Skip to content
Home » بانگِ درا 79: انسان

بانگِ درا 79: انسان

”انسان“ از علامہ محمد اقبال

تعارف

اقبالؔ کی شاعری اور اُن کے تصوّرات میں یہ امر ایک طرح سے بنیادی حیثیت کا حامل نظر آتا ہے کہ وہ بے شمار مقامات پر ربِ ذوالجلال سے گِلہ مند نظر آتے ہیں لیکن اِس گِلہ مندی میں ایک طرح سے اپنائیت کا عنصر شامل ہوتا ہے۔ اس رویے کو تصوّف کے حوالے سے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

(حوالہ: شرح بانگِ درا از اسرار زیدی)


”انسان“ کے عنوان سے علامہ نے دو نظمیں کہی ہیں۔ یہ پہلی نظم ہے جس میں اُنہوں نے یہ نُکتہ واضح کیا ہے کہ کائنات کا ہر ذرّہ ہر وقت اپنی نمود میں مشغول و مصروف ہے، صرف ایک انسان ہے جو ذاتی نمود کو پسِ پُشت ڈال کر اسرارِ کائنات کے تفَحُّص (تلاش و تحقیق) میں سرگرداں ہے اور مخلوقات میں کوئی ایک بھی اِس کام میں اُس کا رفیقِ کار نہیں۔

(حوالہ: شرح بانگِ درا از ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی)

بند نمبر 1

قُدرت کا عجیب یہ ستم ہے!
انسان کو راز جو بنایا
راز اُس کی نگاہ سے چھُپایا

حلِ لغات:

سِتمظلم
راز جُوحقیقت کی تلاش کرنے والا، رازوں سے پردہ اُٹھانے کی جستجو کرنے والا
حلِ لغات (بانگِ درا 79: انسان)

تشریح:

اقبالؔ فرماتے ہیں کہ قدرت (اللہ تعالی) کی کارفرمائی انسان کی سمجھ سے بالاتر ہے۔  ایک طرف تو اُس نے انسان کو راز جُو (تلاش کرنے والا) بنایا یعنی انسان کے اندر تحقیق اور جستجو کا مادہ رکھ دیا اور اسی کی وجہ سے وہ اپنی اور کائنات کی حقیقت سے آگاہ ہونا چاہتا ہے، دوسری طرف کائنات کے تمام اسرار کو بھی پردۂ غیب میں رکھ کر اُس کی آنکھوں سے چھُپا دیا۔


بے تاب ہے ذوق آگہی کا
کھُلتا نہیں بھید زندگی کا

حلِ لغات:

بے تاببے قرار
ذوقشوق، لُطف
آگہیآگاہ ہونا، علم و شعور
کھُلناظاہر ہونا
حلِ لغات (بانگِ درا 79: انسان)

تشریح:

انسان شروع دِن ہی سے کائنات کے بھیدوں کو جاننے کے لیے بے چین ہے۔ اُس کے دِل و دماغ میں اشیاء کو جاننے کا یہ شوق اُسے مضطرب و بے قرار کیے رکھتا ہے لیکن اِس اضطراب و بے چینی کے باوجود اُس پر زندگی کا راز منکشف (ظاہر) نہیں ہوتا۔

یہ آگہی مری مجھے رکھتی ہے بے قرار
خوابیدہ اس شرر میں ہیں آتش کدے ہزار
یہ امتیازِ رفعت و پستی اسی سے ہے
گُل میں مہک، شراب میں مستی اسی سے ہے
بستان و بُلبل و گُل و بُو ہے یہ آگہی
اصلِ کشاکشِ من و تُو ہے یہ آگہی
(حوالہ: بانگِ درا: شمع)


حیرت آغاز و انتہا ہے
آئینے کے گھر میں اور کیا ہے

حلِ لغات:

آئینے کا گھرمُراد ہے دُنیا
حلِ لغات (بانگِ درا 79: انسان)

تشریح:

انسان کو اپنی سعی اور کوشش کی ابتدا اور انجام پر صرف حیرت سے دوچار ہونا پڑتا ہے اور کیوں نہ ہو! شیشے کے گھر میں اِس کے علاوہ اور مِل بھی کیا سکتا ہے۔ شیشے کا گھر ہے جس میں وہی کچھ نظر آتا ہے جو اُس کے سامنے ہو! یہی وجہ ہے کہ کائنات کے تمام راز انسان کی حیرانی کا سبب ہیں۔ اقبالؔ نے اس کائنات کو شیشے کا گھر قرار دیا کہ آئینہ بھی حیران رہتا اور حیران کر دیتا ہے اور کائنات کے مظاہر، جو قدرت کے آئینہ دار ہیں انسان کو حیرت میں ڈالے رکھتے ہیں۔

علامہ نے تو زندگی سے متعلق بڑے وسیع معنوں میں بات کی ہے لیکن پنڈت چکبست نرائن نے مختصراً اور ظاہری طور پر زندگی کی حقیقت یوں بیان کی ہے:-

؎ زندگی کیا ہے، عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے، اِنہیں اجزا کا پریشاں ہوا

حیرت آغاز و انتہا ہے: یعنی فلسفہ کی ابتدا بھی حیرت سے ہوتی ہے اور انتہا بھی حیرت پر ہوتی ہے۔ یہ افلاطونؔ کا مشہور قول ہے جو فلسفہ کے ہر طالب علم کو معلوم ہے۔ چنانچہ پروفیسر میورہیڈ (MUIRHEAD) نے اپنی کتاب علم الاخلاق اسی ترجمہ سے شروع کی ہے۔

بند نمبر 2

اب قدرت کے مختلف مظاہر کی عکاسی کی گئی ہے جنہیں دیکھ دیکھ کر ایک صاحبِ بصیرت حیرانی و تعجب سے دوچار ہوتا ہے۔


ہے گرمِ خرام موجِ دریا
دریا سوئے بحر جادہ پیما

حلِ لغات:

گرمِ خرامچلنے میں مگن
موجِ دریادریا کی لہر
سُوئے بحرسمندر کی طرف
جادہ پیماراستہ چلنے والا، راستہ طے کرنے والا
حلِ لغات (بانگِ درا 79: انسان)

تشریح:

اِنسان دیکھتا ہے کہ دریا کی لہریں تیزی سے سفر کر رہی ہیں (گرمِ خرام: ایک انداز سے چلنا)، جبکہ دریا ہمہ وقت سمندر کی طرف جانے والے راستے پر سفر کر رہا ہے (جادہ پیما: مسافر / راستہ چلنے والا) یعنی سمندر کی طرف بہا چلا جارہا ہے۔


بادل کو ہوا اُڑا رہی ہے
شانوں پہ اُٹھائے لا رہی ہے

حلِ لغات:

شانوںشانہ کی جمع، مُراد ہے کندھا
حلِ لغات (بانگِ درا 79: انسان)

تشریح:

بادلوں کو دیکھیے تو ہوا اُنہیں آسمان کی وسعتوں میں اُڑائے لے جارہی ہے، یوں معلوم ہوتا ہے جیسے بادل ہوا کے کندھوں پر سوار ہوں۔ خود بادل حیرانی کا باعث ہیں، اس پر ہوا کا اُنہیں مختلف اطراف میں اُڑائے پھِرنا اور بھی حیرانی کا باعث ہے۔


تارے مستِ شرابِ تقدیر
زندانِ فلک میں پا بہ زنجیر

حلِ لغات:

مستنشے میں مدہوش
تقدیراندازہ، مُراد ہے وہ اندازہ جو اللہ تعالیٰ نے ازل سے ہر شے کے لیے مقرر فرمایا ہے
زندانِ فلکزندان سے مُراد ہے قید خانہ، فلک یعنی آسمان۔ زندانِ فلک سے مُراد ہے آسمان کا قید خانہ
پا بہ زنجیرجس کے پاؤں میں زنجیر بندھی ہوئی ہو، مقیّد
حلِ لغات (بانگِ درا 79: انسان)

تشریح:

ستارے تقدیر کی شراب کے نشے میں سرمست ہیں، ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے اُن کے پیروں میں زنجیریں پڑی ہوئی ہیں اور وہ آسمان کے قید خانہ (زندانِ فلک) کے قیدی ہیں۔ یعنی اللہ تعالی نے ستاروں کے لیے جو اندازہ یا پیمانہ (تقدیر؛ قدر) مقرر کیا ہوا ہے، وہ اُس کے پابند ہیں اور اپنے مقررہ راستوں  سے ہٹ نہیں سکتے۔ یہ منظر بھی انسان کے لیے حیرت کا باعث ہے۔

ذرّہ ذرّہ دہر کا زندانیِ تقدیر ہے
پردۂ مجبوری و بےچارگی تدبیر ہے
آسماں مجبور ہے، شمس و قمر مجبور ہیں
انجمِ سیماب پا رفتار پر مجبور ہیں
(حوالہ: بانگِ درا: والدہ مرحومہ کی یاد میں)

قرآن پاک میں اللہ تعالی فرماتے ہیں:-

اور اﷲ وہ ہے جس نے آسمانوں کو بغیر ستون کے (خلا میں) بلند فرمایا (جیسا کہ) تم دیکھ رہے ہو، پھر (پوری کائنات پر محیط اپنے) تختِ اقتدار پر متمکن ہوا اور اس نے سورج اور چاند کو نظام کا پابند بنا دیا، ہر ایک اپنی مقررہ میعاد (میں مسافت مکمل کرنے) کے لئے (اپنے اپنے مدار میں) چلتا ہے۔ وہی (ساری کائنات کے) پورے نظام کی تدبیر فرماتا ہے، (سب) نشانیوں (یا قوانینِ فطرت) کو تفصیلاً واضح فرماتا ہے تاکہ تم اپنے رب کے روبرو حاضر ہونے کا یقین کر لو۔

(القرآن: سورۃ الرعد: آیت نمبر 2)

ایک اور جگہ فرماتے ہیں :-

نہ سورج کے بس میں یہ ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن پر سبقت لے جا سکتی ہے سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں۔

(حوالہ: القرآن: سورۃ یس: آیت نمبر 40)


خورشید، وہ عابدِ سحَر خیز
لانے والا پیامِ ’برخیز‘

حلِ لغات:

خورشیدسورج
عابدِ سحر خیزصُبح سویرے اُٹھ کر عبادت کرنے والا، مُراد ہے سورج سے جو علی الصبح طلوع ہوتا ہے
بر خیزاُٹھو، اُٹھ کھڑا ہو
حلِ لغات (بانگِ درا 79: انسان)

تشریح:

سورج (خورشید) ایک صبح سویرے اُٹھنے والے عبادت گزار (عابدِ سحر خیز) کی طرح طلوع ہوتا ہے اور تمام عالمِ موجودات کے لیے اُٹھنے اور اپنے اپنے کام میں مصروفِ کار ہونے کا پیغام (برخیز) لاتا ہے۔


مغرب کی پہاڑیوں میں چھُپ کر
پیتا ہے مئے شفَق کا ساغر

حلِ لغات:

مئے شفقمئے شفق سے مُراد ہے آسمان کی شراب، شام کے وقت جب سورج غروب ہورہا ہوتا ہے تو آسمان پر سُرخی چھا جاتی ہے جسے شفق کہتے ہیں، اقبال نے اُسے شفق کی شراب سے تعبیر کیا ہے
ساغرپیالہ
حلِ لغات (بانگِ درا 79: انسان)

تشریح:

وہ (سورج) جب شام کو مغرب کی سِمت میں غروب ہوتا ہے تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے وہ مغرب کی پہاڑیوں میں چھُپ کر شفق کی شراب (مئے شفق) کا پیالہ (ساغر) پی رہا ہو۔ قدرت کے یہ کیسے مظاہر ہیں جنہیں دیکھ کر انسان پر حیرت چھا جاتی ہے۔

واضح ہو کہ طلوعِ آفتاب اور غروبِ آفتاب کے وقت آسمان پر سُرخی چھا جاتی ہے، جسے شفق کہا جاتا ہے۔


لذّت گیرِ وجود ہر شے
سر مستِ مئے نمود ہر شے

حلِ لغات:

لذّت گیرِ وجودزندگی (ہستی) کی لذّت اُٹھانے والی
سرمستنشے سے مست، مدہوش
مئے نمُودظہور، نمائش کی شراب
حلِ لغات (بانگِ درا 79: انسان)

تشریح:

یہ سب مناظرِ قدرت دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کی ہر شے وجود کی لذّت سے سرشار ہے اور اپنی نمُود و نمائش (اپنے وجود کے اظہار یعنی خود کو ظاہر کرنے کے عمل) میں سرمست ہے، اِس سے زیادہ اور کُچھ نہیں چاہتی۔ وہ محض اپنے موجود ہونے کو غنیمت جانتی ہے اور اپنے ظہور ہی کو اپنی معراج سمجھتی ہے۔


کوئی نہیں غم گُسارِ انساں
کیا تلخ ہے روزگارِ انساں!

حلِ لغات:

غم گُسارغم بانٹنے والا، دوست
تلخکڑوا، سخت، مشکل
روزگاروقت، زمانہ، زندگی
حلِ لغات (بانگِ درا 79: انسان)

تشریح:

لیکن حضرتِ انسان کا حال دُنیا کی تمام اشیاء سے مختلف ہے۔ کائنات کی ہر شئے اپنی ہستی نمایاں کررہی ہے اور جو اندازہ اُس کے لیے مقرر ہوگیا، اُس پر چل رہی ہے، لیکن اللہ تعالی نے انسان کو شعور عطا فرمایا ہے۔ وہ اپنی اور کائنات کی حقیقت معلوم کرنا چاہتا ہے اور اِس معاملے میں کائنات کی کوئی شے اُس کی غمگُسار یا اس تحقیق میں اُس کی شریکِ حال نہیں ہے۔ چاروں طرف بے شمار مظاہرِ فطرت ہونے کے باوجود انسان کائنات کے رازوں کو پانے کے معاملے میں ضرور یکا و تنہا ہے۔اس لیے انسان کی زندگی، سراپا پیچ و تاب اور سوز و اضطراب کا شکار ہے۔ خلاصۂ کلام یہ کہ کائنات میں ہر شئے اپنی شخصیت کو نمایاں کرنا چاہتی ہے اور اپنی نمُود ہی کو اپنی ہستی کا مقصد سمجھتی ہے۔ لیکن انسان اس سے بالاتر مقصد کے حصول میں منہمک ہے۔ وہ یہ کہ وہ اپنی اور اس کائنات کی حقیقت معلوم کرنا چاہتا ہے۔

تبصرہ

خلاصۂ کلام یہ کہ کائنات میں ہر شئے اپنی شخصیت کو نمایاں کرنا چاہتی ہے اور اپنی نمُود ہی کو اپنی ہستی کا مقصد سمجھتی ہے۔ لیکن انسان اس سے بالاتر مقصد کے حصول میں منہمک ہے۔ وہ یہ کہ وہ اپنی اور اس کائنات کی حقیقت معلوم کرنا چاہتا ہے۔

(حوالہ: شرح بانگِ درا از پروفیسر یوسف سلیم چشتی)

حوالہ جات