Skip to content
بالِ جبریل 128: طارق کی دُعا

بالِ جبریل 128: طارق کی دُعا


”طارق کی دُعا“ از علامہ اقبال

تعارف

اقبالؔ نے اِس دلچسپ اور بغایت مؤثر نظم ”طارق کی دُعا“ میں بطلِ اسلام طارقؔ بن زیاد فاتحِ اندلس (اسپین) کے اُن جذبات کی عکاسی اپنے الفاظ میں کی ہے جو آغازِ جنگ سے پہلے اس مردِ مومن کے دِل میں موجزن ہوئے ہوں گے ار پھر دعا کی صورت میں اس کی زبان تک آئے ہوں گے۔ یہ اشعار بلاشبہ اقبالؔ کی قوتِ متخیّلہ (تخیّل کی قوت) کے کمال کی دلیل ہیں کیونکہ اگرچہ دعا کے الفاظ بجنسہ اُن تک نہیں پہنچے لیکن جو کچھ انہوں نے لِکھا ہے، اس کو پڑھ کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ غالباً طارق نے اللہ سے اسی نوعیت کی دعا کی ہوگی۔

چونکہ اقبالؔ نے عنوان کے نیچے بریکٹ میں یہ لکھا ہے کہ طارق بن زیاد نے یہ دعا اندلس کے میدانِ جنگ میں کی تھی، اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس جنگ کا مختصر حال بھی درج کردیا جائے۔

رجب 92ھ (اپریل 711ء) میں موسیٰ بن نصیر (والیِ افریقہ) نے اکاؤنٹ جولین کے ایما سے اپنے نامور سردار طارق بن زیاد کو سات ہزار فوج کے ساتھ اسپین پر حملہ کرنے کے لیے روانہ کیا۔ چنانچہ طارق نے ابنائے کو عبور کرکے ایک پہاڑی پر قیام کیا جو آج جبلِ طارق یا جبرالٹر کے نام سے مشہور ہے اور گرد و نواح کے علاقہ کو زیر کرنا شروع کیا۔ چند ماہ کے بعد موسیٰ بن نصیر نے پانچ ہزار مزید فوج بھیجی چنانچہ طارق بن زیاد رمضان 92ھ میں دریائے لکہ کے کنارے راڈرک (شاہِ اسپین) کی ایک لاکھ فوج سے معرکہ آرا ہوئے۔

جنگ شروع ہونے سے پہلے طارق نے اپنی مختصر فوج کے سامنے حسبِ ذیل تقریر کی:-

بہادرو! میدانِ جنگ سے سفر کی اب کوئی صورت نہیں ہے، اس لیے صرف پامردی میں نجات ہے۔ اے لوگو! میری تقلید کرو اور سب ایک جسم اور ایک جان ہوجاؤ۔ میں خود راڈرک کا دست بدست مقابلہ کروں گا۔ اور اگر میں مارا جاؤں تو تم ہمت نہ ہارنا، میری جگہ کسی اور کو امیر مقرر کرکے جنگ جاری رکھنا۔ اگر تُم نے بزدلی دکھائی تو برباد ہوجاؤ گے۔

خبردار! ذِلت پر راضی نہ ہونا اور اپنے آپ کو کسی قیمت پر بھی دشمن کےحوالے نہ کرنا۔ امیر المومنین نے تمہیں اس ملک میں اعلائے کلمۃ الحق اور غلبۂ دینِ اسلام کے لیے بھیجا ہے۔

چونکہ اقبالؔ کو اس بات کا یقین تھا کہ طارق نے اس تقریر سے پہلے ضرور اللہ سے فتح و نصرت کی دعا کی ہوگی اس لیے انہوں نے طارق کے جذبات کو جو  اس وقت اس کے دِل مین موجزن ہوئے ہوں گے، اِس  نظم کی صورت میں بیان کیا ہے۔

اقبالؔ کی اس نظم کو پڑھنے کے بعد میرا خیال ہے کہ ہر شخص مجھ سے اتفاق کرے گا کہ خواہ اس کی دعا کے الفاظ مختلف ہوں گے لیکن مفہوم کم و بیش یہی ہوگا جو اقبالؔ نے بیان کیا ہے۔

اقبال نے طارقؔ کے ہمراہیوں کو پُراسرار بندوں سے اس لیے تعبیر کیا ہے کہ جب طارق اپنی فوج لے کر اندرونِ ملک بڑھا تو اتفاق سے اس وقت راڈرِک کا ایک صوبہ دار اس نواح میں موجود تھا اور جب اس نے دیکھا کہ ایک اجنبی جماعت بڑھی چلی آرہی ہے تو وہ فوراً مقابلہ کے لیے سامنے آیا، لیکن طارق نے اسے شکستِ فاش دیدی اور وہ اس شکست سے اس قدر خوفزدہ ہوا کہ اس نے راڈرِک کو ان الفاظ میں اس واقعہ کی اطلاع دی کہ ”ہمارے ملک پر ایسے آدمیوں نے حملہ کیا ہے کہ نہ اُن کا وطن معلوم ہے، نہ اصلیت کہ وہ کہاں سے آئے ہیں، زمین سے نکلے ہیں یا آسمان سے اُترے ہیں“، اِطلاع کے اس آخری فقرے سے اقبالؔ نے ”پراسرار بندوں“ کی ترکیب اخذ کی ہے۔

(حوالہ: شرح بالِ جبریل از پروفیسر یوسف سلیم چشتی)


طارق بن زیاد کا شمار دُنیا کے بہترین سپہ سالاروں میں ہوتا ہے۔ وہ موسیٰ بن نصیر کا آزاد کردہ غلام تھا اور موسیٰ نے ہی اُسے حرب و ضرب کی تربیّت دی تھی۔ وہ جنگی منصوبہ بندی میں بڑا ماہر تھا اور غیر معمولی طور پر ذہین، دور بین اور مستعد جرنیل تھا۔

موسیٰ بن نصیر خلیفہ ولید کے عہد میں افریقہ (شمالی و مغربی افریقہ)، جسے مغربِ اقصیٰ کہتے ہیں، کا گورنر بنا اور اُندلس (اسپین) سے ایک جماعت اُس کے پاس راڈرک شاہِ ہسپانیہ کے ظلم و سِتم کی فریاد لے کر آئی تو موسیٰ نے ہسپانیہ کو فتح کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنے نائب طارق بن زیاد کو 92ھ (711ء) میں تقریباً بارہ ہزار سپاہیوں کے ساتھ وہاں بھیجا۔ طارق بن زیاد حملہ آور فوج کا سالارِ اعظم مقرر ہوا۔ وہ اُس پہاڑی مقام پر اُترا جو اب جبل الطارق (جبرالٹر) کی شکل میں اُس کی یاد تازہ کر رہا ہے۔ ہسپانیہ کے ساحل پر اُترتے ہی طارق نے جہاز جلانے کا حُکم دے دیا تاکہ کسی مجاہد کو واپسی کا خیال تک نہ رہے اور وہ عزیمت کا پیکر بن کر ہسپانیہ میں اپنے لیے جگہ پیدا کریں۔

طارق نے اپنے لشکر کے سامنے ایک شجاعت آفریں اور زندگی بخش تقریر کرنے کے بعد بارگاہِ خداوندی میں فتح و ظفر کے لیے دُعا مانگی۔ اقبالؔ نے القائے ربّانی سے طارق کے دِلی جذبات کی ترجمانی حسبِ ذیل اشعار میں کی ہے۔ راڈرِک کو شکستِ فاش ہوئی اور طارق بن زیاد فتح یاب ہوا۔ اِس کامیابی نے ہسپانیہ کی تقدیر کا فیصلہ کر دیا۔

(حوالہ: شرح بالِ جبریل از پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی)

YouTube video

بند نمبر 1

یہ غازی، یہ تیرے پُر اسرار بندے
جنھیں تُو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی

حلِ لغات:

ذوقِ خدائیحکمرانی کا شوق ق جذبہ
حلِ لغات (بالِ جبریل 128: طارق کی دُعا)

تشریح:

اے باری تعالیٰ! یہ غازی، یہ تیرے وہ بندے ہیں، جِن کے بھید ہر شخص پر روشن نہیں ہوسکتے۔ اِن کے مقاصد اور اِن کے عزائم کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ تُو نے اپنی رحمت سے اِس دُنیا میں اپنی نیابت اور خلافت کا منصب عطا کیا۔ یہ وہی کام انجام دینا چاہتے ہیں جو تیری رضا کے عین مطابق ہے۔

ذوقِ خدائی سے غلط فہمی نہ پیدا ہو۔ مسلمان کی شان یہ ہے کہ وہ اپنے اندر اللہ تعالیٰ کی صفات پیدا کرے “تخلقو ابا خلاق اللہ”۔ جو لوگ اس دنیا میں خدا کی رضا پوری کرتے ہیں اور اس کے احکام کو رواج دیتے ہیں، وہ حقیقت میں خدا کے کارِندے ہوتے ہیں اور اس نے اس جذبے کو ذوقِ خدائی سے تعبیر کرنا ہر لحاظ سے مناسب ہے۔ پھر اقبال کی احتیاط ملاحظہ ہو کہ فرمایا: یہ ذوق انہیں خدا ہی نے بخشا ہے، یعنی:

؏ جنہیں تُو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی

”پُر اسرار“ بندوں کی ایک شرح یہ کی گئی ہے کہ راڈرک کو عربوں کے حملوں کی پہلی خبر ان لفظوں میں ملی تھی کہ خدا جانے یہ حملہ آور زمین سے اُبل پڑے یا آسمان سے ٹپکے۔ گویا اس حملے نے اہلِ ہشپانیہ کو سراسر حیرت میں ڈال دیا تھا، لہذا ہسپانوی نقطۂ نگاہ سے وہ پُراسرار ہوئے۔


دونیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سِمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی

حلِ لغات:

دو نیمدو ٹُکڑے
ہیبتدہشت
رائیچھوٹا سا دانہ
حلِ لغات (بالِ جبریل 128: طارق کی دُعا)

تشریح:

یہی غازی ہیں؛ جِن کی ٹھوکر سے جنگلوں اور دریاؤں کے دِل دو ٹکڑے ہوگئے۔ یہی غازی ہیں؛ جن کی ہیبت سے پہاڑ سِمٹ کر رائی بن گئے۔

مراد یہ ہے کہ ان کی یورشیں  اور رتک تازیاں یہ جنگل روک سکتے ہیں نہ دریا اور نہ پہاڑ۔ جو بھی چیز ان کی راہ میں حائل ہوتی ہے، انہیں روکنے میں ناکام رہتی ہے۔ جہاد کی راہ میں آنے والی تمام رکاوٹیں اور مشکلیں ان کے لیے کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔

؎ میں کشتی و ملاح کا محتاج نہ ہوں گا
چڑھتا ہوا دریا ہے اگر تُو، تو اُتر جا
(حوالہ: ضربِ کلیم: قلندر کی پہچان)


دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذّتِ آشنائی

حلِ لغات:

دو عالمدو جہان، مراد ساری کائنات
بیگانہاجنبی، انجانہ
عجبعجیب
لذّتِ آشنائیعشقِ حقیقی کا لُطف، لذّتِ عشق
حلِ لغات (بالِ جبریل 128: طارق کی دُعا)

تشریح:

سچ ہے، عِشق و محبت میں ایسی لذت ہے کہ وہ انسان کے دِل کو دونوں جہانوں سے بیگانہ بنا دیتی ہے یعنی اے باری تعالیٰ! یہ غازی تیرے عشق میں اس درجہ سرشار ہیں کہ دنیا او آخرت میں تیرے سِوا ان کا کوئی مقصود نہیں۔ یہ لڑتے ہیں تو تیرے لیے اور صُلح کرتے ہیں تو تیرے لیے۔ جیتے ہیں تو تیری خاطر اور مرتے ہیں تو تیری خاطر۔


شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
نہ مالِ غنیمت نہ کِشور کشائی

حلِ لغات:

شہادتلفظی معنی گواہی۔ اللہ کی راہ میں جان قربان کر دینا
مطلوب و مقصوداصل غرض اور مطلب
مالِ غنیمتشکست خوردہ دُشمن کا مال جو فاتح فوج کے ہاتھ لگتا ہے
کِشوَر کُشائیعلاقے فتح کرنا، سلطنت کی حدود وسیع کرنا
حلِ لغات (بالِ جبریل 128: طارق کی دُعا)

تشریح:

مومن کا مقصود و مطلوب شہادت کے سوا کچھ نہیں۔ وہ مالِ غنیمت کا خواہاں نہیں ہوسکتا اور سلطنت و حکومت کا طلبگار نہیں بن سکتا۔

شہادت کے لفظی معنی ہیں گواہی۔ اس کا عام مفہوم یہ ہے کہ انسان راہِ حق میں اپنی جان بے دریغ قربان کردے، لیکن یہاں مقصود و صداقت اور حق پرستی کی گواہی ہے۔ ایمان دار لوگوں کی فوجیں جب اہنے وطن سے باہر نکلتی ہیں تو اس لیے نہیں نکلتیں کہ مال و دولت حاصل کریں۔ سونے اور چاندی کا انبار سمیٹ لیں یا بڑی بڑی سلطنتیں پیدا کرلیں۔ ان کا مقصود صرف ایک ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ہر جگہ خدا کے نام کا ڈنکا بجائیں۔ اُس کی بھیجی ہوئی ہدایت دنیا تک پہنچائیں۔ اسی کو دوسرے لفظوں میں شہادت کہتے ہیں۔ البتہ شہادت کی آخری منزل یہ ہے کہ  اگر خدا کی رضا کا کام سرانجام دیتے ہوئے جان دینے کا موقع بھی آجائے تو ایمان دار  لوگ اپنا فرض ادا کرتے ہیں، خواہ ان کے جسم کا عضو عضو کٹ جائے۔


خیاباں میں ہے مُنتظر لالہ کب سے
قبا چاہیے اس کو خُونِ عرب سے

حلِ لغات:

خیاباںکیاری، مراد باغ
مُنتظراِنتظار میں
لالہلالے کا پھول، مُراد مِلّتِ اسلامیہ
قباایک خاص لباس
خُونِ عربشہیدانِ عرب کا خون
حلِ لغات (بالِ جبریل 128: طارق کی دُعا)

تشریح:

ہسپانیہ کو سرسبزی، شادابی اور آبادی کے لحاظ سے پھولوں کی کیاری (باغ) کا درجہ حاصل ہے۔ اس کے لالے (پھول) مُدّت سے منتظر کھڑے ہیں۔ انہیں ایسی قبا (لباس) کی ضرورت ہے، جو عربوں کے خون سے تیّار ہو۔

اے مولا کریم! اس سرزمین میں تیرا نام بلند ہونے کی ضرورت ہے، میں (یعنی طارقؔ بن زیاد) اور میرے ساتھی مردانِ مومن و غازی اس عزم کے ساتھ آئے ہیں کہ یہاں بھی تیرا نام بلند کریں۔

بند نمبر 2

کیا تُو نے صحرا نشینوں کو یکتا
خبر میں، نظر میں، اذانِ سحَر میں

حلِ لغات:

صحرا نشینریگستانوں میں بسیرا کرنے والے، عرب کے بدُّو
یکتاواحد، بے مثال، بے نظیر
خبر میںلفظی معنی آگاہی یعنی پہچان۔ مراد حقائقِ دین اور حقائقِ حیات سے آگاہی
نظر میںلفظی معنی دیکھنا۔ مراد نظری علوم
حلِ لغات (بالِ جبریل 128: طارق کی دُعا)

تشریح:

اے باری تعالیٰ! تُو نے بیابان میں رہنے والے لوگوں کو حقائقِ حیات میں، اشیاء کی پہچان میں اور صبح کی اذان میں یگانہ اور بے مثال بنا دیا ہے۔

صبح کی اذان کا ذکر خاص طور پر اس لیے کیا کہ صبح کے وقت اس کی آواز بے حد دِلکش ہوتی ہے اور انسان کے دِل میں خدا کی عبادت کا ذوق پیدا کرتی ہے۔

دوسرے اس لیے کہ یہی زندگی بخش صدا سوتوں کو جگاتی ہے۔ اقبالؔ کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ ہمیشہ بہترین اور حد درجہ پُر تاثیر چیزوں کو انتخاب کرتے ہیں۔ حالانکہ بظاہر خبر و نظر سے اذان کی کوئی مناسبت نہیں اور بے ذوق آدمی شاید یہی کہے کہ صرف قافیے کی مجبوری سے ”اذانِ سحر“ لائے، حالانکہ ایسا بالکل نہیں ہے۔


طلب جس کی صدیوں سے تھی زندگی کو
وہ سوز اس نے پایا انھی کے جگر میں

حلِ لغات:

طلبجستجو، تلاش، کھوج
سوزتڑپ، تپش
حلِ لغات (بالِ جبریل 128: طارق کی دُعا)

تشریح:

جس تڑپ اور تپِش کے لیے زندگی صدیوں سے طلب گار بنی ہوئی تھی، وہ اسے انہیں صحرائیوں کے جگر سے مِلی۔

مراد یہ ہے کہ انسانوں میں زندگی کو حقیقی لو لگانے اور انہیں صحیح طریقِ حیات سکھانے کا کام عربوں ہی نے انجام دیا اور کوئی قوم انجام نہ دے سکی۔


کُشادِ درِ دل سمجھتے ہیں اس کو
ہلاکت نہیں موت ان کی نظر میں

حلِ لغات:

کُشادِ درِ دِلدِل کے دروازے کا کھُلنا
ہلاکتفنا، مرنے کی حالت
حلِ لغات (بالِ جبریل 128: طارق کی دُعا)

تشریح:

ان کی اور خصوصیت کیا ہے؟ یہ کہ وہ موت کو ہلاکت نہیں سمجھتے بلکہ دِل کے بند دروازوں کا کھُلنا سمجھتے ہیں۔

موت کو ہلاکت وہی سمجھ سکتے ہیں، جنہین حیات بعد الموت (یعنی موت کے بعد کی زندگی) کا یقین نہ ہو،  جس قوم کے لیا اس دنیا کی زندگی حیاتِ آخرت کی کھیتی ہے، جو آخرت کی زندگی کو موجودہ زندگی سے ہزار درجہ بہتر اور افضل سمجھتے ہیں، اُنہیں موت کیوں کر ڈرا سکتی ہے؟ وہ اسے فنا کا پیغام کیوں کر قرار دے سکتے ہیں؟ ان کے لیے تو موت دِلی مُراد حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔۔ اور اسی کے حصول کے لیے وہ راہِ حق میں بے خوف ہو کر ست دھڑ کی بازی لگادیتے ہیں۔

زندگانی ہے صدف، قطرۂ نیساں ہے خودی
وہ صدف کیا کہ جو قطرے کو گوہر کر نہ سکے
ہو اگر خود نِگر و خود گر و خود گیر خودی
یہ بھی ممکن ہے کہ تُو موت سے بھی مر نہ سکے
(حوالہ: ضربِ کلیم: حیاتِ ابدی)


دلِ مردِ مومن میں پھر زندہ کر دے
وہ بجلی کہ تھی نعرۂ ’لَاتَذَر‘ میں

حلِ لغات:

زندہ کردےبیدار کر دے
حلِ لغات (بالِ جبریل 128: طارق کی دُعا)

تشریح:

 اے باری تعالیٰ! تُؤ اپنی رحمت سے مردِ مومن کے دِل میں پھر اسی بجلی کو زندہ کردے جو حضرت نوحؑ کے نعرۂ لاتذر میں موجود تھی۔ یعنی اس دنیا سے کفر کی ظلمت مِٹا دے اور اسے ایمان کے نور سے بھر دے۔

”لاتذر“ سے سورۃ نوحؑ کی آیت نمبر 26 کی طرف اشارہ ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:-

وقال نوح رب لا تذر علی الارض من الکافرین دیارا

اور (حضرت) نوح (علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے پالنے والے! تُو روئے زمین پر کسی کافر کو زندہ رہنے والا نہ چھوڑ۔

(حوالہ: القرآن: سورۃ نوح: 26)


عزائم کو سینوں میں بیدار کر دے
نگاہِ مسلماں کو تلوار کر دے!

حلِ لغات:

عزائمعزم کی جمع۔ مراد بلند ارادے و حوصلے
حلِ لغات (بالِ جبریل 128: طارق کی دُعا)

تشریح:

اے باری تعالیٰ! عزم اور بلند حوصلگی کی جو بخششیں مومنوں کے سینوں میں محوِ خؤاب ہیں، انہیں جگادے تاکہ وہ پھر عظیم الشان مقاصد کے لیے سرگرمِ عمل ہوجائیں اور مسلمانوں کی نگاہ مین تلوار کی تیزی پیدا کردے تاکہ وہ جِدھر پڑے، باطِل کے تُکڑے ٹُکڑے کر ڈالے اور حق کو انتہائی سر بُلندی پر پہنچادے۔

حوالہ جات


Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments