Skip to content
Home » ضربِ کلیم 34: وحی

ضربِ کلیم 34: وحی

”وحی“ از علامہ اقبال

قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْـهَا جَـمِيْعًا ۖ  فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّنِّىْ هُدًى فَمَنْ تَبِــعَ هُدَاىَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْـهِـمْ وَلَا هُـمْ يَحْزَنُـوْنَ

ہم نے حُکم دیا ”اُتر جاؤ یہاں سے تُم سب، پھر اگر تُم کو پہنچے میری طرف سے ہدایت، تو جو چلا میری اُس ہدایت پر، نہ خوف ہوگا اُن پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔“

(حوالہ: القرآن: سورۃ البقرۃ: آیت نمبر 38)

تعارف

نظم ”وحی“ میں علامہ اقبال نے وحی کی ضرورت عقلاً ثابت کی ہے۔

(حوالہ: شرح ضربِ کلیم از پروفیسر یوسف سلیم چشتی)


نوٹ: یہ اشعار ریاض منزل، بھوپال میں لکھے گئے۔

نظم ”وحی“ کی تشریح

عقلِ بے مایہ امامت کی سزاوار نہیں
راہبر ہو ظن و تخمیں تو زبُوں کارِ حیات

حلِ لغات:

بے مایہبے قیمت، بے قدر
امامتامام ہونا، رہنمائی کرنا
سزاوارلائق، قابل
راہبررہنما
ظن و تخمیںگمان و اندازہ، شک و شُبہ
زبُوںناکارہ، بیکار
کارِ حیاتزندگی کا کاروبار
حلِ لغات (ضربِ کلیم 34: وحی)

تشریح:

علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ انسانی عقل امامت یا رہبری یا رہنمائی کی اہل نہیں ہے، کیونکہ عقل کا سرمایہ محض ظن و تخمین، یعنی قیاس، گمان یا اندازے لگانا ہے اور اگر انسان محض قیاسات پر زندگی بسر کرنے لگے، تو اس کی بربادی یقینی ہے۔ اب اگر رہنما ہی وہم و گمان میں ہو (جو عقل کی خاصیت ہے) تو پھر زندگی کا کاروبار درہم برہم ہو جاتا ہے۔

مثلاً ہمیں ایک لق و دق صحرا کو عبور کرنا ہے۔ ہم نے قیاس کر لیا کہ اس صحرا (ریگستان) میں کہیں نہ کہیں پانی ضرور ملے گا، اس لیے پانی کا ذخیرہ ساتھ نہیں لیا۔ اتفاق ایسا ہوا کہ پانی کہیں نہ ملا، لہذا ہماری بربادی و موت یقینی ہے۔ انسانی زندگی کے مسائل حل کرنے کے لیے کتنے ہی نظام ہیں جو عقل نے پیش کیے، اگر ایک نظام کسی مسئلہ کو حل کرتا ہے تو وہی کسی دوسرے مسئلہ کو جنم دے دیتا ہے، دوسرے مسئلہ کا حل کسی نئے مسئلہ کو جنم دے دیتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ انسانی مسائل و مشکلات کا حل عقل کے بس کی بات نہیں ہے۔



فکر بے نُور ترا، جذبِ عمل بے بنیاد
سخت مشکل ہے کہ روشن ہو شبِ تارِ حیات

حلِ لغات:

جذبِ عملعمل کا جذبہ
شبِ تارِ حیاتتار سے مراد ہے تاریک، ”شبِ تارِ حیات“ یعنی زندگی کی تاریک رات
حلِ لغات (ضربِ کلیم 34: وحی)

تشریح:

اے انسان! تیری سوچ اور فکر میں روشنی کی کوئی کِرن نظر نہیں آتی اور تیرے عمل کے جذبے کی کوئی حقیقت و حیثیت نہیں ہے، یعنی عمل کرنے کے لیے جو جذبہ تیرے اندر پیدا ہوتا ہے، یا جس جذبہ کی بنا پر تُو آمادۂ عمل ہوتا ہے، وہ جذبہ کسی مضبوط بنیاد پر قائم نہیں ہے۔ بعض اوقات تُو کسی عمل پر راغب ہوتا ہے، لیکن فوراً دُوسرا خیال آتا ہے اور اُس جذبہ کو فنا کر دیتا ہے اور جب عمل کا داعیہ ہی ختم ہو جائے تو عمل کس طرح ہو سکتا ہے۔ اِس صورت حال میں زندگی کی تاریک رات کیسے منوّر ہو سکتی ہے؟ یعنی زندگی کے پیچیدہ اور دُشوار مسائل کیسے حل ہو سکتے ہیں؟ گویا ضروری ہے کہ تیری قوت فکر نورِ حق سے منوّر ہو، تا کہ تیری ہر بات حقیقت کی مظہر ہوا اور تیرے پیشِ نظر عظیم مقصد ہو جس کے حصول کے لیے تُو جہد و عمل کے جذبے سے سرشار ہو تاکہ تُو صاحبِ بقا بن جائے۔

واضح ہو کہ تمام عقلائے دہر کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ فکرِ انسانی سے غلطی کا صُدُور ممکن ہے۔ اس لیے اُنہوں نے منطق (Logic) کا فن ایجاد کیا، جس کا مقصد انسان کو بوَقتِ استدلال و استنباط و استخراجِ مسائل، غلطی سے محفوظ رکھنا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ بڑے بڑے عقل مندوں سے روزمرہ بڑی بڑی غلطیاں سرزد ہوتی رہتی ہیں اور یہ بات ہر انسان کے تجربہ میں آتی رہتی ہے کہ وہ قیاس کُچھ کرتا ہے اور وقوع میں کُچھ آتا ہے، پس وحی کی ضرورت ثابت ہے۔



خوب و ناخُوب عمل کی ہو گِرہ وا کیونکر
گر حیات آپ نہ ہو شارحِ اسرارِ حیات!

حلِ لغات:

خوب و ناخوباچھا اور بُرا
گِرہگانٹھ
وا ہوناکھُلنا
اسرارسر کی جمع؛ بھید، راز
شارحِ اسرارِ حیاتزندگی کے رازوں کی شرح کرنے والی
حلِ لغات (ضربِ کلیم 34: وحی)

تشریح:

اِنسان کی زندگی کا کون سا عمل اچھا ہے اور کون سا بُرا۔۔؟ یہ گُتھی کیونکر سُلجھ سکتی ہے۔۔ جب تک زندگی خود ہی اپنے رازوں سے پردہ نہ اُٹھائے۔

اگر حیات، خود شرحِ اسرار نہیں کرتی تو پھر فعلِ تخلیقِ انسان، عبث (بے فائدہ) قرار پائے گا۔ یعنی جب کوئی صحیح راہنما نہیں تو انسان، راہِ حیات کس طرح طے کر سکتا ہے؟ تو پھر اُسے پیدا کر کے خدا نے اُس سے یہ کیوں کہا کہ صراطِ مستقیم پر چل؟ پس ثابت ہوا کہ خود حیات کا تقاضا ہے کہ اُسے ہدایت مِلے اور یہ ہدایت جو بعض کامل اور اکمل انسانوں (انبیاء اکرامؑ) کے واسطہ سے دُنیا کو مِلتی ہے، اصطلاح میں وحی کہلاتی ہے۔ وحی کا آخری سلسلہ، جو سرکارِ دو عالم ﷺ کی ذاتِ بابرکات سے ہم تک پہنچا، یہ آخری سلسلہ کہ جو اپنے اندر شرحِ اسرارِ حیات سمیٹے ہوئے ہے، یہ قرآنِ پاک کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے اور قیامت تک کے انسانوں کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔

حوالہ جات