Skip to content
Home » بانگِ درا 82: تنہائی

بانگِ درا 82: تنہائی

”تنہائی“ از علامہ اقبال

تعارف

نظم تنہائی علامہ اقبال کے یورپ میں قیام کے دوران (1905ء تا 1908ء کا عرصہ) لکھی گئی تھی۔ یہ نظم سات اشعار پر مُشتمل تھی۔ نظر ثانی کے دوران دو اشعار حزف کر دیے گئے جو اب ”باقیاتِ اقبال“ اور ”روزگارِ فقیر“ میں شامل ہیں۔

اِس نظم کا کا شمارعموماً  قدرت کی تعریفی شاعری میں کیا جاتا ہے، البتہ یہ تشریح اِس کا ایک الگ نظر سے تجزیہ پیش کرتی ہے۔

نظم ”تنہائی“ کی تشریح اور تبصرہ

تنہائیِ شب میں ہے حزیں کیا
انجم نہیں تیرے ہم نشیں کیا؟

حلِ لغات:

حزیںغمگین
انجُمستارے
ہم نشیںساتھی
حلِ لغات (بانگِ درا 82: تنہائی)

مفہوم:

رات کی تنہائی میں غمزدہ ہونے کی کیا بات ہے۔

کیا ستارے تمہارے ساتھی نہیں؟

تشریح:

شاعر اپنے دِل سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ تُو رات کی تنہائی میں اِس قدر رنجیدہ کیوں ہے؟ اگر اِس وقت تیرے پاس کوئی غم گُسار یا رازداں نہیں ہے تو کیا ہوا؟ کیا یہ تارے تیرے ساتھی نہیں ہیں؟ (تاروں کو ہم نشیں کہنا اقبالؔ کے تخیّل کی بلندی پر شاہد ہے)

تبصرہ:

یہاں تنہائی اور رات، اُس غور و فکر کی طرف بلاتی ہیں جو عموماً دن کی چہل پہل میں ممکن نہیں ہوتا۔ گوعروجِ آفتاب کے وقت، دِن کی گہما گہمی انسان کو زندگی اور حرکت کا احساس دلاتی ہے، جبکہ رات کی خاموشی اور سکُوت سے ڈپریشن (Depression) اور موت منسلک ہیں۔

یہی تنہائیِ شب مسلمانوں کے زوال سے بھی جوڑی جا سکتی ہے کہ جس پر مسلمان اکثر رنجیدہ ہوتے ہیں۔ زوال کی یہ تاریکی اُن چیزوں پر غور و فکر کرنے کے لیے مجبور کرتی ہے جو مسلمانوں کے عروج کے وقت ممکن نہ تھا۔ مثال کے طور پر9/11 نے تمام مسلمانوں کو اپنے دین میں موجود کچھ چیزوں پر غور کرنے پر مجبور کر دیا تھا، جیسے کہ ‘جہاد’ کے اصل معنی کیا ہیں؟ اور کیا اسلام واقعی ایک دہشتگردی پسند دین ہے؟ نتیجۃً کئی مسلامانوں اور غیر مسلموں نے دین کو پڑھا اور اسلام کی قبولیت کی شرح میں در اصل اضافہ ہونے لگا۔

سو یہ زوالِ مُسلم امت، ویسی ہی تنہائیِ شب ہے، جس میں غمزدگی ہے، رنجیدگی ہے، ڈپریشن ہے۔

 لیکن اقبالؔ اِس ڈپریشن اور غمزدگی کی سوالیہ انداز میں نفی کرتے ہیں اور اِس میں ایک مثبت پہلو یعنی ستاروں کے ساتھ اور ہمنشینی کا نکال لاتے ہیں۔

واضح ہو کہ لفظ انجم یہاں کئی چیزوں کی علامت کے طور پہ آ سکتا ہے۔ جیسا کہ:-

1- علمِ نجوم کی علامت

علمِ نجوم کا علم زیادہ تر خوش آئند اور اچھے مستقبل کی خبر دیتا ہے۔ سو تنہائیِ شب کی غمزدگی کا توڑ اس میں ملتا ہے۔ اس کے علاوہ، علمِ نجوم کے ذریعے، ستاروں کے مخصوص مقام سے اپنی پوزیشن کا اندازہ لگا کر، لوگ صحیح راستے کا تعین کیا کرتے تھے۔ آج جو کام ہم GPS سے لیتے ہیں، ماضی میں وہ ستاروں کا علم کیا کرتا تھا۔ لہذا یہ رات کی تاریکی اور مایوسی دور کرتا ہے، اور راستہ دکھانے کی نوید دیتا ہے۔

2- روشنی کی علامت

جہاں مندرجہ بالا معنی اخذ کرنے سے غمزدگی کا توڑ ہوتا ہے، اگر ستارے کو روشنی کی علامت کے طور پر لیا جائے تو رات کے اندھیرے کا توڑ ہوتا ہے۔

3- بلندی کی علامت

اب اگر اس تارے کی بلندی کو مدِ نظر رکھا جائے، تو یہ بلندی کے طور پر بھی آ سکتا ہے۔ لیکن اس کی تمام تر بلندی کے باوجود بھی اقبال نے اس کو آپکا اور میرا ہمنشین بتایا ہے۔ یعنی انسان بھی اسی بلندی پر فائز ہے، جس پر ستارا ہے۔ وہ بالکل ہمارے ساتھ ہے، ہمیں اس کی طرف دیکھنے کے لیے نظر اٹھانے کی ضرورت نہیں۔

دُوسرا عنصر یہاں انسان پسندی یا Humanism کا ہے یعنی انسان کی بلندی کا یہ عالَم ہے کہ وہ ان تمام بظاہر عظیم اور بھاری بھرکم اجرامِ فلکی پر غالب ہے۔


یہ رفعتِ آسمانِ خاموش
خوابیدہ زمیں، جہانِ خاموش

حلِ لغات:

رفعتبلندی
خوابیدہسوئی ہوئی
حلِ لغات (بانگِ درا 82: تنہائی)

مفہوم:

یہ خاموش آسمان کی بلندی

سوئی ہوئی زمین، خاموش جہان

تشریح:

ذرا آنکھ کھول کر مظاہرِ فطرت کا مطالعہ کر۔ اِس وقت آسمان، زمین بلکہ سارا جہان خاموش ہے۔

تبصرہ:

مثمن آہنگ میں لکھا گیا یہ شعر کمال نغمگیّت اور موسیقیت پیدا کرتا ہے۔ مثمن آہنگ ایسے سٹائل کو کہا جاتا ہے جس میں شعر کے دونوں مصرعوں میں چار،چار الفاظ استعمال ہوں۔

اِس شعر کے صوتیات پر غور کریں تو س اور ش وہ اصوات یا آوازیں ہیں جن پر مدارِ موسیقی ہے۔ یہ موسیقیت ایک سکون کی کیفیت پیدا کرتی ہے، جس سے اصل میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہر شئے خاموش اور خوابیدہ ہے۔

اسی طرح قافیہ بندی میں آسمان اور جہان کا استعمال اور ردیف میں لفظ خاموش کی تکرار بھی اِس شعر میں موسیقیت کے اضافے کا باعث بنتے ہیں۔

پھر اس شعر میں صنتِ مراعات النظیر کی بھی مثال ملتی ہے، یعنی ایک ہی صنف اور قسم کے کئی الفاظ ملتے ہیں۔ جیسے کہ آسمان، زمین اور جہان، جو اِس کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہے۔

پچھلے شعر میں جو اجرامِ فلکی ہمارے ہم نشین بتائے گئے، اُن میں یہاں اضافہ کیا گیا۔ آسمان، زمین اور جہان بھی یہاں شامل کیے گئے ہیں۔

اب یہ ضخیم ترین چیزیں، سب سو رہی ہیں، ہر ایک شے خاموش ہے۔ آسمان کی تمام تر بلندیاں یعنی ساتوں آسمان تک خاموش ہیں۔

یہی ٹون اور لہجہ اگلے شعر میں جاری رہتا ہے۔


یہ چاند، یہ دشت و در، یہ کُہسار
فطرت ہے تمام نسترن زار

حلِ لغات:

دشتجنگل
درصحرا
کہسارپہاڑ
فطرتنیچر
نسترن زارسیوتی، نسرین یا سفید گلاب کے پھولوں کا باغ
حلِ لغات (بانگِ درا 82: تنہائی)

مفہوم:

یہ چاند، یہ جنگل اور فصلیں، یہ پہاڑ

تمام سیوتی کے پھولوں کا باغ بن چکے ہیں

تشریح:

فطرت کے مناظر دیکھ! چاند، ستارے، کوہ، صحرا کِس قدر حسین ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ساری فطرت گُلشن بن گئی ہے۔

تبصرہ:

پچھلے شعر میں جہاں سماوی اجرام (اجرامِ فلکی) کا ذکرکیا گیا تھا، اِس شعر میں اقبالؔ زمینی مظاہرِ فطرت کا ذکر کرتے ہیں۔

اِس شعر میں صنتِ جمع کا استعمال کیا گیا ہے، یعنی پہلے مصرعے میں فطرت کی ہر اکائی کو کھول کر بتایا گیا اور دوسرے مصرعے میں اُن سب کو نسترن زار کے نیچے جمع کر دیا گیا۔

نسترن زار کفن کی علامت کے طور پہ آسکتا ہے، یعنی فطرت کی ہر شے ایک کفن کے نیچے جمع ہے، گویا اتنی خاموش ہے جیسے مُردہ ہو۔ دوسری طرف نسترن زار کا سفید رنگ پڑھنے والے کی حواس کو مجذوب کر لیتا ہے، اور وہ اِس پُرسکون اور خاموش منظر کو اپنے اندر اُترتا ہوا محسوس کرتا ہے۔

یہ شعر پچھلے شعر سے موضوع کے اعتبار سے جُڑا ہوا ہے، اِس میں بھی صنتِ مراعات النظیر کا استعمال وہی لسانی تسلسل پیدا کرتا ہے جو پچھلے شعر میں تھا۔

لفظ فطرت یہاں نظم کے موضوع کے اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ لفظ ‘قدرت’ بھی یہاں پر استعمال کیا جا سکتا تھا، جو نیچر کو بیان کرنے کے لیے موزوں تھا۔ مگر لفظ فطرت سے ان چیزوں کی جبِلّت (اصل طبیعت، سرِشت یا خاصیت) اور پیدائشی مقاصد کی طرف یوں دھیان جاتا ہے جیسے وہ ایک خلق اور زندہ شے کے طور پر موجود ہیں۔ اس کی مزید وضاحت اگلے اشعار میں ہوگی-


موتی خوش رنگ، پیارے پیارے
یعنی ترے آنسوؤں کے تارے

مفہوم:

خوش رنگ اور پیارے پیارے موتی

جو کہ تیرے آنسووں کے تارے ہیں

تشریح:

اور اِن سب مناظرِ فطرت سے بڑھ کر حسین تیرے آنسوؤں کے موتی ہیں۔

تبصرہ:

نظم تنہائی کے پہلے شعر میں موجود غمزدگی، دوسرے اور تیسرے شعر میں موجود مظاہرِ قدرت کو اِس چوتھے شعر میں انسان کی آنکھوں سے نکلنے والے آنسوؤں کو یوں جوڑا گیا ہے جیسے وہ اسی قدرت کا حصہ ہوں۔

اس شعر میں ان دونوں کی خوبصورتی آپس میں ضم ہو جاتی ہیں۔ یہاں لفظِ فطرت کی بھی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ کیونکہ فطرت گو زندہ چیزوں کی ہوتی ہے، یہاں آنسو بہانے والا انسان اور باقی بے جان مناظرِ قدرت ایک ہی فطرت پر ہیں اور شعور کی ایک ہی سطح پر ہیں۔ پہلے شعر کے ساتھ اس کا موازنہ بہت خوبصورتی پیدا کرتا ہے۔

حزن اور غمزدگی آخر کار آنسوؤں کا روپ دھار لیتی ہیں۔ جبکہ وہ انجم جو کہیں ہم نشین تھے، جو روشنی دیتے تھے، رستہ دکھاتے تھے، اب اُن کی چمک آنسوؤں میں ہی جلوہ آرا ہے۔

لفظ پیارے پیارے یہاں ایک معصومیت اور بیگانگی کا عنصر دیتا ہے بجائے اِس کے کہ بیچارگی ظاہر کرے۔


کس شے کی تجھے ہوَس ہے اے دل!
قُدرت تری ہم نفَس ہے اے دل!

حلِ لغات:

ہوَسآرزو، خواہش، تمنّا
ہم نَفَسساتھ سانس لینے والی
حلِ لغات (بانگِ درا 82: تنہائی)

مفہوم:

اس سے زیادہ تجھے اور کیا چاہیے،اے دل

قدرت ہر دم، ہر سانس تیرے ساتھ ہے۔

تشریح:

اے دِل! اِن سب چیزوں کے باوجود تُو اِس قدر افسُردہ کیوں ہے؟ تُجھے آخر کس شے کی تمنّا ہے؟

تبصرہ:

بظاہر نظم تنہائی کا مرکزی خیال قدرت کی تعریف نظر آتا ہے اور اس نظم کو اکثر و بیشتر نیچر پویٹری میں شمار بھی کیا جاتا ہے۔ مگر غور کیا جائے تو یہاں شاعرانہ مکر کا استعمال ہے۔ بظاہر کہا جا رہا ہے کہ تم ان بلند و بالا اور ضخیم اجرام کے ساتھ ایک ہو، جب یہ اتنے بڑے اور عظیم ہیں، تو ان کے ساتھ ایک ہونے سے، ہم نَفَس ہونے سے، پھر تم بھی عظیم ہوئے۔

مگریاد رہے فطرت و قدرت تو ساری خوابیدہ، خاموش اور نسترن زار ہے، یعنی ایک کفن کے نیچے خاموش اور مردہ پڑی ہے۔ تو یوں تو آنسو خوبصورتی کے بجائے بے بسی کا اظہار کر رہے ہیں۔

نظم تنہائی کا یہ آخری شعر اقبالؔ کا انسان کی اس بے بسی پر طنز بھی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ جس سکوت، خاموشی اور اطمینان کو اقبالؔ بظاہر یہاں سراہتے نظر آتے ہے، اپنے باقی کلام میں وہ کبھی اس کے گرویدہ نہیں رہے (سوائے چند نظموں کے مثلاً ایک آرزو، ایک شام، رُخصت اے بزمِ جہاں)۔ وہ تو مسلسل جستجو، مشقت اور حرکت کے شاعر ہیں۔ بلبل کی آہ و زاریاں، آنسو (چاہے وہ موتیوں کی طرح خوبصورت اور بیش قیمت ہی کیوں نہ ہوں) اقبالؔ کی نظر میں ان کی کوئی قدر و منزلت نہیں رہی۔

شعر ملاحظہ ہو:-


؎ تری دُعا ہے کہ ہو تیری آرزو پوری
مری دُعا ہے تری آرزو بدل جائے!
(حوالہ: ضربِ کلیم)

اور

؎ خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کردے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
(حوالہ: ضربِ کلیم: طالب علم)

حوالہ جات

6 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
Rabia Batool

I am so satisfied

Jamil

This is great work!

~Sheen Hash

That’s some great work. I liked how simple you kept. I will suggest adding a section in the end that contain meaning of some of the meaning that are not commonly used in daily life. It can help the reader to either first read the meaning of these words before reading the whole blog for a smoother experience or read it at the end. However, they prefer it. Not everyone is equal. Just a suggestion. Overall, I loved it. That’s some great work you have going there. I’ll be looking forward to your next blog. Keep it up, I really appreciate and support your idea and your efforts to bring something like this to us. Have a great one!