Skip to content
بانگِ درا 76: کوششِ ناتمام

بانگِ درا 76: کوششِ ناتمام

نظم ”کوششِ ناتمام“ از علامہ اقبال

تعارف

بانگِ درا کی نظم کوششِ ناتمام میں علامہ اقبال نے یہ واضح کِیا ہے کہ زندگی مسلسل حرکت پر موقوف ہے۔

YouTube video

نظم ”کوششِ ناتمام“ کی تشریح

فُرقتِ آفتاب میں کھاتی ہے پیچ و تاب صُبح
چشمِ شفَق ہے خوں فشاں اخترِ شام کے لیے

بانگِ درا: کوشش ناتمام از علامہ اقبال

حلِ لغات:

الفاظمعنی
فُرقتجُدائی
آفتابسورج
پیچ و تاب کھانابے چین ہونا، کشمکش
چشمآنکھ
شَفَقطلوع اور غروبِ آفتاب کے وقت آسمان پر پھیلنے والی سُرخی
خوں فِشاںخوں رونے والی، خوں چھِڑکنے والی
اخترِ شامشام کا سِتارہ
(نظم ”کوششِ ناتمام“ از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح)

تشریح:

صبح کی روشنی سورج کی جدائی میں پیچ و تاب کھاتی ہے۔ شفق (شام کے وقت آسمان پر پھیلنے والی سُرخی) کی آنکھ شام کے تارے کی جُدائی میں خون کے آنسو روتی ہے


رہتی ہے قیسِ روز کو لیلیِ شام کی ہوس
اخترِ صبح مضطرب تابِ دوام کے لیے

بانگِ درا: کوشش ناتمام از علامہ اقبال

حلِ لغات:

الفاظمعنی
قیسمجنوں
ہَوَسشدید خواہش، آرزو، تمنّا
اخترِ صبحصبح کا سِتارہ
مضطرِببے قرار، بے چین
تابِ دَوَامہمیشہ چمکتے رہنا
(نظم ”کوششِ ناتمام“ از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح)

تشریح:

دن کے مجنوں کو شام کی لیلیٰ کی آرزو رہتی ہے یعنی دِن شام کا آرزو مند ہے۔ صبح کا ستارہ اس لیے بے قرار ہے کہ اُسے ہمیشہ کی چمک مل جائے۔ چونکہ صبح کا ستارہ بہت جلد غروب ہو جاتا ہے اِسی وجہ سے اُسے تابِ دوام (ہمیشہ قائم رہنے والی چمک) کے لیے مضطر کہا ہے۔


کہتا تھا قطبِ آسماں قافلۂ نجوم سے
ہمرہو، میں ترس گیا لُطفِ خرام کے لیے

بانگِ درا: کوشش ناتمام از علامہ اقبال

حلِ لغات:

الفاظمعنی
قُطبِ آسماںآسمان کا قطب نامی سِتارہ جو ہمیشہ ساکن اور ایک جگہ قائم رہتا ہے
نجومنجم کی جمع۔ مراد ستارے
ہمرہومراد ساتھیو
لُطفِ خِرامچلنے کی لذت
(نظم ”کوششِ ناتمام“ از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح)

تشریح:

قطب ستارہ، ستاروں کے قافلے سے کہہ رہا تھا کہ دوستو! میں تو چلنے کا لطف حاصل کرنے کے لیے ترس گیا ہوں۔ مراد یہ ہے کہ قطب ستارہ اپنی جگہ پر قائم رہتا ہے اور دوسرے ستاروں کی طرح گردِش نہیں کرتا، وہ چلنے کا مزہ لینا چاہتا ہے۔


سوتوں کو ندّیوں کا شوق، بحر کا ندّیوں کو عشق
موجۂ بحر کو تپش ماہِ تمام کے لیے

حلِ لغات:

الفاظمعنی
سوتوںسوت کی جمع۔ پانی کے چشمے، نالے
بحرسمندر
موجۂ بحرسمندر کی لہر
ماہِ تمامپورا چاند۔ چودھویں کا چاند
(نظم ”کوششِ ناتمام“ از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح)

تشریح:

سوتوں (نالوں) کو اِس بات کا شوق ہے کہ وہ ندیوں میں شامل ہو جائیں اور ندیاں سمندر میں شامل ہونے کے عشق میں مبتلا رہتی ہیں‘ جبکہ سمندر کی لہریں ماہِ کامل (چودھویں کے چاند) کے لیے تڑپتی اور بے قرار رہتی ہیں۔ سوتے ندیوں میں اور ندیاں سمندر میں شامل ہو جاتی ہیں۔ چودھویں کے چاند کی وجہ سے سمندر میں مدوجزر پیدا ہوتا ہے۔ لہروں کے ہِلتے رہنے کو تڑپ کہا ہے۔ یہ سب قدرت کا نظام ہے جو شروع سے چلا آ رہا ہے۔


حُسنِ ازل کہ پردۂ لالہ و گُل میں ہے نہاں
کہتے ہیں بے قرار ہے جلوۂ عام کے لیے

حلِ لغات:

الفاظمعنی
حُسنِ ازلخدا کا حُسن
نِہاںپوشیدہ، چھُپا ہوا
بے قراربے تاب، بے چین، مضطرِب
جلوۂ عاممراد کھُلا دیدار
(نظم ”کوششِ ناتمام“ از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح)

تشریح:

حُسنِ ازل (محبوبِ حقیقی کا حُسن / جلوہ جو کائنات کی ہر شے میں ہے) جو لالہ اور گُلاب کے پھولوں کے پردے میں پوشیدہ ہے‘ سُنا ہے کہ وہ اپنے عام نظارے کے لیے بے قرار ہے۔


رازِ حیات پُوچھ لے خِضرِ خجستہ گام سے
زندہ ہر ایک چیز ہے کوششِ نا تمام سے

حلِ لغات:

الفاظمعنی
رازِ حیاتزندگی کا راز
خضرؑایک روایتی پیغمبر جن کو آبِ حیات پینے کی بدولت حیاتِ ابدی حاصل ہو گئی
خجِستہ گاممبارک قدم رکھنے والا
کوششِ ناتمامنامکمل جدوجہد
(نظم ”کوششِ ناتمام“ از علامہ اقبال مع حلِ لغات و تشریح)

تشریح:

اے مخاطب! ان تمام باتوں کے باوجود اگر تُو زندگی کا راز پوچھنا چاہتا ہے تو مُبارک قدم (خجِستہ گام) والے خضرؑ سے پوچھ، وہ بتائیں گے کہ ہر چیز اُسی وقت تک زندہ ہے جب تک اُس کی کوشش ختم نہ ہو۔ جونہی کوشش ختم ہوگی زندگی کی بساط بھی لپٹی جائے گی۔ اِس نظم میں جدوجہد، حرکت اور کوشش کا سبق دِیا گیا ہے اور ثابت کِیا گیا ہے کہ کائنات کی ہر شے صرف تگ و دَو اور ایک دوسرے سے عشق کی بِنا پر زندہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت خضر نے آبِ حیات پِیا‘ جس کی وجہ سے وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ وہ کسی کو نظر نہیں آتے لیکن ہر وقت مصروفِ سفر رہتے ہیں (ملاحظہ ہو نظم خضرِ راہ) اور کسی نہ کسی صورت میں بھولے بھٹکے انسان کی رہنمائی اُن کا کام ہے۔

حوالہ جات

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments