Skip to content

Explore AadhiBaat
Your Gateway to Iqbaliyat and Literary Arts

FEATURED

بالِ جبریل 165: پنجاب کے پیرزادوں سے از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح
نظم ”دردِ عشق“ از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح
بانگِ درا 70 — کی گود میں بلی کو دیکھ کر از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح
بانگِ درا 92 زمانہ آیا ہے بے حجابی کا از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح
ترانۂ مِلّی اور ترانۂ ہندی ایک تقابلی جائزہ از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح
بالِ جبریل 152: فلسفہ و مذہب از علامہ اقبال مع تشریح
بانگِ درا 18: شمع از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح
ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ از علامہ اقبال مع تشریح
بالِ جبریل 128 طارق کی دعا از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح

SUBSCRIBE

سبسکرِپشن محفوظ نہیں ہو سکی۔ دوبارہ کوشش کریں۔
براہِ کرم تصدیقی لِنک کے لیے اپنا میل-باکس چیک کریں۔ شکریہ

ہماری خصوصی اقبالیات کمیونٹی کا حصہ بنیں

اقبالیات پر تازہ ترین مواد اور اپ ڈیٹس کے حوالے سے باخبر رہنے کے لیے ابھی سائن-اپ کریں اور بذریعہ ای-میل اپڈیٹس حاصل کریں۔

BLOG

نظم ”نگاہِ شوق“از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح

ضربِ کلیم 119: نگاہِ شوق

اِس نظم میں علامہ اقبال نے نگاہِ شوق یا عشقِ رسول اللہ ﷺ کے ثمرات بیان فرمائے ہیں اور مسلمانوں کو خودی کا پیغام دِیا ہے۔
نظم ”بچہ اور شمع“ از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح

بانگِ درا 47: بچہ اور شمع

اِس نظم میں علامہ اقبال نے فرمایا ہے کہ اللہ کا حُسن ہر جگہ موجود ہے لیکن پھر بھی روح اُس کے دیدار کی طلبگار ہے۔
نظم ”فقر و مُلوکیّت“ از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح

ضربِ کلیم 23: فقر و مُلوکیّت

اس نظم میں علامہ اقبال نے روحِ اسلام (فقر) اور ملوکیّت کا موازنہ پیش کِیا ہے اور فقر کی خصوصیات واضح فرمائی ہیں۔
نظم ”تاتاری کا خواب“ از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح

بالِ جبریل 161: تاتاری کا خواب

بال جبریل کی نظم تاتاری کا خواب میں علامہ اقبال نے امیر تیمور کے روح کی زبان سے تاتاریوں کو خودی کی تربیت کا پیغام دِیا ہے۔
بانگِ درا: وصال از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح

بانگِ درا 73: وِصال

بانگِ درا کی اس نظم میں علامہ اقبال نے عاشق پر وصال سے پہلے اور بعد کی کیفیات سے پردہ اُٹھایا ہے اور دلکش انداز میں واردات عاشقی بیان کی ہیں۔
بانگ درا: کوششِ ناتمام از علامہ اقبال

بانگِ درا 76: کوششِ ناتمام

اِس نظم میں علامہ اقبال نے یہ واضح کِیا ہے کہ زندگی مسلسل حرکت پر موقوف ہے۔ اگر حرکت نہ ہو تو زندگی بھی ختم ہو جائے گی۔