Skip to content
Home » بالِ جبریل 129: لینن (خدا کے حضور میں)

بالِ جبریل 129: لینن (خدا کے حضور میں)

”لینن (خدا کے حضور میں)“ از علامہ اقبال

فہرست (Table of Contents)

واضح ہو کہ اقبالؔ نے ”لینن“، ”فرشتوں کا گیت“ اور ”فرمانِ خُدا“، یہ تینوں نظمیں مُسلسل لِکھی ہیں۔ اس لیے اقبالؔ کا مفہوم اُسی وقت واضح ہو سکا ہے جب اِن تینوں نظموں کو مجموعی طور پر پڑھا جائے۔

تعارف

چونکہ اِس نظم کا عنوان لینن ہے، اِس لیے مناسب معلوم پوتا ہے کہ پہلے اِس شخص (لینن) کی مختصر سوانح حیات درج کر دی جائے۔

عصرِ حاضر کا یہ مشہور روسی انقلاب پسند اور مادہ پرست کارل مارکس کے فلسفہ کا شارح اور وکیل بالشیوزم (Bolshavism) کا بانی یو-ایس-ایس-آر (USSR) کا پہلا صدر یعنی ڈکٹیٹر اور ہندوستان و پاکستان کے کمیونِسٹوں کا مذہبی پیشوا، جس کے اقوَال پر ہر ”ترقی پسند“ آنکھ بند کر کے ایمان لاتا ہے اور معیارِ حق و صداقت سمجھتا ہے، 1870ء میں سمبرسک (Simbirsk) واقع صوبہ قازان میں پیدا ہوا تھا۔ اس کا اصلی نام ولادیمیر الیچ الیانوف (Vladimir Ilyich Ulyanov) تھا اور اِس کا باپ اُس ضلع کے اسکولوں کا اِنسپکٹر تھا، اِس لیے بچپن ہی سے اس میں مطالعہ کا ذوق پیدا ہو گیا تھا۔

1887ء میں لینن کے بڑے بھائی کو سکندرِ ثالث زارِ روس (Alexander III of Russia) کے خلاف سازِس کے جُرم میں پھانشی دی گئی۔ اِس واقعہ کا نوجوان الیانوف (لینن) کے ذہن پر ایسا اثر ہوا کہ وہ ہمیشہ کے لیے انقلابی بن گیا اور چونکہ وہ زبردست قوّتِ اِرادی کا مالک تھا، اِس لیے اُس نے تیس سال کی مسلسل جد و جہد کے بعد عصرِ حاضر کا سب سے بڑا اِنقلاب برپا کر دیا۔

قازان یونیورسٹی سے قانون میں ڈگری لینے کے بعد اُس نے کئی سال کارل مارکس کی تصانیف کا مطالعہ کیا اور 1897ء میں اُس نے اِشتراکیت کی اشاعت کو اپنا مقصدِ حیات بنا لیا۔ 1898ء میں اُسے تین سال کے لیے سائیبیریا میں جِلا وطن کر دیا گیا۔ 1902ء میں اُس نے رُوس کو خیر باد کہا اور ٹراٹسکی کے ساتھ مِل کر سوئٹزر لینڈ سے اِشتراکیّت کی اشاعت کے لیے ایک میگزین جاری کیا جس کا نام چنگاری تھا۔

نوٹ: یہ وہی ٹراٹسکی ہے جسے جمہوریت کے علمبردار اور مزدوروں کے خالص ہمدرد جوزف اسٹالین نے 1927ء میں جِلا وطن کر دیا کیونکہ اُس کی شخصیت میں رومن کے موجودہ مطلق العنان فرمانروا کو اپنی راحت میں مخل نظر آتی تھی اور کانٹے کو اپنی راہ سے دُور کر دینا ہر عقلمند آدمی کا پہلا فرض ہے۔ چنانچہ اکبرؔ لِکھتے ہیں:-

؎ اُس نے دیا جواب کہ مذہب ہو یا رواج
راحت میں جو مخل ہو وہ کانٹا ہے راہ کا

قصۂ مختصر لینن 1902ء سے لے کر 1917ء تک رُوس سے باہر رہ کر انقلابِ رُوس کے لیے سرگرمِ عمل رہا اور جب 1917ء میں رُوس میں انقلاب رونما ہوا تو اِس شخص نے زارِ رُوس کے محل کو اپنے آفس میں تبدیل کر دیا اور اِشتراکیّت کے پردہ میں زارِ رُوس سے بڑھ کر مطلق العنانی کی زندگی بسر کی۔ 1924ء میں وفات پائی اور مرنے کے بعد اُس کی قوم نے اُس کو اُسی ہستی کا ہم پلّہ قرار دے دیا جِس کے خلاف وہ ساری عُمر مصروفِ پیکار رہا۔ بات یہ ہے کہ فطرتِ انسانی کا تقاضا ہے کہ اپنے سے بالاتر کسی ہستی کے سامنے سر تسلیمِ خم کر دے۔ خدا نہ سہی، لیننؔ ہی سہی۔

اگر رومیوں نے لینن کو ”خدا“ بنا لیا اور آج ہزاروں روسی اشتراکی ملاحدہ روزانہ لیننؔ کے مُردہ جسم کے ”درشن“ کر کے اپنے دیئے ہوئے مذہبی جذبات کی تسکین کا سامان فراہم کرتے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ مہا ویر سوامی اور گوتم بُدھ دونوں نے ساری عمر خدا کے خلاف ”واکبیان“ دیے لیکن اُن کی وفات کے بعد اُن کے پیروؤں نے اُنہیں اپنا ”خدا“ بنا لیا، اِسی لیے اقبالؔ نے یہ کہا ہے:-

؎ در مقامِ ”لا“ نیا ساید حیات
سوی اِلّا می خرامد کائنات

زندگی ”لا“ کے مقام میں آسُودگی نہیں پاتی، کائنات خودبخود اِلّا کی طرف چل نکلتی ہے۔

(حوالہ: پس چہ بائد کرد: لا الہ الا اللہ)

(حوالہ: شرح بالِ جبریل از پروفیسر یوسف سلیم چشتی)


لینن دورِ حاضر کا بہت بڑا انقلابی تھا۔ 1870ء میں پیدا ہوا اور طالب علمی کے زمانے میں انقلابی بن گیا۔ اُس کے بڑے بھائی کو انقلابی سرگرمیوں کی ہی وجہ سے موت کی سزا دی گئی۔ لینن بدستور اپنی سرگرمیوں میں مصروف رہا۔ اُسی نے بالشویک جماعت بنائی، جس نے 1917ء میں زارِ رُوس کا تختہ اُلٹ کر اپنی حکومت قائم کی۔ لینن اِس حکومت کا پہلا سربراہ تھا۔ 1924ء میں اس نے وفات پائی۔ لینن کمیونزم کا سب سے بڑا داعی مانا جاتا ہے، جس نے کارل مارکس کے فلسفے کو عملہ جامہ پہنایا۔ روس میں موجودہ بالشویک حکومت کی بنیادیں لینن ہی نے اُستوار کی تھیں۔ یہ نظم اور بعد کی دو نظمیں مضمون کی مناسبت کے اعتبار سے ایک سلسلے کی مُخلتف کڑیاں ہیں۔

(حوالہ: مطالبِ بالِ جبریل از مولانا غلام رسول مہر)


”بالِ جبریل“ اور اقبالؔ کی دوسری کتابوں میں بعض ایسی نظمیں اور اشعار شامل ہیں جن کے مطالعے سے اس امر کا اندازہ ہو تا ہے کہ اقبال اپنے فکر و فلسفے کے حوالے سے انتہائی بالغ نظر اور وسیع القلب شاعر تھے۔ ان کی سوچ گہرائی اور گیرائی کی مظہر تھی۔ یہ مسئلہ یقیناً ایک تفصیلی بحث کا متقاضی ہے جس کی ان صفحات میں کسی اعتبار سے بھی گنجائش نہیں۔ اس مجموعہ میں ”لینن- خدا کے حضور میں“، ”فرشتوں کا گیت“ اور ”فرمانِ خدا – فرشتوں کے نام“ اسی قبیل کی نظمیں ہیں جو علامہ کی عام سوچ سے قدرے مختلف نظر آتی ہیں۔

لینن روس کا وہ عظیم انقلابی رہنما تھا جس نے کارل مارکس کے اشتراکی فلسفے کو عملی جامہ پہنا کر نہ صرف یہ کہ اپنی جماعت بنائی جس کا نام بالشویک تھا بلکہ 1917ء میں زارِ روس کا تختہ الٹ کر اشتراکی حکومت قائم کی۔ ہر چند کہ اقبال کا اشتراکی نظریات سے کوئی تعلق نہ تھا تاہم انہوں نے اس فلسفے اور اس کے رہنماؤں بالخصوص لینن کے فکر و فلسفے کو جس انداز سے دیکھا یہ نظم اس کی ایک واضح شکل ہے۔ اِس نظم میں علامہ نے لینن کو خدائے ذوالجلال سے مکالمہ کرتے ہوۓ پیش کیا ہے۔ تکنیکی اور فکری سطح پر یہ ایک اہم نظم ہے۔

(حوالہ: شرح بالِ جبریل از اسرار زیدی)

تشریح

اے انفُس و آفاق میں پیدا ترے آیات
حق یہ ہے کہ ہے زندہ و پائندہ تِری ذات

حلِ لغات:

انفُسانفُس سے منسوب، ارواح سے متعلق
آفاقافق کی جمع، جہان، دُنیا، کائنات
آیاتآیت کی جمع، نشانیاں
حلِ لغات (بالِ جبریل 129: لینن – خدا کے حضور میں)

تشریح:

چونکہ لینن کی طرح اقبالؔ خود بھی سرمایہ پرستی کے خلاف ہیں، اِس لیے اُنہوں نے اُس کی زبان سے اپنے خیال کا اِظہار کیا ہے تاکہ نظم میں ڈرامائی اسلوب پیدا ہو سکے جو اثر آفرینی کے لحاظ سے تمام اسالیب پر فوقیّت رکھتا ہے۔

(حوالہ: شرح بالِ جبریل از پروفیسر یوسف سلیم چشتی)

لینن خدا کے حضور میں عرض کرتا ہے کہ:-

اے ذاتِ کریم! تیری ہستی کے دلائل، تیری نشانیاں (آیات) انفُس اور آفاق، دونوں میں موجود ہیں۔ حق یہ ہے کہ تُو ہی حیُّ اور قیُّوم ہے۔ تیری ہی ذات ہمیشہ زندہ اور قائم رہنے والی ہے۔

اِس مصرع کا مضمون قرآنِ حکیم کی تعلیم سے ماخوذ ہے یعنی اللہ کی ہستی کے دلائل کائنات میں بھی موجود ہیں اور خود اِنساںوں کے اندر بھی، بشرطیکہ وہ غور و فِکر سے کام لیں۔

وَفِى الْاَرْضِ اٰيَاتٌ لِّلْمُوْقِنِيْنَ (20) وَفِىٓ اَنْفُسِكُمْ ۚ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ (21)

ترجمہ: اور یقین کرنے والوں کے لیے کائنات میں (بھی ہماری ہستی) کے دلائل موجود ہیں اور خود تمہارے نفسوں میں بھی۔ پس کا تُم غور نہیں کرتے؟

(حوالہ: القرآن: سورۃ الذاریات: آیت نمبر 20 تا 21)


میں کیسے سمجھتا کہ تو ہے یا کہ نہیں ہے
ہر دم متغّیر تھے خرد کے نظریّات

حلِ لغات:

متغیّرایک حالت سے دوسری حالت اختیار کرنے والا، بدل جانے والا، تبدیل ہونے والا
خِردعقل، دانائی
نظریاتنظریہ کی جمع، کسی چیز کے بارے میں کوئی تصور، حکیمانہ رائے یا خیال
حلِ لغات (بالِ جبریل 129: لینن – خدا کے حضور میں)

تشریح:

اے خُدا! چونکہ میں ایک مادہ پرست تھا اور صرف عقلی دلائل پر اعتماد کرتا تھا اور عقلی دلائل کا کوئی اعتبار نہیں۔ آج ایک بات عقل کی رو سے صحیح ثابت ہوتی ہے کل وہی بات اُسی عقل کی رو سے غلط ثابت ہو جاتی ہے۔ اس لیے میں یہ فیصلہ نہ کر سکا کہ تُو ہے یا نہیں ہے۔ اگر ان نظریات میں سے کوئی ایک نظریہ اپنی جگہ قائم رہتا تو مجھے یقین ہو جاتا کہ وہ نظریہ سچّا ہے، گویا اگر مجھے تیری ہستی کا یقین نہ آیا اور میں تجھ پر ایمان نہ لا سکا تو اِس کی وجہ فلسفیوں کے وہ نظریّات ہیں، جن کے بدلتے رہنے سے میں بدظَن ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ میں ساری زندگی تیرے وجود کے بارے میں بھی بے یقینی کا شکار رہا اور کوئی واضح شکل سامنے نہ آ سکی۔


محرم نہیں فطرت کے سرودِ اَزلی سے
بِینائے کواکب ہو کہ دانائے نباتات

حلِ لغات:

محرمواقف، حقیقت جاننے والا
سُرُودِ ازلیازل سے نکلتا ہوا نغمہ یا ساز یا صدا
بینائے کواکبکوکب کی جمع، کوکب یعنی ستارہ، بینائے کواکب سے مُراد ہے ماہرِ فلکیات
دانائے نباتاتنباتات وہ چیزیں ہیں جو زمین سے اُگتی ہیں، دانائے نباتات یعنی علمِ نباتات کا ماہر
حلِ لغات (بالِ جبریل 129: لینن – خدا کے حضور میں)

تشریح:

موجودہ زمانے میں عَلْمِ ہَیئَت و نجوم کے ماہر ہوں یا ماہرینِ فطرت! وہ خود بھی حقیقت کا صحیح ادراک نہیں رکھتے۔ اول الذکر تو ستاروں کی گردش پر اکتفا کرتے ہیں اور دوسرے آۓ دن نئی نئی باتیں سناتے ہیں لیکن دیکھا جائے تو اُن کو فطرت کے مظاہر سے کوئی آگاہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فطرت کی ازلی صدا سے واقف نہ ہو سکے، خود بھی تیری ذات کے عرفان سے محروم رہے اور دوسروں کو بھی محروم رکھا۔


آج آنکھ نے دیکھا تو وہ عالم ہُوا ثابت
میں جس کو سمجھتا تھا کلیسا کے خرافات

حلِ لغات:

کلیساچرچ، عبادت گاہ
خرافاتبے معنی چیز، جھوٹ، خیالی قصہ یا افسانہ
حلِ لغات (بالِ جبریل 129: لینن – خدا کے حضور میں)

تشریح:

یہ درست ہے کہ میں تو مادہ پرست تھا اس لیے مرنے کے بعد دوبارہ کی زندگی کا قائل ہی نہ تھا اور جب تک زندہ رہا، اُس وقت تک عالمِ آخرت کو پادریوں کی افسانہ سازیاں سمجھتا رہا، لیکن اب جب کہ میں تیرے حضور میں حاضر ہوں اور تجھے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں تو کس طرح تیرا انکار کر سکتا ہوں۔


ہم بندِ شب و روز میں جکڑے ہُوئے بندے
تُو خالقِ اعصار و نگارندۂ آنات!

حلِ لغات:

اعصارعصر کی جمع، مراد ہے زمانہ
نگارندہلِکھنے والا، کاتب، نقش کرنے والا
آناتآن کی جع، لحظہ، لمحہ
حلِ لغات (بالِ جبریل 129: لینن – خدا کے حضور میں)

تشریح:

یا اِلہی! آج معلوم ہوتا ہے کہ ہم لوگ تو زمان و مکان کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے بے بس انسان ہیں، جبکہ تُو اے باری تعالی! زمانوں کا خالق اور ایک ایک لمحے کی واردات کو محفوظ رکھنے والا ہے۔


اک بات اگر مجھ کو اجازت ہو تو پُوچھوں
حل کر نہ سکے جس کو حکیموں کے مقالات

حلِ لغات:

حکیموںفلسفیوں
مقالاتمقالہ کی جمع، اقوال، مقالے، مضامین
حلِ لغات (بالِ جبریل 129: لینن – خدا کے حضور میں)

تشریح:

تاہم اگر مجھے اجازت ہو اور تُو میری اِس جسارت سے درگُزر کرے تو ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں، یہ ایسی بات ہے کہ جسے دُنیا کے بڑے بڑے فلسفیوں نے حل کرنا چاہا، اُنہوں نے مقالات لِکھ لِکھ کر اپنی عمریں صرف کر دیں، لیکن حل نہ کرسکے۔


جب تک میں جِیا خیمۂ افلاک کے نیچے
کانٹے کی طرح دل میں کھٹکتی رہی یہ بات

حلِ لغات:

خیمۂ افلاکافلاک یعنی فلک کی جمع، خیمۂ افلاک یعنی آسمان کی چادر جس کے نیچے انسان بستے ہیں
کھٹکنادِل کو خدشہ ہونا
حلِ لغات (بالِ جبریل 129: لینن – خدا کے حضور میں)

تشریح:

جب تک میں آسمان کے خیمے کے نیچے یعنی روئے زمیں پر زندہ رہا، تب تک میرے دِل میں کانٹے کی طرح یہ بات کھٹکتی رہی اور کوئی شخص میرے سوال کا جواب نہ دے سکا کہ جس سے میری تسلّی ہو جاتی


گفتار کے اسلوب پہ قابُو نہیں رہتا
جب رُوح کے اندر متلاطم ہوں خیالات

حلِ لغات:

گفتارکہنا، بولنا، باتیں کرنا
اسلوبسلیقہ، ڈھنگ، روِش، طور
متلاطمطوفانی، اضطراب وبے چینی سے بھرا ہوا
حلِ لغات (بالِ جبریل 129: لینن – خدا کے حضور میں)

تشریح:

چونکہ میرے دِل میں خیالات اور جذبات کا ہجوم ہے اور ایسی حالت میں تُو خود جانتا ہے کہ آدمی گفتار کے اسلوب پر قابو نہیں رکھ سکتا یعنی اُس کی گفتگو میں کہیں کہیں گُستاخی یا بیباکی کا رنگ پیدا ہو جاتا ہے۔ اِس لیے میری گُفتگو بھی حدِّ ادب سے اگر متجاوز ہو جائے تو یا الہی! در گُزر فرمانا۔


وہ کون سا آدم ہے کہ تُو جس کا ہے معبود
وہ آدمِ خاکی کہ جو ہے زیرِ سماوات؟

حلِ لغات:

معبودجس کی عبادت کی جائے، جس کی بندگی کی جائے
سماواتآسمان، فلک
حلِ لغات (بالِ جبریل 129: لینن – خدا کے حضور میں)

تشریح:

اے خدا! میں بڑے ادب سے یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ تُو کس آدم کا خدا یا معبود ہے؟ اس سوال کی وجہ یہ ہے کہ دُنیا کے علاوہ بنی آدم  اور کسی کُرّہ پر نہیں ہیں اور دُنیا میں جو لوگ بستے ہیں وہ تجھے اپنا معبود سمجھتے نہیں تو پھر قدرتی طور پر میرے دِل میں یہ سوال پیدا ہوا کہ ” وہ کون سا آدم ہے کہ تُو جس کا ہے معبود؟“


مشرق کے خداوند سفیدانِ فرنگی
مغرب کے خداوند درخشندہ فِلِزّات

حلِ لغات:

سفیدانِ فرنگیگورے، انگریز، یورپی اقوام
درخشندہچمکنے والا، تابناک، روشن
فِلِزّاتسونا چاندی، دھاتیں
حلِ لغات (بالِ جبریل 129: لینن – خدا کے حضور میں)

تشریح:

اُس آدمی کی کیا حالت ہے؟ میں نے خوب غور کر کے دیکھا ہے کہ کوئی شخص تیری پرستِش نہیں کرتا۔  جو لوگ مشرق میں بستے ہیں، اُن کے خداوند یورپ کے سفید فام باشندے بنے ہوئے ہیں، اس لئے اہلِ یورپ نے پورے مشرق پر قبضہ جما رکھا ہے اور خود یورپ والوں نے چمکنے والی دھاتوں کو اپنا خدا بنا لیا ہے اور مادیت پرستی میں مبتلا ہو کر مشینوں ہی کو اپنا سب کچھ سمجھ رکھا ہے۔ وہ رات دِن انہیں کی پرستش میں لگے رہتے ہیں۔ پھر اے باری تعالی تیری پرستش کرنے والا کون ہوا؟


یورپ میں بہت روشنیِ علم و ہُنر ہے
حق یہ ہے کہ بے چشمۂ حیواں ہے یہ ظُلمات

حلِ لغات:

ظُلماتظُلمت کی جمع، اندھیرا، تاریکیاں، اندھیرے
حلِ لغات (بالِ جبریل 129: لینن – خدا کے حضور میں)

تشریح:

اے خدا! اِس میں شک نہیں کہ یورپ میں سائنس اور فلسفہ بہت ترقی پذیر ہے  اور اپنے علوم و فنون کی بدولت اس خطہ کے لوگ ساری دُنیا پر حکومت کر رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ بحرِ ظلمات (ظلمت یعنی تاریکی) چشمۂ حیواں سے محروم ہے۔ یعنی اِس تمام علم و ہنر کے باوجود یورپ انسان کو اُس کی زندگی کی حقیقی معنویت و مقصد سے آشنا کرنے میں ناکام ہے۔

چشمۂ حیواں اور ظلمات کا تعلق اُس عام ادبی روایت سے ظاہر ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک مفروضہ چشمہ ہے، جس کا پانی پی لیا جائے تو انسان کو دائمی زندگی حاصل ہو جاتی ہے۔ اس تک پہنچنے کے لیے سخت اندھیرے میں گزرنا پڑتا ہے۔ مشہور ہے کہ سکندر حضرت خضرؑ کو رہنما بنا کر اِس چشمہ کی تلاش میں نکلا تھا۔ حضرت خضرؑ نے اس کا پانی پی لیا، سکندر اس سے محروم رہا، حالانکہ یہ محض ادبی افسانہ ہے۔


رعنائیِ تعمیر میں، رونق میں، صفا میں
گِرجوں سے کہیں بڑھ کے ہیں بنکوں کی عمارات

حلِ لغات:

رعنائیحُسن و جمال
صفاسُتھرائی، صفائی
گرجوںگرجہ، چرچ
حلِ لغات (بالِ جبریل 129: لینن – خدا کے حضور میں)

تشریح:

عمارات کی شان و شوکت، رونق اور صفائی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو یورپ کے گرجوں  سے وہاں کے بنکوں کی عمارتیں بہت بڑھی چڑھی ہیں۔ اِس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ اہل یورپ کو اپنی دولت اور سُودی تجارتی کاروبار سے جو دِلچسپی ہے، وہ مذہب سے نہیں۔


ظاہر میں تجارت ہے، حقیقت میں جُوا ہے
سُود ایک کا لاکھوں کے لیے مرگِ مفاجات

حلِ لغات:

مرگموت
مفاجاتاچانک، ناگاہ
حلِ لغات (بالِ جبریل 129: لینن – خدا کے حضور میں)

تشریح:

اِن بنکوں کا سارا کاروبار بظاہر تجارت کے نام سے چل رہا ہے لیکن اس کی حقیقی صورت جُوئے کی ہے۔ یہ نظام چند افراد کے لیے تو واقعی مُفید ہے لیکن لاکھوں انسانوں کے لیے مرگِ ناگہاں کا پیغام ہے۔


یہ عِلم، یہ حِکمت، یہ تدبُّر، یہ حکومت
پیتے ہیں لہُو، دیتے ہیں تعلیمِ مساوات

حلِ لغات:

حکمتعقل، دانش، دانائی
تدبُّرغور و فکر، سوجھ بوجھ، تدبیر، سوچنا
مساواتبرابری
حلِ لغات (بالِ جبریل 129: لینن – خدا کے حضور میں)

تشریح:

اہلِ یورپ بظاہر دُنیا کو مساوات کا درس دیتے ہیں اور ظاہر یہ کرتے ہیں کہ وہ سب کو برابر سمجھتے ہیں، ان میں ذات پات اور اونچ نیچ کی کوئی قید نہیں لیکن ان کا حال دیکھا جائے تو وہ اپنے علم و فلسفہ اور حکمت و سلطنت کے ذریعہ سے محکوموں کا خون چُوستے ہیں۔


بے کاری و عُریانی و مے خواری و اِفلاس
کیا کم ہیں فرنگی مَدنِیّت کے فتوحات

حلِ لغات:

عُریانیبرہنگی، ننگا پن
مے خواریمے خوار ہونا، شراب نوشی
افلاسمفلسی، تنگدستی، مالی محتاجی
فرنگی مَدنِیّتانگریزی تہذیب
حلِ لغات (بالِ جبریل 129: لینن – خدا کے حضور میں)

تشریح:

اور جس تہذیب پر اُنہیں ناز ہے اُس کے نتائج اِس کے سِوا اور کُچھ نہیں نکلے کہ جہاں جہاں اہلِ یورپ کا تمدن پہنچا، وہاں بہت بُرے نتائج سامنے آئے۔  بیکاری بڑھ گئی، لوگوں کے لئے تن پوشی کا سامان نہ رہا، شراب نوشی کی لعنت عام ہو گئی، مفلسی ترقی کر گئی، اس کے سوا اہلِ یورپ نے خلقِ خدا کی کیا خدمت انجام دی ہے؟


وہ قوم کہ فیضانِ سماوی سے ہو محروم
حد اُس کے کمالات کی ہے برق و بخارات

حلِ لغات:

فیضانِ سماویسما یعنی آسمان، فیضانِ سماوی سے مُراد ہے وحی
برقبجلی
بخاراتبھاپ
حلِ لغات (بالِ جبریل 129: لینن – خدا کے حضور میں)

تشریح:

جو قوم آسمانی فیض سے محروم ہو، جس کے پیشِ نظر کوئی الہامی کتاب نہ ہو اور وہ خدا کے بھیجے ہوئے کسی پیغمبر کی تعلیم پر عمل پیرا نہ ہو، اُس کے کمالات بجلی اور بھاپ سے اوپر کیوں کر جا سکتے ہیں اور انسانوں کو در پیش مسائل کا حقیقی حل کیونکر پیش کر سکتے ہیں؟ آدم کو ثبات اور دستُورِ حیات کہاں سے عطا کر سکتے ہیں، کیونکہ اُنہوں نے تو مادیت پرستی میں مُبتلا ہو کر خود کو فیضانِ سماوی سے محروم کر رکھا ہے۔


ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروّت کو کُچل دیتے ہیں آلات

حلِ لغات:

مروّترعایت، فیاضی، کُشادہ دِلی، سخاوت
حلِ لغات (بالِ جبریل 129: لینن – خدا کے حضور میں)

تشریح:

آج صورت یہ ہے کہ مشینیں ہر جگہ لگ گئی ہیں۔ انہیں کے ذریعہ سے صنعت و حرفت کا کام ہوتا ہے۔ یہی بے حس فولادی چیزیں اہلِ یورپ کی ترقی کا وسیلہ ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ انسانی ہمدردی کے لئے بڑھنے اور پلنے کا کوئی موقع نہ رہا۔ مروّت اور احسان کے احساسات کُچلے گئے اور دِل مُردہ ہوگئے۔

سچ ہے کہ انسان جس ماحول میں رات دِن رہے، اُسی کے رنگ میں رنگا جاتا ہے۔ جب انسان کے بڑے بڑے گروہ مل جُل کر کام کرتے تھے، تو ان میں ایک دوسرے سے ربط و تعلق کی بنا پر ہمدردی کے جذبات ابھرتے تھے، وہ ایک دوسرے کی خدمت کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ جب مشینوں کا زمانہ آ گیا تو کارکنوں کے دل بھی لوہے کی طرح سخت ہوگئے۔ ان میں تو تھوڑی بہت ہمدردی ممکن ہے باقی ہو، لیکن کارخانہ دار اس سے بالکل عاری ہو گئے۔ ان کا نصب العین یہ بن گیا کہ جتنا روپیہ ہو سکے، کمائیں اور مزدوروں یا کارکنوں کی امداد یا ان کی محنت و مشقت کا کوئی خیال نہ کریں۔ اقبالؔ کے نزدیک یہ بے حسی نتیجہ ہے مشینوں اور فولادی اوزاروں سے کام لینے کا۔


آثار تو کچھ کچھ نظر آتے ہیں کہ آخر
تدبیر کو تقدیر کے شاطر نے کیا مات

حلِ لغات:

آثارطور، اطوَار
تدبیرچارہ، طریقہ، انتظام، بند و بست، ترکیب، حکمتِ عملی
تقدیرلفظ تقدیر قدر سے نکلا ہے اور قدر سے مراد ہے پیمانہ، تقدیر وہ اندازہ ہے جو خدا نے روزِ ازل سے ہر شے کے لیے مقرر کیا ہے
شاطرشطرنج کا کھلاڑی، اُستاد
ماتشکست، ہار
حلِ لغات (بالِ جبریل 129: لینن – خدا کے حضور میں)

تشریح:

اب آکر ایسے آثار نمایاں ہوئے ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ تقدیر نے تدبیر کو مات دے دی۔ مطلب یہ کہ سرمایہ داروں اور سرمایہ پرستوں نے اپنی تدبیروں سے دولت جمع کرنے کا عجیب نظام  تیار کر لیا ہے۔ مزدور اور کارکن مصیبتوں میں مُبتلا تھے۔ سرمایہ دار بے فکر ہو کر مزے اُڑاتے تھے۔ آہستہ آہستہ مزدوروں میں بھی اپنے حقوق کے لیے جد و جہد کا احساس پیدا ہوا۔ وہ بھی یونین بنا کر سرمایہ داروں کے خلاف ہنگامے بپا کرنے لگے۔ یہ حقیقت میں اس قدرت کی طرف سے تنبیہ کا تازیانہ تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ خودغرض انسانوں کی تدبیریں خدائی قانون کی زد سے زیادہ دیر تک محفوظ نہیں رہ سکتیں اور صاف نظر آرہا ہے کہ اللہ تعالی مقرر کردہ تقدیر کے سامنے تدبیر شِکست کھا رہی ہے۔


میخانے کی بُنیاد میں آیا ہے تزَلزُل
بیٹھے ہیں اسی فکر میں پِیرانِ خرابات

حلِ لغات:

تزَلزُلاضطراب، افراتفری، زلزلہ، ہلچل
پیرانِ خراباتپیر کی جمع، مراد ہے بوڑھے لوگ یا ایسے لوگ جو برسوں سے سرمایہ دارانہ نظام سے منسلک ہوں
خراباتشراب خانہ، جُوا خانہ
حلِ لغات (بالِ جبریل 129: لینن – خدا کے حضور میں)

تشریح:

چونکہ محنت کش طبقہ کے اندر یہ احساس پیدا ہو گیا ہے کہ سرمایہ دار اُن کا لہو پی رہے ہیں، اس لیے وہ سب ایک زلزلے کی صورت میں اپنے حقوق کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور اس میخانے، اِس عیش و عشرت پر مبنی نظامِ سرمایہ داری کی بُنیادیں ہلا ڈالی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس نظامِ سرمایہ داری کے بڑے بڑے منتظم رات دِن فکر میں سر گرداں ہیں کہ اس مصیبت کو کیوں کر ٹالیں اور یہ جو انقلاب برپا ہونے جا رہا ہے، اس کی روک تھام کس طرح سے کریں۔


چہروں پہ جو سُرخی نظر آتی ہے سرِ شام
یا غازہ ہے یا ساغر و مِینا کی کرامات

حلِ لغات:

غازہخوشبودارسفوف جو خوبصورتی کے لیے رخساروں پرمَلا جاتا ہے، سرخی پوڈر، میک-اپ
ساغر و مِیناپیالہ، صراحی، شراب کا سامان
کراماتکرامت کی جمع، فیضان، اثر
حلِ لغات (بالِ جبریل 129: لینن – خدا کے حضور میں)

تشریح:

اس مشینی اور استعماری نظام نے جہاں دوسروں کو متاثر کیا ہے وہاں خود اس نظام کے مدعی اہلِ یورپ کی صحبتیں برباد ہو چکی ہیں۔ سرِ شام جب وہ گھر سے بن ٹھن کر بر آمد ہوتے ہیں تو اُن کے چہروں کی سُرخی فطری نہیں بلکہ اس امر کی غماز ہوتی ہے کہ یا تو ان کے چہروں پر شراب نوشی یا پھر مختلف نوعیت کے پاؤڈر کے استعمال کے سبب سُرخ ہیں۔ مراد یہ ہے کہ مصنوعی زندگی نے ان کی صحتوں کو دیمک کی طرح چاٹ لیا ہے اور اب جو چہروں پر سرخی نظر آتی ہے وہ فطری نہیں بلکہ مصنوعی ہے۔

یعنی اگر مغربی باشندوں کو دیکھ کر آپ کو یہ خیال گزرے کہ وہ بہت پر خوش ہیں اور پُر سکُون زندگی بسر کر رہے ہیں، اور اپنے نظام سے بہت متفق نظر آتے ہیں، تو یہ سراسر آپ کا وہم ہے، کیونکہ اصل صورتِ حال اس کے بالکل برعکس ہے۔


تُو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات

حلِ لغات:

قادراللہ تعالی کا صفاتی نام، مراد ہے قدرت رکھنے والا
عادلاللہ تعالی کا صفاتی نام، مراد ہے عدل و انصاف کرنے والا
تلخدُشوار، مشکل
اوقاتوقت کی جمع، زمانہ، گزر بسر، حالت، زندگی، گزارے کی صورت
حلِ لغات (بالِ جبریل 129: لینن – خدا کے حضور میں)

تشریح:

اے مالک! بیشک تجھے کائنات کی ہر شے پر قدرت حاصل ہے اور تُو عادل و منصف بھی ہے، لیکن تیری دُنیا میں مزدور اور محنت کش طبقہ بڑی تلخیوں سے دوچار ہے۔


کب ڈُوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ؟
دُنیا ہے تری منتظرِ روزِ مکافات!

حلِ لغات:

سفینہکشتی، جہاز، ناؤ
منتظرانتظار کرنے والا
روزِ مکافاتبدلے کا دِن، روزِ جزا
حلِ لغات (بالِ جبریل 129: لینن – خدا کے حضور میں)

تشریح:

تُو اے ذاتِ کریم! یہ واضح فرما دے کہ سرمایہ پرستی کی کشتی کب ڈوبے گی؟ اے باری تعالیٰ تیری دُنیا بدلے کے دِن کا انتظار کر رہی ہے، یعنی جب تُو نے قاعدہ مقرر کر رکھا ہے کہ برائی کا بدلہ بُرائی کے سِوا کُچھ نہ ہو گا۔

مَنْ يَّعْمَلْ سُوٓءًا يُّجْزَ بِهٖۙ

جو کوئی برائی کرے گا، اُس کی سزا پائے گا۔

(حوالہ: القرآن: سورۃ النساء: آیت نمبر 123)

مولا! استعماری نظام اب ظلم کی انتہا تک پہنچ گیا ہے، بے شک ظالم کی رسی ایک مُدت تک دراز ضرور ہوتی ہے لیکن بالآخر ایک مرحلہ ایسا بھی آتا ہے جب اُسے اُس کا بدلہ دیا جاتا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ سرمایہ پرستی کی برائیوں کا بدلہ ابھی تک اُسے نہیں ملا اور یہ کب ملے گا؟ دُنیا والے منتظر ہیں کہ ظلم و ستم کا بدلہ مِل جائے، مزدور محنت کا صِلہ پائیں اور اُنہیں اطمینان نصیب ہو۔

تبصرہ

واضح ہو کہ اقبالؔ نے ”لینن“، ”فرشتوں کا گیت“ اور ”فرمانِ خُدا“، یہ تینوں نظمیں مُسلسل لِکھی ہیں۔ اس لیے اقبالؔ کا مفہوم اُسی وقت واضح ہو سکا ہے جب اِن تینوں نظموں کو مجموعی طور پر پڑھا جائے۔

پہلی نظم کا خلاصہ یہ ہے کہ لینن خدا کے حضور میں حاضر ہو کر سرمایہ پرستی کے مفاسد بیان کرکے یہ سوال کرتا ہے کہ اے خدا!

؎ کب ڈُوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ
دُنیا ہے تری مُنتظرِ روزِ مکافات

لینن کی عرضداشت یا فریاد سُن کر فرشتے جنابِ باری تعالیٰ میں عرض کرتے ہیں کہ اے خدا! لینن نے جو کُچھ کہا ہے بالکُل ٹھیک کہا ہے۔ سرمایہ داروں نے تیرے بندوں کو اپنا غُلام بنا رکھا ہے، چنانچہ:-

؎ تیرے امیر مال مست، تیرے فقیر حال مست
بندہ ہے کُوچہ گرد ابھی، خواجہ بلند بام ابھی

لینن کی فریاد اور فرِشتوں کی تائید کے بعد خدا کارکنانِ قضا و قدر کو حُکم دیتا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کو صفحۂ ہستی سے نابُود کر دو اور

؎ جس کھیت سے دہقاں کو میسّر نہیں روزی
اُس کھیت کے ہر خوشۂ گندُم کو جلا دو

اِن تینوں نظموں کو پڑھنے کے بعد جو حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ اقبالؔ بھی سرمایہ داری کے اُسی قدر مخالف ہیں جس قدر دُنیا کا بڑے سے بڑا اِشتراکی ہو سکتا ہے۔

اِن تینوں نظموں میں اقبالؔ کی مضمون آفرینی یعنی قوّتِ اختراع (Contrivance) اور حقیقت نگاری یعنی کمالِ فن کا نہایت خوش آئند اِمتزاج پایا جاتا ہے۔ اقبالؔ نے اسی قوّتِ اختراع کو تازہ کاری سے تعبیر کیا ہے، چنانچہ:-

؎ فروغِ آدمِ خاکی ز تازہ کاری ہاست
مہ و ستارہ کنند آنچہ پیش ازیں کردند

آدمِ خاکی کی شان نت نئے کارناموں سے ہے، اس سے پہلے مہ و ستارہ وہی کرتے ہیں جو پہلے سے کرتے آئے ہیں۔

(حوالہ: زبورِ عجم: حصہ دوم: دم مرا صفت باد فرودین کردند)

ناظرین اِس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ نہ تو لینن نے خدا سے خطاب کیا، نہ ہی فرشتوں نے گیت گایا اور نہ خدا نے کوئی حُکم صادر کیا۔ یہ ساری باتیں اقبالؔ کی قوّتِ تخیّل کا کرِشمہ ہیں لیکن کمالِ فن یہ ہے کہ جو کُچھ اُنہوں نے لِکھا ہے وہ سب حقیقت پر مبنی ہے، کوئی بات غلط نہیں۔

(حوالہ: شرح بالِ جبریل از پروفیسر یوسف سلیم چشتی)

حوالہ جات