سے بخوبی مِل سکتی ہے۔ چنانچہ ان کی صحبت کے اثر سے ہزاروں بلکہ لاکھوں غیر مسلم اللہ تعالی پر ایمان لے آئے۔


قہاّری و غفاّری و قدّوسی و جبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان

ایک مردِ مُسلمان میں چار عناصر (اجزائے ترکیبی) کا ہونا ضروری ہے۔

پہلا عنصر قہاری کا ہے یعنی اس میں ایسی ہیبت ایسی قوت ہوتی ہے کہ مخالف لرز اُٹھتا ہے۔

دوسرا عنصر غفاری کا ہے، وہ دوستوں کے ساتھ حُسنِ سلوک اور رحم کے ساتھ پیش آتا ہے اور ان کی خطاؤں سے درگُزر کرتا ہے اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب وہ دُشمن پر غلبہ پالیتا ہے تو اُسے معاف کردیتا ہے۔

تیسرا عنصر قدوسی ہوتا ہے، یعنی اس کی سیرت میں، اس کے عمل میں، اس کی گفتار میں اور اس کی حرکات و سکنات میں فرشتوں جیسی پاکیزگی ہوتی ہے۔

 چوتھا عنصر جبروت کا ہوتا ہے یعنی عظمت، جلال اور شِکوہ میں سب پر فوقیت رکھتا ہے۔

ایک شخص ایمان تو اللہ او اس کے رسول ﷺ پر لا سکتا ہے لیکن عملاً وہ مسلمان اور مومن اس وقت بنتا ہے جب اس میں مذکورہ بالا چار عناصر شامل ہوں۔  واضح ہو کہ یہ چار صفات اللہ کی ذاتِ مبارک میں پائی جاتی ہیں اور مومن ظِلِّ الہی ہوتا ہے۔


ہمسایۂ جِبریلِ امیں بندۂ خاکی
ہے اس کا نشیمن نہ بخارا نہ بدخشان

مومن اگرچہ انسان ہوتا ہے، لیکن اُس میں فرشتوں کی سی پاکیزگی پائی جاتی ہے۔ اس کا جسم بھی خاکی ہی ہوتا ہے لیکن اس کی سرِشت اور نہاد نورانی ہوتی ہے۔ وہ اپنے باطن کی صفائی اور پاکیزگی کی وجہ سے جبریلِ امین کا ہمسایہ ہوتا ہے یعنی خدا کا قرب حاصل کرکے زندگی بسر کرتا ہے۔ اُسے نسلی وطنیت سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ وہ خود کو بدخشانی یا بخاری وطنیت کی حدوں میں محدود نہیں کرتا۔ یعنی اپنی قومیت کی بنیاد جغرافیائی وطنیت پر نہیں رکھتا بلکہ ایمانی اور روحانی وطنیت پر رکھتا ہے۔ وہ وطن دوست تو ہوتا ہے، لیکن وطن پرست نہیں ہوتا۔ وہ اپنے دین کے لیے اپنا وطن ترک کر سکتا ہے، لیکن اپنے وطن کے لیے اپنے دین کو ترک نہیں کر سکتا۔ وہ اس بات سے بخوبی واقف ہوتا ہے کہ اسلام ہی اُس کا وطن ہے۔

علامہ اقبال فرماتے ہیں:-

؎ سُنا ہے، خاک سے تیری نمود ہے، لیکن
تیری سرِشت میں ہے کوکبی و مہتابی
(حوالہ: بالِ جبریل: فرشتے آدم کو جنّت سے رخصت کرتے ہیں)

ایک اور جگہ فرماتے ہیں:-

؎ بازو ترا توحید کی قوّت سے قوی ہے
اسلام ترا دیس ہے، تُو مصطفوی ہے
(حوالہ: بانگِ درا: وطنیت)


یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے، حقیقت میں ہے قُرآن!

دنیا والے بہت کم ایسے ہوں گے جو اس راز کو جانتے ہوں گے کہ مومن بظاہر تو قرآن پڑھتا ہوا نظر آتا ہے لیکن حقیقت میں وہ خود قرآن ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ قرآن کو صرف پڑھتا نہیں بلکہ اُس کے حرف حرف پر عمل کرکے اُس کا آئینہ دار ہوجاتا ہے۔ چونکہ یعنی اُس کی پوری زندگی قرآن کے سانچے میں ڈھلی ہوئی ہوتی ہے، اس لیے وہ خود خود چلتا پھِرتا قرآن بن جاتا ہے۔


قُدرت کے مقاصد کا عیار اس کے ارادے
دُنیا میں بھی میزان، قیامت میں بھی میزان

مومن کے ارادے اور خیالات (چاہے گفتاری اور فکری ہوں یا چاہے عملی و کرداری ہوں)، قدرت کے مقاصد کی کسوٹی ہوتے ہیں یعنی قدرت کیا چاہتی ہے، اس بات کا جواب مومن کے ارادوں سے مِل سکتا ہے۔ قدرت جس امر کا تقاضا کرتی ہے، مومن اُسے عمل کی صورت میں دے دیتا ہے۔ مومن اللہ تعالی کی منشا کے مطابق اس دنیا میں قانون نافذ کرتا ہے۔ مسلمان حکمران اس دنیا میں بھی انصاف کرتا ہے اور قیامت کے روز بھی انصاف والا پکارا جائے گا۔ وہ دنیا میں بھی اور قیامت میں بھی خدا کی میزان (ترازو) ہوتا ہے یعنی دنیا میں بھی نیکی اور بدی میں تفریق کرتا ہے، اور قیامت کے روز وہی نیک و بد میں تفریق کا معیار ٹھہرے گا۔

اِسی نُکتہ کو اقبالؔ نے یوں بیان کیا ہے:-

؎ غلامی کیا ہے؟ ذوقِ حُسن و زیبائی سے محرومی
جسے زیبا کہیں آزاد بندے، ہے وہی زیبا
(حوالہ: بالِ جبریل)


جس سے جگَرِ لالہ میں ٹھنڈک ہو، وہ شبنم
دریاؤں کے دِل جس سے دہَل جائیں، وہ طوفان

مومن زخمیوں، مسکینوں او غمزدوں کے حق میں مونس (غم بٹانے والا) اور ہمدرد ہوتا ہے، اور ظالموں اور زبردستوں کے حق میں طوفان اور بلائے درماں ہوتا ہے۔مردِ مسلمان (مومن) وہ ہے جو سوختہ دِلوں اور جلے ہوئے جگر والوں کے لیے یعنی مصیبت زدوں اور دُکھیوں کے لیے ایسی ٹھنڈک بنتا ہے، جیسی ٹھنڈک گُلِ لالہ کے سوختہ جِگر کو صبح کی شبنم پہنچاتی ہے۔ اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ مومن اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے رحم دِل اور نرم دِل ہوتا ہے، اس کے برعکس اگر دشمن مقابلے میں ہو تو وہ اس طوفان کی طرح ہوتا ہے جس سے دریاؤں کے دِل بھی کانپ اُٹھیں۔ مراد یہ ہے کہ وہ دشمنوں سے اپنے پورے قہر، جبروت اور طاقت سے نپٹتا ہے۔

مومن زخمیوں، مسکینوں او غمزدوں کے حق میں مونس (غم بٹانے والا) اور ہمدرد ہوتا ہے، مردِ مسلمان (مومن) وہ ہے جو سوختہ دِلوں اور جلے ہوئے جگر والوں کے لیے یعنی مصیبت زدوں اور دُکھیوں کے لیے ایسی ٹھنڈک بنتا ہے، جیسی ٹھنڈک گُلِ لالہ کے سوختہ جِگر کو صبح کی شبنم پہنچاتی ہے۔ اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ مومن اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے رحم دِل اور نرم دِل ہوتا ہے۔

اس کے برعکس اگر دشمن مقابلے میں ہو تو وہ اس طوفان کی طرح ہوتا ہے جس سے دریاؤں کے دِل بھی کانپ اُٹھیں۔ وہ ظالموں اور زبردستوں کے حق میں طوفان اور بلائے درماں ہوتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ وہ دشمنوں سے اپنے پورے قہر، جبروت اور طاقت سے نپٹتا ہے۔

مُّحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّـٰهِ ۚ وَالَّـذِيْنَ مَعَهٝٓ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَـمَآءُ بَيْنَـهُـمْ

محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ اُن کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت  اور آپس میں رحیم ہیں۔

 (القرآن: سورۃ الفتح: آیت نمبر 29)

اقبالؔ ضربِ کلیم میں فرماتے ہیں:-

؎ ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
(حوالہ: ضربِ کلیم: مومن)


فطرت کا سرودِ اَزلی اس کے شب و روز
آہنگ میں یکتا صفَتِ سورۂ رحمٰن

مومن کے دِن اور مومن کی راتیں الغرض مومن کا ہر لمحہ ایک ایسا گیت (سُرُود) ہے جسے فطرت (قدرت) نے اپنے لیے روزِ اول (ازل) سے پسند کیا ہوا ہے۔ مومن کی زندگی فطرت کے نغموں کی طرح دِلکش ہوتی ہے اور اِس میں فطرت کے قوانین کے ساتھ ایسی ہم آہنگی پائی جاتی ہے جیسی سورۃ الرحمن کی آیتوں میں نظر آتی ہے۔ قرآن پاک کی سورۃ الرحمن کی آیتیں دوسری قرآنی آیتوں کے مقابلے میں زیادہ ہم آواز اور ہم آہنگ ہیں۔ جس طرح قرآن میں سورۃ الرحمن اپنی اس صفت کے اعتبار سے واحد اور بے مثل سورۃ ہے، اُسی طرح مردِ مسلمان بھی قدرت کی منشا کی ہم آوازی کے لحاظ سے جملہ انسانوں میں منفرد، واحد اور بے مثل ہوتا ہے۔


بنتے ہیں مری کارگہِ فکر میں انجم
لے اپنے مقدّر کے ستارے کو تو پہچان!

اے مخاطب! میری شاعری کو محض شاعری نہ سمجھ، بلکہ میں تو اس میں قرآن کے حقائق و معارف بیان کرتا ہوں۔ میری فکر کے کارخانے (کارگہ فکر) میں ایسے ستارے (انجم) جنم لیتے ہیں جو تیری قسمت کو چمکا سکتے ہیں۔ دانش مندی یہ ہوگی کہ تُو اپنے مقدر کے ان ستاروں کو پہچان لے۔ یعنی میری شاعری میں جو حقیقتیں اور معرفتیں ہیں وہ گویا تابِندہ ستاروں کی مانند ہیں، اس لیے تُو ذرا غور تو کر کہ اِن میں سے کونسا نقطۂ معرفت تیرے دِل کو بھاتا ہے، جو تجھے پسند آئے اُسی کو اختیار کر، یقیناً تیرا مقدر سنور جائے گا۔

نوٹ: یہ شعر تلازمۂ تصوّرات اور شاعرانہ رعایت کی نہایت عُمدہ مثال ہے جس سے اقبالؔ کی قادر الکلامی ثابت ہوتی ہے۔ چونکہ پہلے مصرع میں انہوں نے اپنے اشعار کو ”انجم“ قرار دیا ہے (یہاں انجم استعارہ ہے، جس سے اقبالؔ کا شعر مراد ہے، اس لیے دوسرے مصرع میں ”مقدر کا ستارہ“ لائے ہیں، جس سے لُطفِ کلام دوبالا ہوگیا ہے)۔ مقدر کا ستارہ علمِ نجوم کی اصطلاح ہے، یعنی وہ ستارہ جو انسان کے مقدر پر حکمران ہوتا ہے۔ دوسرا اور اقبالؔ کا اصلی مطلب یہ ہے کہ تُو ان اشعار میں سے جس شعر کو اپنے لیے منتخب کرے گا، وہی تیرے مقدر کا ستارہ بن جائے گا۔ یعنی اس پر عمل کرنے سے تیرا نصیبا جاگ اُٹھے گا۔

حوالہ جات

  • شرح ضربِ کلیم از پروفیسر یوسف سلیم چشتی
  • شرح ضربِ کلیم از اسرار زیدی
  • شرح ضربِ کلیم از ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی
  • شرح ضربِ کلیم از عارف بٹالوی
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments