Skip to content
Home » ضربِ کلیم 79: دین و تعلیم

ضربِ کلیم 79: دین و تعلیم

”دین و تعلیم“ از علامہ اقبال

تعارف

نظم دین و تعلیم میں علامہ اقبال نے دین اور تعلیم سے متعلق بعض حقائق بیان کیے ہیں اور اِس میں شک نہیں کہ اِن پر غور کرنے سے حکیمِ مشرق کی ژرف نگاہی کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔

(حوالہ: شرح ضربِ کلیم از پروفیسر یوسف سلیم چشتی)

نظم ”دین و تعلیم“ کی تشریح

مجھ کو معلوم ہیں پِیرانِ حرم کے انداز
ہو نہ اخلاص تو دعوائے نظر لاف و گزاف

حلِ لغات:

پیرانِ حرمکعبے کے پیر یعنی عُلماء و فُقہاء
لاف و گِزافبے ہودہ سرائی، ڈینگ مارنا، شیخی کی باتیں
حلِ لغات (ضربِ کلیم 79: دین و تعلیم)

تشریح:

علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ مَیں موجودہ دور کے پیشہ وَر اور دین فروش عُلماء و فُقہاء کے کردار سے بخوبی واقف ہوں۔ یوں تو وہ اپنے خلوص کا اور معاملات پر صحیح نظر رکھنے کا بڑا دعویٰ کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اُن کا یہ دعویٰ فضول اور شیخی کی باتوں  (لاف زنی) کے سِوا کُچھ نہیں۔ اِن کے پاس کتابی علم تو بہت ہے لیکن (اِلّا ماشاء اللہ) نظر یعنی روحانی طاقت سے محروم ہیں۔ یہ دولت تو صرف اور صرف اخلاص یعنی عشقِ رسول اللہ ﷺ سے حاصل ہو سکتی ہے۔

یہی شیخِ حرم ہے جو چُرا کر بیچ کھاتا ہے
گلیمِ بُوذرؓ و دَلقِ اَویسؓ و چادرِ زہراؓ!
(حوالہ: ارمغانِ حجاز)


اور یہ اہلِ کلیسا کا نظامِ تعلیم
ایک سازش ہے فقط دین و مُروّت کے خلاف

حلِ لغات:

اہلِ کلیساکلیسا والے،  مُراد انگریز
مـُروّتاخلاق، پاس اور لحاظ، حُسنِ اخلاق
حلِ لغات (ضربِ کلیم 79: دین و تعلیم)

تشریح:

مغربی نظامِ تعلیم کی حقیقت بیان کرتے ہوئے علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ اہلِ کلیسا نے مدرسوں میں ایسا تعلیمی نظام رائج کیا ہے اور ایسی کتابیں نصاب میں داخل کی ہیں کہ جن کو پڑھ کر مسلمان طالب علم اپنے دینِ اسلام سے بھی بے گانہ ہو جائیں اور اسلام حُسنِ اخلاق کی جو تعلیم دیتا ہے اُس سے بھی محروم ہو جائیں۔ برِ صغیر میں تعلیمی نظام نافذ کرتے ہوئے انگریز مدبّروں نے یہ بات ذہن میں رکھی تھی کہ اِس کے ذریعے اگر مسلمان عیسائی نہیں ہوگا تو کم از کم مسلمان بھی نہیں رہے گا اور ایک صدی کا علمی تجربہ ہمیں یہ بتا رہا ہے کہ اُن کی یہ بات سچ تھی اور آج کا تعلیم یافتہ نوجوان اپنے دین اور حُسنِ اخلاق۔۔ دونوں سے بے بہرہ ہے۔ گویا نصاریٰ کا یہ قائم کردہ نظامِ تعلیم اور اُنہی کا مقرر کردہ نصابِ تعلیم، یہ در اصل تعلیم نہیں ہے، بلکہ مسلمانوں کو دین اور آدمیّت دونوں سے برگشتہ کرنے کی ایک سازِش ہے اور افسوس کہ مسلمان اِس سازش کا شکار ہو گئے یعنی وہ زہر کو تریاق سمجھ رہے ہیں۔ برِصغیر میں رائج نظامِ تعلیم سے متعلق علامہ اقبال کا مؤقف ”ضربِ کلیم“ کی نظم ”ہندی مکتب“ میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔


اُس کی تقدیر میں محکومی و مظلومی ہے
قوم جو کر نہ سکی اپنی خودی سے انصاف

حلِ لغات:

محکومیغلامی
حلِ لغات (ضربِ کلیم 79: دین و تعلیم)

تشریح:

جو قوم اپنی افرادی اور اجتماعی خودی کے فطری تقاضوں کی تکمیل کا انتظام نہیں کرتی، یعنی اپنی خودی کی تربیّت نہیں کرتی، وہ کبھی اِس دُنیا میں سر بُلندی اور حکومت نہیں کر سکتی بلکہ وہ ہمیشہ دوسری طاقتوَر اقوام کی غلام رہے گی۔ بقول علامہ اقبال:-

؎ سُنا ہے میں نے غلامی سے اُمّتوں کی نجات
خودی کی پروَرِش و لذّتِ نمُود میں ہے
(حوالہ: ضربِ کلیم: فلسطینی عرب سے)

واضح ہو کہ علامہ اقبال کی فکر (فکرِ اقبالؔ) میں غلامی ایک سخت قسم کی موت ہے جو اقوام کو مرگِ دوام (ہمیشہ قائم رہنے والی موت) میں مُبتلا کر دیتی ہے۔ اِس نُکتۂ نظر کا اظہار علامہ اقبال کی کتاب ”ارمغانِ حجاز“ کی نظم ”عالمِ برزخ“ میں بڑی شدت سے کیا گیا ہے۔

علامہ اقبال نے یہ حقیقت ایک اور جگہ کُچھ یوں بیان فرمائی ہے:-

؎ موت ہے اِک سخت تر جس کا غلامی ہے نام
مکر و فنِ ضواجگی کاش سمجھتا غلام!
(حوالہ: ارمغانِ حجاز)

اب رہا یہ سوال کہ خودی کی تربیت کس طرح ممکن ہو سکتی ہے؟ اس کا جواب علامہ اقبال نے ”اسرارِ خودی“ میں دیا ہے۔ خودی کی تربیت کے حوالے سے علامہ اقبال صاحب نے ”اسرارِ خودی“ میں تین مراحل بیان کیے ہیں: اطاعت، ضبطِ نفس اور نیابتِ الہی۔

علامہ اقبالؔ فرماتے ہیں کہ خودی کی تربیّت میں پہلا مرحلہ اطاعت کا ہے:-

مرحلۂ اوّل: اطاعت

خدمت و محنت شعارِ اشتر است
صبر و استقلال کارِ اشتر است

اونٹ کا کام خدمت اور محنت ہے؛ صبر اور مستقل مزاجی اس کی خوبیاں ہیں۔

گام او در راہ کم غوغا ستی
کارواں را زورق صحرا ستی

سفر کے دوران اُس کے پاؤں آواز پیدا نہیں کرتے؛ یوں وہ قافلوں کے لیے ریگستان کی کشتی ہے۔

نقش پایش قسمت ہر بیشہ ئی
کم خور و کم خواب و محنت پیشہ ئی

اُس کے پاؤں کے نقوش ہر صحرا میں ملتے ہیں؛ تھوڑا کھانا، تھوڑا سونا، اور محنت میں لگے رہنا اُس کا کام ہے۔

مست زیر بار محمل مے رود
پای کوبان سوی منزل می رود

وہ محمل کے بوجھ کے نیچے مستانہ وار رقص کرتا ہوا منزل کی جانب رواں رہتا ہے۔

سر خوش از کیفیت رفتار خویش
در سفر صابر تر از اسوار خویش

وہ اپنی رفتار کے کیف ہی میں مست رہتا ہے؛ اور سفر میں اپنے سوار سے زیادہ صابر ہوتا ہے۔

تو ہم از بار فرائض سر متاب
بر خوری از”عندہ حسن المآب“

تُو بھی اپنے فرائض سے سرتابی نہ کر؛ تا کہ تُو اللہ تعالیٰ کے ہاں اچھے مقام سے بہرہ ور ہو۔

در اطاعت کوش اے غفلت شعار
می شود از جبر پیدا اختیار

اے غفلت کوش! تُو بھی اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں کوشاں ہو؛ کیونکہ ضبط ہی سے اختیار پیدا ہوتا ہے۔

ناکس از فرمان پذیری کس شود
آتش ار باشد ز طغیان خس شود

بے قدر و قیمت انسان بھی اطاعت (شریعت) سے گراں قدر بن جاتا ہے؛ اِس کے بر عکس آگ بھی سرکشی سے راکھ بن جاتی ہے۔

ہر کہ تسخیر مہ و پروین کند
خویش را زنجیری آئین کند

جس کسی نے چاند کو مسخر کیا؛ اس نے اپنے آپ کو کسی آئین کا پابند بنایا۔

باد را زندان گل خوشبو کند
قید بو را نافہ ے آہو کند

ہوا پھول کے قید خانے میں رہ کر خوشبو بن جاتی ہے؛ اور خوشبو قید ہو کر آہو کا ناف بن جاتی ہے۔

می زند اختر سوی منزل قدم
پیش آئینی سر تسلیم خم

ستارہ قانون کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتے ہوے منزل کی جانب قدم بڑھاتا ہے۔

سبزہ بر دین نمو روئیدہ است
پایمال از ترک آن گردیدہ است

سبزہ اُگنے کے قانون کی پابندی کرتے ہوئے اگتا ہے؛ اور اگر وہ اس قانون کو چھوڑ دے تو پاؤں کے نیچے روند دیا جاتا ہے۔

لالہ پیھم سوختن قانون او
بر جہد اندر رگ او خون او

گُلِ لالہ کا قانون یہ ہے کہ وہ ہمیشہ جلتا رہتا ہے؛ اُس کی رگوں کے اندر اُس کا خون بھڑکاتا ہے۔

قطرہ ہا دریاست از آئین وصل
ذرہ ہا صحراست از آئین وصل

وصل کے قانون کی پابندی کرتے ہوئے قطرے دریا اور ذرے صحرا بن جاتے ہیں۔

باطن ھر شی ز آئینی قوی
تو چرا غافل ازین سامان روی

ہر شے کی حقیقی پُختگی آئین سے ہے؛ تُو کیونکہ اس سامان سے بے خبر جا رہا ہے۔

باز اے آزادِ دستورِ قدیم
زینت پا کن ھمان زنجیر سیم

اے پرانے آئین (شریعت) سے آزادشخص! اپنے آپ کو اسی نقرئی زنحیر کا پابند بنا۔

شکوہ سنج سختی آئین مشو
از حدود مصطفی بیرون مرو

قانون کی سختی کی شکايت نہ کر؛ جنابِ رسول پاک ﷺ کی حدود سے باہر نہ جا۔

مرحلۂ دوم: ضبطِ نفس

نفس تو مثل شتر خود پرور است
خود پرست و خود سوار و خود سر است

تیرا نفس اونٹ کی طرح اپنی پرورش میں لگا رہتا ہے؛ ساتھ ہی وہ خود پرست، خود سوار اور سرکش ہے۔

مرد شو آور زمام او بکف
تا شوی گوہر اگر باشی خزف

تُو مرد بن اور اِس کی باگ ڈور سنبھال؛ تاکہ اگر تُو کنکر بھی ہے تو گوہر بن جائے۔

ہر کہ بر خود نیست فرمانش روان
می شود فرمان پذیر از دیگران

جو اپنے اوپر حکم نہیں چلاتا؛ اُسے دوسروں کا حکم ماننا پڑتا ہے۔

طرح تعمیر تو از گل ریختند
با محبت خوف را آمیختند

تیری تعمیر مٹی سے کی گئی ہے؛ اور تیرے اندر محبت اور خوف کی آزمائش رکھی گئی ہے۔

خوف دنیا، خوف عقبی، خوف جان
خوف آلام زمین و آسمان

دنیا کا خوف، آخرت کا خوف، زمین و آسمان کے مصائب کا خوف۔

حب مال و دولت و حب وطن
حب خویش و اقربا و حب زن

دوسری طرف مال و دولت کی محبت، وطن کی محبت، خویش و اقربا کی محبت، عورت کی محبت۔

امتزاج ماء و طین تن پرور است
کشتہ ی فحشا ھلاک منکر است

پانی اور مٹی کے امتزاج سے بدن کی پرورش ہے؛ اور پھر یہ بدن بے حیائی اور ناپسندیدہ کاموں کا شکار ہو۔

تا عصائے لا الہ داری بدست
ہر طلسم خوف را خواہی شکست

جب تک اپنے ہاتھ میں لا الہ کا عصا رکھے گا تو ہر قسم کے خوف کے جادو کو توڑ دے گا۔

ہر کہ حق باشد چو جان اندر تنش
خم نگردد پیش باطل گردنش

جس کے اندر حق تعالیٰ جاں کی طرح بسا ہوا ہے؛ اُس کی گردن باطل کے آگے کبھی نہیں جھُکتی۔

خوف را در سنیۂ او راہ نیست
خاطرش مرعوب غیر اللہ نیست

ایسے شخص کے سینے میں خوف کی گنجائش نہیں؛ اُس کا دِل کبھی غیر اللہ سے مرعوب نہیں ہوتا۔

ہر کہ در اقلیم لا آباد شد
فارغ از بند زن و اولاد شد

جو کوئی توحید کی ولایت میں آباد ہوتا ہے وہ زن و اولاد کے بندھن سے آزاد ہو جاتا ہے۔

می کند از ماسوی قطع نظر
می نہد ساطور بر حلق پسر

ایسا شخص غیر اللہ سے لا تعلق ہو جاتا ہے؛ پھر وہ بیٹے کی گردن پر بھی چھری رکھ دیتا ہے۔

با یکی مثل ہجوم لشکر است
جان بچشم او ز باد ارزان تر است

ایک اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہونا یوں ہے جیسے کثیر لشکر ساتھ ہو؛ اس کی نظر میں جاں ہوا سے بھی ارزں ہوتی ہے۔

لا الہ باشد صدف گوہر نماز
قلب مسلم را حج اصغر نماز

کلمۂ طیبہ صدف ہے اور نماز اُس کا گوہر؛ مومن کے قلب کے لیے نماز حجِ اصغر کی مانند ہے۔

در کف مسلم مثال خنجر است
قاتل فحشا و بغی و منکر است

نماز مسلمان کے ہاتھ میں خنجر کی مانند ہے؛ یہ بے حیائی ، سرکشی اور ناپسندیدہ کاموں کو ختم کر دیتی ہے۔

روزہ بر جوع و عطش شبخون زند
خیبر تن پرورے را بشکند

روزہ بھوک اور پیاس پر شبخون مارتا ہے، اور تن پروری کے قلعہ کو توڑ دیتا ہے۔

مومنان را فطرت افروز است حج
ہجرت آموز و وطن سوزست حج

حج اہلِ ایمان کے قلب کو (تجلیاتِ ذات سے) منوّر کر دیتا ہے؛ حج ہجرت کا سبق دیتا ہے اور وطن کی محبت جلا دیتا ہے۔ (واضح رہے کہ مسلمان کا وطن اسلام ہوتا ہے۔ دُنیا کے تمام مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ رشتۂ توحید دے منسلک ہیں۔)

طاعتے سرمایہ جمعیتے
ربط اوراق کتاب ملتے

فرمانبرداری حمیّت کا سرمایہ ہے؛ اس سے ملت کی کتاب کے اوراق مربوط ہوتے ہیں۔

حب دولت را فنا سازد زکوة
ہم مساوات آشنا سازد زکوة

زکوۃ دولت کی محبت ختم کرتی ہے؛ نیز مساوات سے آشنا کرتی ہے۔

دل ز”حتی تنفقوا“ محکم کند
زر فزاید الفت زر کم کند

(قرآن پاک کا ارشار ہے کہ ) تم اس وقت تک نیکی حاصل نہیں کر سکتے جب تک تم زکوۃ نہ دو؛ زکوۃ اس حکم پر عمل کے ذریعے دِل کی تقویّت کا باعث بنتی ہے۔ (زکوۃ سے رزق بڑھتا ہے اور مال کی محبت کم ہوتی ہے – حدیث شریف۔

این ہمہ اسباب استحکام تست
پختہ ی محکم اگر اسلام تست

یہ سب تمہاری شخصیت کو مستحکم کرنے کے ذرائع ہیں؛ اگر تیرا اسلام محکم ہے تو تیری شخصیت بھی پختہ ہے۔

اھل قوت شو ز ورد ”یًا قوی“
تا سوار اشتر خاکی شوے

”یا قوی“ کے ورد سے صاحبِ قوّت بن؛ تاکہ اپنے خاکی بدن کے اونٹ پر سواری کر سکے۔

مرحلۂ سوم: نیابتِ الہی

گر شتر بانی جہانبانی کنی
زیب سر تاج سلیمانی کنی

اگر تو شتربان ہے اپنے نفس پر قابو رکھتا ہے تو جہان پر بھی حکومت کرے گا، پادشاہت کا تاج تیرے سر کی زینت بنے گا۔

تا جہان باشد جہان آرا شوی
تاجدار ملک ”لایبلی“ شوی

جب تک یہ دنیا باقی ہے تُو بھی اس کی زینت رہے گا؛ تُو ایسی سلطنت کا تاجدار بنے گا جو کبھی ختم نہ ہونے والی ہے۔

نایب حق در جہان بودن خوش است
بر عناصر حکمران بودن خوش است

دُنیا میں اللہ تعالیٰ کا نائب ہونا اور عناصر فطرت پر حکمرانی کرنا کیا خوب ہے۔

نایبِ حق ہمچو جان عالم است
ہستی او ظل اسم اعظم است

نائب حق اس کائنات کی جان کی مانند ہے، اُس کا وجود دنیا میں اللہ تعالیٰ کا سایہ ہے (اس کے اندر اللہ تعالیٰ کی صفات منعکس ہوتی ہیں)۔

از رموز جزو و کل آگہ بود
در جہان قائم بامراللہ بود

وہ جزو و کل کے جملہ رموز سے آگہی رکھتا ہے؛ وہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے قائم ہے۔

خیمہ چون در وسعت عالم زند
این بساط کہنہ را برھم زند

جب وسعتِ کائنات میں اپنا خیمہ گاڑتا ہے؛ تو اس بساطِ کہنہ کو درہم برہم کر دیتا ہے۔

فطرتش معمور و می خواہد نمود
عالمی دیگر بیارد در وجود

اُس کی فطرت (نئے افکار سے) معمور ہوتی ہے اور اپنا اظہار چاہتی ہے؛ چنانچہ وہ نیا جہان وجود میں لے آتا ہے۔

صد جہان مثل جہان جزو وکل
روید از کشت خیال او چو گل

اُس کے افکار کی کھیتی سے اس جہان جزو و کل کی طرح کے سینکڑوں جہان پھولوں کی مانند پھوٹتے ہیں۔

پختہ سازد فطرت ہر خام را
از حرم بیرون کند اصنام را

وہ ہر کام کی خاصیت کو پختہ تر کر دیتا ہے؛ (ہر قلب کے) حرم سے بُت باہر نکال پھینکتا ہے۔

نغمہ زا تار دل از مضراب او
بہر حق بیداری او خواب او

اس کی مضراب سے دلوں کی تاروں سے نغمے پھوٹتے ہیں؛ اس کا سونا جاگنا سب اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔

شیب را آموزد آہنگ شباب
می دہد ہر چیز را رنگ شباب

وہ بڑھاپے کو جوانی کا انداز سکھاتا ہے؛ ہر چیز کو جوانی کے رنگ میں رنگ دیتا ہے۔

نوعِ انساں را بشیر و ہم نذیر
ہم سپاہی ہم سپہگر ہم امیر

وہ نوعِ انسان کے لیے بشیر بھی ہے اور نذیر بھی (اچھے اعمال اور اچھی جزا کی خوشخبری دیتا ہے اور برے اعمال کی سزا سے ڈراتا ہے)؛ وہ سپاہی بھی ہے، فوج کو ترتیب دینے والا بھی ہے اور سپہ سالار بھی۔

مدعای”علم الاسما“ ستی
سر”سبحان الذی اسرا“ ستی

وہ قرآن پاک کی اس آیہء پاک کا مدعا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھا دیے؛ وہ اسرار کے بھید کا راز دان ہے (دینوی اور روحانی علوم سے آشنا ہوتا ہے)۔

از عصا دست سفیدش محکم است
قدرت کامل بعلمش توأم است

اُس کا سفید ہاتھ عصا سے مضبوط ہے (حضرت موسی کے یدبیضا اور عصا کی طرف اشارہ ہے) اسے پورا علم اور پورا اختیار حاصل ہوتا ہے۔

چون عنا گیرد بدست آن شہسوار
تیز تر گردد سمند روزگار

جب وہ شاہسوار اپنے ہاتھ میں باگ تھامتا ہے تو زمانے کے گھوڑے کی رفتار اور تیز ہو جاتی ہے۔

خشک سازد ہیبت او نیل را
می برد از مصر اسرائیل را

اس کی ہیبت سے دریا خشک ہو جاتا ہے؛ اور وہ بنی اسرائیل کو مصر سے نکال لے جاتا ہے (غلاموں کو آزادی کی دولت سے ہمکنار کرتا ہے۔)

از قم او خیزد اندر گور تن
مردہ جانہا چون صنوبر در چمن

اُس کے ”قم“ کہنے سے مردہ جانیں قبر کے اندر سے اس طرح اٹھ کھڑی ہوتی ہیں جس طرح باغ کے اندر سے صنوبر۔

ذات او توجیہ ذات عالم است
از جلال او نجات عالم است

اُس کی شخصیت جہان کی شخصیت کی توجیہ ہے (صوفیہ انسان کو عالمِ اصغر کہتے ہیں) ؛ اُس کے جلال و عظمت پر جہان کی عظمت موقوف ہے۔

ذرہ خورشید آشنا از سایہ اش
قیمت ہستی گران از مایہ اش

اُس کے زیرِ سایہ رہ کر ذرّہ خورشید کی عظمت پا لیتا ہے؛ اس کی قوّت سے زندگی کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔

زندگی بخشد ز اعجاز عمل
می کند تجدید انداز عمل

وہ اپنے زور عمل کے اعجاز سے دنیا کو نئی زندگی عطا کرتا ہے؛ وہ عمل کے نئے طور طریقے ایجاد کرتا ہے۔

جلوہ ہا خیزد ز نقش پای او
صد کلیم آوارہ ی سینای او

اُس کے نقوشِ پا سے کئی جلوے اٹھتے ہیں؛ سینکڑوں کلیم اُس کے طُور کے مشتاق ہوتے ہیں۔

زندگے را می کند تفسیر نو
می دہد این خواب را تعبیر نو

وہ زندگی کی نئی تفسیر کرتا ہے؛ وہ اِس خواب کو نئی تعبیر عطا کرتا ہے۔

ہستئی مکنون او راز حیات
نغمہ ی نشیندہ ی ساز حیات

اُس کی پوشیدہ ہستی راز حیات ہے (اس کے ذریعے راز حیات وا ہوتا ہے ؛ وہ سازِ حیات کا ان سنا نغمہ ہے۔

طبع مضمون بند فطرت خون شود
تا دو بیت ذات او موزون شود

فطرت کی مضمون نگار طبیعت بڑی جاں گسل محنت کرتی ہے تب کہیں جا کر نائبِ حق کی شخصیت کے دو بیت موزوں ہوتے ہیں۔

مشتِ خاک ما سر گردون رسید
زین غبار آن شہسوار آید پدید

ہماری مشتِ خاک پریشانی کے عالم میں آسمان تک جا پہنچی ہے، امید ہے کہ اب اس غبار سے وہ شاہسوار ظاہر ہو گا۔

خفتہ در خاکستر امروز ما
شعلہ ی فردای عالم سوز ما

ہمارے آج کی راکھ میں ایسا شعلہ سویا پڑا ہے جو مستقبل قریب میں ہماری دنیا میں تپش و حرارت پیدا کر دے گا۔

غنچہ ی ما گلستان در دامن است
چشم ما از صبح فردا روشن است

ہمارے غنچے کے دامن میں گلستان چھپا ہے؛ ہماری آنکھ آنے والی صبح (کے نور) سے روشن ہے۔

اے سوار اشہب دوران بیا
اے فروغ دیدہ ی امکان بیا

(اے نائبِ حق)! اے زمانے کے گھوڑے کے سوار؛ تُو امکان کی آنکھ کا نور ہے (تجھ سے عمل کے نئے نئے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔)

رونق ہنگامہ ی ایجاد شو
در سواد دیدہ ھا آباد شو

اس ہنگامہء موجودات کی رونق بن؛ تُو اس دنیا کی آنکھ کا نور ہے، ہماری آنکھوں میں بس جا۔

شورشِ اقوام را خاموش کن
نغمہ ی خود را بہشت گوش کن

اقوام دنیا نے جو شورش بپا کر رکھی ہے اُسے آ کر خاموش کر دے؛ ایسا نغمہ سُنا جو کانوں کے لیے لطف و راحت بنے۔

خیز و قانون اخوت ساز دہ
جام صہبای محبت باز دہ

اُٹھ اور دوبارہ ایسا قانون لا جو اخوت ساز ہو؛ ایسا جام جس کے اندر محبت کی شراب ہو۔

باز در عالم بیار ایام صلح
جنگجویان را بدہ پیغام صلح

دنیا میں ایک بار پھر امن و امان قائم کر اور جنگجوؤں کو پھر صلح کا پیغام دے۔

نوع انسان مزرع و تو حاصلی
کاروان زندگے را منزلی

نوع انسان کھیتی ہے اور تُو اس کا حاصل؛ تُو ہی کاروانِ زندگی کی منزلِ مقصود ہے۔

ریخت از جور خزان برگ شجر
چون بھاران بر ریاض ما گذر

ہمارے شجر ملت کے پتّے خزاں کے جور و ظلم سے گر چکے ہیں؛ ہمارے باغ پر موسم بہار کی مانند آ۔

سجدہ ہای طفلک و برنا و پیر
از جبین شرمسار ما بگیر

ہمارے بچے ، جوان اور بوڑھے جو غیر اللہ کے سامنے سر بسجود ہیں؛ اُن کی شرمسار پیشانیوں کو اِس سے نجات دلا۔

از وجود تو سرافرازیم ما
پس بسوز این جہان سازیم ما

ہم اس جہاں کے سوز میں اس طرح جل رہے ہیں؛ تاکہ تیرے آنے سے ہم عزت و عظمت سے سرفراز ہو جائیں۔

(حوالہ: اسرارِ خودی: در بیاں اینکہ تربیتِ خودی را سہ مراحل است)


فِطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے
کبھی کرتی نہیں ملّت کے گُناہوں کو معاف

حلِ لغات:

اغماضنظر انداز کرنا، چشم پوشی کرنا، دھیان نہ دینا
حلِ لغات (ضربِ کلیم 79: دین و تعلیم)

تشریح:

نظم دین و تعلیم کے اِس شعر میں علامہ اقبال نے عمرانیات اور تمدّن کا ایک زبردست نُکتہ بیان کیا ہے۔ کاش مسلمان اِس پر کماحقہ غور کر لیں۔ فرماتے ہیں کہ فطرت کے قوانین، یا اُس کے طریقِ کار پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ افراد کے قصور کو کبھی کبھی معاف کر دیتی ہے لیکن مِلّت کا قصور معاف نہیں کرتی۔ یعنی فرض کرو ایک حکمران قوم ہے اور اُس کے بعض افراد کبھی کبھی گناہ کے مرتکب ہو جاتے ہیں تو فطرت اُن کے گناہوں سے اغماض یا چشم پوشی کر لیتی ہے۔ لیکن اگر پوری قوم گناہ میں مُبتلا ہو جائے (گناہ سے مُراد اللہ تعالی کے احکام کی نافرمانی یا قوانینِ فطرت کی خلاف ورزی ہے) تو فطرت اُس قوم کو کبھی معاف نہیں کرتی۔ چنانچہ اِس قول کی صداقت تاریخِ عالم پر نظر ڈالنے سے بخوبی واضح ہوسکتی ہے۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں:-

؎ ہر لحظہ ہے قوموں کے عمل پر نظر اُس کی
بُرّاں صفتِ تیغِ دو پیکر نظر اُس کی
(حوالہ: ضربِ کلیم: تقدیر)

حوالہ جات