Skip to content
Home » بانگِ درا 34: تصویرِ درد

بانگِ درا 34: تصویرِ درد

”تصویرِ درد“ از علامہ محمد اقبال

فہرست (Table of Contents)

تعارف

یہ دِلکش نظم اقبالؔ نے 1904ء کے آغاز میں لِکھی تھی۔ جب اُن کی عمر 30 سال کے قریب تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اِس نظم میں بھی جوانی کا رنگ نمایاں ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جب اقبالؔ پر وطن دوستی کا رنگ غالب تھا۔

اِس نظم میں اقبالؔ ایک وطن پروَر (Nationalist) کی شکل میں قوم کے سامنے آتے ہیں اور جو رنگ ہمالہؔ ، نیا شِوالا اور ترانۂ ہندی میں پایا جاتا ہے وہی رنگ پوری شِدّت کے ساتھ اِس نظم میں نظر آتا ہے۔ اُنہوں نے دِل کھول کر اہلِ وطن کی نفاق انگیز روِش پر نوحہ خوانی کی ہے۔ اور اُنہیں صاف لفظوں میں مُتنبہ کیا ہے کہ اگر تم نے آنے والی مصیبت کا اندازہ کرکے آپس میں اِتحاد نہ قائم کیا تو تُم مِٹ جاؤ گے اور

؏ تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

بدقسمت وطن کی حالتِ زار اُنہیں اِس درجہ مُتاثر کرتی ہے کہ ہر وقت اُس کے تاریک مستقبل پر آنسو بہانا چاہتے ہیں اور اِس میں کوئی شک نہیں کہ اِس نظم میں ایک سچئ محبِ وطن کی مضطر روح آہ و فریاد میں مصروف نظر آتی ہے اور جو اشعار دِل کی گہرائیوں سے نکلے ہیں وہ ہر محبِ وطن کو متاثر کر دینے کے لیے کافی ہیں۔ جس بند (تیسرے بند) کا شعر یہ ہے:-

؎ رُلاتا ہے ترا نظّارہ اے ہندوستاں! مجھ کو
کہ عبرت خیز ہے تیرا فسانہ سب فسانوں میں

یہ پورا بند اقبالؔ کے وطن پروَرانہ جذبات کا بہترین مرقع ہے۔

(حوالہ: شرح بانگِ درا از پروفیسر یوسف سلیم چشتی)


ولایت جانے سے پہلے اقبالؔ نے پانچ طویل نظمیں انجمن حمایتِ اسلام کے سالانہ جلسوں میں پڑھیں۔ اوّل ”نالۂ ئتیم“، دوم ”یتیم کا خطاب ہلالِ عید سے“، سوم ”اسلامیہ کالج کا خطاب مسلمانانِ پنجاب سے“، چہارم ”ابرِ گہربار یا فریادِ اُمّت“ اور پنجم ”تصویرِ درد“۔ اِن میں سے پہلی چار نظمیں ”بانگِ درا“ میں شامل نہ کیں۔ ”فریادِ اُمّت“ کا صرف ایک بند ”دِل“ کے عنوان سے باقی رکھا۔

”تصویرِ درد“ کے دس بند اور ایک سو اٹھائیس شعر تھے۔ نظرثانی میں اِس کا تیسرا اور ساتواں بند بالکل حذف کر دیے گئے۔ دوسرے بندوں کے بھی متعدد اشعاد نظر انداز فرما دیے اور صرف انہتّر شعر باقی رکھے۔ یہ نظم الگ بھی چھپ گئی تھی۔

رسالہ ”مخزن“ نے اسے مارچ 1904ء کی اشاعت کے ساتھ بطور ضمیمہ چھاپا اور اِس پر نوٹ دیا کہ یہ دِل پذیر نظم انجمن حمایتِ اسلام کے اُنیسویں سالانہ جلسے میں پڑھی گئی تھی۔ رسالہ تیّار ہوچکا تھا۔ زائد صفحے لگا کر اسے چھاپا جارہا تھا تاکہ ناظرین جلد اِس سے محفوظ ہوسکیں اور اُنہیں ماہِ آئندہ تک انتظار نہ کرنا پڑے۔

نظم کے ابتدائی دو بند تمہیدی ہیں۔ تیسرے بند میں اصل مضمون شروع ہوتا ہے۔ ترکیب بند اگرچہ بہت پہلے اردو شاعری میں رواج پا چُکے تھے لیکن اس نظم یا اِس سے بیشتر ”فریادِ اُمّت“ میں اقبالؔ نے بالکل نیا طریقہ اختیار کیا، یعنی کُچھ بند اِبتدا میں بطور تمہید لِکھے تھے، جیسے شعراء کے قصیدوں میں تشبیہیں ہوتی تھیں، پھر نفسِ مطلب پر آتے تھے۔ اس کے بعد بھی کُچھ اشعار نفسِ مطلب سے متعلق ہوتے تھے، کچھ بیان و معانی کی نُدرت اور محاسن کے لحاظ سے موزوں معلوم ہوتے تھے، اگرچہ اُنہیں بالتصریح نفسِ مطلب سے زیادہ گہرا تعلق نہ ہوتا تھا۔ اِس نظم کے ابتدائی دو بند بھی تمہیدی ہیں۔

(حوالہ: مطالبِ بانگِ درا از مولانا غلام رسول مہر)


علامہ اقبال نے یہ نظم 1904ء میں انجمن حمایتِ اسلام کے سالانہ جلسے میں پڑھی تھی۔ مارچ 1904ء میں اِسے ماہنامہ ”مخزن“ میں شائع کیا گیا۔ اُس وقت اِس میں دس بند اور کُل ایک سو تیس شعر تھے۔ نظر ثانی میں دوسرے اور ساتویں بند کے علاوہ کُچھ شعر بھی قلمزد کیے گئے۔ اب بانگِ درا میں اِس نظم کے صرف اُنہتر شور شامل ہیں۔ یہ نظم ترکیب بند کی ہئیت میں ہے۔

(حوالہ: شرح بانگِ درا از ڈاکٹر شفیق احمد)


علامہ نے اپنی یہ نظم انجمن حمایتِ اسلام، لاہور کے سالانہ جلسے میں 1904ء میں پڑھی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب علامہ جغرافیائی بُنیاد پر وطنیت کے قائل اور پکّے وطن پروَر تھے۔ اِسی بِنا پر اُنہوں نے بڑے پُر درد لہجے میں غیر منقسم (غیر تقسیم شُدہ) ہندوستان کے ہندوؤں اور مُسلمانوں کے اختلاف پر نوحہ خوانی کی ہے اور اُنہیں خبردار کِیا ہے کہ اب بھی اگر تُم مُتحد نہ ہوئے تو فنا ہو جاؤ گے۔ لیکن جیسا کہ پہلے ذکر ہو چُکا ہے کہ ہندوؤں کے طرزِ عمل اور مُنافقت سے آگاہ ہونے پر علامہ نے اپنی نظریہ بدل لیا تھا۔

(حوالہ: شرح بانگِ درا از ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی)


انجمن حمایتِ اسلام کے سالانہ جلسوں میں اقبالؔ جو نظمیں پڑھتے رہے ”تصویرِ دود“ بھی اُنہی میں سے ایک نظم ہے۔ اِس نظم میں اُنہوں نے عصری صورتِ حال کے حوالے سے اہلِ وطن کی بے حسی پر اظہارِ خیال کِیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اُنہیں اِس امر پر مُتنبہ کیا ہے کہ اگر اُنہوں نے اپنی روِش نہ بدلی تو تباہی اُن کا مُقدّر بن جائے گی۔ لہذا اُن کے لیے لازم ہے کہ اپنی بہتری کے لیے مُتحد ہو کر جدوجہد کریں۔

(حوالہ: شرح بانگِ درا از اسرار زیدی)

بند نمبر 1

نہیں منّت کشِ تابِ شنیدن داستاں میری
خموشی گفتگو ہے، بے زبانی ہے زباں میری

میری داستان اس قدر دردناک ہے کہ بہت کم لوگ اسے سننے کی تاب لا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کی میں نے خاموشی کو اپنی شیوہ بنا لیا ہے۔


یہ دستورِ زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری

قوم کے افراد اِس قدر بے حس ہوگئے ہیں کہ وہ میری فریاد سننا نہیں چاہتے۔ یہی وجہ ہے کہ میری زبان بات کرنے کو ترستی ہے (مطلب یہ کہ کوئی سننے والا نہیں ہے)


اُٹھائے کچھ وَرق لالے نے، کچھ نرگس نے، کچھ گُل نے
چمن میں ہر طرف بِکھری ہُوئی ہے داستاں میری

میرے اہلِ وطن نے میرا پیغام سننے سے انکار کردیا ہے البتہ پیغام کی نوعیت اور دلکشی کی وجہ سے میری داستان کے اوراق سے گُلِ لالہ، گُلِ نرگس اور گلاب کے پھول فیضیاب ہورہے ہیں۔ چنانچہ چمن میں ہر طرف میری داستان پھیلی ہوئی ہے۔


اُڑالی قُمریوں نے، طُوطیوں نے، عندلیبوں نے
چمن والوں نے مِل کر لُوٹ لی طرزِ فغاں میری

جس طرح میری داستان سے لالہ، نرگس اور گلاب استعفادہ کررہے ہیں، بالکل اسی طرح قمری، طوطی اور بلبل بھی اس سے بے اعتنائی نہیں برت رہے۔ ان کے نغمے دراصل میری ہی آہ و زاری کا انداز ہے۔

اقبالؔ کہنا چاہتے ہیں کہ ان پرندوں نے گانے کا انداز مجھ ہی سے سیکھا ہے اور ان کے نغموں میں جو سوز و گداز کی کیفیت ہے وہ میری ہی طرزِ فغاں کی وجہ سے ہے۔


ٹپک اے شمع آنسو بن کے پروانے کی آنکھوں سے
سراپا درد ہوں، حسرت بھری ہے داستاں میری

اے شمع! تُو ہی میری غم گسار بن جا اور پروانے کی آنکھوں سے آنسو بن کر ٹپک جا۔ (مراد یہ ہے کہ جس طرح میں قوم کے درد میں آنسو بہاتا ہوں، اے شمع تُو بھی میرا ساتھ دے)، کیونکہ میں تو سراپا درد بن کر رہ گیا ہوں اور میری داستان میں اب حسرت کے سوا اور کچھ نہیں۔


الٰہی! پھر مزا کیا ہے یہاں دنیا میں رہنے کا
حیاتِ جاوداں میری، نہ مرگِ ناگہاں میری!

اے خدا! اندریں حالات اس دنیا میں جینے کا کیا فائدہ ہے۔ نہ زندگی میرے اختیار میں ہے نہ موت۔ اگر زندگی اختیار میں ہوتی تو میں ہمیشگی کی صفت پیدا کرلیتا اور اگر موت اختیار میں ہوتی تو ابھی مرجاتا، کیونکہ اب جینے میں کوئی لطف باقی نہیں رہا۔


مرا رونا نہیں، رونا ہے یہ سارے گُلستاں کا
وہ گُل ہوں مَیں، خزاں ہر گُل کی ہے گویا خزاں میری

میری گریہ و زاری اور میری بربادی در اصل ساری کائنات کی بربادی ہے کیونکہ انسان اشرف المخلوقات ہے، جب وہ فنا ہوگیا تو سمجھو ساری کائنات فنا ہوگئی۔


”دریں حسرت سرا عمریست افسونِ جرس دارم
ز فیضِ دل تپیدنہا خروشِ بے نفَس دارم“

اقبالؔ نے اس شعر کو ایک باکمال آرٹسٹ کی طرح پہلے بند کا آخری شعر بنا دیا ہے کیونکہ اس شعر میں اس پورے بند کی روح سمٹ کر آگئی ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ شعر ایسا معلوم ہوتا ہے گویا کسی کاریگر نے انگوٹھی میں نگینہ جڑ دیا ہو۔

مطلب اس کا یہ ہے کہ اس دنیا میں مُدّتِ دراز سے میری کیفیت وہی ہے جو جرس (گھنٹی) کی ہے یعنی وہ بظاہر خاموش ہے لیکن اس کے اندر شور پوشیدہ ہے۔ اسی طرح میں بظاہر خاموش ہوں لیکن بقول غالبؔ:-

؎ پُر ہوں میں ، شکوے سے یوں، راگ سے جیسے باجا
اِک ذرا چھیڑیے، پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے
(شاعر: مراز غالبؔ)

بند نمبر 2

ریاضِ دہر میں ناآشنائے بزمِ عشرت ہوں
خوشی روتی ہے جس کو، مَیں وہ محرومِ مسرّت ہوں

میں وہ بدنصیب شخص ہوں جسے ایک لمحے کے لیے ذرا سی بھی شادمانی اور مسرت  حاصل نہ ہو سکی۔ میں اس دنیا کی محفل میں عیش و عشرت کی محفل سے بالکل بیگانہ ہوں۔


مری بگڑی ہوئی تقدیر کو روتی ہے گویائی
مَیں حرفِ زیرِ لب، شرمندۂ گوشِ سماعت ہوں

چونکہ میری صدا پر کوئی کان نہیں دھرتا اور میرا پیغام سننے کو کوئی بھی شخص تیار نہیں ہے لہذا اِس بات پر میری بولنے کی قوت و صلاحیت (گویائی) بھی افسوس کررہی ہے۔

اِس لیے کہ میں اِس دنیا میں اُس حرف کی مانند ہوں جو بالکل آہستہ آہستہ ادا کیا گیا ہو اور کسی کے کان تک نہ پہنچ سکا ہو۔


پریشاں ہوں میں مُشتِ خاک، لیکن کچھ نہیں کھُلتا
سکندر ہوں کہ آئینہ ہوں یا گردِ کدُورت ہوں

اگرچہ میں مُٹھی بھر خاک ہوں اور وہ بھی ایسی جو بکھر چکی ہے۔

اس کے باوجود یہ معلوم نہیں کہ میں دنیا کے غالب حصے کو فتح کرلینے والے سکندرِ اعظم کی حیثیت رکھتا ہوں، یا میری حیثیت جمشید کے پیالے کی سی ہے جو خود تو بہت صاف و شفاف اور باکمال تھا لیکن دوسروں کی خدمت کے لیے وقف تھا، یا میں صرف غبارِ راہ یعنی بالکل حقیر اور بے قیمت چیز ہوں؟


یہ سب کچھ ہے مگر ہستی مری مقصد ہے قُدرت کا
سراپا نور ہو جس کی حقیقت، مَیں وہ ظلمت ہوں

یہ سب کچھ درست ہے لیکن میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ میں محور موجود ذات اور مقصدِ کائنات ہوں۔ میری ہستی قدرت کا مقصد ہے، اگرمیں نہ ہوں تو یہ ساری فطرت بیکار ہوجائے گی۔ یہ سب کچھ میرے لیے ہی پیدا کیا گیا ہے۔

بظاہر ظلمت (مشتِ خاک) ہوں لیکن میری حقیقت خاکی نہیں ہے بلکہ نوری ہے۔


خزینہ ہُوں، چھُپایا مجھ کو مُشتِ خاکِ صحرا نے
کسی کو کیا خبر ہے مَیں کہاں ہوں کس کی دولت ہوں!

اس میں کوئی شک نہیں کہ میری حیثیت ایک خزانے کی سی ہےلیکن ایسے خزانے کی جو صحرا میں چھپا ہوا ہو اور جس سے کوئی استعفادہ نہ کرسکتا ہو۔

یہی وجہ ہے کہ ابھی تک کسی کو یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ میری حقیقت کیا ہے اور میں کس کی دولت ہوں۔ ایسے میں مجھ سے کون استعفادہ کرے گا۔


نظر میری نہیں ممنونِ سیرِ عرصۂ ہستی
مَیں وہ چھوٹی سی دنیا ہوں کہ آپ اپنی ولایت ہوں

مجھے اِس کائنات اور اس کے مظاہر کا مطالعہ و مشاہدہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے (اگر کوئی شخص غور سے دیکھے تو اِنسان عالمِ صغیر ہے۔ جو کچھ ساری کائنات میں ہے وہ سب انسان میں موجود ہے اور جو شخص اس حقیقت سے آگاہ ہوجاتا ہے کہ سب کچھ اس کے اندر ہی موجود ہے، وہ پھر باہر کی اشیاء کو دیکھنے سے بے نیاز وہوجاتا ہے)

”میں وہ چھوٹی سی دنیا ہوں کہ آپ اپنی ولایت ہوں“ یہ مصرعہ اس قدر بلیغ ہے کہ شرح سے بالاتر ہے ۔ اگر انسان اپنے دل کی سیر کرلے تو اسے اس کے اندر کائنات کا جلوہ نظر آئے گا۔ اس لئے وہ اِس خارجی دنیا کی سیر سے بے نیاز ہوجائے گا۔


نہ صہباہوں نہ ساقی ہوں، نہ مستی ہوں نہ پیمانہ
مَیں اس میخانۂ ہستی میں ہر شے کی حقیقت ہوں

اگر اس کائنات کو میخانہ فرض کیا جائے تو انسان نہ تو شراب ہے، نہ ساقی ہے، نہ مستی ہے، نہ پیمانہ ہے۔

بلکہ اِس میخانے میں جس قدر اشیاء نظر آتی ہیں، انسان ان سب اشیاء کی حقیقت ہے۔ یعنی سب کچھ وہی ہے، سب کچھ اسی کی بدولت ظہور میں آیا ہے۔ اگر وہ نہ ہو تو پھر کسی شے کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔


مجھے رازِ دو عالم دل کا آئینہ دِکھاتا ہے
وہی کہتا ہوں جو کچھ سامنے آنکھوں کے آتا ہے

میں اپنے دِل کے آئینہ میں ساری کائنات کے راز دیکھ سکتا ہوں (یعنی انسان کا دل وہ آئینہ ہے جس میں ساری کائنات منعکس ہے) اور یہی وجہ ہے کہ میں جو دیکھتا ہوں وہی کہنے کا عادی ہوں۔


نوٹ: اِس بند کے چار اشعار میں اقبالؔ نے تصوف کے حقائق و معارف بیان کئے ہیں اور اگر کوئی شخص ان اشعار کو ”یہ سب کچھ ہے مگر ہستی۔۔۔“ سے لے کر ”۔۔۔ ہر شے کی حقیقت ہوں“ تک پڑھے گا تو اسے اقبال کے فلسفۂ خودی کے ابتدائی نقوش بھی نظر آسکتے ہیں۔

افسوس یہ ہے کہ اس مختصر شرح میں ان باتوں کی تفصیل بیان نہیں کی جاسکتی۔ بس اس قدر کہنے پر اکتفا کرتا ہوں کہ یہ شعر:-

؎ نہ صہبا ہوں، نہ ساقی ہوں، نہ مستی ہوں، نہ پیمانہ
میں اس میخانۂ ہستی میں ہر شے کی حقیقت ہوں

مُرشدِ رومی کے اِس شعر سے ماخوذ ہے:-

بادہ از ما مست شد نے ما ازو
قالب از ما ہست شد نے ما ازو

شراب ہماری وجہ سے مست ہوئی ہے نہ کہ ہم اُس سے،
جسم ہماری وجہ سے پیدا ہوا ہے نہ کہ ہم اُس کی وجہ سے۔

(شاعر: مولانا جلال الدین رومیؒ)

بند نمبر 3

عطا ایسا بیاں مجھ کو ہُوا رنگیں بیانوں میں
کہ بامِ عرش کے طائر ہیں میرے ہم زبانوں میں

خدا نے مجھ کو شعراء کی صف میں وہ بلند مقام عطا کیا ہے۔

کہ فرشتے بھی میرے ہم زبان ہیں (یعنی میری شاعری کوئی عام شاعری نہیں ہے، اس میں کائنات کی حقیقتوں سے پردہ اٹھایا جاتا ہے۔ میں اپنی شاعری میں وہی باتیں پیش کرتا ہوں جو پہلے مشیتِ ایزدی کو پورے کرنے والے فرشتوں کے خیال میں ہوتی ہیں یعنی میری شاعری صداقت اور سچائی پر مبنی ہے)


اثر یہ بھی ہے اک میرے جُنونِ فتنہ ساماں کا
مرا آئینۂ دل ہے قضا کے رازدانوں میں

میرے فتنے اور ہنگامے پیدا کرنے والے جنون یعنی عشق کا ایک نتیجہ یہ بھی ہےکہ میں اس قدر حساس ہوں کہ قدرت اور قضا و قدر کے سب راز مجھ ہر عیاں ہیں، جو میں اپنی شاعری میں پیش کردیتا ہوں۔


رُلاتا ہے ترا نظّارہ اے ہندوستاں! مجھ کو
کہ عبرت خیز ہے تیرا فسانہ سب فسانوں میں

اے ہندوستان! تیری کیفیت ایسی ہے کہ تجھے دیکھتے ہی میری آنکھوں سے آنسو رواں ہوجاتے ہیں (میں آئندہ آنے والے مصائب کا تصور کرکے لرزہ بر اندام ہوجاتا ہوں)

تیری کہانی دنیا کے تمام خطوں اور ممالک کی داستانِ آزادی و غلامی کے مقابلے میں کہیں زیادہ دردناک اور حیرت انگیز ہے۔ اِس وجہ سے لوگ تیری داستان سے عبرت اور تنبیہ حاصل کرتے ہیں۔


دیا رونا مجھے ایسا کہ سب کچھ دے دیا گویا
لِکھا کلکِ ازل نے مجھ کو تیرے نوحہ خوانوں میں

اے ہندوستان! اللہ تعالی نے مجھے دکھ عطا کیا ہے اور دُکھ تیرا دکھ ہے۔

اِس دُکھ کے بعد مجھے کسی اور شے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔اس لیے کہ میں رات دن اپنی شاعری میں تیرے ہی غم بیان کرتا رہتا ہوں۔ دراصل خدا اور قضا و قدر نے مجھے ان لوگوں میں شامل کردیا ہے جو تیری حالت پر نوحہ خواں ہیں۔


نشانِ برگِ گُل تک بھی نہ چھوڑ اس باغ میں گُلچیں!
تری قسمت سے رزم آرائیاں ہیں باغبانوں میں

اے پھول توڑنے والے (گُلچیں، یہاں انگریز مراد ہیں)! پھول تو پھول، اِس گُلستاں (ہندوستان) میں تُو پھول کی پتی کا نشان تک بھی نہ چھوڑ۔ اِس لیے کہ باغ کی دیکھ بھال کرنے والے لوگ (ہندو و مسلمان) اس کی حفاظت کرنے کی بجائے آپس میں لڑ رہے ہیں۔

یعنی اگر باغباں (ہندو و مسلم) اسی طرح آپس میں لڑتے رہے تو گلچیں (انگریز) اس باغ (ہندوستان) کو ضرور تاراج (برباد) کردے گا۔


چھُپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردُوں نے
عنادِل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میں

علامہ اقبال دردِ وطن رکھنے والے اہلِ وطن سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ آسمان، یعنی گردشِ شب و روز اور تقدیر نے ہندوستان کو تباہ و برباد کرنے کا پورا پورا سامان کرلیا ہے۔ اس نے اپنی آستین میں وہ بجلیاں بھی چھپا رکھی ہیں جو اِس گلستاں (ہندوستاں) کو پل بھر میں جلا کر خاکستر کردیں گی۔

ایسے میں بُلبُلوں کو، کہ جو گلشن اور پھول سے عشق کا دعویٰ کرتے ہیں، اپنے گھونسلوں میں بے پروا ہو کر نہیں بیٹھنا چاہیے بلکہ اپنے گلستان کی حفاظت کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔

واضح ہو کہ اقبالؔ خود کو بُلبُل تصور کرتے ہیں جو دِل میں وطن کا درد رکھتا ہے، اسی لیے یہاں اُن بُلبُلوں (لوگوں) سے مخاطب ہیں جو اقبالؔ کی طرح وطن کا درد سینے میں رکھتے ہیں۔ اقبالؔ فرماتے ہیں کہ اب اُنہیں خاموش نہیں بیٹھنا چاہیے، بلکہ حالات کا کچھ حل نکالنا چاہیے۔


سُن اے غافل صدا میری، یہ ایسی چیز ہے جس کو
وظیفہ جان کر پڑھتے ہیں طائر بوستانوں میں

اے غافل! میری آواز سن! یہ (آواز) ایسی چیز ہے کہ جسے پرندے وظیفہ سمجھ کر باغ میں پڑھتے ہیں۔ میں اپنی شاعری میں جو پیغام دے رہا ہوں وہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔


وطن کی فکر کر ناداں! مصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں

علامہ اقبال اہلِ ہند کو نادان قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ تمھیں اپنے وطن کی فکر کرنی چاہیے اور اس کی آزادی و استحکام کے کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔

اگر تم نے ایسا نہ کیا تو جان رکھو! تمھاری بے توجہی اور بے پروائی کے باعث تمھارے وطن کی بربادی بہت قریب ہے اور مشیتِ ایزدی نے اپنے اصولوں کے مطابق اس کا فیصلہ کرلیا ہے۔ (ظاہر ہے کہ جو قوم خود اپنی آزادی اور خود مختاری کے لیے جدوجہد نہ کرسکے وہ تادیر اپنے وجود کو برقرار نہیں رکھ سکتی)


ذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے، ہونے والا ہے
دھَرا کیا ہے بھلا عہدِ کُہن کی داستانوں میں

اے ہندوستان والو! تمھیں حال اور اِس کے تقاضوں کی طرف توجہ کرنا چاہیے۔

اس لیے ماضی اور حال کی داستانوں کو چھیڑنے اور ان کے حوالے سے جھگڑوں میں پڑنے سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ (یہ اشارہ اُن مباحث کی طرف ہے جو اس دور کے ہندوستان میں مسلمانوں اور ہندوؤں کے ماضی اور ایک دوسرے پر اُن کی زیادتیوں کو موضؤع بنا کر ایک دوسرے کو ظالم قرار دینے کے لیے ہورہے تھے)


یہ خاموشی کہاں تک؟ لذّتِ فریاد پیدا کر
زمیں پر تُو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میں

اے اہلِ ہند! اب تمھیں اپنی غلامی اور تم پر ہونے والے مظالم پر مزید خاموشی اختیار نہیں کرنی چاہیے۔ تمہیں چاہیے کہ احتجاج کرو۔۔ اور وہ بھی اِس انداز سے کہ تمہاری آہ و فریاد کی آوازوں سے آسمان تک گونج اٹھیں اور اس سے انگریزوں کے بلند و بالا ایوان تھر تھرانے لگیں۔


نہ سمجھو گے تو مِٹ جاؤ گے اے ہندوستاں والو!
تمھاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں

اے اہلِ وطن! تمھیں حالات اور ان کی نزاکت کو سمجھنا چاہیئے اور اس کے مطابق اپنے عمل اور لائحہ عمل میں تبدیلی پیدا کرنی چاہیے، بصورتِ دیگرتم مِٹ جاؤ گے۔

اور وہ بھی اس طرح کہ آئندہ نسلیں تمھیں ایک داستان اور ماضی کے قصے کے طور پر بھی یاد نہ رکھ سکیں گی یعنی تمہیں بالکل فراموش کردیا جائے گا (ویسے یہ تاریخ کا ایک بہت اہم سبق ہے کہ جو قوم اپنی آزادی اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد نہیں کرسکتی وہ صفحہء ہستی سے بالکل فنا ہوجاتی ہے۔ وسطی ایشیاء کی مسلم ریاستوں اور قدیم ہندوستان کی مفتوحہ اقوام کے حشر کو بطور ثبوت پیش کیا جاسکتا ہے، کہ جن کا آج وجود بھی نہیں ملتا اور تمام آثار و شواہد مٹ چکے ہیں)


یہی آئینِ قدرت ہے، یہی اسلوبِ فطرت ہے
جو ہے راہِ عمل میں گام زن، محبوبِ فطرت ہے

یہ بات صرف ایک شاعر کی نکتہ آفرینی نہیں ہے بلکہ اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ قدرت کا یہی دستور و اصول ہے۔ قدرت (تقدیر) صرف اُسی قوم کو زندہ رکھتی ہے جو عمل سے منہ نہ موڑے اور ہمہ وقت اِس دنیا میں سرگرمِ عمل رہے۔

؎ ہر لحظہ ہے قوموں کے عمل پر نظر اُس کی
بُرّاں صِفتِ تیغِ دو پیکر نظر اُس کی
(حوالہ: ضربِ کلیم: تقدیر)

بند نمبر4

ہوَیدا آج اپنے زخمِ پنہاں کر کے چھوڑوں گا
لہُو رو رو کے محفل کو گُلستاں کر کے چھوڑوں گا

گو اہلِ ہند میرے پیغام کی طرف متوجہ نہیں۔ اِس کے باوجود میں اپنا فرض ادا کروں گا اور جو کچھ زخم میرے دل پر لگے ہوئے ہیں، انھیں ظاہر کردوں گا۔

جن زخموں کے باعث میں مبتلائے درد و تکلیف ہوں، اب انہیں میرے اہلِ وطن بھی دیکھ لیں گے۔ میں  اس قدر روؤں گا کہ میرے پُر خوں آنسوؤں سے سارا ہندوستان پھولوں سے بھر جائے گا۔ واضح  رہے کہ گلاب کے پھول بھی سرخ ہوتے ہیں اور خون کا بھی یہی رنگ ہوتا ہے۔ اقبال نے اِس سے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ میرے خون آمیز آنسوؤں پر لوگوں پر پھولوں کا گمان گزرے۔


جلانا ہے مجھے ہر شمعِ دل کو سوزِ پنہاں سے
تری تاریک راتوں میں چراغاں کر کے چھوڑوں گا

علامہ کہتے ہیں کہ مجھے اپنی کوشش جاری رکھنی ہے اور میری کوشش یہ ہے کہ ملک کے تمام لوگوں کے دل میں بلا تفریق مذہب و ملت، آزادی اور جدوجہد کی شمع روشن ہوجائے۔

میں ہر قیمت پر اور بڑی سے بڑی قربانی دے کر اپنی شاعری کے ذریعے اس شمع کو جلاؤں گا اور ہندوستان کا مقدر ہوجانے والی سیاہ رات کو دِلوں میں جلنے والی شمع سے روشن کردوں گا۔


مگر غنچوں کی صورت ہوں دلِ درد آشنا پیدا
چمن میں مُشتِ خاک اپنی پریشاں کر کے چھوڑوں گا

میں اپنے وطن کی دردناک صورتِ حال کی وجہ سے سر تا پا درد ہوگیا ہوں۔ میں  درد سے پُر اپنی خاک کو پورے چمن میں بکھیر دوں گا، شاید اس کے بعد گلشن میں جو بھی پھول اُگیں، وہ میرے درد اور کرب سے واقف ہوں۔

تعزل کے انداز میں شاعر یہ کہنا چاہتا ہے کہ میرے پیغام سے بوڑھے لوگ متاثر ہوں یا نہ ہوں، لیکن میں کوشش کروں گا کہ نوجوان نسل میرے درد کی کَسَک سے آگاہ ہوجائے اور اپنے آپ کو آزادی وطن کے لیے وقف کردے۔ اقبال کا پیغام دراصل ہے ہی نوجوانوں کے لیے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر دور میں اقبال کے پیغام کو نوجوانوں ہی نے آگے بڑھایا ہے۔

”تعزل“ کا انداز: تعزل بنیادی طور پر ایک کیفیت کا نام ہے اور اس کی کوئی جامع و مانع اور حتمی تعریف نہیں کی جاسکتی۔ یہ غزل میں پائی جانے والی ایک ایسی کیفیت ہے جس کو صرف محسوس کیا جاسکتا ہے، بیان نہیں کیا جاسکتا۔


پرونا ایک ہی تسبیح میں ان بکھرے دانوں کو
جو مشکل ہے، تو اس مشکل کو آساں کر کے چھوڑوں گا

میری قوم کی حالت تسبیح کے بکھرے ہوئے دانوں کی مانند ہے۔ ان کو دوبارہ متحد کرنا سخت دشوار ہے۔ لیکن اگر یہ کام مشکل اور دشوار بھی ہے، توبھی میں تسبیح کے ان متفرق دانوں کو یکجا کرنے کا کام سر انجام دوں گا۔

یعنی ملک میں بسنے والی مختلف قومیتوں اور مذاہب کے افراد کو آزادئ وطن کے لیے ایک ہی طریق پر جدوجہد کرنے کے لیے اتھاد و اتفاق کا سبق دوں گا۔


مجھے اے ہم نشیں رہنے دے شُغلِ سینہ کاوی میں
کہ مَیں داغِ محبّت کو نمایاں کر کے چھوڑوں گا

اے میرے قریب رہنے والے!

تُو مجھے اپنا سینہ کھرچنے اور کریدنے کے عمل سے نہ روک، تجھے یہ خیال ہوگا کہ مجھے تکلیف ہورہی ہے لیکن تکلیف کے باوجود میں یہ کام اُس وقت تک جاری رکھوں گا جب تک لوگوں کے درمیان کسی بھی طرح کی نفرتیں باقی ہیں۔ یعنی میں لوگوں کو اخوت و بھائی چارے کی تعلیم دے کر انھیں متحد و متفق کیے بغیر دم نہ لوں گا۔


دِکھا دوں گا جہاں کو جو مری آنکھوں نے دیکھا ہے
تجھے بھی صورتِ آئینہ حیراں کر کے چھوڑوں گا

وطن اور اہلِ وطن کے بارے میں جو تصویر میں نے اپنے تخیل کی مدد سے دیکھی ہے  اور جو خاکہ و نقشہ میرے پیشِ نظر ہے، وہ میں تمام ہموطنوں کو دِکھا دوں گا۔ جو کچھ میں محسوس کررہا ہوں، اپنی شاعری کے ذریعے وہی تمام احساسات اہلِ ہند کے دلوں میں منتقل کردوں گا۔

اور مجھے یقین ہے کہ جب لوگ اِس تخیل، تصور اور خاکے سے واقف ہوں گے تو وہ بھی آئینے کی طرح حیران رہ جائیں گے۔ (شاعری میں آئینے کو حیران اس لیے قرار دیا جاتا ہے کہ اس کا عکس اصل کے عین مطابق اور بے حس و حرکت ہوتا ہے۔ گویا وہ حیرانی سے ہر چیز کو بے حس و حرکت دیکھتا رہتا ہے)


جو ہے پردوں میں پنہاں، چشمِ بینا دیکھ لیتی ہے
زمانے کی طبیعت کا تقاضا دیکھ لیتی ہے

صرف میں ہی نہیں، بلکہ ہر وہ آنکھ کہ کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے، وہ ان تمام باتوں سے بھی واقف ہوجاتی ہے، جو ابھی عالمِ ظہور میں نہیں آئی ہوتیں اور پردہ غائب میں ہوتی ہیں۔ دراصل یہ چشمِ بینا اپنی بصیرت کی روشنی میں حالات سے اندازہ کرلیتی ہے کہ اب زمانہ کونسی کروٹ بدلے گا اور اقوام ق ملل کے حالات کیا رُخ اختیار کریں گے۔

بند نمبر 5

کِیا رفعت کی لذّت سے نہ دل کو آشنا تو نے
گزاری عمر پستی میں مثالِ نقشِ پا تو نے

اے مخاطب! تُو نے اپنے خیالات میں بلندی پیدا نہیں کی۔

اور ساری عمر زمین پر بنے ہوئے پاؤں کے نقوش کی طرح بسر کی (پست خیالات میں ساری عمر گزار دی، یعنی اہلِ ہند چھوٹے چھوٹے لایعنی فرقہ واری مسائل میں الجھ کر اپنی توانائیاں ضائع کرتے رہے، تم نے کبھی اعلی نصب العین اختیار ہی نہیں کیا)


رہا دل بستۂ محفل، مگر اپنی نگاہوں کو
کِیا بیرونِ محفل سے نہ حیرت آشنا تو نے

تُو نے اپنی جماعت کے تنگ حلقہ میں زندگی بسر کردی اور دیگر ممالک اور دیگر اقوام کے طرزِ عمل کا مطالعہ ہی نہیں کیا۔


فدا کرتا رہا دل کو حَسینوں کی اداؤں پر
مگر دیکھی نہ اس آئینے میں اپنی ادا تو نے

تم تمام عمر حُسن پرست رہے اور حسینوں پر اپنا دِل نثار کرتے رہے لیکن کتنے افسوس کی بات ہے جو حُسن خود تمھاری ذات میں تھا، تم نے کبھی اس کی طرف دھیان نہیں دیا۔

یعنی اہلِ ہند ہمیشہ دوسروں کی صلاحیتوں کے گُن گاتے رہے لیکن اپنی صلاحیت سے کام لینا نہ سیکھ سکے، اس کی بجائیے مذہب و ملت اور فرقہ وارانہ اختلافات اور اُن کی پیدا کردہ نفرت میں اُلجھتے رہے۔


تعصّب چھوڑ ناداں! دہر کے آئینہ خانے میں
یہ تصویریں ہیں تیری جن کو سمجھا ہے بُرا تو نے

اے ناداں! تُو تعصب (نفرت) کو اپنے دِل سے نکال دے۔

تُو جن لوگوں کو برا سمجھتا ہے، وہ لوگ دراصل تیرے بھائی ہیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ اہلِ ہند مختف مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کو ایک دوسرے سے جدا قومیں تصور کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کی مثال ایسے ہے کہ جیسے کوئی شخص آئینہ خانے میں کھڑا ہوکر اپنی مختلف تصویروں کو غیروں کی تصویریں سمجھ کر ان سے نفرت کرنا شروع کردے۔ یعنی مذہب و ملت کے علاوہ تمام ہندوستانیوں میں ایک وجۂ اشتراک بھی ہے، یعنی وہ سب اہلِ ہند ہیں۔ انہیں سب کچھ بھول کر اسی ایک رشتے پر توجہ دینی چاہیے۔


سراپا نالۂ بیدادِ سوزِ زندگی ہو جا
سپند آسا گرہ میں باندھ رکھّی ہے صدا تو نے

وطن اور اہلِ وطن پر ہونے والے مظالم کے خلاف سب کو صدائے احتجاج بلند کرنی چاہیے۔

ہرمل کا حقیر اور معمولی سا دانہ بھی اپنے اوپر ہونے والے مظالم کے خلاف احتجاج کرتا ہے۔ یہ قوت تیرے پاس بھی ہے اور تجھ پر بھی مظالم ہورہے ہیں۔ لہذا تجھے بھی نالہ و فریاد اور آہ و زاری سے کام لینا چاہیے اور ان مظالم کے خلاد جدوجہد بھی کرنی چاہیے۔ (نوٹ: ہرمل کا دانہ آگ میں گِر کر آواز دیتا ہے)۔


صفائے دل کو کیا آرائشِ رنگِ تعلّق سے
کفِ آئینہ پر باندھی ہے او ناداں حنا تو نے

کسی کے دل میں صفائی اور پاکیزگی ہو تو اس کے لیے تکلفات کی ضرورت نہیں ہوتی۔

تیرے عمل کی حقیقت یوں ہے جیسے کوئی شخص آئینتے کی شفاف اور اعلی سطح پر مہندی لگا کر اُسے رنگین کرنا چاہے۔ جس طرح مہندی سے آئینے کو رنگ نہیں دیا جاسکتا بالکل اسی طرح دل کی طہارت اور پاکیزگی کے لیے بھی محض ظاہرداری کو کام میں نہیں لایا جاسکتا بلکہ اس سے بڑھ کر کچھ کیا جانا چاہیے۔


زمیں کیا، آسماں بھی تیری کج بینی پہ روتا ہے
غضب ہے سطرِ قرآں کو چلیپا کر دیا تو نے!

اے اہلِ ہند! تمھاری غلط فہمی اور غلط اندازِ نظر پر زمین تو زمین، آسمان بھی ماتم کرتا ہے۔

تم نے قرآن کے احکام پر عمل کرنے کی بجائے، قرآن کے تعویذ آڑے ترچھے انداز میں لکھ کر انھیں گردنوں میں لٹکا لیا اور یہ سمجھا کہ اس طرح انگریز ٹل جائیں گے۔ حالانکہ انگریز تو قرآن کے پیغام پر عمل کرنے سے ہی جائیں گے۔


زباں سے گر کِیا توحید کا دعویٰ تو کیا حاصل!
بنایا ہے بُتِ پندار کو اپنا خدا تو نے

یہ بات درست ہے کہ تم نے زبان سے اللہ تعالی کو ایک ماننے کا اقرار کیا ہے لیکن اس  کا کیا فائدہ؟

توحید کی حقیقیت تو یہ ہے کہ انسان دل سے اللہ تعالی کی وحدانیت کا قائل ہوجائے، تو پھر ہی غرور و تکبر جیسی برائیوں سے محفوظ رہ سکے گا۔ لیکن اہلِ ہند نے توحید کا صرف زبانی طور پر اقرار کیا ہے، لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ یہ قرآن کی بجائے اپنے نفس کی اطاعت کررہے ہیں۔


کُنویں میں تُو نے یوسف کو جو دیکھا بھی تو کیا دیکھا
ارے غافل! جو مطلق تھا مقیّد کر دیا تو نے

اگر تُو نے حضرت یوسفؑ کو کنویں میں دیکھ بھی لیا تو کیا دیکھا۔ ارے غافل! جو مطلق (عالمگیر) تھا، اسے تو نے مقید کردیا۔ مطلب یہ ہے کہ جب تک حضرت یوسفؑ کنویں میں تھے، اس وقت تک ان کے کمالات کسی پر واضح نہیں تھے۔ آزاد ہونے پر سب نے ان کے کمالات دیکھ لیے لیکن کنویں میں دیکھنے والے نے حضرت یوسفؑ کو بے بس جانا(یعنی خدا کے جلوے اگر کسی جگہ یا شے کے لیے مختص کر دیے جائیں تو اس کی صحیح معرفت حاصل ہونا ممکن نہیں رہتا)

یہاں اس سے مراد یہ ہے کہ محبت و اخوت ایسی چیز نہیں کہ جسے محدود کیا جا سکے۔ یعنی تُو صرف اپنی جماعت سے محبت کرتا ہے یعنی تُو نے محبت کو جو ایک عاملگیر (مطلق) حقیقت ہے، اسے صرف اپنی قوم کے افراد تک محدود کردیا ہے۔


ہوَس بالائے منبر ہے تجھے رنگیں بیانی کی
نصیحت بھی تری صورت ہے اک افسانہ خوانی کی

اے نام نہاد ملّا اور خطیب! تمھیں اس بات کا شوق ہے کہ تم قوم کے رہنما کہلاؤ لیکن تم اُن فرائض کو بالکل نہیں سمجھتے جو ایک رہبر و رہنما پر عائد ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب تم منبر پر کھڑے ہوتے ہو تو لوگوں کو صرف اپنے طرزِ بیان سے محفوظ کرنے کی کوشش کرتے ہو۔

اگر تم کسی کو نصیحت کرتے ہو تو بھی حقائقِ عالم سے بے خبری کے باعث حالاتِ حاضرہ کے مسائل کی طرف لوگوں کہ توجہ مبذول کرانے کی بجائے صرف گذشتہ زمانے کے قصے سنانے پر اکتفا کرتے ہو۔ اِس سے لوگ تمہاری فصاحت و بلاغت کے گرویدہ تو ہوجاتے ہیں اُن کو اِس سے حقیقتاً کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔

بند نمبر 6

دِکھا وہ حسنِ عالم سوز اپنی چشمِ پُرنم کو
جو تڑپاتا ہے پروانے کو، رُلواتا ہے شبنم کو

تم اپنی آنسو بہاتی یوئی آنکھوں کو اُس حُسن سے آشنا کرو، یعنی اپنی آنکھ میں ایسی صلاحیت پیدا کرو کہ وہ ہر شۓ میں خدا کا جلوہ دیکھ سکے۔ اگر ایک انسان پر یہ حقیقت منکشف ہوجائے کہ کافر بھی اللہ ہی کی مخلوق ہے تو وہ اس پر مہربانی کرے گا۔

جس طرح پروانہ ہر شمع سے محبت کرتا ہے، اسی طرح شبنم ہر پھول کو (خواہ وہ ہندو کے باغ میں ہو یا مسلمان کے) فیض پہنچاتی ہے۔


نِرا نظّارہ ہی اے بوالہوس مقصد نہیں اس کا
بنایا ہے کسی نے کچھ سمجھ کر چشمِ آدم کو

اے مخاطب! اللہ تعالی نے انسان کو آنکھیں صرف مختلف اشیاء کو دیکھنے کے لیے نہیں دی ہیں۔ بلکہ مقصدِ باری تعالی یہ ہے کہ انسان اپنی آنکھوں کے ذریعے ہر شئے میں خدا کا جلوہ دیکھے۔


اگر دیکھا بھی اُس نے سارے عالم کو تو کیا دیکھا
نظر آئی نہ کچھ اپنی حقیقت جام سے جم کو

اگر کوئی شخص اپنی حقیقت سے آگاہ نہ ہوسکے، یعنی اپنے آپ کو نہ دیکھ سکے، تو اگر اس نے ساری کائنات کو دیکھ بھی لیا تب بھی کچھ فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا۔

ساغرِ جمشید: جمشید بادشاہ کے حکماء نے اس کے لیے  ایک جام تیار کیا تھا، جس کی خصوصیت یہ تھی کہ اُس کے توسط سے جمشید اپنے محل میں بیٹھے بیٹھے ساری دنیا کے حالات سے واقف ہوجاتا تھا۔ لیکن وہ پیالہ کہ جس کے ذریعے جمشید کو دنیا بھر کے حالات معلوم ہوجاتے تھے، خود جمشید کو جمشید کے بارے میں کچھ نہ بتا سکا۔ یوں جمشید کبھی بھی اپنی حقیقت سے آگاہ نہ ہوسکا۔


شجر ہے فرقہ آرائی، تعصّب ہے ثمر اس کا
یہ وہ پھل ہے کہ جنّت سے نِکلواتا ہے آدم کو

اگر فرقہ بندی کو ایک درخت تصور کیا جائے تو تعصب یعنی فرقہ واری نفرت اس درخت کا لازمی پھل، یعنی لازمی نتیجہ اور حاصل کی حیثیت رکھتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ہم فرقہ وارانہ مباحث میں الجھیں گے تو لازمی طور پر ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگیں گے۔

باہمی اخوت و محبت کے مقابلے میں نفرت وہ چیز ہے جو بالآخر انسان کو جنت سے نکال کر جہنم رسید کرنے کا سبب بنتی ہے۔ یعنی انسان کے اچھے حالات بدترین حالات میں بدل جاتے ہیں اور انسان ذلیل و خوار ہو کر رہ جاتا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے زمان میں اِسی تعصب کے باعث لاکھوں لوگ لقمہ اجل بن گئے، لاکھوں بچے یتیم ہوگئے اور ہزاروں گھر اُجڑ گئے۔ یہ حالات اقبال کے نقطۂ نظر کی تائید کرتے ہیں۔ آج بھی ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ فرقہ واریت، علاقائی  و قومی تعصبات اور ذات و برادری کے جھگڑوں کے باعث پیدا ہونے والی منافرت (نفرت کرنا) ہے۔


نہ اُٹھّا جذبۂ خورشید سے اک برگِ گُل تک بھی
یہ رفعت کی تمنّا ہے کہ لے اُڑتی ہے شبنم کو

جب تک تمہارے دِل میں بلندی آرزو پیدا نہ ہوگی، تم بلندی حاصل نہ کرسکو گے چنانچہ دیکھ لو برگِ گل (پھول کی پتی) میں بلندی کی تمنا نہیں ہے، اس لئے وہ خورشید (سورج) کی طاقتِ جذب سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتی۔

اس کے مقابلہ میں شبنم اوپر جانا چاہتی ہے، اس لئے جذبٰ خورشید سے فائدہ حاصل کر لیتی ہے اور اوپر چلی جاتی ہے۔


پھرا کرتے نہیں مجروحِ اُلفت فکرِ درماں میں
یہ زخمی آپ کر لیتے ہیں پیدا اپنے مرہم کو

جو لوگ شیوۂ محبت اختیار کرلیتے ہیں وہ اس راہ میں دکھ بھی اٹھاتے ہیں لیکن وہ کسی سے اپنے دکھ کا مداوا (علاج) طلب نہیں کرتے۔

کیونکہ محبت اگر زخم لگاتی ہے تو مرہم بھی خود مہیا کرتی ہے یعنی اگر اہلِ محبت کو دوسروں کے ساتھ ہمدردی کرنے کے سلسلہ میں کوئی تکلیف لاحق ہوتی ہے تو یہ احساس کہ ہم نے دوسروں کو فائدہ پہنچایا، اُن کی تکلیف کا مداوا (ازالہ) کردیتا ہے۔


محبّت کے شرر سے دل سراپا نور ہوتا ہے
ذرا سے بیج سے پیدا ریاضِ طُور ہوتا ہے

محبت وہ چیز ہے جو بظاہر چنگاری کی طرح معمولی اور حقیر ہے، لیکن یہی چنگاری ساری دنیا کو منور کردیتی ہے۔

محبت ایک ایسا بیج ہے کہ جو دل کی سرزمین میں کاشت کردیا جائے تو اس سے کوہِ طور کے عظیم باغات پیدا ہوجاتے ہیں، جہاں حضرت موسیؑ کو اللہ تعالی سے ملاقات نصیب ہوئی تھی۔

اقبالؔ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ محبت کی وجہ سے انسانی دل انوارِ باری تعالی کی تجلّی گاہ بن جاتا ہے۔

بند نمبر 7

دوا ہر دُکھ کی ہے مجروحِ تیغِ آرزو رہنا
علاجِ زخم ہے آزادِ احسانِ رفو رہنا

عشق و محبت سے دنیا کی ہر تکلیف اور ہر دکھ کا علاج کیا جاسکتا ہے۔ اگر تم اپنی تکالیف کا علاج چاہتے ہو تو تمھیں چاہئے کہ اپنے لئے مقاصد کی تخلیق کرو اور پھر ان کے حصول کے لیے جدوجہد میں لگ جاؤ۔

زخم کا علاج یہ نہیں ہے کہ اسے سی لیا جائے بلکہ حقیقی علاج یہ ہے اِس کو سلوانے کا احسان ہی نہ اٹھایاجائے۔ انسانی جسم کے زخم سلوانے اور رفو کروانے سے ٹھیک ہوجاتے ہیں ، لیکن وہ زخم کہ جو محبت کی وجہ سے دِل پر لگتے ہیں، ٹھیک نہیں ہوتے۔


شرابِ بے خودی سے تا فلک پرواز ہے میری
شکستِ رنگ سے سیکھا ہے مَیں نے بن کے بُو رہنا

بے خودی کی شراب پی کر، یعنی رنگ و نسل اور فرقہ وارانہ تعصبات و منافرت سے پاک ہو کر میں نے مراتب و مناصب کے اعتبار سے آسمان کی بلندیوں تک رسائی حاصل کرلی ہے۔

میں نے یہ گُر پھولوں سے سیکھا ہے، جن کا رنگ، جو بظاہر انھیں ایک دوسرے سے ممتاز کرتا ہے، اُڑ جاتا ہے لیکن اُن کی خوشبو، جس کی بظاہر کوئی شناخت نہیں ہوتی، آخر وقت تک قائم رہتی ہے۔ اس چیز نے مجھے یہ بتایا ہے کہ ظاہری امتیازات ختم ہوجاتے ہیں، اِس لیے کہ وہ پائیدار نہیں ہوتے، اِس کے بدلے میں وہ جذبے جو پوری نوعِ انسانیت کے لئے ہوں، انمِٹ (نہ مٹنے والے) ہوتے ہیں۔


تھمے کیا دیدۂ گریاں وطن کی نوحہ خوانی میں
عبادت چشمِ شاعر کی ہے ہر دم باوضو رہنا

شاعر کی آنکھ، جو قوم و وطن کے دکھ درد پر آنسو بہاتی ہے، اپنا رونا ختم نہیں کرسکتی۔

اس لیے کہ پُر نم رہنا اس کے نزدیک عبادت ہوتا ہے۔ پُر لطف بات یہ ہے کہ شاعر نے عبادت اور وضو ایک ساتھ لا کر عبارت میں دلکشی پیدا کردی ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ قوم کے مصائب پر رونے والی آنکھ دراصل عبادت کرتی ہے اور جس طرح انسان کے لئے عبادت کرنا اور اپنے معبود کی بندگی بجالانا فرض ہے، اسی طرح چشمِ شاعر کے لئے رونا اور قوم کے دکھوں میں شامل ہوکر آنسو بہانا فرض ہے۔

قوم گویا جسم ہے، افراد ہیں اعضائے قوم
منزلِ صنعت کے رہ پیما ہیں دست و پائے قوم
محفلِ نظمِ حکومت، چہرۂ زیبائے قوم
شاعر رنگیں نوا ہے دیدۂ بینائے قوم
مبتلائے درد کوئی عُضو ہو روتی ہے آنکھ
کس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ
(حوالہ: بانگِ درا: شاعر)


بنائیں کیا سمجھ کر شاخِ گُل پر آشیاں اپنا
چمن میں آہ! کیا رہنا جو ہو بے آبرو رہنا

اگر ہندوستان کو اپنا وطن قرار دیں اور اِس میں اپنا گھر بنائیں تو کس بھروسے اور اُمید پر۔

اس لیے کہ اس وطن میں رہنے کا کیا فائدہ، جہاں انسان ذلیل و خوار اور بے آبرو ہو کر رہ رہے ہیں۔ تذلیل و بے آبروئی اس لئے کہ اول اہلِ ہند غلامی کی زندگی بسر کر رہے تھے، دوم یہ کہ انھیں اپنی غلامی کا احساس تک نہیں تھا، وہ (اہلِ ہند) اپنی اسی تذلیل پر قناعت کر کے بیٹھے تھے۔


جو تُو سمجھے تو آزادی ہے پوشیدہ محبّت میں
غلامی ہے اسیرِ امتیازِ ماوتو رہنا

اگر تُو غور کرے تو تجھے معلوم ہوگا کہ آزادی محبت میں مضمر (پوشیدہ) ہے۔

اور تفریق و تفرقہ میں مبتلا رہنے کا دوسرا نام غلامی ہے۔ اِس شعر کی معنویت یہ ہے کہ اگر اہلِ ہند باہمی محبت و اخوت کے جذبے سے کام لیں اوت تفرقہ بازی چھوڑ دیں تو وہ آزادی حاصل کرسکتے ہیں، بصورتِ دیگر آپس کے جھگڑے انھیں ہمیشہ غلام بنے رہنے پر مجبور کئے رکھیں گے۔


یہ استغنا ہے، پانی میں نگوں رکھتا ہے ساغر کو
تجھے بھی چاہیے مثلِ حبابِ آبجو رہنا

اے اہلِ ہند! تمھیں بھی بلبلے کی طرح شانِ بے نیازی اور بے پروائی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ اگر تم اپنی ذاتی اغراض اور فرقہ وارانہ مفادات کو پسِ پشت ڈال کر ایک قوم اور جماعت کی حیثیت سے کوشش میں لگ جاؤ تو تمھاری کوشش اور جدو جہد ضرور رنگ لائے گی۔ لیکن  اگر تم نے بلبلے کے برعکس اپنے اپنے ساغر پھیلا کر بھیک مانگنی شروع کردی تو نتیجہ تمھارے حق میں اچھا نہ نکلے گا۔


نہ رہ اپنوں سے بے پروا، اسی میں خیر ہے تیری
اگر منظور ہے دنیا میں او بیگانہ خو! رہنا

اقبالؔ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ دوسروں کے سامنے بے نیازی کا رویہ اختیار کرنے کے باوجود اہلِ وطن کو ایک دوسرے سے بے نیاز اور بے پروا نہیں ہونا چاہئے۔ دراصل یہ بے پروائی اور بے نیازی دوسروں کو حقیر سمجھنے کے سبب سے ہوتی ہے اور یوں آپس میں نفرت بڑھتی ہے۔ اقبال اہلِ ہند سے کہتے ہیں کہ اگر تم زیادہ عرصہ تک اس دنیا میں رہنا چاہتے ہو اور بحیثیت قوم تاریخِ عالم میں اپنے نقوش ثبت کرنے کے خواہاں ہو تو آپس میں بے نیازی اور بے پروائی کا رویہ اختیار مت کرو۔ اس لئے کہ تمھارے لیے نیک اور باسعادت راستہ یہی ہے۔


شرابِ رُوح پرور ہے محبت نوعِ انساں کی
سِکھایا اس نے مجھ کو مست بے جام و سبو رہنا

تفریق و تفرقہ اور امتیازات کے بغیر تمام انسانوں کی محبت ایسی شراب ہے کہ جو ہماری روح کی پرورش کرتی ہے اور روح کی قوتوں کو جِلا بخشتی ہے۔

محبت میں ایسا سرور ہے جس کے باعث میں  ساغر و مینا کا احسان اٹھائے بغیر سرمست و سرشار رہتا ہوں ۔ عام شراب کے لیے تو جام و وساغر ضروری ہیں لیکن انسانوں کی شرابِ محبت پینے کے لیے انسان کو ان ظاہری وسیلوں کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔


محبّت ہی سے پائی ہے شفا بیمار قوموں نے
کِیا ہے اپنے بختِ خُفتہ کو بیدار قوموں نے

دنیا میں جس قدر کمزور اور نحیف قومیں تھیں، انھوں نے محبت ہی کے باعژ اپنی کمزوریوں اور بیماریوں سے نجات حاصل کی۔ محبت کی وجہ سے نہ صرف ان قوموں کے امراض دُور ہوگئے۔

بلکہ ان کے سوئے ہوئے نصیب بھی جاگ پڑے۔ اقبال کے اس دعوے کی تائید کے لیے یوں تو بہت سی قوموں کی تاریخ کو بطور مثال و ثبوت پیش کیا جاسکتا ہے لیکن اِس سلسلے کی نمایاں ترین مثال صحرا نشیں عربوں کی ہے۔ یہ لوگ جب تک پانی پینے پلانے اور گھوڑے آگے بڑھانے جیسے معمولی مسائل پر لڑتے رہے، اُس وقت تک قابلِ توجہ بھی نہ تھے لیکن جب ان میں اصولِ مواخات قائم ہوا اور انھوں نے باہمی محبت و اخوت اختیار کی تو تاجِ سرِ دارا ان کے قدموں میں آگیا۔

بند نمبر 8

بیابانِ محبّت دشتِ غربت بھی، وطن بھی ہے
یہ ویرانہ قفس بھی، آشیانہ بھی، چمن بھی ہے

اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس دنیا میں سب کچھ محبت ہی ہے اور سارا کاروبارِ حیات اسی کی وجہ سے ہے۔ لیکن یہی محبت وطن کی حیثیت بھی رکھتی ہے یعنی انسان کے لیے سکھ و اطمینان و راحت کا سبب بنتی ہے۔

اگر محبت کو ویرانہ کہا جائے تو بھی ٹھیک ہے، لیکن یہی محبت قفس، آشیانے اور چمن کی حیثیت بھی رکھتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ محبت کی وجہ سے انسان وطن میں بھی ذلیل و خوار ہوسکتا ہے اور دشتِ غربت یعنی پردیس میں بھی عزت افزائی کا مستحق قرار پاسکتا ہے۔ محبت کی وجہ سے وہ اپنے چمن کو چھوڑ کر نکل سکتا ہے اور محبت ہی کے باعث قفس (پنجرے) کو اپنے چمن اور آشیاں کا بدل تصور کرسکتا ہے۔ اِس ضمن میں بہت سے لوگوں کی مثالیں دی جاسکتی ہیں جنھوں نے اپنے مقصد سے محبت کی بنا پر وطن چھوڑا، پردیس میں ہنسی خوشی زندگی گزاری۔ قید کاٹی اور گھر بار، عزیز و اقارب اور وطن سے دور رہے۔


محبّت ہی وہ منزل ہے کہ منزل بھی ہے، صحرا بھی
جرَس بھی، کارواں بھی، راہبر بھی، راہزن بھی ہے

محبت وہ شے ہے جو انسان کی منزل بھی بن سکتی ہے اور اس کے بھٹکنے کے لیے صحرا بھی قرار پاسکتی ہے۔ محبت وہ گھنٹی بھی ہے جو اپنی آواز سے اہلِ قافلہ کو سفر کے لیے تیار کرتی ہے۔ یہی محبت قافلہ بھی ہے اور وہ شخص بھی جو قافلے کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ محبت ہی وہ انسان ہے جو قافلے کو لوٹ لیتا ہے۔ یعنی محبت ہر بھیس اور ہر پردے میں ظاہر ہوسکتی ہے۔


مرَض کہتے ہیں سب اس کو، یہ ہے لیکن مرَض ایسا
چھُپا جس میں علاجِ گردشِ چرخِ کُہن بھی ہے

عام لوگ محبت کو مرض قرار دیتے ہیں لیکن یہ مرض ایسا ہے کہ قوم کے تمام امراض کا مداوا کردیتا ہے، ان کی خرابیوں کو دُور کردیتا ہے۔ اس کی بدولت گردشِ چرخ کہن یعنی تمام مصیبتوں کا ازالہ ہوجاتا ہے کہ جو تقدیر کی وجہ سے انسان کو مقدر ہوجاتی ہیں۔


جَلانا دل کا ہے گویا سراپا نُور ہو جانا
یہ پروانہ جو سوزاں ہو تو شمعِ انجمن بھی ہے

اگر کوئی شخص محبت کی آگ میں اپنے دل کو جلائے گا تو اس کا دل سراپا نور ہوجائے گا۔

جس شخص کا دل محبت کی آگ میں جل جاتا ہے تو وہ شمعِ انجمن بن جاتا ہے یعنی  یہ دنیا پروانوں کی طرح اس پر نثار ہونے کو تیار رہتی ہے۔


وہی اک حُسن ہے، لیکن نظر آتا ہے ہر شے میں
یہ شیریں بھی ہے گویا، بیستوُں بھی، کوہکن بھی ہے

محبت ایسا حُسن ہے جو ہر شے میں نظر آتا ہے اور دنیا کی ہر چیز میں اس کے جلوے دیکھے جاسکتے ہیں۔

بظاہر شیریں، فرہاد اور کوہِ بے ستوں میں بڑآ فرق ہے لیکن درحقیقت یہ سب محبت ہی کے مختلف روپ ہیں۔ مراد یہ ہوسکتی ہے کہ وہ محبوبِ حقیقی تو واحد ہے۔ اس کے جلوے کائنات کی ہر مخلوق اور ہر شے میں نمایاں ہیں، تو جب سب مخلوق اسی ایک ذات کی ہے تو پھر ہم باہم مل جل کر اور محبت سے کیوں نہ رہیں۔


اُجاڑا ہے تمیزِ ملّت و آئِیں نے قوموں کو
مرے اہلِ وطن کے دل میں کچھ فکرِ وطن بھی ہے؟

یاد رکھو! جن قوموں کے افراد نے آپس میں نفرت کا بازار گرم کیا، وہ صفحہ ہستی سے نیست و نابود ہوگئیں۔

میرے اہلِ وطن بھی اسی طرح افتراق اور نفاق کا شکار ہیں۔ کیا ان کے دلوں میں وطن کے لیے بھی محبت کا کوئی جذبہ موجود ہے؟ کیا یہ وطن کے بارے میں بھی سوچتے ہیں اور اس  کے اچھے برے سے بھی ان کا کوئی تعلق ہے؟ اس شعر میں شاعر نے استفہامِ انکاری کی صورت پیدا کی ہے۔ یعنی سوال اس انداز میں پوچھا ہے کہ خود سوال ہی میں جواب پوشیدہ ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ اہلِ ہند کو اپنے وطن کی کوئی فکر نہیں۔ ہوتی تو یہ گروہ در گروہ بٹے ہوئے نہ ہوتے۔


سکُوت آموز طولِ داستانِ درد ہے ورنہ
زباں بھی ہے ہمارے مُنہ میں اور تابِ سخن بھی ہے

میری داستان بہت طویل ہے اور اِس کی یہی طوالت مجھے خاموش رہنے پر مجبور کررہی ہے۔

ورنہ سچی بات تو یہ ہے کہ میں بھی زبان رکھتا ہوں اور مجھ میں بات کرنے کاحوصلہ بھی ہے۔ یعنی صرف بات کی طوالت آڑے آرہی ہے ورنہ میں وہ تمام وسائل رکھتا ہوں، جو اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کے لیے ضروری خیال کیے جاتے ہیں۔


”نمیگردید کوتہ رشتۂ معنی رہا کردم
حکایت بود بے پایاں، بخاموشی ادا کردم“

میری داستانِ درد چونکہ بہت طویل تھی۔ اس قدر طویل کہ اس کی کوئی انتہا ہی نظر نہیں آتی، اس لئے میں نے خاموشی اختیار کرنا مناسب سمجھی۔

نوٹ: یہ شعر مشہور فارسی شاعر  ”نظیریؔ“ کا ہے۔

حوالہ جات

  • شرح بانگِ درا از ڈاکٹر شفیق احمد
  • شرح بانگِ درا از پروفیسر یوسف سلیم چشتی
  • شرح بانگِ درا از ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی
  • شرح بانگِ درا از اسرار زیدی
  • مطالبِ بانگِ درا از مولانا غلام رسول مہر
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments