Skip to content
ضربِ کلیم 119: نگاہِ شوق

ضربِ کلیم 119: نگاہِ شوق

نظم ”نگاہِ شوق“ از علامہ اقبال

تعارف

اِس دلکش نظم میں علامہ اقبال نے نے نگاہِ شوق یا جذبۂ شوق کے ثمرات بیان کِیے ہیں۔ اِس نظم کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان، عشقِ رسول ﷺ سے سرشار ہو کر اپنی خودی کو مرتبۂ کمال پر پہنچائے تو پہلے اُس کے اندر ایک انقلاب رونما ہو جاتا ہے پھر وہ دُنیا میں انقلاب پیدا کر دیتا ہے۔ اقبالؔ نے اس حقیقت کو بار بار واضح طور پر بیان کِیا ہے کہ جب تک مسلمان اپنے ضمیر کی گہرائیوں میں انقلاب پیدا نہیں کریں گے، وہ دُنیا میں کوئی انقلاب برپا نہیں کر سکتے۔

YouTube video

نظم ”نگاہِ شوق“ کی تشریح

یہ کائنات چھُپاتی نہیں ضمیر اپنا
کہ ذرّے ذرّے میں ہے ذوقِ آشکارائی

نظم ”نگاہِ شوق“ از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح

حلِ لغات:

الفاظمعنی
ضمیردِل، باطن
ذوقِ آشکارائیظاہر ہونے کی لذت / لطف
(نظم ”نگاہِ شوق“ از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح)

تشریح:

اِس کائنات کی تخلیق اس نہج پر ہوئی ہے کہ اِس کی باطنی خوبیاں ہر وقت ظاہر ہوتی رہتی ہیں۔ ہر شے اپنے مقام کو حاصل کرنا چاہتی ہے اور اقبالؔ نے اس مقام کے حصول کی کوشش کو ”ذوقِ آشکارائی“ سے تعبیر کِیا ہے۔


کچھ اور ہی نظر آتا ہے کاروبارِ جہاں
نگاہِ شوق اگر ہو شریکِ بینائی

حلِ لغات:

الفاظمعنی
کاروبارمعاملہ
نگاہِ شوقعشقِ حقیقی میں ڈوبی ہوئی نظر
بینائیظاہری آنکھ
(نظم ”نگاہِ شوق“ از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح)

تشریح:

پس اگر نگاہِ شوق بھی شریکِ بینائی یعنی اگر مسلمان رسول اللہ ﷺ کی بدولت اپنی باطنی حِس کو جسے اصطلاح میں بصیرت کہتے ہیں، بیدار کرے تو اُسے یہ دُنیا صرف ”عناصر کا پُرانا کھیل“ نظر نہیں آئے گی بلکہ وہ اس حقیقت سے آگاہ ہو جائے گا کہ یہ کائنات اس لیے پیدا کی گئی ہے کہ مومن اس کو اپنے تصرّف میں لا کر اس میں اللہ کے قانون کو نافذ کرے اور اس طرح اس دُنیا کو بنی آدم کے لیے رحمت بنا دے۔


اسی نگاہ سے محکُوم قوم کے فرزند
ہوئے جہاں میں سزاوارِ کار فرمائی

حلِ لغات:

الفاظمعنی
محکومغلام
سزاوارلائق، قابل، مناسب
کارفرمائیحکمرانی، حکومت
(نظم ”نگاہِ شوق“ از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح)

تشریح:

نگاہِ شوق اللہ کا ایک بہت بڑا انعام ہے۔ اسی شوق کی بدولت محکوم قوموں کے جوانوں نے اپنی پستی کو دیکھا ہے اور اصل مقام کو پہچانا ہے۔ اسی شوق کی بدولت غلام قومیں غلامی کی لعنتوں سے آزاد ہوئی ہیں۔


اسی نگاہ میں ہے قاہری و جبّاری
اسی نگاہ میں ہے دِلبری و رعنائی

حلِ لغات:

الفاظمعنی
قاہریباطل قوتوں پر غالب آنا
جباریرعب، دبدبہ، اور جلال۔ باطل قوتوں پر سختی
رعنائیحُسن، جمال، زیبائی
(نظم ”نگاہِ شوق“ از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح)

تشریح:

یہی نگاہ کبھی قاہری و جبّاری کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ یہ وہ صورت ہے کہ باطل قوتوں کو فنا کرنے کی خاطر مردِ مومن قوت اور جلال و جبروت سے کام لیتا ہے۔ اور کبھی یہ نگاہ دلبری اور رعنائی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ دلبری و رعنائی یہ ہے کہ مردِ مومن اللہ کے بندوں سے پیار، محبت اور خلوص سے پیش آتا ہے اور یوں اُس کا وجود دُنیا کے حق میں رحمت بن جاتا ہے۔ بقول علامہ:


اسی نگاہ سے ہر ذرّے کو، جُنوں میرا
سِکھا رہا ہے رہ و رسمِ دشت پیمائی

حلِ لغات:

الفاظمعنی
جنوںانتہائی عشق
دشت پیمائیبیابان طے کرنا
(نظم ”نگاہِ شوق“ از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح)

تشریح:

اسی نگاہِ شوق کی بدولت میرا جنون ہر ذرے کو بیاباں طے کرنے کے طور طریقے سِکھا رہا ہے۔ میں اسی جذبے کے تحت اپنی شاعری کے ذریعے ہر فرد کو یہ پیغام دے رہا ہوں کہ وہ ہر طرح کی دُشواریوں اور مصائب و آلام سے بے خوف ہو کر اور جہد و عمل کی راہ پر گامزن ہو کر اپنی بقا کا سامان کرے۔


نگاہِ شوق میَسّر نہیں اگر تجھ کو
ترا وجود ہے قلب و نظر کی رُسوائی

نظم ”نگاہِ شوق“ از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح

حلِ لغات:

الفاظمعنی
میسر ہوناحاصل ہونا
قلب و نظر کی رُسوائیدِل اور نظر کی ذِلّت، بدنامی
(نظم ”نگاہِ شوق“ از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح)

تشریح:

اگر تیری ہستی کو عشق کی وہ نظر حاصل نہیں ہے جس کی صفات کا مذکورہ بالا شعروں میں ذکر ہوا ہے تو سمجھ لے کہ تیری ہستی تیرے دِل اور تیری نظر یعنی تیرے ظاہر اور تیرے باطن دونوں کے لیے ذِلت و رُسوائی کا موجب ہے۔ نہ تیری ذات سے تیرا دِل مطمئن ہے، نہ نگاہ کو سکون حاصِل ہے۔ دوسرے لفظوں میں اگر تیرے اندر نگاہِ شوق پیدا نہ ہو یعنی اگر تیرے اندر‘ اسلام کو بلند کرنے کا جذبہ پیدا نہ ہو تو تیرا وجود بالکل بیکار ہے۔ بلکہ تیرا وجود‘ اسلام کی رُسوائی کا موجب بن جائے گا۔

حوالہ جات

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments