Skip to content
Home » ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ

ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ

”ابلیس کی مجلسِ شوریٰ“ از علامہ اقبال

فہرست (Table of Contents)

تعارف

1936ء میں تحریر کردہ نظم ابلیس کی مجلسِ شوریٰ (شیطان کی مجلسِ مشاورت) میں علامہ اقبال نے مغرب پر براہِ راست تنقید کرنے کی بجائے، ڈرامائی انداز میں ابلیس اور اس کے مشیروں کی زبان سے عصرِ حاضر کو درپیش مسائل کے حوالہ سے ان اساسی اور اقتصادی امور پر روشنی ڈالی جن کی بنا پر مغرب طاقتور اور مشرق کمزور ہوگیا۔ اس ضمن میں اسلام کا فعال اور حرکی کردار بطورِ خاص اُجاگر کیا۔ تقریباً پون صدی گذر جانے کے باوجود بھی ہنوز یہ نظم اتنی ہی اہم اور فکر انگیز ہے جتنی زمانۂ تحریر میں تھی، کہ مشرق کو آج بھی ابلیس کے پیدا کردہ مسائل کا سامنا ہے۔

(حوالہ: شرح بانگِ درا از ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی)


نظم ابلیس کی مجلسِ شوریٰ اُردو ادب کے شاہکاروں ہی میں سے نہیں ہے بلکہ اپنی نوعیت، اسلوبِ بیان، حقیقت پژوہی (حقیقت کی تلاش، سچائی کی طلب)، رفعتِ تخیّل، وسعتِ مضامین، زورِ کلام، ژرف نگاہی (گہری نظر، باریک بینی) اور کمالِ تنقید کے لحاظ سے خود اقبالؔ کی تمام تمثیلی نظموں میں بے مثل ہے۔ جس طرح نثر کے مقابلے میں نظم کا مرتبہ اثر آفرینی کے لحاظ سے فزوں تر ہے، اسی طرح اصنافِ نظم میں تمثیل کو فوقیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے اکثر ناموَر اربابِ قلم نے اسی صنف کی مدد سے اپنے خیالات کو مؤثر ترین پیرایہ میں لوگوں کے سامنے پیش کیا ہے۔ مثلاً افلاطون نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ”جمہوریت“ میں غار کی تمثیل کے پردہ میں اپنے بنیادی فلسفہ کو بیان کیا ہے اور شیخ فرید الدین عطارؒ نے اپنی مشہور تصنیف ”منطق الطیر“ میں یہی اسلوبِ نگارش اختیار کیا ہے۔ انگریزی ادب میں پلگرِمس پروگریس (Pilgrim’s Progress) تمثیلی شاعری کی ایک بہترین مثال ہے۔

تمثیل کا مطلب یہ ہے کہ اس میں شاعر اپنا مافی الضمیر (دل کی بات) کنایات (یعنی اشاروں) اور استعارات (یعنی مجازی معنی) کے ذریعہ سے بیان کرتا ہے، چنانچہ اس شعر میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے:-

؎ خوشتر آں باشد کہ سِرِّ دِلبراںِ
گفتہ آید در حدیثِ دیگراں

بہتر یہی ہوتا ہے کہ دِلبروں کا راز دوسرے لوگوں کے قِصّوں میں (کنایۃً) بیان ہوجائے۔

(شاعر: مولانا جلال الدین رومی)

اِس تمثیلی نظم کا مرکزی خیال یہ ہے کہ اقبالؔ مسلمانوں کو اس حقیقت سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ دنیا میں اگر کوئی نظامِ حیات یا دستور العمل ابلیسی نظام کو شکست دے سکتا ہے تو وہ اسلامؔ ہے۔ چونکہ ابلیس اس نکتہ سے واقف ہے، اِس لیے وہ اس دین کو فنا کرنے پر کمر بستہ ہے۔ اندریں حالات مسلمانوں کا فرضِ منصبی یہ ہے کہ وہ اپنی تمام قوتیں ابلیسی نظام کو تہہ و بالا کرنے پر مبذول کردیں۔

ناظرین غور کریں کہ بات صرف اِسی قدر ہے جسے میں نے ان تین مختصر جملوں میں بیان کردیا ہے۔ یہی نظم ابلیس کی مجلسِ شوریٰ کا خلاصہ ہے۔ لیکن اقبالؔ کا کمالِ فن دیکھیے کہ انہوں نے اِس تصوّر کو تمثیل کا لباس پہنا کر ایسے دِلکش انداز میں پیش کیا ہے کہ روح وَجد کرنے لگتی ہے۔ جو اثر اس نظم کے مطالعہ سے دِل میں پیدا ہوسکتا ہے، وہ نثر کے سو صفحات سے بھی پیدا نہیں ہوسکتا۔

اب میں ناظرین کی سہولت کے لیے اس نظم کا تجزیہ کرتا ہوں:۔

پہلے بند میں ابلیسؔ مشیروں کے سامنے اپنے قائم کردہ نظام کی خصوصیات بیان کرتا ہے اور آخر میں یہ دعویٰ کرتا ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت اُسے نہیں مٹا سکتی۔

؏ کون کرسکتا ہے اُس نخلِ کہن کو سرنِگوں

دوسرے بند میں پہلا مشیر، ابلیس یعنی ”قائدِ ایوان“ کے دعویٰ کی تائید کرتا ہے کہ بلاشبہ دنیا کی کوئی طاقت اس نطام کا خاتمہ نہیں کرسکتی۔ پہلے مشیر کی تقریر سُن کر دوسرا مشیر اس سے اختلافِ رائے ظاہر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے اندیشہ ہے۔ مبادا (یعنی ایسا نہ ہو کہ) جمہوری نظام، ہمارے ابلیسی نظام کو باطل کردے۔

تیسرے بند میں پہلا مشیر، دوسرے مشیر کے شبہ کا ازالہ کرتا ہے کہ جمہوری نظام چونکہ ہمارا ہی پیدا کردہ ہے، اس لیے اس کی طرف سے ہمیں کوئی شبہ نہیں۔

؏ جو ملوکیت کا اِک پردہ ہو کیا اُس سے خطر

چوتھے بند میں تیسرا مشیر، پہلے کے خیالات کی تائید کرتا ہے لیکن یہ اندیشہ ظاہر کرتا ہے کہ شاید اشتراکیتؔ ہمارے نظام کو فنا کردے۔

پانچویں بند میں چوتھا مشیر، تیسرے مشیر کی تائید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اشتراکی نظام (Socialism) کو ختم کردینے کے لیے ہم نے فاشسطی نظام (Fascism) پیدا کردیا ہے۔ یہ سُن کر تیسرا مشیر چوتھے مشیر کی تردید کرتا ہے کہ فاشسطی نظام (Fascism)، اشتراکی فتنہ  (Socialism) کو فنا کردینے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اس لیے ہمیں آخر الذکر فتنہ یعنی فاشسطی نظام (Socialism) سے غافل رہنا مناسب نہیں۔

چھٹے بند میں پانچواں مشیر، تیسرے مشیر کی تائید کرتا ہے اور ابلیس کو مخاطب کرکے زور دار الفاظ میں یہ کہتا ہے کہ واقعی اشتراکیت (Socialism) ہمارے نظام کے لیے سب سے بڑا فتنہ ہے۔ اس لیے اس کا تدارک ہمارا اوّلین فرض ہے۔

؎ میرے آقا وہ جہاں زیر و بر ہونے کو ہے
جس جہاں کا ہے فقط تیری سیادت پر مدار

پانچوں مشیروں کی تقریریں اور خیالات سُننے کے بعد ابلیسؔ آخری تقریر کرتا ہے۔ اس کی اس معرکۃ الآراء تقریر کے تین حصے ہیں:- اپنی تقریر کے پہلے حصے میں (یعنی نظم کے چھٹے بند میں) ابلیسؔ یہ کہتا ہے کہ میں اشتراکیوں (Socialists) سے مطلق خوفزدہ نہیں ہوں:-

؏ کب ڈرا سکتے ہیں مجھ کو اِشتراکی کُوچہ گرد

ہاں! اگر مجھ کو کوئی خطرہ ہے تو مسلمانوں سے ہے۔ دوسرے حصے یعنی ساتویں بند میں وہ اسلام کی وہ خصوصیات بیان کرتا ہے جن کی بِنا پر اُسے اپنے نظام کی شکست کا اندیشہ لاحق ہے۔

تیسرے حصّہ یعنی ابلیس کی مجلسِ شوریٰ کے آٹھویں بند میں وہ اپنے مشیروں کو حکم دیتا ہے کہ چونکہ ہمیں صرف اسلام سے خطرہ ہے، اس لیے تم سب مل کر کوشش کرو کہ مسلمان اُسی طرح اسلام سے بیگانہ رہے جس طرح ایک ہزار سال سے بیگانہ چلا آرہا ہے۔

؎ مست رکھو ذکر و فکرِ صبحگاہی میں اِسے
پُختہ تر کردو مزاجِ خانقاہی میں اِسے

اِس مختصر تمہید کے بعد اب میں اس نظم کے ہر شعر کا مفہوم آسان الفاظ میں واضح کیا جارہا ہے اور آخر میں پوری نظم پر تبصرہ کیا جائے گا۔ تاکہ ناظرین کو اقبالؔ کے اُن بنیادی افکار سے آگاہی حاصل ہوجائے، جو اُنہوں نے اِس تمثیل کے پردہ میں بیان کیے ہیں۔

(حوالہ: شرح ارمغانِ حجاز از پروفیسر یوسف سلیم چشتی)

ابلیس (اپنے مشیروں سے)

یہ عناصِر کا پُرانا کھیل، یہ دُنیائے دُوں
ساکنانِ عرشِ اعظم کی تمنّاؤں کا خوں!

حلِ لغات:

عناصِرعنصر کی جمع۔ مراد آگ، پانی، مٹی، ہوا وغیرہ کے عنصر یا اجزاء
دُنیائے دُوںگھٹیا دُنیا، ذلیل اور کمینی دُنیا
ساکِنانِ عرشِ اعظمساکنان لفظ ”ساکن“ کی جمع ہے، ساکنانِ عرشِ اعظم سے مُراد ہے عرشِ اعظم کے رہنے والے، یعنی فرشتے
تمنّاؤں کا خوںآرزوؤں کا برباد ہونا
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

شیکسپیئر (Shakespeare) نے اپنے مشہور ڈرامہ Twelfth Night کا آغاز اس جملہ سے کیا ہے:-

”اگر یہ سچ ہے کہ موسیقی عشق کی غذا ہے، تو مجھے یہ غذا اتنی زیادہ مقدار میں دو کہ میں کھاتے کھاتے اُکتا جاؤں۔“

حق یہ ہے کہ یہ ایک ہی جملہ قائل کی پوری سیرت کا آئینہ دار ہے۔ اسی طرح  اقبالؔ نے نظم ابلیس کی مجلسِ شوریٰ کی ابتداء اس مصرع سے کی ہے:-

؏ یہ عناصر کا پرانا کھیل! یہ دنیائے دُوں!

اِسی طرح یہ مصرع ابلیس کی سوچ کا آئینہ دار ہے اور اِس میں کوئی شک نہیں کہ اِن دو لفظوں میں ابلیسیت کی پوری رُوح کھینچ کر رکھ دی ہے۔ دُنیا کو عناصر کے پرانے کھیل سے تعبیر کرنا ابلیس کی تعلیمات کا سنگِ بُنیاد ہے کیونکہ ابلیسیت کی تمام صورتیں اسی تصوّر سے پیدا ہوتی ہیں۔ واضح ہو کہ

سانکھ درشنؔ (Samkhya
چارواکؔ مت (Charvaka
جینؔ دھرم (Jainism
بودھؔ دھرم (Buddhism
دیمقر اطیسیؔ نظام (Democritus  -ism)،
لاادریتؔ (Agnosticism
تشکیکؔ (Infidelity
دہریتؔ (Dualism
الحادؔ و زندقہؔ (Atheism
مادہؔ پرستی (Materialism
مزدکیّتؔ (Mazdakism
مارکسزمؔ (Marxism
انارکزمؔ (Anarchism
نہلزمؔ (Nihilism
ڈیؔ ازم (Deism
ہیومینزمؔ (Humanism
بالشوزمؔ (Bolshevism
سوشلزمؔ (Socialism
کمیونزمؔ (Communism)

اور اِسی قبیل (قسم) کے دوسرے اِزموں کی بنیاد یہی ہے کہ یہ دُنیا عناصر کا پُرانا کھیل ہے۔

”پُرانا کھیل“ غور طلب ترکیب ہے۔ اقبالؔ نے پوری مادیّت (Materialism) کو دو لفظوں میں بند کردیا ہے۔ مادیّت (Materialism)  کی تعلیم یہ ہے کہ دُنیا سالماتِ مادی (Molecules) کے غیر شعوری اور ازلی امتزاج (Reactions) کا نتیجہ ہے۔ یعنی ازل سے مالیکیولز (Molecules) غیر شعوری طور پر ایک دوسرے سے Reactions کرتے رہتے ہیں اور یہ عمل خودبخود ہورہا ہے۔، یعنی یہ سب ”عناصر کا پرانا کھیل“ ہے جو نہ جانے کب سے چلا آرہا ہے۔ Elements، Molecules، Atoms، یہ سب اُن ہی کی اکھیڑ پچھاڑ کا نتیجہ ہے۔

(دُنیا کی حقیقتِ خالص مادہ یعنی Material ہے۔ اِسی Material ہی کی بنیاد پر یہ دنیا ہے۔ یہ نقطہ Materialism کی بنیاد ہے۔)

 واضح الفاظ میں کہیں تو مادیت (Materialism)  کہتی ہے کہ:-

مالیکیولز (Molecules) کے جذبِ باہمی (Reactions) یا اس کے برعکس عمل کا کوئی مقصد نہیں۔ ایک اندھی طاقت اِن سالمات (Molecules) کو ملاتی رہتی ہے اور اِن کے اس بلامقصد امتزاج سے مختلف چیزیں بنتی رہتی ہیں۔۔ یہ عمل ایک خودکار (automatic) طریقے سے ہوتا رہتا ہے اور اِس کے پیچھے کوئی خالق کار فرما نہیں۔ یہ کھیل پرانا ہے، یعنی مادہ (Material) ازل سے ہے۔ اس کی کوئی ابتداء نہیں۔ جن لوگوں نے مسلکِ مادیّت (Materialism) کا مطالعہ کیا ہے اُن سے یہ حقیقت مخفی نہیں ہے کہ اِس مسلک کی بنیاد اِنہی دو باتوں پر ہے۔ اگر اس نقطہ کو مدِنظر رکھ کر اِس مصرع کو پڑھا جائے تو اس کی موزونیت بخوبی واضح ہوسکتی ہے۔

”ساکنانِ عرشِ اعظم“ سے اشارہ ہے فرشتوں سے، جو اس دنیا میں خلافت و نیابتِ الہیہ کے امیدوار تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے جب حضرت آدمؑ کو اپنا خلیفہ مقرر کیا تو فرشتوں کی تمنّاؤں کا خون ہوگیا۔ جب اللہ تعالی نے فرمایا تھا کہ:-

اِنِّىْ جَاعِلٌ فِى الْاَرْضِ خَلِيْفَةً

میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔

تو فرشتوں نے استفہام کیا تھا کہ:-

قَالُوْا اَتَجْعَلُ فِيْـهَا مَنْ يُّفْسِدُ فِيْـهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَآءَ ۚ وَنَحْنُ نُسَبِّـحُ بِحَـمْدِكَ وَنُـقَدِّسُ لَكَ

کیا آپ زمین میں ایسی مخلوق پیدا کریں گے جو اس میں فساد مچائے اور خون خرابہ کرے حالانکہ ہم آپ کی تسبیح اور حمد و تقدیس میں لگے ہوئے ہیں۔

(حوالہ: القرآن: سورۃ البقرۃ : آیت نمبر 30)

ابلیس کہتا ہے کہ اِس ادنیٰ دُنیا کی اس سے بڑھ کر اور کوئی حقیقت نہیں کہ یہ عناصر کے پرانے کھیل (یعنی عناصرِ فطرت کی ترتیب) کے نتیجہ میں ظہور پذیر ہوئی۔ اِس کی تخلیق عرش پر آباد فرشتوں کی آرزوؤں کے برعکس تھی (یعنی وہ دنیا کے عالمِ وجود میں آنے پر خوش نہ تھے) اور اب عالم یہ ہے کہ آج (ساکنانِ عرض کے ارادے) بلند آسمان والوں (فرشتوں) کی آرزوؤں کا خون کررہے ہیں۔


اس کی بربادی پہ آج آمادہ ہے وہ کارساز
جس نے اس کا نام رکھّا تھا جہانِ کاف و نوں

حلِ لغات:

آمادہتیار، راضی
کارسازبگڑے ہوئے کام بنانے والا، مراد خدا
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

اِس دنیا کو وہ ”کارساز“ تباہ کرنے پر تُلا ہوا ہے جس کا دعویٰ یہ ہے کہ میں نے اس کو کلمۂ کُن سے پیدا کیا ہے اور اسی لیے اس نے اس کا نام “جہانِ کاف و نوں“ رکھا تھا۔ (ابلیس اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتا کہ یہ دُنیا کلمۂ کُن سے پیدا ہوئی ہے۔ اس لیے وہ کہتا ہے کہ اُس کارساز نے اس جہان کا نام ”کاف و نوں“ رکھا تھا۔)

؏  اِس کی بربادی پہ آج  آمادہ ہے وہ کارساز

ڈاکٹر اسرار احمد فرماتے ہیں کہ اِس مصرع کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں:-

ایک تو یہ کہ ابلیس محسوس کررہا ہے کہ قیامت اب قریب آرہی ہے، خیر و شر کا جو کھیل ازل سے جاری ہے، یہ کھیل آخرکار اب اختتام کو پہنچ رہا ہے۔

دوسرا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ابلیس یہ محسوس کررہا ہے کہ اس دنیا میں شر کا، شِرک کا، الحاد کا، بے حیائی کا، بے شرمی کا، سُودی نظام کا جو کھیل اُس نے بنایا ہے، اب معلوم ہوتا ہے کہ یہ ختم ہونے کو ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ کارساز اب آخری مقابلے میں اِس کو ملیا میٹ کرنے کے پے درپے ہے۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی اس کی شرح میں فرماتے ہیں:-

”شاید آپ حضرات دریافت کریں کہ میں (یعنی ابلیس) نے آثار و قرائن سے نتیجہ اخذ کیا کہ خدا اس دنیا کی بربادی پر آمادہ ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ پہلی جنگِ عظیم نے (جو 1914ء سے 1918ء تک برپا رہی) آئندہ جنگوں کا دروازہ کھول دیا ہے اور مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عنقریب دوسری جنگ برپا ہوگی، جو اپنی ہولناکی کے اعتبار سے گذشتہ جنگ پر فوق لے جائے گی۔ اگر اسی طرح جنگوں کا سلسلہ قائم رہا تو ایک دِن ایسا بھی آجائے گا جب میرے تمام متبعین (یعنی نقشِ قدم پر چالنے والے) صفحۂ ہستی سے مِٹ جائیں گے لیکن میں آپ صاحبان کو یقین دِلاتا ہوں کہ میں خدا کو ہرگز اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہونے دُوں گا۔ یہ سچ ہے کہ خدا ان تمام اقوام کو جو میرے زیرِ اثر ہیں (مثلاً رُوسؔ، انگلستانؔ، امریکہؔ، فرانسؔ، اطالیہؔ، ہالینڈؔ وغیرہ) کو نیست و نابود کرنا چاہتا ہے اور ان کی بجائے ایسی قوم پیدا کرنا چاہتا ہے جو اس کی پرستار ہو۔ لیکن میں ایسا ہونے نہیں دوں گا۔ کیونکہ میں نے اپنا یہ نظام بڑی محنت اور جانفشانی کے بعد قائم کیا ہے اور اس نظام کی شراب کو مختلف رنگوں کی بوتلوں میں پیش کیا ہے، مثلاً“:- (تفصیل آئندہ اشعار میں)


میں نے دِکھلایا فرنگی کو مُلوکیّت کا خواب
مَیں نے توڑا مسجد و دَیر و کلیِسا کا فسُوں

حلِ لغات:

فرنگیانگریز، یورپ کا باشندہ
مُلوکیّتبادشاہت
دَیرمندر
کلیساگِرجا، چرچ
فسُوںجادو
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

یورپ کی اقوام (یعنی فرنگیوں) کو ملوکیت (Imperialism) تعلیم میں نے ہی تو دی ہے۔ یورپ کے حکمرانوں کو (دنیا بھر کے وسائل پر قابض ہوکر) اپنی حکومت میں وسعت کا (دِلکش) خواب میں نے ہی تو دکھایا ہے۔ برطانوی کامن ویلتھ (British Commonwealth) کے ارکان جس ملکۂ معظمہ کی صحبت کا جام نوش کرتے ہیں، وہ میرے ہی قائم کردہ نظامِ ملوکیّت کی نگران ہے۔

فرنگی ملوکیت (Western Imperialism)، یعنی دنیا فتح کرو، Colonize کرو، یہ پہلا خواب تھا۔۔ لیکن اس خواب کے بعد فرنگیوں نے اُس سے بہتر خواب دیکھ لیا ہے اور وہ یہ کہ خواہ مخواہ جا کر قبضہ کرنے سے کیا فائدہ ہے؟ سُودی نظام سے، بینکنگ کے نظام سے، انٹرنیشنل کمپنیوں کے نظام سے، گلوبیلائزیشن (Globalization) کے ذریعے سے خون چوستے رہو۔۔ وہ رہیں اپنی اپنی جگہ پر۔۔ ہم وہاں جا کر اُن پر حملہ کریں گے۔۔ اُن کو فتح کریں گے۔۔ تو ردِ عمل بھی تو پیدا ہوگا ۔۔ خون ریزی بھی تو ہوگی۔۔ وہ کوشش بھی کرتے رہیں گے کہ وہ آزادی حاصل کریں۔۔ ہم سے لڑتے رہیں گے۔۔ تو اب یہ نیا Imperialism ہے، مالیاتی Imperialism جو اب دنیا میں موجود ہے، یہ سارا خواب اب فرنگی کو میں نے (ابلیس نے) دِکھایا ہے۔

اِسی طرح اسلامی ممالک کے باشندے شریعتِ اسلامیہ کا استحفاف (توہین) میرے ہی اشارے پر تو کررہے ہیں۔ میری تلقین کا ہی تو اثر ہے کہ عورتیں بے حیائی اور بے حجابی کو ”ترقی“ سے تعبیر کررہی ہیں اور اس غیر اسلامی طرزِ عمل کو فخریہ انداز میں دنیا کے سامنے پیش کررہی ہیں۔ میں نے ہی تو ان کے کان میں یہ افسُوں (منتر) پڑھ کر پھونک دیا ہے کہ اگر یورپ کی عورتوں کی تقلید کرو گی تو تمہاری قوم ترقی کی بلند ترین سطح تک پہنچ جائے گی، چنانچہ وہ دِن دُور نہیں جب ان ملکوں میں بھی عُریانی کے کلب قائم ہوجائیں گے۔

یہ مسجد، مندر، کلیسا۔۔ اس کا سارا اثر میں نے ختم کردیا۔ کیسے؟ ایسے کہ Secularism کی پٹی پڑھادی۔۔ کہ یہ انسان کا ذاتی معاملہ ہے کہ مسجد میں جائے، مندِر میں جائے، کلیسا میں جائے، یا جہاں بھی جائے تو کوئی نہیں جاؤ۔۔ لیکن ملکی نظام، ملکی قانوں، حکومت، ریاست، معیشت، معاشرت۔۔ اس کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ سو جو بھی مذاہب تھے، جو بھی کنٹرول تھا مذاہب کا۔۔ آخر ایک خدا کو تو مانتے تھے ناں۔۔ اِس دورِ حاضر سے قبل انسان کی گمراہی صرف ایک تھی، شِرک۔ وہ کیا ہے؟ ایک بڑے خدا کے ساتھ چھوٹے چھوٹے خداؤں کو بھی ماننا۔ بڑے خدا کا انکار نہیں تھا۔ اب کیا کِیا گیا ہے؟ اُس بڑے خدا کو اُٹھا کے مسجد میں بند کردو، مندِر میں بند کردو، چرچ میں بند کردو اور کہو کہ یہ پورا نظام ہم چلائیں گے۔ یعنی:-

We are the sovereigns. Sovereignty belongs to us.

 لہذا:-

میں نے دکھلایا فرنگی کو ملوکیت کا خواب یعنی Imperialism

میں نے توڑا مسجد و دیر و کلیسا کا فسوں یعنی Secularism


مَیں نے ناداروں کو سِکھلایا سبق تقدیر کا
مَیں نے مُنعِم کو دیا سرمایہ داری کا جُنوں

حلِ لغات:

نادارغریب
مُنعِمدولت مند، جس پر اللہ تعالی نے دولت کا انعام کیا ہے
سرمایہ داریدولت اکٹھی کرنا
جُنوںدیوانگی، عقل کھو بیٹھنا، کسی چیز کی حد سے زیادہ دھُن ہونا
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

مفلسوں، مزدوروں، ناداروں، فاقہ کشوں، کاشتکاروں اور غریبوں کو میں نے ہی تقدیر کا سبق پڑھایا ہے۔۔ میں نے کہا بھئی ٹھیک ہے۔۔ یہ تمہاری قسمت ہے۔۔ تم کسان ہو۔۔ ہاری ہو۔۔ تمہاری قسمت یہی ہے۔۔ اُس کی طرف سے ہے۔۔ رب کی طرف سے ہے۔۔ کوئی بغاوت کا خیال پیدا نہ یوجائے!۔۔ کہیں کھڑے ہوکر کوئی resistance  کی movement  شروع نہ کردینا۔۔ یہ تو تمہاری تقدیر ہے لہذا اسی پر اکتفا کیے رہو۔ لہذا زمینداروں اور جاگیرداروں کی غلامی کرتے رہو، اگر وہ تمہاری بیٹی کی عصمت ریزی کریں تو صبر کرو، اگر تمہاری بیوی کو غائب کردیں تو چُپ رہو، اگر تمہارے گھروں کو آگ لگوادیں تو اُف مت کرو۔۔ کیونکہ تمہاری تقدیر میں یہ باتیں لکھی ہوئی ہیں۔ تقدیر کے اس غلط مفہوم نے دنیا کے ناداروں کو قوّتِ عمل سے محروم کردیا۔ گویا میں (یعنی ابلیس نے) شیروں کو بکریاں بنا دیا۔

دولتمندوں کے دِلوں میں سرمایہ داری کا جذبۂ بے پناہ میں نے ہی تو پیدا کیا ہے۔۔ کہ یہ لوگ رات دِن دولت جمع کرتے رہتے ہیں اور اس کے حصول کے لیے جائز اور ناجائز، حلال اور حرام، حق اور ناحق، جھوٹ اورسچ میں کوئی فرق نہیں کرتے۔

”منعم“ عربی کا لفط ہے؛ یہ منعِم بھی ہوسکتا ہے اور منعَم بھی ہوسکتا ہے۔ مُنعِم اسمِ فاعل ہے جبکہ مُنعَم اسمِ مفعول ہے۔

مُنعِم سے مراد ہے: ”نعمتیں دینے والا“

مُنعم وہ ہے: ”جس کو نعمتیں دی گئیں“

یعنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پہلے جِن کے پاس دولت ہوتی تھی وہ اس کو خیرات کرتے تھے۔۔ صدقات کرتے تھے۔۔ خیر کے کاموں میں لگاتے تھے۔۔ ثواب کے کاموں میں لگاتے تھے۔۔ میں نے اُس کی بجائے کہا کہ کیا پاگل ہوگئے ہو؟ جمع کرو!

اور جس کے پاس فاضل سرمایہ و دولت اللہ نے دی تھی۔۔ اُس کا جو طریقہ تھا۔۔ جو قرآن پاک کی اِس آیت میں فرمایا گیا ہے:-

يَسْاَلُوْنَكَ مَاذَا يُنْفِقُوْنَ ۖ قُلْ مَآ اَنْفَقْتُـمْ مِّنْ خَيْـرٍ فَلِلْوَالِـدَيْنِ وَالْاَقْرَبِيْنَ وَالْيَتَامٰى وَالْمَسَاكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ؕ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْـرٍ فَاِنَّ اللّـٰهَ بِهٖ عَلِيْـمٌ

آپ سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں، کہہ دو جو مال بھی تم خرچ کرو وہ ماں باپ اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کا حق ہے، اور جو نیکی تم کرتے ہو سو بے شک اللہ خوب جانتا ہے۔

(حوالہ: القرآن: سورۃ البقرۃ: آیت نمبر 215)

میں نے کہا نہیں! ایسا کرنے کی بالکل ضرورت نہیں! جو بھی ہے جمع کرو!


کون کر سکتا ہے اس کی آتشِ سوزاں کو سرد
جس کے ہنگاموں میں ہو اِبلیس کا سوزِ دروں

حلِ لغات:

آتشِ سوزاںجلا دینے والی آگ
سوزِ درُوںسوز یعنی حرارت، درُوں یعنی اندرونی، سوزِ درُوں سے مُراد ہے اندر یعنی باطن کی گرمی و حرارت
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

کون ہے! میں نہیں ماننے کو تیار! کہ کوئی طاقت ہے ایسی جو ہمارے اِس پورے کھیل کو ختم کرسکے۔

واضح ہو کہ یوں کہہ کر ابلیس لاف زنی کر رہا ہے، کُچھ Self-Assurance کے لیے بھی، کچھ ساتھیوں کی دلجوئی کے لیے۔ چاہے آدمی دیکھ رہا ہو کہ میں ایک ہاری ہوئی جنگ لڑ رہا ہوں لیکن پھر بھی ساتھیوں کو برقرار رکھنے کے لیے حوصلہ دینا ضروری ہوتا ہے۔


جس کی شاخیں ہوں ہماری آبیاری سے بلند
کون کر سکتا ہے اُس نخلِ کُہن کو سرنِگُوں!

حلِ لغات:

ابیاریپانی دینے
نخلِ کُہننخل: درخت، کہن: پُرانا، نخلِ کُہن: پُرانا درخت
سر نِگُوں کرنامُراد ہے نیچے گِرانا، جڑ سے اُکھاڑ پھینکنا
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

حضرات! آپ غور کریں کہ میں نے کتنی محنت اور جانفشانی سے ملوکیّتؔ (Imperialism)، دہریّتؔ (Materialism)، تقدیرؔ پرستی اور سرمایہؔ داری۔۔ یہ چار ادارے قائم کیے ہیں! کیا میں خدا کو اس بات کی اجازت دوں گا کہ وہ اِن درختوں کو جو میں نے ہزاروں سال کی محنت کے بعد پروان چڑھائے ہیں (اور اب جب ان کے اثمارِ شیریں یعنی میٹھے پھلوں سے بہرہ اندوز ہونے کا وقت آیا ہے) جڑ سے اُکھاڑ پھینک دے اور اُن کی جگہ چودہ سو سال کا پرانا نظام (یعنی اسلام) قائم کردے؟! چنانچہ میں آپ صاحبان کو یقین دِلاتا ہوں کہ دُنیا کی کوئی بھی طاقت ہمارے اِس نظام کو باطِل نہیں کرسکتی۔

پہلا مشیر

اس میں کیا شک ہے کہ محکم ہے یہ اِبلیسی نظام
پُختہ تر اس سے ہوئے خُوئے غلامی میں عوام

حلِ لغات:

محکمپائیدار مضبوط
پُختہ ترزیادہ مضبوط
خوئے غلامیغلامی کی عادت
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

ابلیس کی تقریر سُن کر اُس کے مشیر نے اُس کی تائید اِن الفاظ میں کی کہ:-

اے آقا!

بلاشبہ آپ کا قائم کردہ نظامِ ابلیسیت بہت مستحکم ہے۔ یہ ابلیسی نظام، یہ سیاسی نظام، یہ لِبرل (Liberal) جمہوریت، یہ جُوئے اور سُود پر مبنی سارا ظالمانہ استحصالی نظامِ معاشی، یہ بے حیائی کہ انسان حیوان بن گیا ہے۔ اس نظام کے استحکام کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ آپ نے ملوکیّتؔ، دہریّتؔ (مادہ پرستی)، تقدیرؔ پرستی اور سرمایہؔ داری کے جو چار ادارے قائم کیے ہیں، یہ بہت مضبوطی سے نوعِ انسانی کو  اپنے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں۔

اِس نظام کی بدولت عامۃ الناس (عام لوگ) کے اندر مایوسی اور غیر فعالی کی کیفیت پیدا ہوچکی ہے، چنانچہ وہ اپنے حقوق کے لیے لڑنے کو تیار نہیں ہیں۔ عوام کے اندر اب ایک Passivistic اور Pessimistic انہداف پیدا ہوچکا ہے، یعنی مایوسی اور غیر فعالی کی کیفیت پیدا ہوچکی ہے۔ اب وہ Activist نہیں ہیں۔ اب وہ کام کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ وہ خوئے غلامی میں پختہ ہوگئے ہیں۔ دبے رہنے کے لیے تیّار ہیں۔ Exploit کیے جانے (یعنی اپنا استحصال کروانے) کے لیے تیار ہیں۔ اُن کے اندر وہ Urge ہی نہیں رہی، آزادی کا خیال ہی نہیں رہا۔

اِس شعر میں ”پُختہ تر“ غور طلب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ دوسروں کو اپنا غلام بنانا چاہتا ہے۔ چنانچہ ہر دور کے قیاصرہ (قیصر کی جمع، قدیم شاہانِ روم کا لقب)، اکاسرہ (کسریٰ کی جمع، قدیم شاہانِ ایران کا لقب)، فراعنہ (فرعون کی جمع، قدیم شاہانِ مصر کا لقب)، نماردہ (نمرود کی جع، کنایۃً ظالم بادشاہ) اور دیگر ملاعنہ (لعنت کیے گئے لوگ / قابلِ لعنت افراد) نے انسان کو غلامی میں پختہ کیا اور ابلیس نے اِس ”کارِ خیر“ میں ان بادشاہوں کی ہر ممکن طریق سے امداد کی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام خوئے غلامی میں پُختہ سے پُختہ تر ہوگئے۔


ہے اَزل سے ان غریبوں کے مقدّر میں سجود
ان کی فطرت کا تقاضا ہے نمازِ بے قیام

حلِ لغات:

ازل سےشروع سے، ہمیشہ سے
مقدّرقسمت
سجودسجدہ کی جمع
تقاضاخواہش، درخواست، طلب
نمازِ بے قیاموہ نماز جس میں کھڑے ہونے (قیام) کی نوبت ہی نہ آئے اور نمازی سجدہ ہی میں رہے
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

اس کے بعد پہلا مشیر غلاموں کی نفسیات کی تشریح کرتا ہے کہ عامۃ الناس (عام لوگ) تو ابتدائے آفرینش سے ملوک پرستی (بادشاہوں کو پوجنا) میں مبتلا رہے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے ہر دور میں اپنے بادشاہوں کو ”ظلِ الہی (نائبِ خدا / خدا کا سایہ)“ کا شاندار لقب دے کر اُن  کے سامنے سر تسلیمِ خم کیا ہے۔ عوام کی فطرت ہی ایسی ہے کہ وہ بادشاہوں کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے رہتے ہیں یعنی اطاعت پر کمر بستہ رہتے ہیں۔ سجدہ ان کی فطرت کا تقاضا بن چکا ہے، یعنی یہ صرف اپنے بادشاہوں کے آگے جھُکنا جانتے ہیں، ظالمانہ نظام کے خلاف کھڑے ہونے (یعنی قیام کی شان) سے ناآشنا ہیں۔

”نمازِ بے قیام“ بڑی بلیغ ترکیب ہے۔ یعنی غلاموں کی نماز میں نہ قیام ہے، نہ رکوع، نہ جلسہ۔۔۔ بلکہ از اوّل تا آخر سجدہ ہی سجدہ ہے۔ اس بات سے مراد یہ ہے کہ غلاموں کی پوری زندگی سجدہ (اطاعت) ہی میں گذر جاتی ہے۔ یہ ہر جگہ ماتھا ٹیکے ہوئے بیٹھے ہوئے ہیں اور ظالمانہ نظام کو قبول کیے ہوئے ہیں۔ کچھ تن بہ تقدیر ہیں۔۔ کچھ کہتے ہیں کہ “مجبور ہیں، کیا کریں؟”۔۔ کچھ حال مست ہیں۔۔ کچھ مال مست ہیں۔۔ لیکن اِن میں سے کوئی بھی ظالمانہ نظام کے خلاف کھڑے ہونے کو تیار نہیں۔


آرزو اوّل تو پیدا ہو نہیں سکتی کہیں
ہو کہیں پیدا تو مر جاتی ہے یا رہتی ہے خام

حلِ لغات:

آرزوآرزو، اُمنگ، کوئی اعلی و ارفع خیال، کوئی بلند نصب العین
خامکچّی، نا پُختہ
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

آرزو، اُمنگ، کوئی اعلی و ارفع خیال، کوئی بلند نصب العین۔۔ اوّل تو اِن کے دِل میں ایسی چیز پیدا ہو ہی نہیں سکتی (کیونہ ابلیسی نظام نے انہیں خوئے غلامی میں پختہ تر کردیا ہے)۔۔ اور اگر کسی شوریدہ سر (جنونی) کی کوششوں سے پیدا ہو بھی جاتی ہے تو ابلیسی نظام کی ”برکت“سے یا تو فنا ہوجاتی ہے یا ایسی مضمحل (مراد ہے تھک جانا) ہوجاتی ہے کہ وہ لوگ آزادی کے لیے جدوجہد نہیں کرسکتے۔۔ یعنی اوّل تو کسی میں اتنی ہمت ہی نہیں ہے کہ سر اُٹھا سکے۔۔ اور اگر کوئی سر اُٹھاتا بھی ہے تو اُسے پذیرائی ہی نہیں ملتی۔۔ یعنی بالفرض اگر آرزو پیدا ہو بھی جائے تو فوراً مر جاتی ہے۔

یوں سمجھیے کہ زمین کا ایک حصہ بنجر ہے اور وہاں سے کسی چیز کے اُگنے کا امکان ہی نہیں، لیکن اگر کوئی چیز اُگ بھی آئے تو اُس فضا کے اندر آکسیجن ہی نہیں ہے سو وہ پروان کیسے چڑھے گی؟ ہوا اُسے آکسیجن دینے کو تیار ہی نہیں۔۔ لہذا وہ مر جاتی ہے۔

دوسرے لفظوں میں کہیے تو اِس ابلیسی نظام کا اثر یہ ہے کہ اگر کوئی سر اُٹھانے کی کوشش کرتا بھی ہے تو اُس کے اندر اتنی ہمت ہی نہیں ہوتی کہ وہ سر اُٹھا سکے یا اُس کو زیادہ مذیرائی مِل سکے۔

اِس کی اگر ہم تھوڑی سی Practical مثال لینا چاہیں تو میڈیا جو ہے آج کے دور میں، یہ ایک ہتھیار ہے، تو کہیں پر بھی میڈیا  کے ذریعے Propaganda کروا کے، Misinformation پھیلا کے، آپ لوگوں میں اپنا Narrative  دکھا سکتے ہیں، چاہے وہ درست ہو یا نہیں لیکن ہم اس کو استعمال  کرسکتے ہیں۔ تو یہی ان وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ ہے کہ جہاں کہیں انقلاب (Revolution) کی بات کی جاتی ہے، تو Media کی طرف سے اُس پر اتنا کیچڑ اُچھالا جاتا ہے کہ وہ وہیں دم توڑ جاتی ہے، جس کو ہم انگریزی میں Nip the evil in the bud بھی کہتے ہیں یعنی شروع میں ہی اُس کے سر کا قلع قمع کردو۔

فکرِ اقبالؔ میں ”آرزو“ کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ علامہ اقبال اپنی کتاب ”اسرارِ خودی“ میں آرزو کے متعلق فرماتے ہیں:-

زندگانے را بقا از مدعا ست
کاروانش را درا از مدعا ست

زندگی کی بقا مقصد سے ہے ؛ مقصد ہی زندگی کے کاروان کے لیے (بانگ) درا کا کام دیتا ہے۔

زندگی در جستجو پوشیدہ است
اصل او در رزو پوشیدہ است

جستجو ہی زندگی کا راز ہے؛ آرزو کے اندر ہی زندگی کی اصلیت کا راز پوشیدہ ہے۔

آرزو را در دل خود زندہ دار
تا نگردد مشت خاک تو مزار

اس لیے تو اپنے دل میں آرزو کو زندہ رکھ ؛ تاکہ تیرا بدن قبر نہ بن جائے۔

آرزو جان جہان رنگ و بوست
فطرت ہر شی امین رزو ست

آرزو ہی اس جہان رنگ و بو (دنیا) کی جان ہے؛ ہر شے کی فطرت میں آرزو بطور امانت موجود ہے۔

از تمنا رقص دل در سینہ ہا
سینہ ہا از تاب او ئینہ ہا

تمنّا ہی سے سینوں کے اندر دل رقصاں رہتے ہیں؛ اسی کی چمک سے آئینے شیشے کی مانند شفّاف ہیں۔

طاقت پرواز بخشد خاک را
خضر باشد موسی ادراک را

آرزو خاکی انسان کو اڑنے کی طاقت عطا کرتی ہے؛ ہماری ادراک کے لیے آرزو اسی طرح راہبر ہے جس طرح موسی (علیہ) کے لیے خضر (علیہ) راہبر بنے۔

دل ز سوز آرزو گیرد حیات
غیر حق میرد چو او گیرد حیات

سوز آرزو سے دل زندگی پاتا ہے، دل زندہ ہو جائے تو اس کے اندر سے غیر اللہ کے نقوش مٹ جاتے ہیں۔

چون ز تخلیق تمنا باز ماند
شہپرش بشکست و از پرواز ماند

لیکن جب دل آرزو کی تخلیق چھوڑ دیتا ہے، تو اس کے بال و پر ٹوٹ جاتے ہیں اور وہ پرواز سے رہ جاتا ہے۔

آرزو ہنگامہ آرای خودی
موج بیتابے ز دریای خودی

آرزو ہی خودی کے لیے ہنگامے آراستہ کرتی ہے، یہ دریائے خودی کی ایک بیتاب سوچ ہے۔

آرزو صید مقاصد را کمند
دفتر افعال را شیرازہ بند

آرزو ہی مقاصد کے شکار کے لیے کمند کا کام دیتی ہے؛ اسی سے انسان کے افعال میں نظم و ضبط پیدا ہوتا ہے۔

زندہ را نفی تمنا مردہ کرد
شعلہ را نقصان سوز افسردہ کرد

تمنّا ختم ہو جانے سے زندہ انسان بھی مردہ ہو جاتا ہے؛ جیسے سوز ختم ہو جانے سے شعلہ افسردہ ہو جاتا ہے۔

چیست اصل دیدۂ بیدار ما
بست صورت لذت دیدار ما

ہماری دیدہء بیدار کی اصلیّت کیا ہے ؟ یہ کہ ہماری لذّت دیدار نے آنکھ کی صورت اختیار کر لی ہے۔

کبک پا از شوخی رفتار یافت
بلبل از سعی نوا منقار یافت

کبک نے شوخیء رفتار سے پاؤں پائے؛ بلبل نے ادائے نغمہ کے لیے کوشش کی تو اسے چونچ مل گئی۔

نے برون از نیستان آباد شد
نغمہ از زندان او آزاد شد

جب بانسری نیستاں سے باہر آ کر آباد ہوئی؛ تو نغمہ اس کے قید خانے سے آزاد ہوا (اس کے اندر سے نغمے پھوٹے)۔

عقل ندرت کوش و گردون تاز چیست
ہیچ میدانی کہ این اعجاز چیست

نادر چیزیں تلاش کرنے والی اور آسمان تک پہنچنے والی عقل کیا ہے؟ کیا تو نے کبھی غور کیا کہ یہ اعجاز کیسے حاصل کیا؟

زندگی سرمایہ دار از آرزوست
عقل از زائیدگان بطن اوست

بات یہ ہے کہ آرزو زندگی کا سرمایہ ہے؛ اور عقل زندگی کے بطن سے پیدا ہوئی ہے۔

چیست نظم قوم و آئین و رسوم
چیست راز تازگیہای علوم

قوم کا نظم اور اس کے آئین و رسوم کیا ہیں؟ نئے نئے علوم پیدا ہونے کا راز کیا ہے؟

آرزوئی کو بزور خود شکست
سر ز دل بیرون زد و صورت بہ بست

یہ سب آرزو کے کرشمے ہیں، جب آرزو اپنے زور سے ٹوٹ کر اٹھتی ہے تو دل کے اندر سے سر اٹھاتی ہے اور کوئی صورت اختیار کرتی ہے۔

دست و دندان و دماغ و چشم و گوش
فکر و تخییل و شعور و یاد و ہوش

ہاتھ، دانت، دماغ، آنکھ، کان، سوچ ، تخیّل، شعور، یاد، سمجھ۔

زندگی مرکب چو در جنگاہ باخت
بہر حفظ خویش این آلات ساخت

زندگی نے جب اپنا گھوڑا میدان جنگ میں دوڑایا ، تو یہ سب آلات اپنی حفاظت کے لیے بنائے۔

آگہی از علم و فن مقصود نیست
غنچہ و گل از چمن مقصود نیست

علم و فن کا مقصد محض معلومات نہیں؛ اسی طرح چمن سے صرف غنچہ و گل حاصل کرنا مقصود نہیں۔

علم از سامان حفظ زندگی است
علم از اسباب تقویم خودی است

بلکہ علم زندگی کی حفاظت کا سامان ہے؛ اور خودی کو مستحکم کرنے کے اسباب میں سے ایک سبب ہے۔

علم و فن از پیش خیزان حیات
علم و فن از خانہ زادان حیات

علم و فن زندگی کے خدمتگار اور غلام ہیں (فن برائے فن اور فن برائے زندگی کا امتیاز بیان کیا گیا ہے)۔

اے از راز زندگی بیگانہ، خیز
از شراب مقصدی مستانہ خیز

اے وہ شخص ، جو راز زندگی سے نابلد ہے اٹھ! اٹھ اور مقصد کی شراب پی کر مستانہ وار اٹھ۔

مقصدے مثل سحر تابندہ ئی
ماسوی را آتش سوزندہ ئی

تیرا مقصد ایسا ہونا چاہئیے جو صبح کی مانند روشن ہو؛ جو غیر اللہ کو جلا دینے والی آنکھ ثابت ہو (اللہ تعالے کی خوشنودی کے سوا اور کوئی مقصد نہیں ہونا چاہئیے )۔

مقصدی از آسمان بالاتری
دلربائے دلستانی دلبری

یہی مقصد آسمان سے بلند تر ہے؛ یہ دل کو لبھانے والا، دل چھین لینے والا اور دل پر قبضہ کر لینے والا مقصد ہے۔

باطل دیرینہ را غارتگری
فتنہ در جیبی سراپا محشری

یہ دیرینہ باطل کو فنا کر دینے والا مقصد ہے؛ اس کے گریباں میں محشر کے ہنگامے موجود ہیں۔

ما ز تخلیق مقاصد زندہ ایم
از شعاع آرزو تابندہ ایم

ہم مقاصد کی تخلیق سے زندہ ہیں؛ آرزو کی شعاع ہمیں روشن رکھتی ہے۔

(حوالہ: اسرارِ خودی: در بیان اینکہ خودی از تخلیق و تولید مقاصد است)


یہ ہماری سعیِ پیہم کی کرامت ہے کہ آج
صوفی و مُلّا مُلوکیّت کے بندے ہیں تمام

حلِ لغات:

سعیِ پیہملگاتار کوشش
کرامتایسا کام جو عام انسان کے بس میں نہ ہو اور عقل اُسے سمجھنے سے قاصر ہو
مُلوکیّتبادشاہت
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

یہ ہماری ہی مسلسل کوششوں کا نتیجہ تو ہے کہ صوفی اور مُلّا، جو اپنے منصب کے لحاظ سے حُریّت (آزادی و خود مختاری) کے علمبردار ہوسکتے تھے، یہی صوفی اور مُلّا آج خود ملوکیّت (Imperialism) کے غلام بنے ہوئے ہیں اور اپنے پیروؤں کو غلامی کا درس دے رہے ہیں اور ان کی خانقاہیں اور مدرسے آج غلامی کی سب سے بڑی تربیت گاہیں بنی ہوئی ہیں۔

خلافت کے بعد ہمارا جو نظام چلا ہے اس میں ہمارے صوفیاء، ملّا، علماء۔۔۔ اِن کا نظام کیا تھا؟ ملوکیّت کو سپورٹ!

ایک سپورٹ تو رہبانیّت (ترکِ دُنیا) ہے کہ خانقاہوں میں بیٹھو، اللہ اللہ کیے جاؤ، ضربیں لگائے جاؤ، تزکیہ کیے جاؤ، یہ کیے جاؤ، وہ کیے جاؤ، رگڑے جاؤ، رگڑے جاؤ، رگڑے جاؤ اور اسی میں زندگی گزار دو یعنی:-

”؏ چھوڑ کر اوروں کی خاطر یہ جہانِ بے ثبات!“

یعنی باہر کی دنیا میں کیا ہورہا ہے، کیا نہیں ہورہا ہے، اِس سے کوئی غرض نہیں۔ شیطان ننگا ناچ ناچ رہا ہے؟ ناچے! ہمیں اس سے کیا غرض ہے؟ ہمارے پاس تو اتنے مرید ہیں، اتنے طالب ہیں، اتنے سالک ہیں۔۔ فلاں سالک کل اس مقام پر پہنچ گیا ہے۔۔ فلاں سالک آج اُس مقام پر پہنچ گیا ہے۔۔

”؏ یہ سالک مقامات میں کھوگیا“
(حوالہ: بالِ جبریل: ساقی نامہ)

ہمارے مُلا اور فقہاء کا معاملہ یہ ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے متغلب (غلبہ پانے والا) کی حکومت کو جائز قرار دیا یعنی اگر کوئی شخص اپنے بل پر آکر حکومت پر قبضہ کرلے، تو جائز ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی لازم قرار دیا کہ حکمران کے خلاف کوئی بغاوت نہیں کرسکتے جب تک کہ وہ تمہیں کفر کا حکم نہ دے۔۔ کفر کا حکم کیوں دے گا وہ؟ وہ تو اپنے عیش منائے گا، وہ اپنے محل بنائے گا، اپنی رنگ رلیاں کرے گا۔۔ اُسے آپ کو کفر کا حکم دینے کے ضرورت کیا ہے؟

اُستاد امام ابوحنیفہ نے تعاون گوارا نہیں کہا ملوکیت کے ساتھ! آپ کو عہدے کی پیش کش کی گئی۔۔ ”قاضی القضات ہوجاؤ گے تم! تمہارا فتویٰ ہی قانون بن جائے گا!“۔۔ اُنہوں نے کہا “نہیں! ہرگز نہیں!“۔۔ چنانچہ جیل کاٹی، ماریں کھائیں۔۔ آپ کے شاگرد قاضی ابو یوسف نے عہدہ قبول کرکے تعاون شروع کردیا۔۔ اُستاد نے کہا تھا ”مزارعت“ حرام ہے! جس کی زمین ہے خود کاشت کرے! شاگرد صاحب نے تھوڑی سے شرتیں لگا کر مزارعت جائز قرار دے دی۔۔ کیوں؟ کیونکہ ملوکیت کے پاؤں ہوتے ہیں جاگیردار۔۔ جیسے کنکهجورے کے بہت سارے پاؤں ہوتے ہیں۔۔ اسی طرح یہ تیس ہزاری منصب دار ہے، یہ بیس ہزاری منصب دار ہے، یہ دس ہزاری ہے، یہ پانچ ہزاری ہے۔۔ اِن پاؤں پر ملوکیت کھڑی ہوتی ہے۔۔ یورپ میں کیا تھا؟ Lords! اور پھر ان کے اوپر بادشاہ!

مزارعت: لغوی معنی ہے بیج بونا، کسی کو زمین بٹائی پر دینا۔ اصطلاحی تعریف ”صاحبِ ہدایہ“ نے یوں کی ہے: زمین کی بعض پیداوار کو بطورِ عوض دیکر کھیتی پر عقد کرنا۔ مثلاً کوئی شخص زمین فراہم کرے اور دوسرا اس میں کاشت کاری کرکے پیداوار دونوں آپس میں تقسیم کریں۔

نمبر  تین، اُس سے  بھی زیادہ تلخ! سُود کی بھی ایک گنجائش اسلام میں پیدا کردی!


طبعِ مشرق کے لیے موزُوں یہی افیون تھی
ورنہ ’قوّالی‘ سے کچھ کم تر نہیں ’علمِ کلام‘!

حلِ لغات:

طبعِ مشرقمشرقی لوگوں یا قوموں کا مزاج
موزُوںمناسب
افیونافیم، نشہ آور چیز
علمِ کلاموہ علم جس میں دین کی باتوں کو سائنس، فلسفہ (Philosophy) اور منطق (Logic) سے ثابت کیا جاتا ہے
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

اگرچہ ہماری رائے میں ”علمِ کلام“ بلحاظ نتائج آفرینی، قوالی (یعنی غیر اسلامی تصوّرات) سے کم تر نہیں ہے لیکن ہم نے مشرقی ممالک کے مسلمانوں کو قوالی (یعنی غیر اسلامی تصوّف) کا خوگر اس لیے بنایا ہے کہ اُن کی افتادِ طبع (ذہنی قابلت) کے پیشِ نظر یہی افیون اُن کے لیے موزوں تھی۔ غیر اسلامی تصوّف اور علمِ کلام دونوں کا نتیجہ یکساں ہے، یعنی یہ دونوں ہی انسان کی قوّتِ عمل اور ذوقِ جہاد کو مُردہ کردیتے ہیں۔ لیکن ہم نے دیکھا کہ مسلمان علمِ کلام کے مقابلہ میں ”قوالی“ کو زیادہ پسند کرتا ہے، اس لیے کہ وہ کاہل اور عیش پسند ہے، محنت مشقت سے جان چُراتا ہے اور ”علمِ کلام“ حاصل کرنے کے لیے اس کو بہرحال کتابوں کا مطالعہ کرنا پڑے گا یعنی خود محنت کرنی پڑے گی، جبکہ قوالی میں اُسے خود کوئی کام نہیں کرنا پڑتا، رات کو کھانا کھا کر پانوں کی ڈبیہ اور بٹوہ لے کر محفل میں چلاگیا اور ساری رات زبان سے واہ واہ اور سبحان اللہ کرتا رہا، صبح ہوتے ہی گھر آگیا اور سوگیا۔

”علمِ کلام“: علمِ کلام میں اُن امور کی بحث کی جاتی ہے جو عقل کی دسترس سے بالاتر ہیں، مثلاً ماہیتِ وجود، ماہیتِ علم، ماہیتِ روح، ماہیتِ عالم، ربطِ حادث بالقدیم، حدیث و قدمِ کائنات، ذات و صفاتِ باری، تقدیر و تدبیر، جبر و اختیار اور مسئلہ خیر و شر وغیرہ وغیرہ۔۔ یہ تمام مسائل ایسے ہیں کہ نہ انسانی عقل ان کو سمجھ سکی ہے اور نہ کبھی آئندہ سمجھ سکے گی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ساری عُمر ان بحثوں میں ختم ہوجاتی ہے اور جہاد فی سبیل اللہ کے لیے وقت ہی نہیں مل سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک کسی صاحبِ کلام نے میدانِ جنگ میں جامِ شہادت نوش نہیں کیا۔ اِس بات کو واضح کرنے کے لیے اِس واقعہ پر غور فرمائیے:-

جب ترک مسلمان قسطنطنیہ کا محاسبہ کیے ہوئے تھے تو ایاصوفیہ، جو اُن کا سب سے بڑا چرچ تھا (جو آج مسجد ہے)، وہاں پر ”علمِ کلام“ کے اِن مسائل پر مناظرہ ہورہا تھا:-

ایک سوئی کی نوک پر کتنے فرشتے آسکتے ہیں؟ حضرت عیسیؑ کی ولادت کے بعد بھی حضرت مریمؑ کنواری رہ گئیں یا نہیں؟حضرت عیسیؑ نے Last Supper میں جو روٹی کھائی تھی، وہ خمیری تھی یا فطیری تھی؟۔۔  یہی حال ہمارا ہے ہندوستان میں تھا۔ انگریز بنگال سے آگے بڑھ رہا ہے۔۔ ہماری حکومتیں یعنی یہ جو چھوٹے چھوٹے سلطان اور نواب بیٹھے ہوئے ہیں یہ ختم ہورہے ہیں۔۔ اور ہمارے علماء میں سے دو چوٹی کے علماء (جن کا میں نام نہیں لینا چاہتا) کن مسائل پر گفتگو کررہے ہیں: اللہ جھوٹ بول سکتا ہے یا نہیں؟ اگر جھوٹ نہیں بول سکتا تو اس کا مطب ہے کہ ”علی کل شی قدیر“ نہیں ہے اور اگر بول سکتا ہے تو پھر اس کی وہ شان نہیں رہی باقی۔ اللہ کوئی دوسرا محمد ﷺ بنانے پر قادر ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو پھر بے نظیر تو نہ ہوئے محمد ﷺ۔ ایسے مسائل پر بڑے بڑے علماء، منطقی علماء اس پر  بحثیں کرتے تھے۔

واضح ہو کہ قوالی کا تعلق غیر اسلامی تصوف اور علمِ کلام کا تعلق مُلا اِزم سے ہے۔ قوالی انسان میں سرور و مستی کی کیفیت پیدا کردیتی ہے۔ وہ عملی دنیا سے ہٹ کر مستی و سرور میں ڈوب جاتا ہے اور اس کی زندگی کردار سے دور ہوجاتی ہے۔ قوالی کو افیون سے اس لیے تشبیہ دی ہے کیونکہ اگر انسان اپنی معاشرتی ذمہ داریوں کو بھلا کر سارا دن گھر بیٹھا قوالی  سننے میں غرق رہے گا، تو یہ اُس کے حق مین افیون جیسا نشہ ثابت ہوگی کیونکہ افیون کے استعمال سے بھی انسان کو کسی چیز کی ہوش نہیں رہتی۔


ہے طواف و حج کا ہنگامہ اگر باقی تو کیا
کُند ہو کر رہ گئی مومن کی تیغِ بے نیام

حلِ لغات:

حج کا ہنگامہحج کے موقع پر مسلمانوں کا زوردار اجتماع، بھیڑ
کُندجس میں کاٹنے کی صلاحیت نہ ہو
تیغِ بے نیامتیغ: تلوار- بے نیام: نیام سے باہر- نیام: خنجر یا تلوار رکھنے کا خول – تیغِ بے نیام: وہ تلوار جو نیام سے باہر ہو
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

اِس کے بعد وہ مشیر کہتا ہے کہ بے شک مسلمان حج کرنے جاتے ہیں۔۔ لیکن یہ اجتماع در اصل محض ایک ہنگامہ ہے جو چند روز کے لیے ہر سال برپا ہوجاتا ہے۔ مسلمان۔۔ جِن میں اکثریت بوڑھوں کی ہوتی ہے، ہر سال طواف کرنے چلے جاتے ہیں لیکن اس اجتماع کے مقصد سے ہمیشہ بیگانہ رہتے ہیں۔ حجازی حکومت کا خزانہ پُر کرنے کے بعد جو رقم بچتی ہے اُس سے کھجوریں، تسبیحیں، جائے نمازیں، رومال اور آبِ زم زم خرید کر واپس آجاتے ہیں۔۔ نہ وہ احتسابِ نفس کرتے ہیں۔۔ اور نہ جہاد کا جذبہ پیدا کرتے ہیں۔ حج کا مقصد تو یہ تھا کہ ساری دنیا کے مسلمان ہر سال مرکز میں جمع ہو کر اپنے اندر اجتماعیت کا رنگ پیدا کریں، مسلمانانِ عالم کی بہبود کے لیے تجاویز مرتب کریں، اقوامِ فرنگ کے اقتدار کو ختم کرنے کے لیے تدابیر سوچیں یعنی جہاد کی تیاری کریں۔۔ لیکن اُن میں سے کوئی بات بھی نہیں ہوتی کیونکہ ہم نے وہاں بھی ملوکیّت (Imperialism) کا دام بچھا رکھا ہے۔۔ تو ایسے میں ہمیں (یعنی ابلیس اور اس کے کارِندوں کو) اس سالانہ ”ہنگامہ“ سے کیا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے؟

رگوں میں وہ لہُو باقی نہیں ہے
وہ دل، وہ آرزو باقی نہیں ہے
نماز و روزہ و قربانی و حج
یہ سب باقی ہیں، تُو باقی نہیں ہے
(حوالہ: بالِ جبریل)


کس کی نومیدی پہ حُجّت ہے یہ فرمانِ جدید؟
’ہے جہاد اس دَور میں مردِ مسلماں پر حرام!

حلِ لغات:

نو میدیمایوسی، نا اُمیدی
حُجّتدلیل
فرمانِ جدیدنیا حُکم، نیا اشارہ
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

آخر میں وہ مشیر اس کارنامہ کے اظہار پر اپنی تائیدی تقریر ختم کرتا ہے کہ مسلمانوں کو جذبۂ جہاد سے مکمل طور پر بیگانہ بنا دینے کے لیے ہم نے اپنے دوستوں کی معرفت یہ نیا فرمان جاری کردیا ہے کہ ”ہے جہاد اس دور میں مردِ مسلماں پر حرام!“

وہ ابلیس سے مخاطب ہوتا ہے کہ اے آقا! یہ جو آپ نے مجلس بلائی ہے۔۔ جس کے آغاز میں آپ نے اتنی عمدہ تقریر بھی کی ہے۔۔ یہ کس کی طرف سے کوئی ناامیدی کی سی بات آپ پر آگئی ہے؟۔۔ وہ کونسا سبب ہے جس کی وجہ سے ناامیدی کی سی کیفیت آپ کے اندر پیدا ہورہی ہے؟۔۔ آخر وہ کونسا چیلنج ہے جسے آپ محسوس کر رہے ہیں؟ ہم تو کوئی خطرہ محسوس نہیں کر رہے۔۔ کیونکہ مسلمانوں کو جذبۂ جہاد سے مکمل طور پر بیگانہ بنا دینے کے لیے ہم نے اپنے دوستوں کی معرفت یہ نیا فرمان جاری کردیا ہے کہ ”ہے جہاد اس دور میں مردِ مسلماں پر حرام!“

واضح ہو کہ برِ صغیر کے صوبے متحدہ پنجاب کے قصبہ قادیان میں انگریز حکومت کے دور میں ایک شخص بنام مرزا غلام احمد پیدا ہوا تھا، جس نے دین کی صدیوں کی روح کے خلاف یہ فتویٰ دیا تھا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور اللہ کے دُشمنوں سے لڑنا اِس عہد میں دینی اور شرعی اعتبار سے ناجائز ہے اور انگریز جو ہم پر حکمران ہیں، اُن کے خلاف آزادی کے لیے جد و جہد کرنا مسلمانوں کے لیے مناسب نہیں۔ یہ شخص کود کو ”مسیح موعود“ کہتا تھا۔ اِس شعر میں اس فتویٰ کی طرف اشارہ ہے جو چودہ سو سالہ اِسلامی تاریخ میں نہیں دیا گیا۔ اس نے یہ فتویٰ اس لیے صادر کیا تھا کہ برِ صغیر کے مسلمان انگریز کے خلاف نہ اُٹھ کھڑے ہوں۔ یہ صورتِ حال مسلمانوں کی نا اُمیدی پر دلالت کرتی تھی اور اُن کو ہمیشہ کے لیے مایوس ہو کر انگریز آقاؤں کی غلامی اختیار کرنے کی طرف راغب کرتی تھی۔

دوسرا مشیر

خیر ہے سُلطانیِ جمہور کا غوغا کہ شر
تُو جہاں کے تازہ فِتنوں سے نہیں ہے با خبر!

حلِ لغات:

خیراچھائی، نیکی
سُلطانیِ جمہورعوام کی حکومت، جمہوریت
غوغاشور، ہنگامہ
شربدی، بُرائی
فتنےجھگڑے، شوشے، فساد
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

پہلے مشیر کی تقریر سن کر دوسرے مشیر نے یہ اندیشہ ظاہر کیا کہ آج کل کی دنیا میں ہمارے ابلیسی نظام کو تہ و بالا کر دینے کی لیے نئے نئے فتنے پیدا ہورہے ہیں، ابلیسیت کو چیلنج کرنے کے لیے بڑی بڑی چیزیں آگئی ہیں، جن سے شاید تُو بے خبر ہے۔

ان میں سے ایک بہت بڑا فتنہ جمہوریت کا ہے۔۔ بعض لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ملوکیّت (Imperialism) کی بجائے جمہوریّت (Democracy) کو دنیا میں فروغ دیا جائے۔۔ یعنی سلطانیٔ جمہور کا زمانہ آرہا ہے۔۔ جبکہ ہم نے تو ملوکیّت بنائی تھی۔۔ بادشاہت بنائی تھی۔۔ یہ کیا ہورہا ہے؟ یہ بادشاہت ختم ہورہی ہے۔۔ یہ روس میں انقلاب (Russian Revolution) آ رہا ہے۔۔ چنانچہ میں تجھ سے یہ دریافت کرتا ہوں کہ یہ ”سُلطانیِ جمہور“ کی یہ تحریک ہمارے حق میں مفید ہے یا مضر؟ جبکہ میرا تو خیال یہ ہے کہ جمہوریت کا فتنہ ہمارے حق میں بہت خطرناک ہے۔

پہلا مشیر

ہُوں، مگر میری جہاں بینی بتاتی ہے مجھے
جو ملوکیّت کا اک پردہ ہو، کیا اُس سے خطر!

حلِ لغات:

جہاں بینیدُنیا پر کے معاملات اور حالات پر نظر رکھنے کا عمل
ملوکیّت کا ایک پردہجمہوریّت کی آڑ میں بادشاہت کا عمل دخل، بادشاہت کی روح جس کے پیچھے کارفرما ہو
خطرخطرہ، ڈر
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

یہ سن کر پہلا مشیر جواب دیتا ہے کہ ہوں! میں ہوں باخبر! میں جانتا ہوں! مجھے بے خبر نہ سمجھو! میں نے پوری دنیا کو دیکھا بھالا ہے۔۔ سمجھا ہے۔۔ سمجھایا ہے۔۔ لہذا میری جہاں بینی (عالمی تجربہ) مجھے یہ نکتہ سمجھاتا ہے کہ:-

اے میرے دوست! موجودہ مغربی جمہوری نظام سے ہمیں کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے کیونکہ یہ نظام ہمارا ہی تو پیدا کردہ ہے۔

جمہورت اور شہنشاہیت (ملوکیّت) میں کوئی فرق نہیں ہے، اصل میں دونوں ایک ہی ہیں۔ جمہوریت تو ملوکیّت کا ہی ایک پردہ ہے۔ یہ جمہور کی حاکمیت وہی گند ہے، وہی شِرک ہے، وہی کفر ہے، وہی خباثت ہے، وہی غلاظت ہے کہ جو ایک فرد کی حاکمیت (یعنی ملوکیّت) تھی۔

تو اے میرے رفیق! کیا فرق پڑا ہے؟

ہے وہی سازِ کہن مغرب کا جمہوری نظام
جس کے پردوں میں نہیں غیر از نوائے قیصری
دیوِ استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب
تُو سمجھتا ہے کہ یہ آزادی کی ہے نیلم پری
(حوالہ: بانگِ درا: خضرِ راہ)


ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہُوری لباس
جب ذرا آدم ہُوا ہے خود شناس و خود نگر

حلِ لغات:

جمہوری لباسعوامی لباس، مراد بادشاہت کو جمہوریے کے جعلی نام سے قائم رکھا ہے
خود شناساپنے آپ کو پہچاننے والا
خود نگراپنی ذات پر نظر رکھنے والا، اپنے آپ کو دیکھے والا
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

بات یہ ہے کہ جب انسانوں میں سیاسی شعور پیدا ہوا، اپنی حیثیت کو سمجھنے لگے، اپنے حقوق کی نگرانی چاہنے لگے،  اور اُنہوں نے یہ کہا کہ ”حکومت تو عوام کا حق ہے، آخر  ہم بھی تو کچھ ہیں۔۔ صرف بادشاہ ہی تو نہیں ہے۔۔“ تو ہم نے ملوکیّت کو جمہوریّت کا لباس پہنادیا۔ صرف نام اور شکل کا فرق ہے ورنہ اصل ملوکیّت اور مغربی جمہوریت میں کوئی بنیادی فرق نہیں۔ بقول اقبالؔ:-

؎ دیوِ استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب
تُو سمجھتا ہے کہ یہ آزادی کی ہے نیلم پری
(حوالہ: بانگِ درا: خضرِ راہ)

یہ ذہن میں رکھ لیجیے کہ اقبالؔ کا یہ ویژن بہت گہرا ہے اور بہت عمدہ ہے:-

؎ ہر کُجا بینی جہانِ رنگ و بُو
آں کہ از خاکش بروید آرزو
یا زنورِ مصطفی اُو را بہا است
یا ہنوز اندر تلاشِ مصطفی است

اِس جہانِ رنگ و بو میں جدھر بھی دیکھیں،
اس خاک سے جو بھی آرزو ہویدا ہوتی ہے،
وہ یا تو نورِ مصطفیٰ ﷺ سے چمک رہی ہے،
یا ابھی تک مصطفی ﷺ کی تلاش میں ہے۔

(حوالہ: جاوید نامہ: فلک مشتری: زندہ رود مشکلات خود را پیش ارواح بزرگ میگوید)

یعنی یہ جو Dialectical Process چل رہا ہے دُنیا میں، یہ کشاں کشاں جارہا ہے اُسی نظام کی طرف، جو محمد ﷺ نے دیا تھا۔

یہ خود شناسی اور خود نگری، یہ محمد ﷺ کی عطا کردہ ہے۔  یہ خلیفۂ راشد نمبر دو ہیں حضرت عمرِ فاروقؓ، جن کا تاریخی واقعہ ہے۔ ایک صوبے کے گورنر نے، غالباً ایران کے گورنر نے جو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ تھے غالباً، اُنہوں نے اپنے مکان کے باہر ایک ڈیوڑھی بنا دی اور ایک پہرے دار کھڑا کردیا۔ اب یہ تو نہیں کہ ہر وقت کوئی آئے اور ملنے کے لیے تیار ہوں۔۔ آخر کو گورنر ہیں۔۔ گورنر کی بھی کوئی Privacy ہوتی ہے۔۔ پرچہ نویس ہوتے تھے چنانچہ انہوں نے خبر بھیج دی حضرت عمرؓ کو کہ سعدؓ نے یہ کام کیا ہے۔۔ حضرت عمرؓ نے خط دے کر بیلچی کو بھیجا اور کہا کہ پہلے جاکر اُس ڈیوڑھی کو آگ لگادینا اور پھر میرا یہ خط دینا، اور خط میں کیا لکھا تھا:-

”انسانوں کو اُن کی ماؤں نے آزاد جنا تھا، تم کون ہوتے ہو ان کو اپنا غلام بنانے والے“

یہ ہے حُریّت!


کاروبارِ شہریاری کی حقیقت اور ہے
یہ وجودِ مِیر و سُلطاں پر نہیں ہے منحصَر

حلِ لغات:

کاروبارِ شہریاریبادشاہت چلانے کا طریقہ
میر و سُلطاںامیر اور بادشاہ
منحصَرانحصار ہونا
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

کاروبارِ شہریاری (حکومت اور ملوکیت) کی اصل حقیقت کچھ اور ہے اور اِس کے لیے میر و سُلطاں کا ہونا لازمی نہیں۔

اِس کی توضیح (وضاحت) یہ ہے کہ نظامِ ملوکیّت کا انحصار، بادشاہ یا کسی فرد کے وجود پر نہیں ہے، بلکہ اس کی اصلیت امیری یا شاہی رویہ پر ہے۔ اگر ہم ملوکیّت (بادشاہت) کی رُوح کو جمہوریت کے پردہ میں پوشیدہ کردیں تو ہمارا مقصد حاصل ہوسکتا ہے۔۔ یعنی یہی امیری یا شاہی رویہ اگر ہم جمہوری نظام میں پیدا کردیں تو منتخب شدہ ارکان وہی کچھ کریں گے جو کچھ سُلطانی نظام میں ہوتا ہے۔


مجلسِ ملّت ہو یا پرویز کا دربار ہو
ہے وہ سُلطاں، غیر کی کھیتی پہ ہو جس کی نظر

حلِ لغات:

مجلسِ مِلّتقومی اسمبلی، مِلّی مجلس
پرویزمشہور ایرانی بادشاہ خسرو پرویز، مراد کوئی بھی بادشاہ
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

مجلسِ ملت یعنی نیشنل کانگریس اور  پرویز یعنی شہنشاہ کا دربار۔۔ وہ جمہوریت اور یہ ملوکیّت۔۔

چنانچہ دیکھ لو! ملوکیّت کی روح یہ ہے کہ زیدؔ کی محنت کا پھل سرمایہ دار کھائے۔ چونکہ موجودہ مغربی جمہوریّت میں بھی یہی اصول کار فرما ہے۔ اس لیے پرویز کا دربار اور پارلیمان کا کاروبار، دونوں یکساں ہیں۔ فرق اگر ہے تو اس قدر کہ ملوکیّت میں شخصِ واحد غیر کی کھیتی کا مالک ہوجاتا ہے اور جمہوریت میں چند دولت مند با اثر اور ذی رسوخ اشخاص مالک ہوجاتے ہیں۔ ملوکیّت میں عوام فردِ واحد کے غلام ہوتے ہیں اور جمہوریت میں چنداں افراد اُن کا معبود بن جاتے ہیں۔ یعنی دونوں صورتوں میں عوام غلامی کی لعنت میں گرفتار رہتے ہیں۔

بادشاہ یا سلطان کسی خاص شخص کا نام نہیں بلکہ بادشاہ تو وہ ہوتا ہے جو غیر کی کھیتیوں پر ہاتھ ڈال کر وہاں سے کھینچ لینا چاہتا ہو، اُن کو لُوٹ لینا چاہتا ہو ۔۔ گذشتہ دور میں وہ بادشاہ کوئی نمرود تھا، کوئی فرعون تھا، وغیرہ وغیرہ۔۔ آج کے دور میں بادشاہت کا تو وجود نہیں ہے۔۔ لیکن ابلیس کے کارِندوں نے یہی ”روحِ سلطانی“ اربابِ جمہوریت میں پھونک ڈالی ہے۔۔ چناچنہ ہم دیکھتے ہیں کہ جمہوریت میں اقتدار چند بااثر افراد یا خاندان کے ہاتھوں میں گردِش کرتا رہتا ہے۔۔ سُودی نظام پر مبنی ایسی ایسی اسکیمیں متعارف کرائی جاتی ہیں کہ انسان ساری زندگی ان کے پھندے میں گرفتار رہتا ہے۔۔ یہ سب اُس ”روحِ سلطانی“ ہی کی بدولت ہے۔


تُو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہُوری نظام
چہرہ روشن، اندرُوں چنگیز سے تاریک تر!

حلِ لغات:

چنگیزچنگیز خان، وہ ظالم منگول جس نے مخلوق پر بے شمار مظالم ڈھائے
اندرُوںباطن، دِل، اندر
تاریک ترزیادہ سیاہ، مراد بے حد ظالم
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

اگر تجھے میری بات میں شک ہو تو مغرب کے جمہوری نظام کے ”دستُور“ کا  مطالعہ کرکے دیکھ لے۔

یہ مغرب کا جمہوری نظام کیا ہے؟ بڑا روشن ہے۔ ہم بھی بڑے متاثر ہوتے ہیں۔۔ کہ ”دیکھیں کتنا بڑا ملک ہے، صدارت کا انتخاب ہوا ہے، کتنی روانی سے سیلیکشن ہوا ہے، ایک ہٹ گیا تو دوسرا آگیا، کوئی خون ریزی نہیں، کوئی دنگا نہیں، کوئی فساد نہیں، کچھ نہیں۔۔ ہماری طرح تو نہیں ہوتا۔۔ بلکہ شکست کھانے والا فوراً جا کر مبارکباد دے دیتا ہے۔۔ بجائے اس کے کہ کہے دھاندلی ہوئی ہے، دھاندلی ہوئی ہے، دھاندلی ہوئی ہے۔۔“ وہ جو ہمارے ہاں ہوتا ہے۔۔ اب اِس سے ہم متاثر تو ہوتے ہیں۔ سوال تو یہ ہے کہ یہ سارا نظام کیا ہے؟ یہ دنیا کو نچوڑنے کا جو نظام بنایا جارہا ہے۔۔ یہ گلوبیلائزیشن (Globalization) کے اندر جو خباثتیں ہیں۔۔ وہ ہم نہیں جانتے۔۔ یہ اہلِ یورپ جانتے ہیں۔۔ اہلِ امریکہ جانتے ہیں۔۔ Seattle  میں ہنگامے وہاں ہوئے تھے۔۔ ہمیں تو پتہ بھی نہیں کیا ہورہا ہے۔۔ ہماری قسمتوں کے سودے ہوتے ہیں۔۔ ہماری حکومتیں جو بھی ہیں وہ دستخط کرکے آجاتی ہیں ۔۔ لیکن ہمیں کیا خبر!

یعنی جمہوری حکومت میں بھی عوام الناس پر وہی ظلم ہوتے ہیں جو شخصی حکومتوں میں ہوتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ شخصی حکومت میں ”بادشاہ ظلم کرتا ہے اور جمہوری حکومت میں یہ کام مجلسِ مِلّت“ انجام دیتی ہے۔ جمہوریت کا چہرہ روشن تو ضرور ہوتا ہے یعنی یہ طرزِ حکومت بظاہر بہت دلکش ہے۔۔ کہ کوئی بادشاہ نہیں ہوتا بلکہ عوام خود اپنے حکمراں ہوتے ہیں، لیکن اس کا باطنی پہلو یعنی دِل چنگیز سے بھی زیادہ سیاہ اور ناپاک ہوتا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ جمہوریت میں بھی شخصی حکومت کی طرح مذہب کو سیاست سے کوئی علاقہ (تعلق) نہیں ہوتا۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جمہوریت اور ملوکیّت اپنے اعمال اور نتائج کے لحاظ سے یکساں ہوجاتی ہیں۔

؎ جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جُدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
(حوالہ: بالِ جبریل)

”اندرُوں چنگیز سے تاریک تر“ ہونے سے کیا مُراد ہے؟ یہ جاننے کے لیے اِن ظالم بادشاہوں کے حالاتِ زندگی پر غور کریں:-

چنگیزؔ خان (Genghis Khan): جسے مؤرخین نے ”عذابِ الہی“ کا لقب دیا ہے، دُنیا کے ظالم بادشاہوں میں سے گزرا ہے، جن کو انسانوں کا قتل کرنے میں خاص قسم کی لذّت محسوس ہوتی تھی۔ نیرو ، ایٹلا اور ہلاکو خان کی طرح چنگیز کا نام بھی ظلم و ستم کا مترادف ہوگیا ہے۔ یہ خونخوار درِندہ 1155ء میں منگولیا کے ایک غیر معروف گاؤں میں پیدا ہوا تھا۔ 1203ء میں مغلوں نے  اُسے اپنا خان یعنی بادشاہ تسلیم کرلیا اور اُس کے اُس نے بعد کاشغرؔ اور بخاراؔ سے لے کر اصفہانؔ اور ہمدانؔ تک تمام شہروں کو تباہ اور برباد کرکے رکھ دیا۔ ہلاکوؔ خاں اسی شخص کا پوتا تھا، جس نے بغدادؔ میں قتلِ عام کرکے سلطنتِ عبّاسیہ کا خاتمہ کردیا۔

نیرو (Nero): نیرو سلطنتِ روم کا شہنشاہ تھا جو پانچواں اور آخری سیزر ثابت ہوا۔ نیرو بھی حادثاتی طور پر تخت نشیں ہوا۔ نیرو 5 دسمبر 37ء کو پیدا ہوا۔ 54 سے 68ء تک روم کے سیاہ و سفید کا مالک رہا۔ مورخ فیصلہ نہیں کر پائے کہ اس کے سیاہ کارنامے زیادہ ہیں یا سفید۔ نیرو ظلم سفاکی اور بے حسی میں شہرت رکھتا تھا۔ نیرو نے اپنی ماں، دو بیویوں اور اپنے محسن کلاڈیس کے بیٹے کو قتل کرایا۔ 19 جولائی 64ء میں روم آگ کی لپیٹ میں آیا تھا۔ خوفناک آگ 5 دن تک بھڑکتی رہی 14 اضلاع میں سے 4 جل کر خاکستر سات بری طرح متاثر ہوئے۔ ایک روایت کے مطابق جب آگ روم کے در و دیوار کو بھسم کر رہی تھا اس وقت نیرو ایک پہاڑی پر بیٹھا بانسری بجا کر اس نظارے سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ آگ لگانے کے الزام میں اس نے بے شمار عیسائیوں کو قتل کرا دیا۔ 68ء میں فوج نے بغاوت کر دی تو نیرو ملک سے بھاگ نکلا۔ سینٹ نے نیرو موت کی سزا سنائی لیکن اس نے پھانسی سے قبل صرف 31 سال کی عمر میں 68ء میں خودکشی کر لی۔ (ویکی پیڈیا)

ایٹلا (Attila): ہن حملہ آوروں کا سردار جو اپنے آپ کو (خدائی قہر) کہتا اور اس بات پر فخر کرتا تھا کہ جدھر سے اس کا گزر ہو جائے وہاں گھاس بھی نہیں اگتی۔ سلطنت روما کے دورِ انحطاط میں یورپ پر (432ء تا 453ء) عفریت کی طرح مسلط رہا۔ مشرقی اور مغربی روم کی حکومتوں کو تاخت و تاراج اور جرمنی اطالیہ وغیرہ کے علاقوں کو تباہ و برباد کیا۔ اٹیلا کی موت 453ءمیں ہوئی جب کہ کثرت ازدواج کا یہ شیدائی شب عروسی منانے کے لیے اپنی خوابگاہ میں گیا اور کثرت شراب نوشی سے دماغ کی رگ پھٹ گئی۔ مشہور ہے کہ اس کی تدفین کے بعد اس کے چار وفادار جرنیلوں کو بھی ان کے گھوڑوں سمیت ہلاک کرکے اس کی قبر کے چاروں کونوں پر دفنا دیا گیا، (ویکی پیڈیا)

تیسرا مشیر

روحِ سُلطانی رہے باقی تو پھر کیا اضطراب
ہے مگر کیا اُس یہُودی کی شرارت کا جواب؟

حلِ لغات:

رُوحِ سُلطانیبادشاہت کی روح
اضطراببے چینی، بے قراری
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

یہ سُن کر تیسرے مشیر نے یہ کہا کہ اگر جمہوریت میں ملوکیّت (بادشاہت)  کی روح  باقی رہے تو پھر ہمیں اس طرف سے کوئی خطرہ نہیں ہے، لیکن یورپ میں ایک دوسرا فتنہ بھی تو رُونما ہوا ہے، جس کا نام اشتراکیّت (Socialism) ہے۔ اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے ہمارے پاس کون کون سے ذرائع اور وسائل موجود ہیں؟

”اُس یہودی کی شرارت“ سے مراد ہے کہ کارلؔ مارکس (Karl Marx) نے ایسا نظام مرتب کیا ہے کہ اگر دُنیا اُسے قبول کرلے تو (تیسرے مشیر کے مطابق) ابلیسی نظام تہہ و بالا ہوجائے گا۔

 کارل مارکسؔ: یہودی الاصل اور جرمنی باشندہ تھا۔ 1818ء میں پیدا ہوا۔ انقلابی اشتراکیّت (Socialism) کا بانی تھا۔۔ اُس کے دماغ میں Communism اور Socialism کے جو خیالات تھے، اُن کی بِنا پر جرمن حکومت نے اُسے جِلا وطن کر دیا تو فرانس آیا، وہاں سے بھی نکالا گیا تو 1849ء میں لندن آیا اور تادمِ وفات 1883ء تک یہیں مقیم رہا۔ اس کی کتاب سرمایہؔ (DAS KAPITAL) اشتراکیوں کی نظر میں بائبل سے کم نہیں۔ یہی کتاب انقلابِ روس کا سبب بنی۔

چنانچہ تیسرا مشیر کہتا ہے کہ یہ تو دُنیا میں جو ایک نیا انقلاب آرہا ہے، یہ سرمایہ داری کی جڑ کٹ جائے گی، یہ سارا نظام بدل جائے گا۔


وہ کلیمِ بے تجلّی، وہ مسیحِ بے صلیب
نیست پیغمبر و لیکن در بغل دارد کتاب

حلِ لغات:

کلیمِ بے تجلّیایسا پیغمبر جسے اللہ تعالی کا جلوہ نصیب نہ ہو، اشارہ ہے کارل مارکس کی طرف
مسیحِ بے صلیبوہ مسیح جسے صلیب پر نہ لٹکایا گیا ہو، اشارہ ہت کارل مارکس کی طرف
نیست پیغمبر و لیکن در بغل دارد کتابترجمہ: وہ (کارل مارکس) پیغمبر تو نہیں ہے لیکن پیغمبروں کی طرح اس کی بغل میں یعنی اس کے پاس بھی ایک کتاب (DAS KAPITAL) موجود ہے
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

”کلیمِ بے تجلّی“ سے مراد یہ ہے کہ اگرچہ کارل مارکس کو طُورِ سینا پر (حضرت موسیؑ کی طرح) خدا کا جلوہ دیکھنا تو نصیب نہیں ہوا (کارل مارکس خدا کا منکر تھا) لیکن اُس کی صفات موسیؑ سے ملتی جلتی ہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ جیسے موسیؑ نے بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دلوائی تھی، اسی طرح کارل مارکس بھی یورپ کے غریب، مزدور اور پِسے ہوئے طبقے کے حقوق کی بات کررہا ہے، اُن کو اِس سرمایہ دارانہ نظام سے باہر نکالنے کی بات کررہا ہے، ایک امید دِلا رہا ہے۔

”مسیحِ بے صلیب“ سے مُراد یہ ہے کہ اشتراکیّت کے بانی کی زندگی بھی جناب عیسیؑ کی طرح بہت تنگ دستی میں بسر ہوئی اور دوسری مشابہت یہ ہے کہ اُس نے بھی غریبوں اور مسکینوں کو خوشخبری سنائی، مسیح کی طرح مارکسؔ بھی مزدوروں اور فاقہ کشوں کا ہمدرد تھا۔ فرق یہ ہے کہ مسیح کو بقول نصاریٰ یہود نے مصلوب کردیا لیکن مارکسؔ اس حادثہ سے محفوظ رہا۔ وہ بھی اس لیے کہ انگلستان میں پناہ گزین ہوگیا تھا۔ اگر جرمنیؔ، ہالینڈؔ، بیلجیمؔ، ڈنمارکؔ، فرانسؔ، اطالیہؔ یا ہسپانیہؔ میں ہوتا تو واقعی مصلوب ہوجاتا۔

”نیست پیغمبر و لیکن در بغل دارد کتاب“: ہر چند کہ (الہام سے ناآشنا) وہ خدا کا پیغمبر نہیں ہے مگر پھر بھی اُس کے پاس کتاب (کارل مارکسؔ کی کتاب ”دی کیپیٹل“) موجود ہے۔ اُس کی تحریروں کو مزدور طبقہ اُسی عزت اور عقیدت کی نگاہ سے دیکھتا ہے جس نگاہ  سے مذہبی طبقہ آسمانی کتابوں کو دیکھتا ہے۔ مزدور طبقہ اس کی کتاب سرمایہؔ (DAS KAPITAL) پر اُسی طرح ایمان رکھتا ہے جس طرح یورپ کے عیسائی بائبل پر۔ چنانچہ یہ جو ایک تحریک چل رہی ہے ایک عرصہ سے، وہ ہمارے لیے ایک بڑا خطرہ ہے، کیونکہ مارکسؔ ہمارے نظام (مغربی سرمایہ دارانہ نظام) کے متبادل ایک نظام پیش کررہا ہے، اور اگر ایسا ہوا تو ہمارا ابلیسی نظام نیست و نابود ہوجائے گا۔


کیا بتاؤں کیا ہے کافر کی نگاہِ پردہ سوز
مشرق و مغرب کی قوموں کے لیے روزِ حساب!

حلِ لغات:

نگاہِ پردہ سوزیعنی پردہ جلانے والی – مُراد ہے ایسی نگاہ جو چھُپی ہوئی چیزوں کو بھی پوری طرح دیکھ لے، رازوں کو جان لے
روزِ حسابحساب کا دِن
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

اِس کے بعد تیسرا مشیر کہتا ہے کہ اگرچہ مارکسؔ کافر ہے یعنی ابلیسی نظام (مغربی سرمایہ دارانہ نظام) کی خوبیوں کا منکر ہے لیکن اُس کی تجزیاتی نگاہیں مغربی سرمایہ دارانہ نطام کی حقیقت کو عریاں کردیتی ہیں، جبکہ اس کے نظریات و تصورات مشرق و مغرب کے لیے قیامت خیز ثابت ہورہے ہیں۔ اِس میں شک نہیں کہ اُس نے مزدور اور فاقہ کش طبقہ کی آنکھیں کھول دی ہیں اور بنی آدم کو خودشناس اوار خود نِگر بنادیا ہے۔ اُس نے مزدوروں کے اندر یہ احساس پیدا کردیا ہے کہ:-

؏ کھائے کیوں مزدور کی محنت کا پھل سرمایہ دار؟
(حوالہ: بانگِ درا)

اُس کی تعلیمات سے مشرق و مغرب دونوں جگہ قیامت برپا ہوگئی ہے۔ صدیوں کے مُردے، یہ غلام جو تھے، جن کو تقدیر کا سبق ہم نے سِکھا رکھا تھا، یہ جو اپنے حالات میں مست تھے، خوابِ غفلت سے بیدار ہوگئے ہیں، فساد برپا کردیا ہے، اپنے ماحول اور حالاتِ گرد و پیش کا جائزہ لے رہے ہیں کہ جس معاشی نظام کے تحت ہم صدیوں سے زندگی بسر کررہے ہیں، یہ ہمارے حق میں مفید ہے یا مضر؟ کیونکہ کارل مارکس نے سرمایہ دارانہ نظام کا پردہ چاک کر دیا ہے اور لوگوں کو اُس کی اصلیت دکھائی ہے۔


اِس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا طبیعت کا فساد
توڑ دی بندوں نے آقاؤں کے خیموں کی طناب!

حلِ لغات:

فسادبِگاڑ، خلل، خرابی، تباہی
طنابخیمے کی رسّی
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

کارل مارکسؔ کی تعلیمات نے عوام النّاس کی طبائع میں اس قدر فساد پیدا کردیا کہ غلاموں نے خلافِ توقع، خلافِ دستور اور خلافِ رسوم اپنے آقاؤں کو حکومت سے محروم کردیا اور خود ان کی جگہ حکمران ہوگئے۔

اِس شعر میں اُس عظیم الشّان انقلاب کی طرف اشارہ ہے جو 1917ء میں روسؔ میں رُونما ہوا۔ جب مزدوروں نے زارِ روس (Tsar Nicholas II) کو، جو اپنے وقت کا فرعونؔ تھا، پہلے تاج و تخت سے محروم کرکے صحرائے ترکستان میں جلا وطن کیا، پھر اس کو اور اُس کے تمام افرادِ خاندان کو گولیوں کا نشانہ بنادیا۔

چنانچہ اس کی تعلیمات کا نتیجہ یہ نکلا کہ غلاموں کے مزاج میں بغاوت پیدا ہوگئی۔ خوئے غلامی کے عادی عوام نے اپنے آقاؤں کے خلاف بغاوت کرکے اُن کا قصر اور محلات سب کچھ تہس نہس کرکے رکھ دیا۔

زارِ روس: Tsar of Russia، شاہانِ روس کا لقب

چوتھا مشیر

توڑ اِس کا رومۃُ الکُبریٰ کے ایوانوں میں دیکھ
آلِ سیزر کو دِکھایا ہم نے پھر سیزر کا خواب

حلِ لغات:

رومۃُ الکُبریٰعلاج، چارہ، خاتمہ، مِٹانا
ایوانعظیم رومن سلطنت جو قبل از مسیح قائم تھی، مراد ہے اٹلی (Italy) سے، جو کبھی بہت بڑی سلطنت تھا اور جہاں مسولینی (Mussolini) آمر بنا
آلِ سیزرجولیس سیزر (Julius Caeasr) کی اولاد، جو قدیم روم کا فرماں روا تھا – مراد ہے اطالیہ (Italy) کے لوگ جو اس کی عظمت کے وارث ہیں
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

یہ سُن کر چوتھے مشیر نے تیسرے مشیر کو جواب دیا کہ پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہم نے اشتراکیت (Socialism) کا قلع قمع کرنے کے لیے اطالیہ (Italy) میں فاشزم (Fascism) کی تحریک پیدا کردی ہے چنانچہ مسولینیؔ (Mussolini جو آلِ سیزرؔ میں سے تھا) سلطنتِ روم کی گذشتہ عظمت کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

رُومۃ الکبریٰ (The Great Roman Empire) سے قدیم سلطنتِ رُوما مراد ہے جو قبلِ مسیح دُنیا میں سب سے بڑی سلطنت تھی۔ یارکؔ سے لے کے بغدادؔ اور تبریزؔ سے لے کر مراکوؔ تک پھیلی ہوئی ہے۔ آلِ سیزر سے اطالیہؔ کا موجودہ حکمران طبقہ مراد ہے۔ سیزر (Caesar)، جس کو عربی میں قیصر کہتے ہیں، شاہانِ رُومہ کا لقب تھا۔

رومۃ الکبری، خاص طور پر جولیَس سیزر (Julius Caesar) کا زمانہ۔ سیزر نے ایشیا، افریقہ اور یورپ کو اپنے ایک پنجے میں لاکر ایک بڑی سلطنت بنانے کا خواب دیکھا تھا، وہ خواب تو ختم ہوگیا تھا۔ پھر مسلمان آگئے اور عظیم سلطنتِ عثمانیہ  قائم ہوگئی، تقریباً اُنہی تمام علاقوں پر جن پر رومۃ الکبری قائم تھی۔۔ تقریباً۔ لیکن اب پھر ہم نے سیزر ہی کے خاندان سے ایک شخص کو وہی خواب دکھا دیا ہے اور وہ شخص کون ہے؟ وہ ہے Benito Mussolini

مسولینی 1884ء میں پیدا ہوا اور ایک غریب لوہار کا بیٹا تھا۔ لیکن اس کے اندر ایک زعم تھا کہ رومی ایک بڑی طاقت ہے، بڑی قوت ہے، اونچی نسل ہے، اعلی نسل ہے، اُن کا حق ہے حکومت کرنا۔ یہی چیز بعد میں Hitler  کے ذریعے سے جرمنی میں آئی لیکن جب یہ نظم لکھی گئی ہے 1936ء میں، اس وقت وہ ابھی منظرِ عام پر نہیں آیا تھا۔ لہذا مسولینی ایک بڑی مملکت بنانے کا خواب دیکھا، شمالی امریکہ کے کئی ممالک فتح کر لیے۔ اس پر یورپ والوں نے بڑے بڑے اعتراض کیے جن پر بعد میں بات ہوگی۔

چوتھا مشیر کہتا ہے کہ اگر کارل مارکس (Karl Marx) کی اشتراکیتؔ (Socialism) کا توڑ دیکھنا ہو تو اِٹلی میں (مسولینی کی فسطائیت کی تحریک) کی طرف توجہ دو۔ ہم نے جولیس سیزر کی اولاد (یعنی اطالوی باشندوں) کو جولیس سیزر کا دنیا بھر پر چھا جانے کا خواب دِکھا کر ملک گیری کی ہوَس میں مبتلا کردیا ہے۔

نوٹ: اِٹلی کے ڈِکٹیٹر مسولینیؔ نے 1935ء میں اتھوپیا (ابی سینا) پر ظالمانہ طور پر قبضہ کرلیا تھا، یہاں اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ مسولینی نے 1919ء میں فسطائیت (Fascism) کی تحریک کا آغاز کیا تو یورپ میں اُسے اشتراکیت (Socialism) کی مدِ مقابل گردانا گیا۔


کون بحرِ روم کی موجوں سے ہے لِپٹا ہُوا
’گاہ بالد چوں صنوبر، گاہ نالد چوں رباب‘

حلِ لغات:

بحرِ رومبحیرۂ روم (Mediterranean Sea)، اطالیہ جس کے ساحل پر واقع ہے، یورپ اور افریقہ کے درمیان ایک سمندر
گاہ بالد چُوں صنوبر
گاہ نالد چُوں رباب
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

یہ کون ہے جو بحرِ روم کی لہرں کا شناور ہے۔ کبھی صنوبر کی مانند سربلند نظر آتا ہے تو کبھی رباب کی مانند نغمہ زن (مسولینی کی سحر انگیز شخصیت کی طرف اشارہ ہے)

اس مصرع میں مسولینیؔ کی جارحانہ سرگرمیوں کی طرف اشارہ ہے، یعنی وہ بحیرۂ روم میں اپنا اقتدار قائم کررہا ہے اور اُس کی حالت یہ ہے کہ ہر وقت مصروفِ عمل رہتا ہے۔ کبھی تو فوجیوں کی قیادت کرتا ہے اور کبھی اپنی تقریروں سے اپنی قوم کے اندر ولولہ پیدا کرتا ہے۔

واضح ہو کہ مسولینی نے ایک بہت بڑا بحری بیڑہ بنایا تھا کیونکہ شمالی افریقہ کو فتح کرنے کے لیے ایک بحری بیڑے کی ضرورت تھی۔ وہ دوسری جنگِ عظیم سے پہلے پہلے حبشہ، لیبیا، نائیجیریا وغیرہ پر قبضہ کر چُکا تھا۔ دوسری جنگِ عظیم کے شروع میں ہی مسولینی کو اتحادیوں نے زبردست شکست دی، جس کے بعد یہ ممالک اُس کے تسلّط سے نِکل گئے۔

تیسرا مشیر

مَیں تو اُس کی عاقبت بینی کا کچھ قائل نہیں
جس نے افرنگی سیاست کو کِیا یوں بے حجاب

حلِ لغات:

عاقبت بینیانجام پر نظر رکھنا، انجام کو دیکھ لینا
قائلماننے والا
افرنگی سیاستیورپ کی سیاست
بے حجاببے پردہ
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

یہ سُن کر تیسرے مشیر نے یہ کہا ہے میں تو مسولینیؔ کی سیاسی دانشمندی اور عاقبت بینی کا معترف نہیں ہوں، یہ ہمارے کام کا آدمی نہیں ہے، کیونکہ اُس نے افرنگی سیاست کو بے نقاب کرکے اشتراکیّت (Socialism) کو نقصان پہنچانے کی بجائے، اس کی ترقی کا راستہ کھول دیا۔

اُس کی تفصیل یہ ہے کہ افرنگی سیاست بھی مسولینیؔ کی فاشسطیت کی طرح ”دیوِ بے زنجیر“ اور بنی آدم کے حق میں بلائے بے درماں (لا علاج مصیبت) ہے۔۔ یعنی جمہوریت اور آمریّت دونوں کا مقصد استعماریت یعنی کمزور اقوام کو اپنا غلام بنانا ہے۔ لیکن جمہوریّت اپنا مقصد بڑے معصومانہ انداز میں حاصل کرتی ہے۔۔۔ پہلے موٹریں سپلائی کرتی ہے۔۔۔ پھر عیاشی کے لوازم مہیّا کرتئ ہے۔۔۔ پھر مہذّب بناتی ہے۔۔۔ اُس کے بعد جا کر کہیں غلامی کا طوق پہناتی ہے۔ مُسولینیؔ نے یہ غلطی کی کہ بغیر طوطیہ و تمہید حبشہؔ پر حملہ کردیا اور جب شامؔ، عراق، حجازؔ اور مصرؔ کو غلام بنانے والوں نے اُس کے اِس فعل کے خلاف معصومانہ انداز میں صدائے احتجاج بلند کی تو اُس نے لگی لپٹی رکھے بغیر صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ:۔

”تم بھی لٹیرے ہو، تم نے بھی خونریزیاں کی ہیں، تم نے بھی ملک لوٹے ہیں، تم نے بھی لوگوں کے خون چوسے ہیں، اگر میں کررہا ہوں تو کونسا نیا جرم ہے؟“ جب مغرب میں مسولینی پر بہت تنقید ہوئی، تو جواب میں علامہ اقبال کہتے ہیں مسولینی کی زبان سے یا مسولینی کہتا ہے علامہ اقبال کی زبان سے کہ:۔

میرے سودائے مُلوکیّت کو ٹھُکراتے ہو تم
تم نے کیا توڑے نہیں کمزور قوموں کے زُجاج؟
پردۂ تہذیب میں غارت گری، آدم کُشی
کل رَوا رکھّی تھی تم نے، مَیں رَوا رکھتا ہوں آج!
(حوالہ: ضربِ کلیم: مسولینی)

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ فرنگی سیاست کو بے نقاب کردینے کا نتیجہ لازمی طور سے یہ نکلے گا کہ دُنیا اشتراکیّت (Socialism) کی طرف مائل ہوجائے گی، اِس لیے مسولینیؔ اشتراکی تحریک کو فنا نہیں کرسکتا اور یوں یہ ہمارے ابلیسی نظام کے لیے کام کا آدمی ثابت نہیں ہوتا۔

پانچواں مشیر (ابلیس کو مخاطب کرکے)

اے ترے سوزِ نفس سے کارِ عالم اُستوار!
تُو نے جب چاہا، کِیا ہر پردگی کو آشکار

حلِ لغات:

سوزِ نفس
کارِ عالم
اُستوار
پردگی
آشکار
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

تیسرے مشیر کی یہ معقول بات سُن کر پانچواں مشیر کھڑا ہوا اور اُس نے ابلیس کو مخاطب کرکے ابلیس کی تائید میں یہ تقریر کی، کہ:۔

اے آقائے نامدار! اِس مادی اور سفلہ پرست (کمینوں کو منہ لگانے اور مصاحب بنانے والی) دُنیا کا سارا کاروبار تیری ہی ابلیسیت اور اُس کے سوز (حرارت) کی بدولت استوار ہے اور تجھ میں اس قدر قوت ہے کہ تُو نے جب چاہا تمام پوشیدہ باتوں کو ظاہر کردیا یعنی اربابِ سیاست و حکومت پہلے خفیہ کانفرنسیں اور سازشیں اور معاہدے کرتے ہیں، پھر جب موقع آتا ہے یعنی تُو جب انہیں حکم دیتا ہے تو اُس وقت وہ سازش دُنیا والوں پر ظاہر ہوجاتی ہے مثلاً 1907ء میں ابلیس کے دو مخلص مریدوں (برطانیہؔ اور شریفِؔ مکّہ) نے خفیہ معاہدہ کیا، اِس کے بعد عربوں نے اپنے ترکی بھائیوں کے سینے کو برطانوی سنگینوں (ایک نوکدار ہتھیار جو بندوق پر چڑھایا جاتا ہے) سے چھلنی کردیا۔

”سوزِ نفس“ سے قوتِ غضب مُراد ہے، جس کا منبع اور مصدر ابلیس ہے اور دُنیا میں جس قدر قتل و غارت، آدم کُشی اور ظلم و ستم ہوتا ہے، یہ سب اسی قوت (یعنی سوزِ نفس) کا کرشمہ ہے۔


آبِ و گِل تیری حرارت سے جہانِ سوز و ساز
ابلہِ جنّت تری تعلیم سے دانائے کار

حلِ لغات:

آب و گِل
جہانِ سوز و ساز
ابلہِ جنّت
دانائے کار
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

اے آقا! یہ دُنیا تو اصل کے لحاظ سے بالکل ٹھنڈی ہے کیونکہ مٹی اور پانی سے مرکب ہے۔ اِس میں جو کچھ سوز و ساز ہے یہ سب تیری ہی عطا کردہ حرارت کا کرشمہ ہے۔ تُو نے ہی بنی آدم کو برادر کشی، غارت گری اور قتل و خون کا سبق سکھایا ہے۔ اور آدم۔۔۔ جو دراصل ابلۂ جنت تھا، تیری ہی تلقین کی بدولت واقفِ اسرارِ حیات ہوا۔ اگر تُو اس کو ”شجرِ ممنوعہ“ کا پھل کھانے کی ترغیب نہ دیتا تو وہ قیامت تک ”زیست کی لذت“ اور حوّا کی قدر و قیمت سے آگاہ نہ ہوتا۔

نوٹ: اقبالؔ نے ابلۂ جنت کی ترکیب اس حدیث سے اخذ کی ہے۔

”اھل الجنۃ بلہ“
یعنی جنتی لوگ بڑے بھولے بھالے ہوں گے۔


تجھ سے بڑھ کر فطرتِ آدم کا وہ محرم نہیں
سادہ دل بندوں میں جو مشہور ہے پروردگار

حلِ لغات:

فطرتِ آدم
محرم
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

اے میرے آقا! وہ ہستی بھی، جسے یہ سادہ دِل بندے پروَردگار کہتے ہیں، تجھ سے بڑھ کر بنی آدم کی فطرت اور اُن کی افتادِ طبع سے واقف نہیں ہے۔ خود وہ پیدا کرنے والا بھی اپنے بندوں کی فطرت سے اتنا واقف نہیں ہے، جتنا کہ آپ ہیں۔


کام تھا جن کا فقط تقدیس و تسبیح و طواف
تیری غیرت سے ابَد تک سرنِگون و شرمسار

حلِ لغات:

تقدیس
سر نِگُون
شرمسار
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

بنی آدم کی تو تیرے سامنے حقیقت ہی کیا ہے۔۔۔ فرشتے بھی، کہ جو اس قدر محترم اور مکرّم تھے کہ رات دِن خدا کی حمد و ثنا اور اُس کے عرش کا طواف کرتے رہتے ہیں، تیری غیرت کے سامنے قیامت تک سر نِگوں اور شرمندہ رہیں گے کیونکہ وہ تو ایک ہی جملہ سُن کر خاموش ہوگئے۔۔ لیکن تُو نے جنّت سے خرُوج گوارا کیا مگر اپنی بات پر اڑا رہا۔ خدا کی ناراضگی مول لے لی لیکن ایک ضعیف و خاکی مخلوق کو سجدہ نہ کیا۔


گرچہ ہیں تیرے مرید افرنگ کے ساحِر تمام
اب مجھے ان کی فراست پر نہیں ہے اعتبار

حلِ لغات:

ساحر
فراست
اعتبار
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

اِس میں کوئی شک نہیں کہ یورپ کی تمام قوتیں اور اُن کے سیاسی رہنما گلیڈؔ سٹونؔ اور بسمارکؔ سے لے کر ٹرومینؔ اور چرچلؔ تک سب تیرے ہی مرید ہیں لیکن اب مجھے اُن کی فراست (ذہانت و ہوشیاری) پر اعتبار نہیں رہا۔

اوتوفون بسمارکؔ (Otto von Bismarck): یہ جرمن تاریخ کا سب سے مشہور سیاستدان تھا جسے جدید جرمنی کا بانی کہا جاتا ہے۔ 1815 سے جرمنی کی اڑتیس ریاستوں کو متحد کرنے کی جو تحریک چل رہی تھی اسے بسمارک نے کامیابی سے ہمکنار کیا۔ اس کے لیے اس نے ہر قسم کے حربے کو روا رکھا۔ ضرورت پڑی تو لشکر کشی بھی کی، ویکی پیڈیا

ہیری ٹرومینؔ (Harry S. Truman): امریکا کا 33 واں صدر جو جاپان کے شہروں ھیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی بم پھینکنے کا ذمہ دار ہے، ویکی پیڈیا

چرچلؔ (Winston Churchill): برطانوی سیاست دان۔ چرچل سخت متعصب شخص تھا، فلسطینی قوم کو اپنے ملک فلسطین سے بے دخل کرنے اور امریکی مقامی باشندوں کے مغربی استحصال پر چرچل کا بیان:-

”میں یہ تسلیم نہیں کرتا کہ کُتا اپنے ڈربہ کا مالک ہوتا ہے خواہ وہ اس ڈربے میں کافی عرصے سے رہ رہا ہو۔ مثال کے طور پر میں یہ تسلیم نہیں کرتا کہ امریکا میں قدیم باسیوں (ریڈ انڈین) یا آسٹریلیا کے کالے قدیم باسیوں کے ساتھ کوئی بڑی زیادتی ہوئی ہے۔ میں یہ تسلیم نہیں کرتا کہ ایک طاقتور نسل، ایک بہتر نسل یا ایک عقل مند نسل نے آ کران کی زمین پر قبضہ کر لیا تو کوئی ظلم ہوا۔“، ویکی پیڈیا


وہ یہودی فِتنہ گر، وہ روحِ مزدک کا بُروز
ہر قبا ہونے کو ہے اس کے جُنوں سے تار تار

حلِ لغات:

مزدک
بُروز
قبا
تار تار
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

کیونکہ یورپ میں کارلؔ مارکس نے اشتراکیّت (Socialism) کا جو فتنہ پیدا کیا ہے، اُس کی بِنا پر ملوکیّت، جمہوریت اور آمریت، سب نظام باطل ہوجائیں گے۔ اِشتراکیّت مزدوروں کے اندر انقلاب کا اِس قدر شدید جذبہ پیدا کررہی ہے کہ وہ عنقریب تمام بادشاہوں، نوابوں، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی قباؤں کو تار تار کردیں گے، بلکہ اُن کے وجود کو خاک میں ملادیں گے۔

اقبالؔ نے مارکسؔ کو حکیم مزدکؔ (Mazdak) قرار دیا ہے۔ ”برُوز“ فلسفۂ اشراق کی شرح ہے۔ اِس سے مراد ہے کسی شخص میں کسی دوسرے شخص کی (جو وفات پا چکا کو) بعض یا تمام صفات کا ظہور یعنی اقبالؔ کی رائے میں حکیم مزدکؔ نے، جو ایران میں پانچویں صدی میں پیدا ہوا تھا، انیسویں صدی میں حکیم مارکسؔ کی رُوح میں اپنا ظہور کیا ہے۔

مزدک (Mazdak): یہ شخص پانچویں صدی عیسوی کے آخر میں ایران میں پیدا ہوا تھا۔ زرتشتؔ (Zoroaster) کی تعلیمات سے مُتاثر تھا۔ اِس کی تصانیف کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا عقیدہ یہ تھا کہ خدا (یزداں) تو دُنیا میں مساوات قائم کرنا چاہتا ہے، لیکن شیطان (اہرمن) نے بنی آدم کو حسد، بغض، کینہ، غضب اور نفرت مین مبتلا کردیا ہے۔ اسی لیے اختلافات پیدا ہوگئے ہیں اور انسانوں کی زندگی تلخ ہوگئی ہے۔ ان ناپاک جذبات کو فنا کرنے کی صورت یہ ہے کہ دُنیا مین زرؔ، زنؔ اور زمینؔ سب لوگوں پر یکساں تقسیم کردیا جائے یعنی مساوات قائم کردی جائے۔ جب سب لوگ ساری نعماء سے یکساں طور پر مستفید ہوں گے تو رقابت، نفرت، کینہ اور عداوت کے جذبات خودبخود ختم ہوجائیں گے۔ گویا یہ حکیم (مزدکؔ) دُنیا میں اشتراکیّت (Socialism) کا پہلا داعی گزرا ہے۔ 527ء میں نوشیرواں نے اس کو قتل کروایا اور اس کے بعد 531ء میں نوشیرواں نے مزدکیؔ فرقہ کا قتلِ عام کرکے اِس تحریک کو ایران سے ہمیشہ کے لیے ختم کردیا۔


زاغِ دشتی ہو رہا ہے ہمسرِ شاہین و چرغ
کتنی سُرعت سے بدلتا ہے مزاجِ روزگار

حلِ لغات:

زاغِ دشتی
شاہین و چرخ
سُرعت
مزاجِ روزگار
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

اِس تحریک کی وجہ سے فاقہ کش طبقوں میں اِس درجہ حوصلہ پیدا ہوگیا ہے کہ اب ہر مزدور (زاغِ دشتی) اپنے آپ کو نوابوں اور جاگیرداروں (شاہین و چرغ) کا مدِّ مقابل سمجھتا ہے۔

یعنی یہ جنگلی کوّے (مزدور اور فاقہ کش طبقات) جو ہیں، یہ شاہین اور چرخ کے برابر ہورہے ہیں۔ کاشتکار زمیندار کے برابر ہوجائے گا! مزدور کارخانے دار کے برابر ہوجائے گا! یہ کیا ہونے چلا ہے؟ کیا ہورہا ہے؟ کیا قیامت آرہی ہے؟ ہماری ابلیسیت کو تو ایک بہت بڑا خطرہ لاحق ہوچکا ہے!

یہ صورتِ حال اتنی خوفناک تھی کہ پچھلی صدی کے وسط (وسطِ 50ء) میں کمیونزم (Communism) کی پیش رفت کی وجہ سے ویسٹرن بلاک کانپ رہا تھا، کیونکہ کمیونزم جنگل کی آگ کی طرح پھیل رہا تھا۔ 1917ء  کے انقلاب نے کیسی کیسی چھلانگیں لگائیں۔۔ لاطینی امریکہ پہنچ گیا۔۔ پھر  وسطی امریکہ۔۔ چائنہ میں آگیا۔۔ کیوبا کے اندر آج بھی موجود ہے۔۔ ہندوستان میں کمیونسٹ پارٹی (Communist Party) بن گئی۔۔ گویا ایک طوفان تھا جو بڑھتا چلا جارہا تھا۔۔ اِس سے بڑھ کر یہ کہ روس سب سے پہلا سیٹلائٹ خلا میں بھیج کر خلائی دوڑ میں اپنا سکہ منوا لیا تھا۔۔ اور سب سے  بڑی بات یہ ہے کہ امریکہ نے لاکھوں کی تعداد میں قرآن (The Glorious Quran) شائع کرکے انگریزی میں اُنہیں مُسلمانوں میں تقسیم کیا۔۔ اور گیتا بھی لاکھوں کی تعداد میں ہندوؤں میں تقسیم کی گئی۔۔ شائع امریکہ کررہا ہے جو کہ عیسائی مُلک ہے۔۔ کہتا ہے کہ بابا تم اپنے مذہب پر جمے رہو۔۔ یہ Communist تو بے خدا ہیں۔۔ لیکن ہم خدا کو تو مانتے ہیں ناں۔۔ بھئی تمہارا نظام ہم نہیں مانتے۔۔ تمہارے رسول کو ہم نے نہیں مانا۔۔ لیکن ایک خدا کو تو مانتے ہیں ناں۔۔ چلو کم سے کم ہمارا یہ خیال کرو۔۔ ہمارا کچھ ساتھ دو اِس Communism کے مقابلے میں۔۔ تو کمیونزم کا طوفان اِس قدر تیزی سے بڑھ رہا تھا۔۔


چھا گئی آشُفتہ ہو کر وسعتِ افلاک پر
جس کو نادانی سے ہم سمجھے تھے اک مُشتِ غبار

حلِ لغات:

آشُفتہ
وُسعتِ افلاک
مُشتِ غبار
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

ہم تو اِس تحریک کو ابتداء میں بالکل لائقِ اعتنا نہیں سمجھتے تھے۔۔ ہم تو بس یہ سمجھتے تھے کہ یہ صرف ایک مُلک (روس) میں انقلاب آگیا ہے۔۔ یہ تو صرف ایک مُشتِ غبار ہے۔۔  لیکن ہماری توقعات کے خلاف، یہ تحریک تو آنکھوں دیکھتے ہی دیکھتے (1917ء سے 1937ء) آفاق گیر ہوگئی ہے۔۔ یہ مشتِ غبار ایک آندھی کی شکل اختیار کر گئی ہے اور پوری دنیا کے اوپر چھا رہی ہے۔۔ آج دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جس میں اِس کے سرگرم رُکن یا تنخواہ دارانہ ایجنٹ موجود نہ ہوں۔۔  چنانچہ اگر ایسا ہی جاری رہا تو ہمارا یہ جو سرمایہ دارانہ نظام ہے، یہ تو نیست و نابُود ہوجائے گا۔۔


فِتنۂ فردا کی ہیبت کا یہ عالم ہے کہ آج
کانپتے ہیں کوہسار و مرغزار و جُوئبار

حلِ لغات:

فتنۂ فردا
ہیبت
کوہسار
مرغزار
جُوئے بار
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

چنانچہ اس تحریک کی ہیبت سے بڑے بڑے مدبّر اور بادشاہ، وزراء، امراء لرزہ براندام ہیں۔ بہت سے جاگیرداروں کو رات نیند بھی نہیں آتی، کہ اگر یہ تحریک ”یہاں“ بھی آگئی تو ہم کہاں جائیں گے؟

چنانچہ وہی بات جو پیچھے بیان ہوئی ہے۔۔ کہ Western Block کانپ رہا تھا۔۔ کہ یہ Revolution تو بڑی تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے قدم تو نہیں جم سکتے اُس کے مقابلے میں۔۔


میرے آقا! وہ جہاں زیر و زبر ہونے کو ہے
جس جہاں کا ہے فقط تیری سیادت پر مدار

حلِ لغات:

زیر و زبر
سیادت
مدار
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

اے میرے آقا! میرا ”اخلاقی“ فرض یہ ہے کہ میں آپ کو آئندہ خطرت سے مطلع کردوں۔ پس میں باادب گوش گذار ہوں کہ اگر یہ تحریک کامیاب ہوگئی تو آپ کے قائم کردہ نظام کا خاتمہ ہوجائے گا۔۔ وہ نظام جو ہم نے بنایا تھا۔۔ باطل نظام۔۔ سرمایہ دارانہ نظام۔۔ وہ تو بکھر جائے گا۔۔ لہٰذا اے میرے آقا! اِس صورتِ حال کا ازالہ کرنا آپ کا فرضِ اوّلین ہے۔

ابلیس (اپنے مشیروں سے) – I

ہے مرے دستِ تصرّف میں جہانِ رنگ و بو
کیا زمیں، کیا مہر و مہ، کیا آسمانِ تُو بتُو

حلِ لغات:

دستِ تصرّف
مہر و مہ
تُو بتُو
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

جب سب اپنے خیالات کا اظہار کر چُکے تو ابلیس نے اپنے اُن مشیروں کو مخاطب کرکے کہا کہ:۔

یہ تمام کائنات، یہ جہانِ رنگ و بُو، یہ زمین و آسمان، چاند، سورج۔۔ یہ عالمِ ارضی۔۔  یہ سب میرے دستِ تصرّف میں ہے۔۔ میری قدرت میں ہے۔۔ میں دُنیا کی ہر شے میں تصرّف کرسکتا ہوں– یہ سب میری فوجیں ہیں۔۔ میرے کارِندے ہیں۔۔ میرے چیلے ہیں۔۔ میرے شاگرد ہیں۔۔ میرے جاسوس ہیں۔۔ جو اس وقت کنٹرول کررہے ہیں اِس کائنات کو۔۔ نہ صرف زمین بلکہ آسمان بھی میرے قبضے میں ہے۔۔


دیکھ لیں گے اپنی آنکھوں سے تماشا غرب و شرق
مَیں نے جب گرما دیا اقوامِ یورپ کا لہُو

حلِ لغات:

غرب و شرق
لہٗو
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

میں جب چاہوں اقوامِ یورپ کے اندر بغض اور حسد کی آگ بھڑکا کر اِس دُنیا کو جہنّم کا نمونہ بنا سکتا ہوں۔

اب یہ جنگِ عظیم دوم (World War II) میں جو اقوامِ یورپ کا لہو گرم ہوا ہے۔۔ یہ جنگ کن کے درمیان تھی؟ اقوامِ غربی اور یورپ کے درمیان!۔۔ کروڑوں انسان قتل ہوئے۔۔ اور اب جنگِ عظیم سوم سر پر لٹکی ہوئی تلوار کی مانند ہے۔۔


کیا امامانِ سیاست، کیا کلیسا کے شیوخ
سب کو دیوانہ بنا سکتی ہے میری ایک ہُو

حلِ لغات:

امامانِ سیاست
کلیسا
شیوخ
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

اربابِ سیاست اور حامیانِ کلیسا، یعنی دُنیا دار اور دین دار، دونوں میرے اشاروں پر رقص کرنے کو تیّار ہیں۔


کارگاہِ شیشہ جو ناداں سمجھتا ہے اسے
توڑ کر دیکھے تو اس تہذیب کے جام و سبو!

حلِ لغات:

کارگاہِ شیشہ
تہذیب
جام و سبُو
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

جو شخص، خواہ وہ کارل مارکسؔ ہو یا اسٹالنؔ، یہ سمجھتا ہے کہ وہ میرے قائم کردہ نظام کو باطل کرسکتا ہے، میں اُسے چیلنج کرتا ہوں کہ وہ حتیٰ المقدور کوشش کرکے اپنے دِل کے ارمان نکال لے۔

اسٹالنؔ (Joseph Stalin): جوزف اسٹالنؔ، 1922ء سے 1953ء تک سوویت اتحاد کی جماعت کا معتمدِ عام (جنل سیکرٹری) تھا۔ 1924ء میں ولادیمیر لینن کی وفات کے بعد وہ سوویت اتحاد کا سربراہ بنا۔


دستِ فطرت نے کیا ہے جن گریبانوں کو چاک
مزدکی منطق کی سوزن سے نہیں ہوتے رفو

حلِ لغات:

دستِ فطرت
چاک
مزدکی منطق
سوزن
رفُو
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

بات یہ ہے کہ فطرت نے اِس دُنیا میں جو امتیازات، طبقات، اختلافات اور مدارج قائم کردیے ہیں، اُن کو مِٹانا کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ یعنی جن گریبانوں کو خود فطرت نے اپنے ہاتھ سے چاک کردیا ہے، مزدکؔ ایرانی اور مارکسؔ المانی اِن کو منطقی استدلال (Logical Reasoning) کی سوئی سے رفو نہیں کرسکتے۔ دُنیا میں ہر جگہ اور ہر شعبہ میں امتیازات اور مدارجِ حیات پائے جاتے ہیں۔ مثلاً عورت اور مرد کا امتیاز، ذہین اور کُند ذہن کا امتیاز، نحیف الجثہ (لاغر) اور قوی الجثہ (قوی ہیکل) کا امتیاز، چالاک اور بیوقوف کا امتیاز، سفید اور کالے کا امتیاز، مہذّب اور وحشی کا امتیاز، حوصلہ مند اور پست ہمّت کا امتیاز، بہادر اور بزدل کا امتیاز۔۔ اِن امتیازات کا نہ کوئی انکار کرسکتا ہے اور نہ کوئی اُنہیں مِٹا سکتا ہے۔ جس دِن اختلافات مِٹ جائیں گے یہ دُنیا بھی مِٹ جائے گی۔

؎ گُلبہائے رنگارنگ سے ہے زینتِ چمن
اے ذوقؔ ! اس جہاں کو ہے زیب اختلاف سے
(شاعر: مرزا ابراہیم ذوقؔ)

لہذا مزدکؔ یا مارکسؔ کی یہ تعلیم کہ زنؔ، زرؔ اور زمینؔ۔۔ تینوں میں کامِل اشتراک اور تمام انسانوں میں کامل مساوات قائم کردی جائے۔۔ یہ بات فطرت اور عقلِ انسانی دونوں کے خلاف ہے اور یہی وجہ ہے کہ کوئی قوم آج تک اس پر عمل نہیں کرسکی اور نہ آئندہ عمل پیرا ہوسکے گی۔


کب ڈرا سکتے ہیں مجھ کو اشتراکی کُوچہ گرد
یہ پریشاں روزگار، آشفتہ مغز، آشُفتہ مُو

حلِ لغات:

اشتراکی
کُوچہ گرد
پریشاں روزگار
آشُفتہ مغز
آشُفتہ مُو
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

آپ حضرات نے اپنی تقریروں میں یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ اشتراکیت (Socialism) ہمارے نظام کے لیے باعثِ خوف و خطر ہے، یا اُس میں اتنی قوت ہے کہ وہ ہمارے نظام کو فنا کردے گی، لیکن میں اس امر میں آپ سے متفق نہیں ہوں۔

میں آپ حضرات کو یقین دِلانا چاہتا ہوں کہ یہ کُوچہ گرد، آوارہ مزاج، پریشان حال، شوریدہ سر، دماغی امراض میں مبتلا، مخبوط الحواس (وہ شخص جس کے حواس باطل یا جنون آمیز ہوگئے ہوں) اشتراکی۔۔ جن کے پاس نہ کوئی اصول ہے نہ قانون، جو نہ کسی آئین کے پابند ہیں نہ کسی ضابطہ کے خوگر ہیں۔ یہ ہرگز مجھے خوف زدہ نہیں کرسکتے۔۔ یہ تو کُچھ دیوانے ہیں جن کے خیالات بھی اَن ہی کی طرح سراسر دیوانگی پر مبنی ہیں۔۔ چنانچہ میری صرف ایک ”ہُو“ اِن کا خاتمہ کرسکتی ہے۔


ہے اگر مجھ کو خطر کوئی تو اُس اُمّت سے ہے
جس کی خاکستر میں ہے اب تک شرارِ آرزو

حلِ لغات:

خطر
خاکستر
شرارِ آرزو
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

آپ حضرات نے جو خدشات ظاہر کیے ہیں، در اصل میں اُن سے چنداں فکر مند نہیں ہوں، کیونکہ ملوکیّت اور جمہوریت کی طرح اشتراکیّت کا نظام بھی میرا ہی پیدا کردہ ہے۔ ہاں! اگر مجھ کو کوئی خطرہ لاحق ہے تو اُس اُمّت کی طرف سے ہے، جس کے دِل میں ابھی تک عشقِ رسول ﷺ کی آگ سُلگ رہی ہے۔  شاید آپ لوگ مجھ سے سوال کریں کہ ایسا باور کرنے کے لیے میرے پاس کیا دلیل ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ:۔

آپ حضرات نے جو خدشات ظاہر کیے ہیں، در اصل میں اُن سے چنداں فکر مند نہیں ہوں، کیونکہ ملوکیّت اور جمہوریت کی طرح اشتراکیّت کا نظام بھی میرا ہی پیدا کردہ ہے۔ ہاں! اگر مجھ کو کوئی خطرہ لاحق ہے تو اُس اُمّت کی طرف سے ہے، جو اگرچہ جل کر راکھ وہ چُکی ہے لیکن اُس راکھ کے اندر دوبارہ اُبھرنے کی آرزو کی چنگاری موجود ہے۔ مجھے خوف ہے کہ یہ چنگاری پھر سے آگ نہ بن جائے اور ہمارے پیدا کردہ نظاموں کو اپنی لپیٹ میں نہ لے۔

ڈاکٹر اسرار احمد اِس کی تشریح میں فرماتے ہیں:-

”اگرچہ دنیا میں ابھی کہیں اسلامی نظام موجود نہیں ہے۔۔ ہمیں اس بات کو ماننا ہوگا کہ جب پوچھا جاتا ہے کہ اسلامی نظام؟ تو کہتے ہیں کہ بھائی اس کتاب کے اندر ہے، پڑھ لو، وہ کہتے ہیں دکھاؤ کہیں؟۔۔ تو کہتے ہیں کہ Sorry۔۔ کہیں نہیں ہے۔۔ کہیں آثار بھی نہیں ہیں ابھی تک کم از کم۔۔ نظر تو نہیں آرہے۔۔ لیکن 80 برس پہلے ابلیس کی نگاہ دیکھ رہی تھی۔۔ اور آج وہی ویژن اہلِ مغرب کو حاصل ہوچکا ہے۔۔

؏ جس کی خاکستر میں ہے اب تک شرارِ آرزو

خاکستر۔۔ ایک انگارے کے اوپر اگر راکھ آجاتی ہے تو آگ تو نظر نہیں آتی۔۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ تو راکھ ہے۔۔ لیکن جب آپ اس کو اٹھائیں گے اور راکھ نکل گئی۔۔ تو پھر پتا چلے گا کہ اندر کیا ہے۔۔ یہ ابلیس دیکھ رہا ہے۔۔ وہ دیکھ رہا ہے کہ اِس اُمت کی خاکستر میں شرارِ آرزو موجود ہے۔۔

یہ شرارِ آرزو پیدا کب ہوا یہ بھی سمجھ لیجیے۔ Western Colonialism کا بسترہ جب تہہ ہوا۔۔ ورلڈ بینگ جیسے ادارے اُسی وقت قائم ہوئے ہیں۔۔ تاکہ مالیاتی Imperialism کو فروغ مل سکے۔۔ مالیاتی استعمار کا آغاز۔۔ لیکن جب یہ تہہ ہوا اور ساتھ ہی مسلمان بھی آزاد ہوگئے۔۔ تو مسلمانوں کو احساس ہوا۔۔ جیسے کسی بے ہوشی سے ہوش میں آنے کے بعد یاد آتا ہے کہ میں کیا تھا۔۔ ہم کیا تھے۔۔ ہمارا بھی تو ایک نظام تھا۔۔ کم سے کم یہ کہ ہمارے بھی کچھ قوانین تھے۔۔ کچھ تعزیزات تھیں۔۔ کچھ حدود تھے۔۔ کچھ سزائیں تھیں۔۔ کوئی Family Laws تھے۔۔ ہمارا کوئی قانونِ وراثت تھا۔۔ ہماری تہذیب تھی۔۔ ہمارے ہاں ایک شرم و عِفت والی معاشرت تھی۔۔ وہ یاد آئی۔۔ اور ایک خواہش دل میں انگڑائیاں لینے لگی۔۔  اور یہ ایک Universal Phenomenon تھا۔۔ انڈونیشیا سے لے کر موریتانیہ تک۔ مسیومی پارٹی انڈونیشیا میں۔۔ جماعتِ اسلامی برِصغیر میں۔۔ جمعیتِ فدائیانِ اسلام ایران میں۔۔  الحفاظ المسلمون مصر میں۔۔  جماعۃ عباد الرحمن لبنان میں۔۔ سعید نورسی ترکی میں۔۔ وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔۔ یہ سب  تحریکیں ایک ہیں۔۔ نعیم صدیقی مرحوم نے ایک نظم بھی کہی تھی، مجھے اب وہ یاد تو نہیں ہے۔۔

؏ ہے ایک ہی جذبہ کہیں اونچا کہیں مدھم

یہ ایک ہی جذبہ ہے۔۔ یہ سارا کا سارا۔۔ نام اور ہیں۔۔ وہ اخوان ہے۔۔ وہ جماعتِ اسلامی ہے۔۔ وہ خاکسار ہے۔۔ خاکسار ایک وقت میں بڑے زور وشور سے اُٹھے تھے۔۔ بہرحال یہ جذبہ جو ہے یہ اس وقت سے ہے لیکن افسوس! یہ جذبہ دو چیزوں میں ٹھوکر کھا گیا۔۔ ایک تو اس نے یہ Suppose  کرلیا کہ جب ہم  مسلمان ہیں تو ایمان تو ہمارے اندر ہے۔۔ بس یہ سب سے بڑی غلطی ہے۔۔ ایمان نہیں ہے بھائی! یہ ایک موروثی عقیدہ ہے۔۔  It’s not eemaan۔۔ ایمان وہ ہوتا ہے جو Personal Conviction کی شکل اختیار کرلے۔۔ یقین!

؎ یقیں پیدا کر اے ناداں! یقیں سے ہاتھ آتی ہے
وہ درویشی، کہ جس کے سامنے جھُکتی ہے فغفوری
(حوالہ: بالِ جبریل)

ہم شروع ہی اس بات سے کرتے ہیں کہ ہم مومن ہیں، سو اب تو بس عمارت بنانی ہے۔۔ یہ غلط ہے۔۔ اصل میں تو ایمان کی دوبارہ تجدید بنیاد ہے اس کام کی۔۔ اور نمبر دو کہ انہوں نے سوچا کہ جس طرح سے دنیا میں اور بھی بہت سی چیزیں چلتی ہیں تو ایسے ہی ہم بھی کہیں الیکشن میں حصہ لے کر کرلیں گے۔۔ کہیں فوجی بغاوت سے کرلیں گے۔۔ کہیں کچھ اور کام کرلیں گے۔۔ نہیں بھائی اس سے نہیں ہوگا۔۔ اس کا طریقہ وہی ہوگا جو محمد رسول اللہ ﷺ کا تھا۔۔ پوری انسانی زندگی میں ایک ہی مرتبہ۔۔ اور تمام انبیاء اور رسل کی جماعت میں سے صرف ایک ہی شخص کے ہاتھوں وہ انقلاب برپا ہوا تھا۔۔ اور کسی کے ہاتھوں نہیں ہوا۔۔ اور وہ ہیں محمد ﷺ۔۔  ٓوہی اول وہی آخر۔۔ اور اب بھی  یہی ہونا ہے۔۔ یہ صحیح ہے۔۔ ابلیس بھی ٹھیک دیکھ رہا ہے۔۔ علامہ اقبال نے بھی ٹھیک دیکھا۔۔ اور آج مغرب بھی ٹھیک دیکھ رہا ہے۔۔ کیونکہ کہا تھا ناں بلیئر نے کہ جو خلافت کا نام لے وہ Fundamentalist ہے، وہ دہشت گرد ہے۔۔

تو وہ خاکستر میں شرارِ آرزو ہے۔۔ اندیشہ یہی ہے کہ کہیں وہ بڑھ کر ایک بہت بڑے طوفان کی شکل اختیار نہ کرلے“


خال خال اس قوم میں اب تک نظر آتے ہیں وہ
کرتے ہیں اشکِ سحر گاہی سے جو ظالم وضُو

حلِ لغات:

خال خال
اشکِ سحر گاہی
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

اِس قوم میں، باوجود اِس کے مِٹ جانے کے، کہیں کہیں ایسے لوگ بھی نظر آتے ہیں جو علی الصبھ اُٹھ کر اپنی دعاؤں اور اِلتجاؤں میں گِڑ گِڑا کر اسلام کے دوبارہ عروج کی دعائیں کرتے ہیں۔ میں (یعنی ابلیس) آپ مشیروں سے کہتا ہوں کہ ایسے اشخاص ہمارے لیے بہت ظالِم ثابت ہوئے ہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ اِن کی دعائیں اور اِلتجائیں با آور ہوجائیں۔ کیونکہ اگر ایسا ہو گیا تو ہمارا یہ ابلیسی نظام روئے زمین سے مِٹ جائے گا۔


جانتا ہے، جس پہ روشن باطنِ ایّام ہے
مزدکِیّت فتنہ فردا نہیں، اسلام ہے!

حلِ لغات:

باطنِ ایّام
فتنۂ فردا
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

 اس لیے ہر وہ عقلمند آدمی۔۔ جو حالاتِ حاضرہ سے باخبر ہے اور زمانے کی رفتار کا مشاہدہ کررہا ہے، مجھ سے متفق ہوگا کہ دُنیا میں اگر کوئی طاقت میرے نظام کو شکست دے سکتی ہے تو اسلام اور صرف اسلام ہے۔

جمہوریت، ملوکیت، اشتراکیت، اشتمالیت، لا ادریت، مادیت، دہریت، مزدکیّت اور ابیقوریت۔۔ یہ سب تحریکات میرے ہی قائم کردہ نظام سے پیدا ہوئی ہیں۔ اِن تمام تحریکات کے بانیوں نے میرے ہی سامنے زانوئے تلمّذ تہ کیا۔ اس لیے اِن سے مجھے کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

زانوئے تلمّذ تہ کرنا: شاگرد ہونا، شاگردی اختیار کرنا

ابلیس (اپنے مشیروں سے) – II

جانتا ہُوں میں یہ اُمّت حاملِ قُرآں نہیں
ہے وہی سرمایہ داری بندۂ مومن کا دِیں

حلِ لغات:

حاملِ قُرآں
سرمایہ داری
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

شاید آپ حضرات اِس مرحلہ  پر اعتراض کریں کہ مسلمان تو قرآن سے بیگانہ ہیں، پھر وہ کس طرح ہمارے نظام کو باطل کرسکیں گے۔ اِس کا جواب یہ ہے کہ میں بھی اِس حقیقت سے آگاہ ہوں کہ مسلمان قرآن سے بیگانہ ہی نہیں بلکہ نفور (بے گانہ، متنفر، بیزار) ہیں اور اِن کی رُوح سے کوسوں دُور ہیں۔ اِس بات کا ثبوت یہ ہے کہ وہ بھی میرے دوسرے پرِستاروں اور فرمانبرداروں کی طرح سرمایہ داری پر ایمان رکھتے ہیں اور اسے جائز سمجھتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے خدا کی بجائے دولت کو مقصدِ حیات بنالیا ہے۔


جانتا ہُوں میں کہ مشرق کی اندھیری رات میں
بے یدِ بیضا ہے پیرانِ حرم کی آستیں

حلِ لغات:

بے یدِ بیضا
پیرانِ حرم
آستین
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

میں اِس حقیقت سے بھی باخبر ہوں کہ اِس قوم کے علما اور مزہبی پیشوا، خواہ وہ اردو میں وعظ کرتے ہوں یا عربی میں۔۔ اپنی قوم کی رہنمائی کی مطلق اہلیّت نہیں رکھتے۔ وہ مشرقی ممالک کی تاریکی کو دُور نہیں کرسکتے کیونکہ وہ رُوحانی قوت (یدِ بیضاء) سے یکسر محروم ہیں، نیز چونکہ وہ مسائلِ حاضرہ سے بالکل بے خبر ہیں، اس لیے اُن مسائل میں اُلجھے ہوئے ہیں جن کا موجودہ  زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اِس کا نتیجہ یہ ہے کہ قوم کے حق میں اُن کا وجودؔ (ہونا) اور عدمؔ (نہ ہونا) برابر ہیں۔


عصرِ حاضر کے تقاضاؤں سے ہے لیکن یہ خوف
ہو نہ جائے آشکارا شرعِ پیغمبر کہیں

حلِ لغات:

عصرِ حاضر
تقاضا
آشکارا
شرعِ پیغمبر
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

یہ سب کچھ بجا اور برحق ہے لیکن اے میرے رفیقو!

میں اِس حقیقت سے کیسے چشم پوشی کرسکتا ہوں کہ عصرِ حاضر کا خود یہ تقاضا ہے کہ شریعتِ اسلامیہ نافذ ہوجائے۔ مُسلمان بے شک اسلام کی تبلیغ سے غافل ہیں لیکن دُنیا خود اسلام کی طرف آرہی ہے۔ بنی آدم ہمارے قائم کردہ نظاموں سے غیر مطمئن ہیں اور ایسے نظامِ حیات کی تلاش میں سرگرداں ہیں جو اُن کے پیچیدہ مسائل کا صحیح حل پیش کرسکے۔ اس لیے مجھے یہ اندیشہ لاحق ہے کہ کہیں وہ اسلامی شریعت کی طرف مائل نہ ہوجائیں۔ میں نے مانا کہ مسلمان صفحۂ ہستی سے نابود ہوچکے ہیں (عرب اور عجم میں جو لوگ آباد ہیں وہ ہمارے ہی غلاموں کے غلام ہیں) لیکن قرآن تو بجنسہ موجود ہے۔ مجھے تسلیم ہے کہ مسلمان شریعتِ اسلامیہ سے باغی ہوگئے ہیں (کسی ملک میں یورپین قانون نافذ ہے تو کسی میں امریکن) لیکن شریعت تو بدستور کتابوں میں موجود ہے۔

ڈاکٹر اسرار احمد اِس کی تشریح میں فرماتے ہیں:-

”یہ اس نظم اک اہم ترین شعر ہے۔۔ یہ جو Dialectical Process چل رہا ہے تاریخ کا، یہ اصل میں کیا چاہ رہا ہے؟۔۔ ایک چیز پیدا ہوئی۔۔ اُس کا ردِ عمل پیدا ہوا۔۔ اُس کے بعد اِن دونوں میں تصادم ہوا۔۔  پھر دونوں سے مِل کر ایک نظام وجود میں آگیا۔۔ پھر اُس نظام کے اندر جو خرابی ہے وہ ظاہر ہوئی۔۔ اُس نے اپنے ردِ عمل کو جنم دیا۔۔ Thesis, Anti-thesis, Synthesis ۔۔ یہ Synthesis پھر Thesis بن گیا۔۔ پھر Anti-thesis اور پھر Synthesis ۔۔ واقعہ یہ ہے کہ نوعِ انسانی رفتہ رفتہ جارہی ہے Dialectical Process کے تحت اُسی نظام کی طرف جو محمد رسول اللہ ﷺ نے عطا فرمایا۔۔ ابلیس کہتا ہے کہ اس سے خوف ہے مجھے۔۔ اگرچہ اُمت میں دم نہیں ہے۔۔

دیکھیے ملوکیّت و شہنشاہیت کے ردِ عمل میں انقلابِ فرانس آیا اور جمہوریت آگئی۔ جمہوریت چونکہ اللہ کی ہدایت سے مستفید نہیں ہے۔۔ یہ اندھا مادہ جو ہے وہ ایکشن / ری-ایکشن پیدا کررہا ہے۔۔ اُس کے اندر جو دولت پرستی تھی، سُود رہا، پھر Industrial Revolution آگیا، تو وہ سرمایہ داری بن گئی۔۔ ایک لعنت سے چھٹکارا پایا۔۔ دوسری لعنت میں گرفتار۔۔ Lords سے آزاد ہوئے اور کارخانے داروں کے غلام ہوگئے۔۔ اُس کے ردِ عمل میں Communism آیا۔۔ ایک Party Dictatorship آگئی۔۔ اب وہ بھی ختم ہوا۔۔ اب کہاں آئے گا؟ اب پھر انسان دوراہے پر کھڑا ہے۔۔ کہاں جائے گا۔۔ Fukuyama کہتا ہے End of History۔۔ وہ کہتا ہے کہ تاریخِ انسانی کے اندر جو سب سے اونچا مقام ہوسکتا تھا۔۔ وہ ہم حاصل کرچکے۔۔ Communism کا خاتمہ ہوگیا سو اب کوئی نظام ہمارے مدِ مقابل آ ہی نہیں سکتا۔۔ اُس کا ایک جواب لکھا ہے ہمارے پاکستان کے عابد اللہ جان صاحب نے۔۔ End of History کے جواب میں End of Democracy کتاب لکھی ہے۔۔ مغربی جمہوریت ختم ہوگئی ہے۔۔ اُس کے دلائل، اس کے شواہد کے لیے تفصیل کے ساتھ اس کتاب کو پڑھیے۔۔ اور اب اسلام جو آئے گا تو Synthesis ہوگا اب، وہ ہوگا اسلامی جمہوریہ۔۔ Islamic Socialism۔۔ سوشلِزم میں جو خیر تھا۔۔ وہ بھی اسلام کے اندر ہے۔۔ خیر یہی تھا ناں کی ہر ایک کے لیے بنیادی ضروریات فراہم کردی جائیں۔۔ یہ تو اسلام میں ہے۔۔ ہم نے نہیں کیا تو مجرم ہم ہیں۔۔ Scandinavian Socialism اپنی Top کے اوپر کھڑا ہوا ہے۔۔ لیکن اسلام کا Socialism اُس سے کہیں آگے جائے گا۔۔ جمہوریت بھی Top کی۔۔ جہاں ایک بوڑھی عورت ٹوک سکتی ہے امیرالمومنین حضرتِ عمر فاروقؓ کو۔۔ ایک شخص آپؓ سے احتساب کرسکتا ہے کہ آپؓ کا کُرتا کیسے بنا ہے یہ بتائیں۔۔ کہاں سے آیا کپڑا یہ؟۔۔

یہاں جیسا کہ میں نے کہا کہ اسلامی جمہوریت ہوگی۔۔ اللہ کی حاکمیت کے تحت عوامی خلافت۔۔ اسلامی Socialism ہوگا۔۔ ہر ایک کی بنیادی ضروریات کی کفالت زکوۃ کے نظام کے ذریعے سے۔۔ یہ نظام ہے۔۔“


الحذَر! آئینِ پیغمبر سے سَو بار الحذَر
حافظِ نامُوسِ زن، مرد آزما، مرد آفریں

حلِ لغات:

الحذر
آئینِ پیغمبر
حافظ
نامُوسِ زن
مرد آزما
مرد آفریں
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

پناہ! پناہ! آئینِ پیغمبرﷺ سے سو بار پناہ! یہ آئینِ پیغمبر کیا ہے؟ یہ عورت کی ناموس کا محافظ ہے، مرد آزما اور مرد آفریں ہے۔

اے دوستو! آئینِ پیغمبر (شریعتِ اسلامیہ) ہمارے حق میں پیامِ موت ہے، اِسی لیے میں نے اپنے کارِندوں (ریپلیسڈ ورڈ: گماشتوں) کو ارجنٹ اور کانفیڈنشیل ہدایات بھیج دی ہیں کہ جہاں تک ہوسکے اِس کے نفاذ میں رُکاوٹیں پیدا کردوکیوں؟ اس لیے کہ:-

ہمارے نظام کا پہلا اصول یہ ہے کہ عورتوں کی بے پردگی، بے حجابی اور بے حیائی کو رواج دیا جائے۔ کیونکہ معاشرہ کا فساد، عورت کی بے حجابی پر موقوف ہے اور انسانی معاشرہ کو فاسد کردینا ہی ہمارے ابلیسی نظام کا واحد مقصد ہے۔ ہمارے وجود کی غرض و غایت اس کے سوا اور ہے بھی کیا کہ دُنیا میں بدکاری داخلِ فیشن ہوجائے۔ کیا آپ حضرات نے تاریخِ عالم کا مطالعہ نہیں کیا کہ ہم نے عورتوں میں بے حجابی اور بے حیائی کو عام کرکے صدہا تہذیبوں کو ہمیشہ کے لیے فنا کردیا؟ ہم سب سے پہلے عورتوں کو تلقین کرتے ہیں کہ گھر کی چار دیواری سے باہر نکل۔ مرد کو کیا حق ہے کہ وہ تجھے ”چراغِ خانہ“ بنا کر رکھے؟ تجھے تو خدا نے ”شمعِ انجمن“ بنایا ہے، اِس لیے باہر نکل اور اپنے حُسنِ خداداد کی نمائش کر۔ چونکہ نمائش کے لیے تقاریب لازمی ہیں۔ اس لیے ہم نے اُسے سمجھایا کہ قوم کی خدمت کے پردہ میں بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ چنانچہ تُو کانفرنسیں منعقد کر، قواعد پریڈ میں حصہ لے، اسمبلی میں تقریر کر، قوی رضا کاروں میں بھرتی ہو، مخلوط جلسوں کی صدارت کر، مشاعروں میں لحنِ داؤدی (حضرت داؤد علیہ السلام کی معجزانہ خوش نوائی کی طرف تلمیح، حضرت داؤد علیہ السلام کا دلکش لہجہ جو زبور پڑھنے میں ہوتا تھا؛ مراد ہے دِلکش لہجہ، دِل نشیں صوتی آہنگ) کا مظاہرہ کر، صلیبِ احمر کے لیے چندہ جمع کر، اسٹیج پر اپنے رقص کے کے کمالات دکھا اور بال رُوم میں اپنے حُسن کا جلوہ دکھا کر دُنیا کو ہوش و خِرد سے ہی بیگانہ بنا دے۔ جب مہذّب تعلیم، تعلیم یافتہ اور روشن خیال بلکہ ترقی پسند عورت ہمارے اِس ذرّیں مشورہ پر عمل کرتی ہے تو معاشرہ میں وہ تمام مفاسد خودبخود پیدا ہوجاتے ہیں جو انجام کار اس کو فنا کے گھاٹ اُتار دیتے ہیں۔ بالفاظِ دیگر، اپنے ناموس کی حفاظت نہ کرنے والی عورت، ہمارے نظام کی ترویج و اشاعت اور اُس کے قیام و استحکام کا مؤثر ترین ذریعہ ہے۔ اِسی کے تعاون سے ہم اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے پیغمبرﷺ نے ایسی عورتوں کو ”دامِ ابلیس“ کا لقب عطا کیا ہے۔ لیکن آئینِ پیغمبر ﷺ، سب سے پہلا حملہ ہمارے اِسی مورچے پر کرتا ہے، یعنی شریعتِ اسلامیہ کا پہلا اصول یہ ہے کہ عورت کے ناموس کی حفاظت کی جائے اور اِس کی حفاظت کے لیے اُس نے ایسے زبردست قوانین وضع کیے ہیں کہ اگر عورت اُن ہر عامِل ہوجائے تو ہم یا ہمارے ایجنٹ ہرگز اس پر قابو نہیں پاسکتے۔ مختصر طور پر یوں سمجھ لو کہ اسلام عورت کی عزت اور عصمت کا سب سے بڑا محافظ ہے۔

ہمارنے نظام کا سب سے بڑا اصول یہ ہے کہ مردوں کے اندر نسوانی عادات پیدا کردی جائیں تاکہ وہ اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کے لیے میدانِ جہاد میں نہ جاسکیں یا اگر کسی کے مارے باندھے چلے بھی جائیں تو سرفروشی نہ کرسکیں۔ اِسی طرح اِن کو دوسری مردانہ صفات مثلاً جفاکشی، آدمیّت، ہمدردی، مروّت، ایفائے عہد، تقویٰ، دیانت اور امانت سے یکسر محروم کردیا جائے اور ان خوبیوں  کی بجائے  اُن کے اندر عیش کوشی، نفس پرستی، غداری، بے ایمانی، منافقت، ریاکاری، ضمیر فروشی، رشوت ستانی، حرام خوری، خوشامد اور خیانت ۔۔ غرضیکہ تمام برائیاں پیدا کردی جائیں۔ لیکن آئینِ پیغمبر انسانوں کو مرد بناتا ہے، مردانگی سکھاتا ہے، مردانہ صفات سے آراستہ کرتا ہے اور پھر اُن کا امتحان لیتا ہے یعنی ”مرد آزما“ ہی نہیں ہے بلکہ ”مرد آفریں“ بھی ہے۔

ڈاکٹر اسرار احمد اِس کی تشریح میں فرماتے ہیں:-

”واضح ہو کہ معاش کی ساری ذمہ داری مرد کے سر ہے، عورت کے سر نہیں ہے۔۔ اُس کی کفالت مرد کے ذمے ہے۔۔ مرد ہی کو اپنی عورت کو سپورٹ کرنا ہے۔۔ اولاد کی ساری کفالت مرد کے ذمے ہے۔۔ شادی کرے گا تو مہر مرد ادا کرے گا اورعورت لے گی۔۔ شادی کا خرچہ مرد کرے گا۔۔ دعوت مرد دے گا ولیمے کی۔۔ لڑکی والوں کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔۔ یہ ہے چیلنج مردوں کے لیے۔۔ اس کے علاوہ ملک کا دفاع بھی مرد کی ذمہ داری ہے۔۔ یہ ٹھیک ہے کہ اگر کسی آخری وقت میں آکر اگر گھر سے گھر لڑائی ہورہی ہو، Street Fighting، ہورہی ہو اور عورتیں بھی آئیں میدان میں۔۔ ٹھیک ہے۔۔ لیکن ویسے نہیں۔۔ بنیادی طور پر نہیں۔۔ بنیادی طور پر یہ ساری ذمہ داری مرد کے سر ہے۔۔ اور اسی بات سے مردانگی پیدا ہوتی ہے۔۔“


موت کا پیغام ہر نوعِ غلامی کے لیے
نے کوئی فُغفور و خاقاں، نے فقیرِ رہ نشیں

حلِ لغات:

نوعِ غلامی
فغفور
خاقاں
رہ نشیں
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

ہمارے نظام کا تیسرا اصول یہ ہے کہ انسان کو انسان کا غلام بنایا جائے۔ چنانچہ اسی مقصد کے لیے ہم نے ملوکیّت، رہبانیّت، پیر پرستی، تجسم، حلول (غیر اسلامی تصوّف کے مطابق جسم میں روح کا کسی اور جسم یا مخلوق میں سما جانا حلول کہلاتا ہے۔ اِن صوفیاء کے بعض فرقے تو خدا کے بندگانِ مقرب میں حلول کے بھی قائل ہیں، ویکی پیڈیا)، احباریت، سرمایہ داری، جاگیرداری، زمینداری، قبر پرستی، آثار پرستی، شخصیت پرستی اور غیر اسلامی تصوّف ۔۔۔ لیکن آئینِ پیغمبری یعنی اسلام، غلامی کی ہر صنف ہر قسم اور ہر نوع کے لیے موت کا پیغام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُس نے ملوکیّت، رہبانیت، تجسم، حلول، اخباریت، مذہبی پیشوائیت، سرمایہ داری، جاگیر داری، زمینداری، اکتناز (جمع کی ہوئی دولت)، احتکار (ذخیرہ اندوزی)، اجارہ داری اور نظامِ خانقاہی۔۔ غرضیکہ غلامی کی ہر ممکن صورت کو ناجائز قرار دے دیا ہے چنانچہ دیکھ لو! فاروقِ اعظمؒ کے نام سے اگرچہ قیصر و کسریٰ لرزہ براندام تھے لیکن ایک ادنیٰ عورت بھی بھری مجلس میں آپؓ سے باز پُرس کرسکتی تھی۔ علاوہ بریں اسلام نے ایسا عادلانہ نظام قائم کیا کہ اس میں نہ کوئی شخص، بادشاہ یا نواب ہوسکتا ہے اور نہ مفلس یا بے نوا۔ بلکہ ہر شخص فارغ البال (خوشحال) اور مرفہ الحال (آسان حالات میں) ہوگا۔


کرتا ہے دولت کو ہر آلودگی سے پاک صاف
مُنعموں کو مال و دولت کا بناتا ہے امیں

حلِ لغات:

آلودگی
مُنعموں
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

ہمارے نظام کا چوتھا اصول یہ ہے کہ انسان کو خدا پرستی کے بجائے زر پرستی (دولت پرستی) سکھائی جائے۔ تاکہ ایک طرف وہ خدا سے دُور ہوجائیں گے اور دوسری طرف دنیا میں ہر قسم کی بدکاری اور بدمعاشی کو فروغ ہوسکے۔ گویا ہمارا یہ طریقِ عمل ”بیک کرشمہ دوکار“ کا مصداق ہے۔ کیونکہ زرپرستی کا لازمی خاصہ یہ ہے کہ انسان خود اپنے ہی بھائی کا گلا کاٹنے لگتا ہے اور اسی پر ہمارے نظام کی بقا کا انحصار ہے کہ انسان، نوعِ انسان کا شکاری بن جائے، یعنی:-

؎ ابھی تک آدمی صیدِ زبونِ شہریاری ہے
قیامت ہے کہ انساں نوعِ انساں کا شکاری ہے
(حوالہ: بانگِ درا: طلوعِ اسلام)

 لیکن آئینِ پیغمبر ﷺ اِس کے برعکس یہ تعلیم دیتا ہے کہ لوگو! جو دولت تم ناجائز طریقوں سے حاصل کرو گے وہ تمہارے لیے حرام ہے اور جو دولت تم جائز طریقوں سے حاصل کرو وہ بھی اُس وقت تک جائز نہیں ہوسکتی جب تک تم خدائی ٹیکس یعنی زکٰوۃ ادا نہ کرو۔

اِسلام اِسی پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ وہ تو اپنے پیروؤں سے صاف لفظوں میں کہتا ہے کہ جائز طریقوں سے دولت حاصل کرنے کے بعد جب تم اس پر زکٰوۃ ادا کرو، تو باقی ماندہ رقم پر تم متصرف کرسکتے ہو لیکن اسے اپنی ملکیت قرار نہیں دے سکتے کیونکہ تم اور تمہاری دولت دونوں اللہ کی ملکیت ہیں۔ تم بھی اللہ کے ہو اور دولت بھی اُسی کی ہے۔ ہاں اُس نے تمہیں اس کا ”امین“ بنادیا ہے۔ تاکہ تم اس کی عطا کردہ دولت کو اُس کی مرضی کے مطابق خرچ کرسکو۔ یاد رکھو! حقیقی مالک صرف اللہ تعالی ہے، جو تمہارا رب ہے۔

قرآن پاک میں ارشاد ہے:-

اِنَّ اللّـٰهَ اشْتَـرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَهُـمْ وَاَمْوَالَـهُـمْ بِاَنَّ لَـهُـمُ الْجَنَّـةَ ۚ يُقَاتِلُوْنَ فِىْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ فَيَقْتُلُوْنَ وَيُقْتَلُوْنَ ۖ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِى التَّوْرَاةِ وَالْاِنْجِيْلِ وَالْقُرْاٰنِ ۚ وَمَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّـٰهِ ۚ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَيْعِكُمُ الَّـذِىْ بَايَعْتُـمْ بِهٖ ۚ وَذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْـمُ

بے شک اللہ نے مسلمانوں سے ان کی جان اور ان کا مال اس قیمت پر خرید لیے ہیں کہ ان کے لیے جنت ہے، اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں پھر قتل کرتے ہیں اور قتل بھی کیے جاتے ہیں، یہ سچا وعدہ ہے تورات اور انجیل اور قرآن میں، اور اللہ سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا کون ہے، خوش رہو اس سودے سے جو تم نے اس سے کیا ہے، اور یہ بڑی کامیابی ہے۔

(حوالہ: سورۃ التوبۃ: آیت نمبر 9)

شیخ سعدیؔ فرماتے ہیں کہ:-

؎ ایں امانت چند روزہ نزدِ ما ست 
در حقيقت مالکِ ہر شے خدا ست
یہ مال ودولت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امانت ہے جو انسان کے سپرد کی گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر شے کا مالک اللہ تعالی ہے۔
(شاعر: شیخ سعدیؒ)


اِس سے بڑھ کر اور کیا فکر و عمل کا انقلاب
پادشاہوں کی نہیں، اللہ کی ہے یہ زمیں!

حلِ لغات:

انقلاب
پادشاہ
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

ہمارے ابلیسی نظام کا پانچواں اصول یہ ہے کہ بادشاہوں کو انسانوں کے علاوہ زمین کا بھی مالک بنادیا جائے تاکہ وہ آپس میں ہر وقت برسرِ پیکار رہیں اور اس طرح کشت و خون (خونریزی و قتل و غارت گری) کا بازار گرم رہے اور جب وہ مفتوحہ (فتح کی جا چُکی) زمین کے خطے اپنے غلاموں کو عطا کریں گے تو جاگیرداری کا نظام قائم ہوجائے گا اور اس طرح وہ لوگ کاشتکاروں کو اپنا غلام بناسکیں گے۔ یعنی عوام غلامی در غلامی کی لعنت میں گرفتار ہوجائیں گے اور یہی ہمارا مقصود ہے کہ انسان کو غلامی کی زنجیروں میں ایسی سختی کے ساتھ جکڑ دیا جائے کہ وہ خدا پرستی کرنا بھی چاہے تو نہ کرسکے۔ لیکن آئینِ پیغمبر ﷺ نے اس کے مقابلہ میں ایسا انقلابی پروگرام پیش کیا کہ اگر دنیا اس پر کاربند ہوجائے تو ہمارا نظام بالکل مفلوج ہو کر رہ جائے گا۔

اِسلام کی تعلیم یہ ہے کہ زمین بادشاہوں کی نہیں بلکہ اللہ کی ہے اور جب اللہ کی ہے تو ملکیّت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا۔ یعنی جب کوئی بِنائے مخاصمت (جھگڑے کی وجہ) ہی باقی نہ رہی تو لڑائی کس بات پر ہوگی۔

قرآن پاک میں ارشاد ہے:-

لِّلَّهِ مَا فِى السَّمَاوَاتِ وَمَا فِى الْاَرْضِ ۗ وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِىٓ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّـٰهُ ۖ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَّشَآءُ ۗ وَاللّـٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ ہی کا ہے، اور اگر تم اپنے دل کی بات ظاہر کرو گے یا چھپاؤ گے اللہ تم سے اس کا حساب لے گا، پھر جس کو چاہے بخشے گا اور جسے چاہے عذاب کرے گا، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

(حوالہ: القرآن: سورۃ البقرۃ: آیت نمبر 284)

علامہ اقبال فرماتے ہیں:-

پالتا ہے بیج کو مٹّی کی تاریکی میں کون
کون دریاؤں کی موجوں سے اُٹھاتا ہے سحاب؟
کون لایا کھینچ کر پچھم سے بادِ سازگار
خاک یہ کس کی ہے، کس کا ہے یہ نُورِ آفتاب؟
کِس نے بھردی موتیوں سے خوشۂ گندم کی جیب
موسموں کو کِس نے سِکھلائی ہے خُوئے انقلاب؟
دِہ خُدایا! یہ زمیں تیری نہیں، تیری نہیں
تیرے آبا کی نہیں، تیری نہیں، میری نہیں
(حوالہ: بالِ جبریل: الارض للہ)


چشمِ عالم سے رہے پوشیدہ یہ آئِیں تو خوب
یہ غنیمت ہے کہ خود مومن ہے محرومِ یقیں

حلِ لغات:

چشمِ عالم
غنیمت
محرومِ یقیں
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اسلامی نظام ہمارے نظام (یعنی ابلیسیت) کی زِد ہے۔ یہ دونوں ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے۔ اب آپ غور کریں کہ اسلام کے علاوہ دُنیا میں اور کونسا دستورالعمل ہے جو ہمارے نظام کی اس کاملیّت اور جامعیّت کےساتھ تردید کرتا ہو؟ دُنیا میں اسلام کے علاوہ اور کوئی نظام ہمارے نظام کو شکست نہیں دے سکتا۔ اس لیے میں آپ صاحبان سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ اہلِ عالم کو اس نظام سے آگاہ نہ ہونے دیں۔ اپنی تمام قوتیں اِس بات پر مرکوز کردیں کی یہ آئین دُنیا والوں کی نگاہ سے پوشیدہ رہے۔ نیز آپ کو خوشخبری دیتا ہوں کہ یہ وقت آپ کی جدوجہد کے لیے نہایت موزوں ہے کیونکہ آج کل خود مسلمان اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ اسلامی آئین ہماری مشکلات کا خاتمہ کرسکتا ہے یا کسی ملک میں رائج ہوسکتا ہے۔۔ بلکہ اکثر اربابِ عقل تو یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ اِس زمانہ میں اسلامی آئین نافذ ہی نہیں ہوسکتا۔

اقبالؔ فرماتے ہیں کہ:-

؎ غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
(حوالہ: بانگِ درا: طلوعِ اسلام)

ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:-

؎ یقیں پیدا کر اے ناداں! یقیں سے ہاتھ آتی ہے
وہ درویشی، کہ جس کے سامنے جھُکتی ہے فغفوری
(حوالہ: بالِ جبریل)


ہے یہی بہتر الٰہیات میں اُلجھا رہے
یہ کتابُ اللہ کی تاویلات میں اُلجھا رہے

حلِ لغات:

الٰہیات
تاویلات
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

لہذا اے میرے مشیرانِ خاص!  ہمارے نظامِ ابلیسیت کی خیر اِسی میں ہے کہ آج کا مسلمان مسائل و مباحث اور قرآن کریم کے من مانے معنی پیدا کرنے کے چکر میں پھنس کر عمل سے بے گانہ رہے اور وہ اِس فضول بحث سے نکل کر قرآن کی اصلیّت اور حقیقت کی طرف دھیان نہ دے۔ چنانچہ آپ مسلمانوں کی جہالت اور کوتاہ بینی سے فائدہ اُٹھائیں اور ایسی صورتِ حال پیدا کردیں کہ مسلمان بدستور الہیات کے مسائل اور کتاب اللہ کی تاویلات میں اُلجھے رہیں۔ اگر وہ اِن بیگانہ باتوں میں مشغول رہے تو یقیناً اتنی فرصت نہیں ملے گی کہ اسلام کا مطالعہ آئینِ حیات کی حیثیت سے کرسکیں۔

ابلیس (اپنے مشیروں سے) – III

توڑ ڈالیں جس کی تکبیریں طلسمِ شش جہات
ہو نہ روشن اُس خدا اندیش کی تاریک رات

حلِ لغات:

طلِسمِ شش جہات
خُدا اندیش
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

حضرات! مسلمان اگر اسلامی آئین کی خوبیوں سے آگاہ ہوجائے اور اس کو نافذ کردے تو یقین کیجیے کہ اس میں اس قدر طاقت پیدا ہوجائے گی کہ وہ ہمارے نظام کو باطل کردے گا۔ اس لیے آپ کا فرضِ منصبی یہ ہے کہ وہ گمراہی کی تاریکی سے نہ نکلنے پائے۔

میں نے بڑی کوششوں سے بنواُمیّہ کے عہد میں یہ نکتہ اس کے ذہن نشین کیا کہ اِسلام صرف پُوجا پاٹ، رسومِ ظاہری اور بعض  مسائلِ نظری کا نام ہے۔۔ یہ کوئی دستور العمل یا آئینِ حیات یعنی زندگی کا ضابطہ نہیں ہے۔ مقامِ مسرّت یہ ہے کہ میری کوششیں بارآور ہوئیں اور مسلمان، حقائقِ قرآن سے بیگانہ ہوکر، فقہ کے فروغی مسائل میں اس درجہ منہمک ہوگیا کہ اُس نے آمین، رفع یدین، فاتحہ خلف الامام (امام کے پہچھے فاتحہ پڑھنا)، مسح علی الخفین (موزوں پر مسح کرنا) اور تقبیل الابہامین (نامِ محمد ﷺ پر انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر لگانا) اور اسی قسم کے ددوسرے فروغی مسئلوں پر کئی دفعہ بغداد کے گلی کوچوں کو اپنے بھائیوں کے خون سے رنگین کردیا، اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ اس لیے آپ اُسے اسی قسم کے مسائل میں الجھائے رکھیں تاکہ یہ جو خدا کا تصوّر رکھنے والا ہے، اِس کی تاریک رات کی صبح نہ ہونےپائے۔۔ کیونکہ اگر ایسا ہو گیا تو اِس کی تکبیریں شش جہات (Six Dimensions) کے طلسمات کو توڑ کر رکھ دیں گی اور ہمارا سارا نظام نیست و نابُود ہو جائے گا۔

چنانچہ آپ لوگوں کا فرضِ منصبی ہے کہ مسلمانوں کو اِس قسم کے مسائل میں اُلجھائے رکھیں، مثلاً:- (تفصیل آئندہ اشعار میں)


ابن مریم مر گیا یا زندۂ جاوید ہے
ہیں صفاتِ ذاتِ حق، حق سے جُدا یا عینِ ذات؟

حلِ لغات:

ابنِ مریم
زندۂ جاوید
صفات
ذاتِ حق
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

ابلیس اب اپنے مشیروں کو تلقین کرتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو عملی زندگی سے بیگانہ بنا دینے کے لیے اُنہیں بحث و مباحث میں اُلجھائے رکھیں، مثلاً:-

حضرت عیسیٰ مصلوب ہوئے یا نہیں؟ وفات پا چُکے ہیں یا ابھی تک زندہ ہیں؟

ایک اور بحث جس نے صدیوں سے مسلمانوں بحث مباحثے میں اُلجھا رکھا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کی صِفات اُس کی ذات سے الگ ہیں یا اُس کی ذات ہی کا ظہور ہیں۔ (یہ بحث وحدۃ الوَجُود اور وحدۃ الشہور کی صوفیانہ اصطلاحوں سے تعلق رکھتی ہے)


آنے والے سے مسیحِ ناصری مقصود ہے
یا مجدّد، جس میں ہوں فرزندِ مریم کے صفات؟

حلِ لغات:

مسیحِ ناصری
مجدّد
فرزندِ مریم
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

احادیث میں جو نزولِ مسیحؑ کا تذکرہ پایا جاتا ہے۔ تو مسیحؑ سے درِ حقیقت کیا مراد ہے؟ وہی مسیحؑ ابن مریمؑ (Jesus of Nazareth) نازل ہوں گے یا اِس اُمّت میں کوئی اور شخص پیدا ہوگا جس میں اُن کی صفّات جلوہ گر ہوں گی۔

پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی اس کی شرح میں لکھتے ہں کہ:-

”مسیح موعود ہونے کا دعوی کرنیوالے مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق اس کے پیروکاروں میں دورائیں ہو گئیں۔ ایک اُس کو مسیح سمجھنے کی اور دوسری اُس کو مجدد ماننے کی۔ اِس سے قادیانیوں کے اندر دو فرقے بن گئے، جو لوگ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے تھے وہ تو قادیانی یا مرزائی کہلائے اور جو اُسے مجدد یا مصلح (یعنی دین کو زندہ کرنے والا یا اس کی اصلاح کرنے والا) کہتے تھے اور نبی نہیں مانتے تھے وہ لاہوری مرزائی کہلائے۔“


ہیں کلامُ اللہ کے الفاظ حادث یا قدیم
اُمّتِ مرحوم کی ہے کس عقیدے میں نجات؟

حلِ لغات:

حادث
قدیم
عقیدہ
نجات
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

مُردہ دِل مسلمانوں کے لیے یہ بحث بے حد اہم بن چُکی ہے کہ قرآن مجید کے الفاظ کی حقیقت کیا ہے۔ کیا یہ الفاظ قرآن سے پہلے بھی اپنا وجود رکھتے تھے یا قرآن کے ساتھ ہی نازل ہوئے؟ (قرآن کی تعلیم پر عمل پیرا ہونے کے برعکس مسلمان اس نوع کی فلسفیانہ بحثوں میں اُلجھ کر رہ گیا ہے)۔۔ گویا اب مُردہ مُسلِ اُمّت کی فلاح و بہبود اور نجات کا انحصار صرف اِس امر پر ہے کہ قرآن مجید کے الفاظ کی کیا حقیقیت ہے؟

اُمّتِ مرحومہ کی نجات، عقیدہ اور عمل دونوں سے ہے یا صرف عقیدہ سے ہے؟ اگر صرف عقیدہ سے ہے تو پھر کون سے عقیدہ سے ہے؟ یعنی مسلک اِشاعرہ (اشعری مسلمانوں کا ایک فرقہ) صحیح ہے یا مسلکِ ماتریدیہ (ماتریدیہ ایک سنی کلامی مکتب فکر ہے جو ابومنصور ماتریدی کی طرف منسوب ہے) یا مسلکِ حنابلہ (حنبلی اہل سنت کے چار فقہی مذاہب میں سے ایک ہے۔ یہ احمد بن حنبل کی تعلیمات پر مبنی ہے اور اس کی ترویج ان کے شاگردوں نے کی۔ حنبلی مذہب چار مکاتب فکر (حنفی، مالکی اور شافعی) میں (بلحاظ تعداد مقلدین) سب سے چھوٹا ہے۔) یا مسلکِ معتزلہ (معتزلہ ایک عقلیت پسند فرقہ جس کا بانی ایک ایرانی نژاد واصل بن عطا الغزال شاگرد خواجہ حسن بصری تھا، اس کے نزدیک قرآن مخلوق ہے، توحید عقلاً معلوم ہو سکتی ہے، گناہ کبیرہ کا مرتکب کافر ہے وغیرہ وغیرہ، مامون الرشید کے عہد میں یہ سرکاری مذہب بن گیا تھا۔ امت مسلمہ میں پانچ بڑے فرقے ہوئے ہیں ان میں سے ایک معتزلہ بھی ہے، سنی، خوارج، شیعہ، معتزلہ اور باطنیہ)؟


کیا مسلماں کے لیے کافی نہیں اس دَور میں
یہ الٰہیات کے ترشے ہُوئے لات و منات؟

حلِ لغات:

الٰہیات
لات و منات
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

کیا اس زمانے میں مسلمان کو اپنی حقیقت سے دُور رکھنے کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ وہ اللہ سے متعلق منطقی اور فلسفیانہ بحثوں میں اُلجھ کر رہ گیا ہے۔ وہ عملی اسلام سے بیگانہ ہو گیا ہے اور اختلافی مسائل کے بُتوں (الہیات کے لات و منات) کی پرستش کر رہا ہے۔ یہ بحثیں اُسے خدا سے حقیقی تعلق کے حوالے سے اُسے اِسی طرح دُور رکھے ہوئے ہیں جس طرح بُت اِس راہ میں حائل ہوتے ہیں۔ مومن کا دِل تو خدا کا گھر ہوتا ہے لیکن اُس نے کعبۂ دِل میں فضول بحثوں کے لات و منات رکھ رکھ کر خدا کو اِس سے باہر کر رکھا ہے۔ گویا اب مُردہ اُمّت کی فلاح و بہبود اور نجات کا انحصار صرف اس بات پر ہے کہ قرآن کے الفاظ کی حیثیت کیا ہے؟ اور یہ ہمارے (ابلیس اور اُس کے مشیروں) کے لیے بہت تسلّی بخش بات ہے۔ اِنہی مسائل میں الجھ کر مسلمان جہاد سے بیگانہ ہو گیا اور آئندہ بھی اُس کی بیگانگی یقینی ہے۔


تم اسے بیگانہ رکھّو عالمِ کردار سے
تا بساطِ زندگی میں اس کے سب مُہرے ہوں مات

حلِ لغات:

بیگانہ
تا بساطِ زندگی
مہرے
مات
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

اس لیے مشورہ یہی ہے کہ تم جس طرح بھی ہوسکے اسے عملِ صالح اور جہاد سے بیگانہ بنادو۔ اگر تم نے اس معاملہ میں کامیابی حاصل کرلی تو ہر میدان میں تمہاری ہی فتح ہوگی اور مسلمان کسی محاذ پر کامیاب نہیں ہو سکے گا۔


خیر اسی میں ہے، قیامت تک رہے مومن غلام
چھوڑ کر اَوروں کی خاطر یہ جہانِ بے ثبات

حلِ لغات:

جہانِ بےثبات
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

ہماری خیریت اور سلامتی اِسی میں ہے کہ مُسلمان دوسروں کی خاطر جیتا رہے، اُسے ہر لحاظ سے بے عمل اور بے کردار بنا دو اور اِس دنیائے فانی کی نعمتیں، ترقی، خوشحالی اور حاکمیت سے لاتعلق ہو کر قیامت تک دُوسروں کا غلام بنا رہے۔


ہے وہی شعر و تصوّف اس کے حق میں خوب تر
جو چھُپا دے اس کی آنکھوں سے تماشائے حیات

حلِ لغات:

تماشائے حیات
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

اس سلسلہ میں یہ بات بھی تمہارے لیے بہت مفید ثابت ہوگی کہ تم مسلمان کو شاعری اور غیر اسلامی تصوّف میں منہمک رکھو۔ نیز اُس کو ”ترقی پسند ادب“ کا شیدائی بنادو تاکہ وہ ہر وقت جنسی مسائل پر غور کرتا رہے یر وقت عورت اُس کے اعصاب پر سوار رہے اور اگر وہ کسی وقت اُس سے اکتا جائے تو اُسے روٹی اور پیٹ کے مسائل میں الجھا دو، تاکہ وہ مادیات سے بالاتر ہو کر، اعلیٰ اخلاقی کی طرف متوجہ ہی نہ ہو سکے۔ اور جو لوگ ادبِ لطیف سے بہرہ اندوز ہونے کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں، اُنہیں تصوّف اور قوالی کا گرویدہ بنادو، تاکہ خانقاہوں اور حجروں سے باہر نکل کر ”رسمِ شبّیری“ ادا کرنے کے قابل ہی نہ رہیں یعنی عمل کی صلاحیت بالکل ختم کردو۔


ہر نفَس ڈرتا ہُوں اس اُمّت کی بیداری سے مَیں
ہے حقیقت جس کے دیں کی احتسابِ کائنات

حلِ لغات:

بیداری
احتسابِ کائنات
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

آخر میں اِس حقیقت کا اظہار ضروری سمجھتا ہوں کہ میں ہر وقت مسلمانوں کی بیداری کے تصوّر سے لرزہ براندام رہتا ہوں۔ بیداری سے مراد یہ ہے کہ اگر مسلمان اپنے دین (اسلام) کی حقیقت سے اگاہ ہوگئے تو پھر ہم کو روئے زمین پرکسی جگہ پناہ نہیں مل سکے گی۔

کیونکہ اسلام محض نماز، روزہ کا نام نہیں ہے بلکہ وہ ایسا نظامِ زندگی ہے کہ اگر مسلمان اس پر عامل ہوجائیں تو اُن کے اندر اس قدر طاقت پیدا ہوجائے گی کہ وہ ساری کائنات کو اسلامی قانون کا پابند بنا دیں گے اور اگر کوئی فرد اُن کو یعنی اُن کے نافذ کردہ قانون (اسلام) کی اطاعت سے انحراف کرے گا تو وہ اُس سے باز پرس کرسکیں گے یعنی ساری کائنات کے محتسب بن جائیں گے۔

واضح ہو کہ یہ دینِ اسلام ہی ہے جو پوری کائنات پر نظر رکھتا ہے اور دیکھتا ہے کہ کہاں خرابی ہوئی اور کہاں اچھائی ہوئی۔ جہاں خرابی ہو اُسے دُور کرتا ہے اور جہاں اچھائی ہو اُسے اور پھیلاتا ہے، یعنی کائنات کا احتساب کرتا ہے۔


مست رکھّو ذکر و فکرِ صُبحگاہی میں اسے
پختہ تر کر دو مزاجِ خانقاہی میں اسے

حلِ لغات:

صُبحگاہی
پُختہ تر
خانقاہی
حلِ لغات (ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ)

تشریح:

لہذا میرا آخری مخلصانہ مشورہ آپ حضرات کو یہ ہے کہ آپ جس طرح پوسکے مسلمان کو ”مزاجِ خانقاہی“ میں پُختہ تر کردیں۔

اب میں (ابلیس) اس بات کی وضاحت کردوں کہ اس سے میری مراد کیا ہے۔ واضح ہو کہ میری وضع کردہ یہ اصلاح اُن تمام عقائد و افکار و اعمال پر حاوی ہے جو مسلمانوں کو جہاد سے بیگانہ کرسکتے ہیں۔ اسلام انسان کے اندر جہاد فی سبیل اللہ کی روح پیدا کرتا ہے اور اس نظام کی اصلی غرض و غایت ہے۔ تمام عقائد و افکار و اعمال سے مقصود صرف یہ ہے کہ مسلمان اپنی جان اور اپنا مال دونوں خدا کی راہ میں قربان کرسکے اور شیروں کی طرح ”باطل“ کے خلاف صف آرا ہوجائے۔ شیر کی مثال میں نے اس لیے دی ہے کہ شیر ہمیشہ نتائج سے بے پروا ہو کر حملہ آور ہوتا ہے۔ دوسرا وصف اس میں یہ ہے کہ وہ اپنا جوہرِ شیری ہمیشہ زخمی ہو کر دکھاتا ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اسلام، انسان کے اندر مزاج اسد اللہی پیدا کردیتا ہے یعنی مسلمان اللہ کا شیر بن جاتا ہے۔ چونکہ یہ مزاج ہمارے حق میں پیامِ موت ہے، اس لیے میں نے اپنی بقاء کی یہ صورت تجویز کی ہے اور اِس کے علاوہ اور کوئی صورت عقلاً ممکن بھی نہیں ہے، سوائے اِس کے کہ اِس کے اندر مزاجِ خانقاہی پیدا کردیا جائے جو مزاجِ اسداللہی کی ضد ہے۔۔۔ یعنی ایسی کوشش کرو کہ مسلمان:۔

  • موجودہ غلامانہ زندگی اور گدایانہ ذہنیت سے بالکل مطمئن ہوجائے۔
  • اپنی تمام تر توجہ نجاتِ اخروی پر مبذول کردے۔
  • اس کے حصول کے لیے دِن رات حجروں اور خانقاہوں میں چلہ کشی کرتا رہے۔
  • رات بھر قوالی سُنتا رہے۔
  • دن بھر سوتا رہے۔
  • اپنی ضروریاتِ زندگی کے لیے دُوسرے مُلکوں کے سامنے دستِ سوال دراز کرتا رہے اور اُن  سے قرضِ حسنہ وصول کرکے غلامی کی زنجیروں کو مضبوط کرتا رہے۔

تبصرہ

جیسا کہ میں نے تمہید میں لکھا ہے کہ نظم ابلیس کی مجلسِ شوریٰ اقبالؔ کی شاعری، دینی عقائد اور فلسفہ کے امتزاج کا منتہیٰ ہے جس میں اُنہوں نے اپنے تمام بنیادی افکار کو نہایت دِلکش پیرایہ اور مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔ ساری نظم میں مصرعہ تو درکنار ایک لفظ بھی بیکار نہیں ہے اور پھر ہر لفظ اپنی جگہ ایسا موزوں اور محل ہے کہ اُس کی جگہ دوسرا لفظ نہیں رکجھ سکتے۔ میرا یہ خیال ہے کہ انہوں نے اس نظم کو لکھنے کے لیے کافی غور و فکر کیا ہوگا۔ فکرِ سخن تو اس قدر نہیں ہوگی جس قدر فکرِ الفاظ در جستجوئے خیالات ہوگی۔

بحیثیتِ مجموعی میں اس نظم کو علامہؔ مرحوم کے 30 سالہ پیغام کا لبِ لُباب سمجھتا ہوں۔ اُنہوں نے اسلام کی تمام بنیادی اصولوں کو ایسی جامعیت اور وضاحت کے ساتھ پیش کردیا ہے کہ اس نظم کو اس موضوع پر اقبالؔ کا حرفِ آخر کہہ سکتے ہیں۔ خوبی اس اسلوب کی یہ ہے کہ اس نظم کے پڑھنے سے اتنا ہی معلوم نہیں ہوتا کہ اسلام کیا ہے۔۔ بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کیا نہیں ہے۔ گویا اس نظم کو سمجھ لینے کے بعد کوئی شخص دینی معاملات میں دھوکہ نہیں کھا سکتا۔ ذیل میں اس کے حقائق و معارف بالترتیب بتاتا ہوں۔ تاکہ ناظرین اندازہ کرسکیں کہ میں اِس نظم کی توصیف (خوبی بیان کرنا) میں اس قدر رطب اللسان (مداح / مُتحرک / تر زُبان / سپاس گزار / خوش خلق / شکر گزار) کیوں ہوں اور اس کو اقبالؔ شاہکار کیوں قرار دیتا ہوں:-

  • دُنیا کو عناصر کا پرانا کھیل یا سالماتِ مادی (Molecules) کے بے مقصد امتزاج کا نتیجہ سمجھنا سراسر ابلیسیت ہے۔ اس لیے مارکسزم، کمیونزم، سوشلزم، نام نہاد ترقی پسند ادب، مادہ پرستی اور دہریت۔۔۔ یہ سب ابلیسی نظام کے مختلف شعبے ہیں۔ مسلمان چونکہ یہ یقین کرتا ہے کہ دُنیا کو اللہ تعالی نے ایک خاص مقصد کے لیے پیدا کیا ہے۔ اس لیے وہ ان میں سے کسی تحریک سے کسی قسم کا تعلق نہیں رکھ سکتا۔
  • ابلیس جانتا ہے کہ خدا ابلیسی نظام کو برباد کرنا چاہتا ہے۔ اس لیے وہ اس کی بقاء کی تدبیر پر غور کررہا ہے۔ اقبالؔ نے ابلیس کے کیریکٹر کو بڑی خوبی کے ساتھ پیش کیا ہے! وہ خالق یا خدا کی بجائے ”کارساز“ کا لفط استعمال کرتا ہے اور دوسرا مصرع تو خالص ابلیسی انداز کا علمبردار ہے۔ یعنی ابلیس اس دنیا کو ”جہانِ کاف و نوں“ نہیں سمجھتا۔ کیونکہ اگر وہ ایسا سمجھے تو پھر ”خدا پرست“ ہوجائے۔
  • ملوکیت مع جاگیرداری، دہریت (مادیت)، لامذہبیت، جبریّت، سرمایہ داری اور ذخیرہ اندوزی۔۔۔ یہ سب حضرتِ ابلیس کی ایجادات ہیں۔ یہ سب اِس کے نظام کے اجزائے ترکیبی ہیں۔ اس لیے ایک مسلمان، اِن میں سے ایک بھی بات کا حامی نہیں ہوسکتا۔ بلکہ اِن کی تردید اُس کی دینی اور اخلاقی فرض ہے۔ اسی لیے سرکارِ دوعالمﷺ نے فرمایا کہ جو مسلمان خلافِ شرع بات دیکھے اور چُپ رہے تو سمجھ لو کہ اس کا ایمان بہت کمزور ہے۔
  • ”کون کرسکتا ہے اس کی اتشِ سوزاں کو سرد“ اس مصرع سے خالص ابلیسیّت ٹپکتی ہے کیونکہ یہ قول سراسر تکبر پر دلالت کررہا ہے۔ اقبالؔ کا کمالِ فن (شاعرانہ آرٹ) یہ ہے کہ اُنہوں نے ابلیس کی سیرت نہایت صحیح رنگ میں پیش کی ہے اور اگر وہ خدا پرست ہوتا تو اس قدر لاف زنی ہرگز نہ کرتا۔
  • ابلیسی نظام کی غایت یہ ہے کہ غلام، خوئے غلامی میں پختہ تر ہوجائیں تاکہ خدا پرستی کرنا بھی چاہیں تو نہ کرسکیں۔ بلکہ اس نظام کا مقصد یہ ہے کہ لوگ خدا کو بھول جائیں۔
  • ابلیسی نظام میں اگر کسی مسلمان کے دِل میں آزادی کی آرزو پیدا ہوتی ہے تو اُس کے کارِندے فوراً اِس آرزو کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔ یہ فن انگریزوں نے اُنیسویں صدی کے آغاز میں اُن ”ٹھگوں“ سے سیکھا تھا جنہوں نے اس کی مدد سے قدیم ہندوستان کے لاکھوں باشندوں کا خاتمہ کردیا اور جو باقی بچے اُنہیں ”داس“ اور ”داسی“ بنادیا۔ یہی داسیاں، دکّن میں جاکر ”دیوداسیاں“ بن گئیں۔
  • ابلیس نے اپنی ذاتی قابلیت سے کام لے کر صُوفی اور مُلّا کو ملوکیّت کا بندہ بنا دیا۔ جن صوفیوں اور مُلّاؤں نے 1857ء میں بندگی سے انکار کیا تھا اُن کو ابلیس نے یا تو پھانسی دِلوادی یا انڈمان (یہاں کی سیلولر جیل ”کالا پانی“ کے نام سے مشہور ہے) بھجوادیا۔
  • نتائج کے لحاظ سے قوالی (غیر اسلامی تصوّف) اور علمِ کلام (فلسفہ) میں کوئی فرق نہیں ہے۔ دونوں انسان کی قوتِ عمل کو فنا کردیتے ہیں۔
  • اگر دِلوں میں جہاد کا جذبہ اور سرفروشی کا ولولہ کارفرما نہ ہو تو طواف و حج کی حیثیت یا قیمت ”ہنگامہ“ سے زیادہ نہیں ہے۔

؎ عیدِ آزاداں، شکوہ ملک و دین
عیدِ محکوماں، ہجومِ مومنین
آزادوں کی عید سلطنت و دین کے شکوہ کا اظہار ہے،
جب کہ محکوموں کی عید صرف مومنوں کا ہجوم۔
(حوالہ: پس چہ بائد کرد)

  • جو شخص یہ کہے کہ اِس زمانہ میں جہاد بالسیف حرام ہے، وہ ابلیس کا شاگرد ہے۔
  • موجودہ مغربی جمہوریت دراصل ملوکیّت ہی کی ایک دلفریب شکل ہے اور ابلیس کی ایجاد ہے۔
  • ہر وہ فرد یا جماعت جو غیر کی کھیتی پر نظر رکھے، ملوکیّت کی راہ پر گامزن ہے اور اسلامی نظام کا دشمن ہے۔
  • مغرب کا جمہوری نظام دراصل چنگیزیّت سے بھی بدتر ہے اور بنی آدم کے حق میں لعنت ہے۔
  • ابلیس کو نہ ملوکیّتؔ سے کوئی خطرہ ہے، نہ جمہوریّتؔ سے، نہ سرمایہؔ داری سے، نہ آمریّتؔ سے، نہ نازیّتؔ سے، نہ فاشسطیّتؔ سے، نہ اشتراکیّتؔ سے، نہ مزدکیؔت سے، نہ اشتمالیؔت سے۔۔۔ کیونکہ یہ سب تحریکیں اُسی کی پروردہ (پرورش کی ہوئیں) اور آوردہ (لائی ہوئیں) ہیں۔ اُسے اگر کوئی خطرہ ہے تو اسلامؔ سے ہے۔
  • اِس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی نظام، ابلیسی نظام کی ضد ہے۔ کلمہ طیّبہ لا الہ الا اللہ در حقیقت ساری دُنیا کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔
  • اِس لیے ابلیس کی کوشش یہ ہے کہ دُنیا ”شرعِ پیغمبر ﷺ“ کی خوبیوں سے واقف نہ ہونے پائے۔ اِس مقصد کے حصول کے لیے ابلیس نے اپنے شیرانِ سلطنت کو یہ مشورہ دیا ہے کہ مسلمانوں کو الہیات (یعنی علمِ کلام) کے مسائل میں اُلجھائے رکھو، اور اُن کے اندر شاعری اور قوالی کا ذوق پیدا کردو۔

؏ پُختہ تر کردو مزاجِ خانقاہی میں اسے

اقبالؔ نے اسلامی اصولوں کی تبلیغ کرکے اپنا فرض پورا کردیا ہے۔ اب مسلمان خود فیصلہ کرلیں کہ انہیں اپنے اندر کونسا مزاج پیدا کرنا چاہیے۔۔۔ خانقاہی یا اسد اللہی؟

(حوالہ: شرح ارمغانِ حجاز از پروفیسر یوسف سلیم چشتی)

حوالہ جات