Skip to content
ضربِ کلیم 28: افرنگ زدہ

ضربِ کلیم 28: افرنگ زدہ

نظم ”افرنگ زدہ“ از علامہ اقبال

تعارف

اِس نظم میں علامہ اقبال نے کالج کے لڑکوں اور لڑکیوں کی غیر اِسلامی زندگی پر تنقید کی ہے۔ اُن کی رائے میں کالجوں اور اسکولوں کی تعلیم کا صرف ایک نتیجہ برآمد ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ مسلمان لڑکے اور لڑکیاں چال ڈھال، وضع و لباس، خورد و نوش، گفتگو، زبان، تمدن و تہذیب اور معاشرت، عقائد اور افکار، غرضکہ زندگی کے ہر شعبہ میں کافروں کی مقلّد ہو گئی ہیں۔ اقبالؔ نے اسی چیز کو ”افرنگ زدہ“ سے تعبیر کِیا ہے۔ یہ افرنگ زدہ کی ترکیب ”سگ زدہ“ کو مدِّ نظر رکھ کر وضع کی گئی ہے جس کی رگ رگ میں فرنگی کافروں کے ناپاک خیالات سرایت کر جائیں اور جس طرح کُتے کے زہر سے جسمانی موت واقع ہو جاتی ہے، اُسی طرح فرنگیوں کے ناپاک خیالات کے زہر سے مسلمان کی روحانی موت واقع ہو جاتی ہے۔

(شرح بانگِ درا از پروفیسر یوسف سلیم چشتی)

نظم ”افرنگ زدہ“ کی تشریح

YouTube video

بند نمبر 1

ترا وجود سراپا تجلّیِ افرنگ
کہ تُو وہاں کے عمارت گروں کی ہے تعمیر

حلِ لغات:

الفاظمعنی
وجودہستی، ذات
سراپاسر سے پاؤں تک، مکمل طور پر
تجلّیِ افرنگاہلِ یورپ کی تجلّی / جلوہ / روشنی
عمارت گرعمارت بنانے والا، معمار
(نظم ”افرنگ زدہ“ از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح)

تشریح:

اے مسلمان نوجوان! تیرے وجود میں مجھے کہیں اسلام کی جھلک نظر نہیں آتی۔ اس کے برعکس، تیری شخصیت سے، از سر تا پا یورپیت ٹپکتی ہے۔ اُس کہ وجہ یہ ہے کہ تیرے والدین نے تیری شخصیت کی تعمیر میں اسلام اور اُس کی روایات کو بالکل بھی داخل ہونے نہیں دِیا۔ بلکہ بچپن ہی سے تجھ کو فرنگی اساتذہ کے سپُرد کر دِیا اور اُنہوں نے تجھ کو مکمل طور سے کفر کے سانچہ میں ڈھال دِیا۔ یہی وجہ ہے کہ تُو چال ڈھال، وضع و لباس، خورد و نوش، گفتگو، زبان، تمدن و تہذیب اور معاشرت، عقائد اور افکار، غرضکہ زندگی کے ہر شعبہ میں فرنگیوں (اہلِ یورپ) کا مقلّد ہو گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں جیسا معمار ہوگا، ویسی عمارت ہوگی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تجھے اسلام سے ذرا سی بھی وابستگی نہیں رہی۔


مگر یہ پیکرِ خاکی خودی سے ہے خالی
فقط نیام ہے تُو، زرنگار و بے شمشیر!

حلِ لغات:

الفاظمعنی
پیکرِ خاکیمٹی کا جسم
نیاموہ غلاف جس میں تلوار رکھی جاتی ہے
زر نِگارسونے سے آراستہ، جس پر سونے کے نقش ہوں
بے شمشیربغیر تلوار کے
(نظم ”افرنگ زدہ“ از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح)

تشریح:

یہی وجہ ہے کہ تیرا وجود، خودی سے بالکل معرّا ہے۔ تُو ایک نیام کی مانند ہے جس پر سونے کا نفیس کام بنا ہوا ہو، لیکن اُس میں تلوار موجود نہ ہو ۔ اب تُو خود سوچ لے کہ میدانِ جنگ میں خالی نیام کیا کام دے سکتی ہے۔ مراد یہ ہے کہ تمہارا ظاہر تو نیام کی مانند بہت تزئین و آرائش کا حامل ہے، لیکن تمہارا وجود کھوکھلا رہ گیا ہے، بالکل اُسی طرح جیسے تلوار کے بغیر نیام کھوکھلی رہ جاتی ہے۔ چنانچہ جس طرح نیامِ بے شمشیر کی کوئی قیمت نہیں ہوتی، بالکل ایسے ہی تمہارے کھوکھلے وجود کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔

بند نمبر 2

تری نگاہ میں ثابت نہیں خدا کا وجود
مری نگاہ میں ثابت نہیں وجود ترا

حلِ لغات:

الفاظمعنی
وجودہستی، ذات
ثابتجو دلیل سے واضح ہو
(نظم ”افرنگ زدہ“ از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح)

تشریح:

یہ تو ہوا تیری شخصیت کا حال، اب جہاں تک تیرے ذہن کا تعلق ہے، اُس کی کیفیت یہ ہے کہ تُو مغربی تعلیم کی بدولت خدا کا منکر ہو گیا۔ تیری گفتگو سے صاف ظاہر ہے کہ تیری نگاہ میں خدا کا وجود ثابت نہیں ہے اور اِس کی وجہ یہ ہے کہ تُو نے کالج میں صرف روسوؔ، کارل مارکسؔ اور فرائڈؔ کے نظریات کا مطالعہ کِیا ہے، قرآن اور حدیث، یعنی اللہ اور رسول ﷺ کی تعلیمات تو تیری زندگی میں کبھی داخل ہی نہیں ہوئیں۔

لیکن میری نگاہ میں تو خود تیرا ہی وجود ثابت نہیں ہے، کیوں؟ کیونکہ تُو اغیار کے افکار کی پیروری کر رہا ہے، جس کی بدولت تیری خودی کی موت واقع ہو چُکی ہے۔ خودی سے دُوری اور عدمِ معرفت کے باعث میرے نزدیک تُو محض ایک چلتی پھرتی لاش بن کر رہ گیا ہے۔ بقول اقبال:-


وجود کیا ہے، فقط جوہرِ خودی کی نمود
کر اپنی فکر کہ جوہر ہے بے نمود ترا

حلِ لغات:

الفاظمعنی
جوہرِ خودیخودی کی اہلیت اور اصلیت
فقطصرف
جوہراصلیت
بے نُمودجو ظاہر نہ ہو، نمایاں نہ ہو
(نظم ”افرنگ زدہ“ از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح)

تشریح:

اِس لیے کہ وجود کیا ہے؟ وہ جوہرِ خودی کی نمود، اور اُس کے اظہار ہی کا تو نام ہے۔ تیرے اندر اول تو خودی ہے ہی نہیں، اور اگر تھوڑی دیر کے لیے اُس کا وجود فرض بھی کر لِیا جائے تو فرنگی تعلیم کی وجہ سے اُس کا جوہر فنا ہو چُکا ہے یعنی اُس کی نشو و نما کا اب کوئی امکان باقی نہیں ہے۔ وجہ یہ ہے کہ تُو اہلِ یورپ کی تقلید کر رہا ہے، نہ کہ اسلامی تعلیمات کی پیروی۔ واضح رہے کہ علامہ اقبال نے اسرارِ خودی میں خودی کی تربیت کے تین مراحل بتائے ہیں: اول اطاعت، دوم ضبطِ نفس، سوم نیابتِ الہی۔

پس اے افرنگ زدہ نوجوان! تُو اس بحث میں مت پڑ کہ خدا ہے یا نہیں؟ بلکہ تُو اس بات پر غور کر کہ مَیں خود موجود ہوں یا نہیں؟ خدا کا وجود تو بعد میں ثابت ہوگا، تُو پہلے اپنا وجود تو ثابت کر۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ مصرع بار بار پڑھنے کے قابل ہے:-

تبصرہ

کیا اِس نظم سے ناظرین اُس درد کا کُچھ اندازہ کر سکتے ہیں جو اقبالؔ کے دل میں مِلّت کے نوجوانوں کے لیے موجود تھا! سچی بات تو یہ ہے کہ اُسی درد کی کسک نے اقبالؔ اور کلامِ اقبالؔ دونوں کو لازوال بنا دِیا تھا۔

اقبالؔ نے اِس نظم میں افرنگ زدہ نوجوان مسلمان لڑکوں اور لڑکِیوں سے خطاب کِیا ہے اور جو کُچھ کہا ہے، بالکل درست اور بجا ہے۔ لیکن میں اِتنا اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ اصلی مجرم یہ نادان لڑکے اور لڑکیاں نہیں، بلکہ اِن کے والدین ہیں، جو محض دُنیا پرستی میں مبتلا ہیں۔ وہ دُنیاوی نُمود کے لیے اِن بے گناہوں کو کالجوں (واضح ہو کہ مسئلہ تعلیمی اِداروں سے نہیں، بلکہ اُن میں رائج نظام سے ہے) کی بھٹی میں بے دریغ جھونک رہے ہیں اور اِس کا نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ قوم کے نونہالوں کی خودی آگ میں جل کر بھسم ہو جاتی ہے۔ پاکستان بن جانے کے بعد تو لڑکوں سے زیادہ تیزی کے ساتھ ہماری لڑکیاں گمراہی اور تباہی کی طرف جا رہی ہیں۔ کاش! اقبالؔ زندہ ہوتے اور اپنی آنکھوں سے دیکھتے کہ مسلمان لڑکیاں کیسے ذوق و شوق کے ساتھ نارِ حجیم (جہنم کی اِنتہائی شدید اور بھڑکتی ہوئی آگ) کی طرف دوڑی چلی جا رہی ہیں۔ اور اُن کے نابینا والدین ہر قدم پر الحمدللہ اور سبحان اللہ کہہ رہے ہیں۔

جس وقت ہماری قوم کی نوجوان لڑکیاں کسی سرکاری تقریب کے موقع پر زنانہ نیشنل گارڈ کی دِلفریب وردی پہن کر، اور پوری قوت کے ساتھ سینہ تان کر، انگریزی انداز سے غیر ملکی مہمانوں کو سلام دیتی ہیں تو اُن کے والدین خوشی کے مارے پھولے نہیں سماتے۔ اور یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان جس مقصد کے لیے بنایا گیا تھا وہ سو فیصد پورا ہوگیا۔

کاش اقبالؔ آج زندہ ہوتے تو میں اُنہیں اُنہی کے یہ دو شعر پڑھ کر سُناتا:-

واضح ہو کہ جس زمانہ میں (یعنی 1915ء) سے پہلے اقبالؔ نے یہ قطعہ لِکھا تھا، اُس وقت تک ”پردہ“ نہیں اُٹھا تھا۔ لیکن آج 1960ء میں (جس زمانہ میں چشتیؔ صاحب یہ شرح لِکھ رہے تھے) قوم کی ”خوش نصیبی“ سے پردہ تقریباً اُٹھ چُکا ہے۔ صرف ”جاہل“ عورتوں میں باقی رہ گیا ہے۔

(شرح ضربِ کلیم از پروفیسر یوسف سلیم چشتی)

حوالہ جات

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments