Skip to content

Explore AadhiBaat
Your Gateway to Iqbaliyat and Literary Arts

FEATURED

بالِ جبریل 165: پنجاب کے پیرزادوں سے از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح
نظم ”دردِ عشق“ از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح
بانگِ درا 70 — کی گود میں بلی کو دیکھ کر از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح
بانگِ درا 92 زمانہ آیا ہے بے حجابی کا از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح
ترانۂ مِلّی اور ترانۂ ہندی ایک تقابلی جائزہ از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح
بالِ جبریل 152: فلسفہ و مذہب از علامہ اقبال مع تشریح
بانگِ درا 18: شمع از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح
ارمغانِ حجاز 1: ابلیس کی مجلسِ شوریٰ از علامہ اقبال مع تشریح
بالِ جبریل 128 طارق کی دعا از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح

SUBSCRIBE

سبسکرِپشن محفوظ نہیں ہو سکی۔ دوبارہ کوشش کریں۔
براہِ کرم تصدیقی لِنک کے لیے اپنا میل-باکس چیک کریں۔ شکریہ

ہماری خصوصی اقبالیات کمیونٹی کا حصہ بنیں

اقبالیات پر تازہ ترین مواد اور اپ ڈیٹس کے حوالے سے باخبر رہنے کے لیے ابھی سائن-اپ کریں اور بذریعہ ای-میل اپڈیٹس حاصل کریں۔

BLOG

نظم ”تاتاری کا خواب“ از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح

بالِ جبریل 161: تاتاری کا خواب

بال جبریل کی نظم تاتاری کا خواب میں علامہ اقبال نے امیر تیمور کے روح کی زبان سے تاتاریوں کو خودی کی تربیت کا پیغام دِیا ہے۔
بانگِ درا: وصال از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح

بانگِ درا 73: وِصال

بانگِ درا کی اس نظم میں علامہ اقبال نے عاشق پر وصال سے پہلے اور بعد کی کیفیات سے پردہ اُٹھایا ہے اور دلکش انداز میں واردات عاشقی بیان کی ہیں۔
بانگ درا: کوششِ ناتمام از علامہ اقبال

بانگِ درا 76: کوششِ ناتمام

اِس نظم میں علامہ اقبال نے یہ واضح کِیا ہے کہ زندگی مسلسل حرکت پر موقوف ہے۔ اگر حرکت نہ ہو تو زندگی بھی ختم ہو جائے گی۔
نظم صدائے درد از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح

بانگِ درا 16: صدائے درد

نظم صدائے درد میں علامہ اقبال نے ہندومسلم اختلافات اور اُس زمانے میں برِصغیر کے حالات پر اپنے دُکھ کا اظہار کِیا ہے۔
نظم مردِ بزرگ از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح

ضربِ کلیم 142: مردِ بزرگ

ایک مردِ بزرگ یا مردِ مومن کیا ہوتا ہے اور اس کی خصوصیات کیا ہیں، ضربِ کلیم کی اس نظم میں علامہ اقبال نے یہی بات واضح فرمائی ہے۔
نظم نماز از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح

ضربِ کلیم 33: نماز

اِس نظم میں علامہ اقبال نے نماز کی حقیقت بیان کی ہے۔ یعنی اگر مسلمان سچے دِل سے خداپرستی اختیار کر لے تو ساری دُنیا سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔