Skip to content
ضربِ کلیم 57: نبوّت

ضربِ کلیم 57: نبوّت

”نبوّت“ از علامہ اقبال

تعارف

نظم ”نبوّت“ میں علامہ اقبال نے بھولے بھالے مسلمان کو نبوّت کی پہچان بتائی ہے۔ اقبالؔ کو اس بات کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ انگریزوں نے مسلمانانِ ہند کے دل و دماغ سے جہاد کا جذبہ فنا کرنے کی غرض سے ایک شخص (مرزا غلام احمد قادیانی) کو ایسے مواقع بہم پہنچا دیے کہ وہ نبوّت کا دعوی کر سکے اور کوئی مسلمان اس سے باز پرس نہ کر سکے۔ چنانچہ اُس شخص نے اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے ساری عمر اپنے قلم اور اپنی زبان سےجہاد کے خلاف کام لیا اور مسلمانوں کو جہاد کا خیال ترک کر دینے، اور انگریزوں کی غلامی پر قناعت کرنے کے سلسلہ میں اس قدر کتابیں لکھیں اور شائع کیں کہ بقول نبئ مذکور ”اگر اُن کو جمع کر لیا جائے تو پچاس الماریاں بھر جائیں گی“۔ اِس ”خود کاشتہ پودے“ نے مسلمانوں سے یہ کہا کی انگریز اولوالامر ہیں، اِن کی اطاعت بروئے قرآن واجب ہے۔ یہ حکومت ہم پر بڑی مہربان ہے، ہم اس عادل گورنمنٹ کے زیرِ سایہ بہت خوش ہیں۔ ہمیں جو آسائش اس حکومت سے نصیب ہے، وہ دنیا میں کہیں نصیب نہیں ہو سکتی۔ غرضیکہ یہ نبی ساری عمر دشمنانانِ اسلام، انگریزوں کی مدح سرائی کرتا رہا اور اللہ کے بندوں کو غلامی کا درس دیتا رہا۔ اس لیے اقبالؔ نے مجبور ہو کر اس کے طلسم کو توڑا۔

اسی لیے عارف الہ آبادی نے یہ شعر سپردِ قلم کیے:-

گورنمنٹ کی خیر یارو مناؤ
گلے میں، جو آئیں وہ تانیں اُڑاؤ
کہاں ایسی آزادیاں تھیں میسّر
انا الحق کہو، اور پھانسی نہ پاؤ

(حوالہ: شرح ضربِ کلیم از پروفیسر یوسف سلیم چشتی)

YouTube video

نظم ”نبوّت“ کی تشریح

مَیں نہ عارِف، نہ مُجدِّد، نہ محدث،نہ فقیہ
مجھ کو معلوم نہیں کیا ہے نبوّت کا مقام

حلِ لغات:

عارفدانا، جاننے والا، خدا کی معرفت رکھنے والا
مُجدِّدکامل ولی، جو دین کی تجدید کرے
محدثحدیث کا عالم
فقیہفقہ کا جاننے والا، دین کا عالم
نبوّتنبی ہونا، اللہ کی طرف سے پیغمبر ہونا
حلِ لغات (ضربِ کلیم 57: نبوّت)

تشریح:

میں نہ عارف (خدا کی معرفت رکھنے والا، درویش، ولی) ہوں، نہ مجدد (دین کی تجدید کرنے والا) ہوں، نہ محدث (احادیث کا عالم) ہوں اور نہ فقیہہ (فقہ کا جاننے والا، عالمِ دین) ہوں۔۔ اس لیے میں کیا بتا سکتا ہوں کہ نبوّت کیا ہے اور اس کا مرتبہ کیا ہے، اس سے تو مذکورہ حضرات ہی آگاہ ہیں۔


ہاں، مگر عالمِ اسلام پہ رکھتا ہوں نظر
فاش ہے مجھ پہ ضمیرِ فَلکِ نیلی فام

حلِ لغات:

فاشظاہر، کھُلا
ضمیرِ فلکِ نیلی فامنیلے رنگ کے آسمان کا باطن / دِل
حلِ لغات (ضربِ کلیم 57: نبوّت)

تشریح:

اگرچہ میں محدث، فقیہہ، مجدد اور عارف نہیں ہوں مگر ایک بات مجھ میں ضرور ہے اور وہ یہ کہ میں عالمِ اسلام کی مِلّی تاریخ سے بخوبی آگاہ ہوں، یہ نیلے رنگ کا آسمان (فلکِ نیلی فام) جو کچھ اپنے دِل میں چھپائے بیٹھا ہے، وہ مجھ پر ظاہر ہے۔

ہاں، اتنا ضرور ہے کہ میری تمام تر توجہ عالمِ اسلام پر ہے اور اسلام کیا ہے، اس سے میں بخوبی واقف ہوں۔ جو کچھ اِس نیلے آسمان کے دِل (ضمیرِ فلکِ نیلی فام) میں ہے، وہ سب مجھ پر ظاہر ہے۔


عصرِ حاضر کی شبِ تار میں دیکھی مَیں نے
یہ حقیقت کہ ہے روشن صفَتِ ماہِ تمام

حلِ لغات:

عصرِ حاضرموجودہ زمانہ
شبِ تاراندھیری رات
صِفتمانند، طرح
ماہِ تمامپورا چاند
حلِ لغات (ضربِ کلیم 57: نبوّت)

تشریح:

موجودہ زمانے (عصرِ حاضر) کی اندھیری رات (شبِ تاریک) میں، مَیں نے ایک حقیقت چودھویں رات کے پورے چاند کی طرح روشن دیکھی ہے۔ یعنی ایسی حقیت میں کسی قسم کا شائبہ اور شک نہیں ہے۔


”وہ نبوّت ہے مسلماں کے لیے برگِ حِشیش
جس نبوّت میں نہیں قُوّت و شوکت کا پیام“

حلِ لغات:

برگِ حشیشبھنگ کا پتّا / بُوٹی، جو سُلا دینے والا نشہ ہوتا ہے
قوتطاقت
شوکترعب، دبدبہ، جلال
پیامپیغام
حلِ لغات (ضربِ کلیم 57: نبوّت)

تشریح:

اور وہ روشن حقیقت یہ ہے کہ جس نبوّت میں قوت و شوکت کا پیام نہیں، وہ نبوّت مسلمان قوم کے حق میں بھنگ کے پتوں (برگِ حشیش) سے زیادہ دقیع نہیں ہو سکتی۔ یعنی میں نے دُنیا اور گذشتہ انبیاء اور رسولوں کی زندگی کا مطالعہ کیا ہے، اور مجھے یہ حقیقیت چاند کی طرح چمکتی نظر آتی ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر سرکارِ دو عالم ﷺ تک، ہر نبی اور ہر رسول نے مسلمانوں کو حکومت اور سروَری کا پیغام دیا ہے۔ تاریخِ عالم میں کوئی نبی ایسا نہیں گذرا، جس نے مسلمانوں کو کافروں کی غلامی میں زندگی بسر کرنے کی تلقین کی ہو یا غلامانہ زندگی سے مطمئن رہنے کا سبق پڑھایا ہو۔ یہ ”سعادت“ صرف ہندی نبی (مرزا غلام احمد قادیانی) کے حصہ میں آئی۔ پنجاب (ہندوستان) کے قصبہ قادیان سے تعلق رکھنے والے اس غلام احمد نامی شخص نے ایک نے ایسی نبوّت کا دعوی کیا جس میں جہاد کو حرام قرار دے دیا گیا ہے اور اس طرح نبیوں کے اندر موجود فقیرانہ شان و شکوہ اور جلال سے انکار کیا ہے اور لوگوں کو انگریز حاکم کا پرستار بنانے کی کوشش کی ہے۔

واضح رہے کہ نبی کا پہلا کام اُمّت کو ذِلّت اور غلامی سے نکالنا ہے اور نکال کر آزاد فضا میں لانا ہے، پھر اُسے اقتدار کا مالک بنانا ہے اور آخر میں امیرِ زمانہ کا لقب عطا کرنا ہے۔

نوٹ: برگِ حشیش میں حسن بن صباح جے طریقِ کار کی طرف اشارہ ہے۔ یہ مکار اور عیار دشمنِ دین و مِلّت، اپنے پیروؤں کو بھنگ کا شربت پلا کر اُس جنت میں بھیجا کرتا تھا، جس میں اُس نے جارجیاؔ، سرکاشیاء، آرمینیاؔ اور کردستانؔ کی حسین ترین عورتیں اِن نوجوانوں کو پھانسنے کے لیے جمع کی تھیں۔ یہ جنت قلعہ الموطؔ میں تھی اور یہ شخص فرقۂ اسمعیلیہؔ کا داعی گذرا ہے۔س 

؎ ساحرِ المُوط نے تجھ کو دیا برگِ حشیش
اور تُو اے بے خبر سمجھا اسے شاخِ نبات
(حوالہ: بانگِ درا: خضرِ راہ)

حوالہ جات

Subscribe
Notify of
guest
2 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
منیب الحسن خان

بہت شکریہ سمجھنے میں بہت آسانی ہوئی شعر کو دبانے پر معنی آجانے سے