نظم ”فقر و مُلوکیّت“ از علامہ اقبال
فہرست
تعارف
نظم ”فقر و مُلوکیّت“ میں علامہ اقبال نے روحِ اسلام (فقر) اور ملوکیت کا موازنہ پیش کِیا ہے اور فقر کی خصوصیات واضح فرمائی ہیں۔
نظم ”فقر و مُلوکیّت“ کی تشریح
فقر جنگاہ میں بے ساز و یراق آتا ہے
ضرب کاری ہے، اگر سینے میں ہے قلبِ سلیم

حلِ لغات:
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| جنگاہ | میدانِ جنگ |
| بے ساز و یراق | سازوسامان کے بغیر |
| ضرب کاری | سخت، چوٹ دار |
| قلبِ سلیم | وہ دِل کو ہر قسم کی برائی سے پاک ہو |
تشریح:
دنیا پرست بادشاہ تو ظاہری ساز و سامان پر بھروسہ کرتے ہیں، لیکن جو لوگ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں، وہ لوگ صرف اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں اور سازوسامان کی چنداں پرواہ نہیں کرتے۔ اگر میسّر آجائے تو بہت خوب ورنہ وہ لوگ بے سازوسامان ہی میدانِ جہاد میں کُود پڑتے ہیں اور سچی بات یہ ہے کہ اگر سینوں میں اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کی محبت موجزن ہو تو مجاہد فی سبیل اللہ دشمنوں پر بجلی بن کر گِرتا ہے۔
اس کی بڑھتی ہوئی بے باکی و بے تابی سے
تازہ ہر عہد میں ہے قصّۂ فرعون و کلیم

حلِ لغات:
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| بے باکی | بے خوفی |
| بے تابی | بے قراری |
| تازہ | یہاں بمعنی دہرایا جانے والا |
تشریح:
مومن کی بے باکی اور خدا کی راہ میں جان دینے کی تمنا سے ہر زمانے میں فرعون و کلیم کا واقعہ دہرایا جاتا ہے۔ فرعون کے ہاں بے بہا قوت تھی اور بے شمار دولت تھی، لیکن حضرت موسیٰؑ کے پاس صرف ایمان کی دولت تھی، اُنہوں نے اپنے پختہ ایمان سے فرعون کو شکستِ فاش دی۔ دوسرے لفظوں میں حق اور باطل کی جنگ ہر دور میں جاری رہتی ہے۔
؎ نہ ستیزہ گاہِ جہاں نئی نہ حریفِ پنجہ فگن نئے
وہی فطرتِ اسَداللّہی، وہی مرحبی، وہی عنتری
(بانگِ درا: میں اور تُو)
اب ترا دَور بھی آنے کو ہے اے فقرِ غیور
کھا گئی رُوحِ فرنگی کو ہوائے زر و سِیم

حلِ لغات:
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| فقرِ غیّور | غیرت والا فقر |
| زر و سیم | سونا اور چاندی |
تشریح:
اے باغیرت درویش! اب پھر تیرے ظہور کا زمانہ آنے والا ہے۔ عنقریب دُنیا کی اِمامت تیرے پاس ہوگی۔ اب تک یورپ دنیا پر مسلط تھا اور اُس کی روح کو چاندی اور سونے کی ہوَس کھا گئی۔ وہ مال و دولت کے لالچ میں ہر نیکی اور ہر خیر سے بے پروا ہو گیا۔ یعنی یورپ اور اہلِ یورپ کی تہذیب و ثقافت اور علم و فن نے سارے لوگوں کو مادیت کا پرستار اور شِکم پرست بنا کر رکھ دیا ہے۔ ہر کوئی دولت اور زروسیم کے لالچ میں پھنسا ہوا ہے‘ جس سے انسانی قدریں تباہ ہو چُکی ہیں اور انسانی بھیس میں ہر طرف حیوانوں کے ریوڑ نظر آتے ہیں۔ اقبالؔ کو یقین ہے کہ دُنیا ایک دن خود ہی اپنے اس کیے پر پچھتائے گی اور پھر وہ سنہری دور آئے گا جو درویشی کا دور ہوگا جس میں انسانیت اور شرفِ آدمیّت بحال ہوگا۔
؎ تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کُشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائدار ہو گا
(بانگِ درا)
واضح ہو کہ اقبالؔ اس شعر میں اگر تنہا ’فقر‘ کا لفظ استعمال کرتے تو زروسیم کے مقابلے میں فقر سے مفلسی مراد لیے جانے کا اندیشہ رہتا۔ اقبالؔ نے ’فقرِ غیور‘ استعمال کِیا، یعنی وہ فقر جو اپنی غیرت و حمیّت کی بِنا پر دنیوی مال و دولت سے بے نیاز و مستغنی ہوتا ہے۔ دولت اُس کے قبضہ میں آ بھی جائے تو اُس کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔ یورپ کی حرصِ زر کا جواب صرف اور صرف فقرِ غیور میں ہو سکتا ہے۔
عشق و مستی نے کِیا ضبطِ نفَس مجھ پہ حرام
کہ گِرہ غُنچے کی کھُلتی نہیں بے موجِ نسیم

حلِ لغات:
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| عشق و مستی | جنون کا جوش |
| ضبطِ نفس | سانس کا روک لینا، یعنی بولنے سے رُکنا |
| گِرہ | گانٹھ، پیچیدگی |
| موجِ نسیم | صبح کی ہوا کی لہر |
تشریح:
عشق اور مستی کے باعث مجھ میں دِل کی بات ضبط کرنے کی گنجائش نہیں رہی، اس لیے کہ بادِ نسیم جس طرح اپنی لہروں سے کلی کو پھول بنا دیتی ہے، اُسی طرح عشق و مستی کے جذبے نے میری زبان سے حق بات کہنے کا سامان کر دیا ہے۔
حوالہ جات
- شرح ضربِ کلیم از پروفیسر یوسف سلیم چشتی
- شرح ضربِ کلیم از اسرار زیدی
- شرح ضربِ کلیم از ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی
- شرح ضربِ کلیم از عارف بٹالوی
- شرح ضربِ کلیم از پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی






