نظم ”نگاہِ شوق“ از علامہ اقبال
فہرست
تعارف
اِس دلکش نظم میں علامہ اقبال نے نے نگاہِ شوق یا جذبۂ شوق کے ثمرات بیان کِیے ہیں۔ اِس نظم کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان، عشقِ رسول ﷺ سے سرشار ہو کر اپنی خودی کو مرتبۂ کمال پر پہنچائے تو پہلے اُس کے اندر ایک انقلاب رونما ہو جاتا ہے پھر وہ دُنیا میں انقلاب پیدا کر دیتا ہے۔ اقبالؔ نے اس حقیقت کو بار بار واضح طور پر بیان کِیا ہے کہ جب تک مسلمان اپنے ضمیر کی گہرائیوں میں انقلاب پیدا نہیں کریں گے، وہ دُنیا میں کوئی انقلاب برپا نہیں کر سکتے۔
نظم ”نگاہِ شوق“ کی تشریح
یہ کائنات چھُپاتی نہیں ضمیر اپنا
کہ ذرّے ذرّے میں ہے ذوقِ آشکارائی

حلِ لغات:
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| ضمیر | دِل، باطن |
| ذوقِ آشکارائی | ظاہر ہونے کی لذت / لطف |
تشریح:
اِس کائنات کی تخلیق اس نہج پر ہوئی ہے کہ اِس کی باطنی خوبیاں ہر وقت ظاہر ہوتی رہتی ہیں۔ ہر شے اپنے مقام کو حاصل کرنا چاہتی ہے اور اقبالؔ نے اس مقام کے حصول کی کوشش کو ”ذوقِ آشکارائی“ سے تعبیر کِیا ہے۔
کچھ اور ہی نظر آتا ہے کاروبارِ جہاں
نگاہِ شوق اگر ہو شریکِ بینائی

حلِ لغات:
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| کاروبار | معاملہ |
| نگاہِ شوق | عشقِ حقیقی میں ڈوبی ہوئی نظر |
| بینائی | ظاہری آنکھ |
تشریح:
پس اگر نگاہِ شوق بھی شریکِ بینائی یعنی اگر مسلمان رسول اللہ ﷺ کی بدولت اپنی باطنی حِس کو جسے اصطلاح میں بصیرت کہتے ہیں، بیدار کرے تو اُسے یہ دُنیا صرف ”عناصر کا پُرانا کھیل“ نظر نہیں آئے گی بلکہ وہ اس حقیقت سے آگاہ ہو جائے گا کہ یہ کائنات اس لیے پیدا کی گئی ہے کہ مومن اس کو اپنے تصرّف میں لا کر اس میں اللہ کے قانون کو نافذ کرے اور اس طرح اس دُنیا کو بنی آدم کے لیے رحمت بنا دے۔
اسی نگاہ سے محکُوم قوم کے فرزند
ہوئے جہاں میں سزاوارِ کار فرمائی

حلِ لغات:
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| محکوم | غلام |
| سزاوار | لائق، قابل، مناسب |
| کارفرمائی | حکمرانی، حکومت |
تشریح:
نگاہِ شوق اللہ کا ایک بہت بڑا انعام ہے۔ اسی شوق کی بدولت محکوم قوموں کے جوانوں نے اپنی پستی کو دیکھا ہے اور اصل مقام کو پہچانا ہے۔ اسی شوق کی بدولت غلام قومیں غلامی کی لعنتوں سے آزاد ہوئی ہیں۔
اسی نگاہ میں ہے قاہری و جبّاری
اسی نگاہ میں ہے دِلبری و رعنائی

حلِ لغات:
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| قاہری | باطل قوتوں پر غالب آنا |
| جباری | رعب، دبدبہ، اور جلال۔ باطل قوتوں پر سختی |
| رعنائی | حُسن، جمال، زیبائی |
تشریح:
یہی نگاہ کبھی قاہری و جبّاری کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ یہ وہ صورت ہے کہ باطل قوتوں کو فنا کرنے کی خاطر مردِ مومن قوت اور جلال و جبروت سے کام لیتا ہے۔ اور کبھی یہ نگاہ دلبری اور رعنائی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ دلبری و رعنائی یہ ہے کہ مردِ مومن اللہ کے بندوں سے پیار، محبت اور خلوص سے پیش آتا ہے اور یوں اُس کا وجود دُنیا کے حق میں رحمت بن جاتا ہے۔ بقول علامہ:
؎ ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
(ضربِ کلیم: مومن)
اسی نگاہ سے ہر ذرّے کو، جُنوں میرا
سِکھا رہا ہے رہ و رسمِ دشت پیمائی

حلِ لغات:
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| جنوں | انتہائی عشق |
| دشت پیمائی | بیابان طے کرنا |
تشریح:
اسی نگاہِ شوق کی بدولت میرا جنون ہر ذرے کو بیاباں طے کرنے کے طور طریقے سِکھا رہا ہے۔ میں اسی جذبے کے تحت اپنی شاعری کے ذریعے ہر فرد کو یہ پیغام دے رہا ہوں کہ وہ ہر طرح کی دُشواریوں اور مصائب و آلام سے بے خوف ہو کر اور جہد و عمل کی راہ پر گامزن ہو کر اپنی بقا کا سامان کرے۔
نگاہِ شوق میَسّر نہیں اگر تجھ کو
ترا وجود ہے قلب و نظر کی رُسوائی

حلِ لغات:
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| میسر ہونا | حاصل ہونا |
| قلب و نظر کی رُسوائی | دِل اور نظر کی ذِلّت، بدنامی |
تشریح:
اگر تیری ہستی کو عشق کی وہ نظر حاصل نہیں ہے جس کی صفات کا مذکورہ بالا شعروں میں ذکر ہوا ہے تو سمجھ لے کہ تیری ہستی تیرے دِل اور تیری نظر یعنی تیرے ظاہر اور تیرے باطن دونوں کے لیے ذِلت و رُسوائی کا موجب ہے۔ نہ تیری ذات سے تیرا دِل مطمئن ہے، نہ نگاہ کو سکون حاصِل ہے۔ دوسرے لفظوں میں اگر تیرے اندر نگاہِ شوق پیدا نہ ہو یعنی اگر تیرے اندر‘ اسلام کو بلند کرنے کا جذبہ پیدا نہ ہو تو تیرا وجود بالکل بیکار ہے۔ بلکہ تیرا وجود‘ اسلام کی رُسوائی کا موجب بن جائے گا۔
حوالہ جات
- شرح ضربِ کلیم از پروفیسر یوسف سلیم چشتی
- شرح ضربِ کلیم از اسرار زیدی
- شرح ضربِ کلیم از ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی
- شرح ضربِ کلیم از عارف بٹالوی
- شرح ضربِ کلیم از پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی






