نظم ”وِصال“ از علامہ اقبال
فہرست
تعارف
نظم ”وِصال“ علامہ اقبال نے 1908ء کے آغاز میں میونخ، واقع جرمنی میں لکھی تھی، جہاں سے انہوں نے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ یہ نظم عشق کی جستجو سے فنا تک کے سفر کا ایک شاہکار بیان ہے جس میں خالص تغزل کا رنگ پایا جاتا ہے۔ وِصال سے مراد محبوب سے ملاپ، اس کی قربت کا حصول ہے، لیکن یہاں علامہ اقبال نے وِصال کو محض ظاہری ملاپ کے بجائے ایک روحانی اور باطنی اتحاد کے طور پر پیش کیا ہے جہاں عاشق کی انفرادیت محبوب میں فنا ہو جاتی ہے۔ نظم دو واضح حصوں میں منقسم ہے۔ پہلا بند وِصال سے پہلے کی تڑپ اور بے قراری کا نقشہ کھینچتا ہے، جبکہ دوسرا بند وِصال کے بعد کی تبدیلی اور فنا کی کیفیت کو پیش کرتا ہے۔ نظم کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ دوہری تعبیر کی اجازت دیتی ہے۔ ایک سطح پر یہ انسانی محبت کی داستان ہے، دوسری سطح پر یہ صوفیانہ عشقِ حقیقی کا بیان ہے۔ علامہ نے بڑے دلکش انداز میں وارداتِ عاشقی کا بیان کیا ہے۔ یہ ایک گہری روحانی اور فلسفیانہ تخلیق ہے جو تلاش سے تکمیل تک، تڑپ سے سکون تک، اور انفرادیت سے فنا تک کے سفر کا نقشہ ہے۔ علامہ اقبال نے اس میں صوفیانہ فکر، فلسفیانہ گہرائی، اور شاعرانہ خوبصورتی کا ایسا امتزاج پیش کیا ہے جو اردو شاعری میں بہت نادِر ہے۔ نظم کا ہر شعر ایک مکمل تصویر ہے، اور پوری نظم مل کر عشق کی اعلیٰ ترین منزل یعنی فنا کی داستان بیان کرتی ہے۔
نظم ”وِصال“ کی تشریح
بند نمبر 1
جُستجو جس گُل کی تڑپاتی تھی اے بُلبل مجھے
خوبیِ قسمت سے آخر مِل گیا وہ گُل مجھے

حلِ لغات:
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| جستجو | تلاش |
| بلبل | مراد ہمدم، دوست |
| خوبیِ قسمت | اچھا نصیب |
| گُل | پھول۔ مراد محبوب، شاہدِ مطلق |
تشریح:
اِس شعر میں شاعر بلبل سے مخاطب ہو کر اپنی کیفیت بیان کرتا ہے۔ بلبل یہاں محض ایک پرندہ نہیں بلکہ عشق، تڑپ اور جستجو کی علامت ہے، جو گُل کی تلاش میں ہمیشہ بے قرار رہتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جس گُل کی جستجو نے اسے مدتوں بے چین رکھا تھا، وہ گُل آخرکار اسے نصیب ہو گیا۔ اس خطاب کے ذریعے شاعر اپنی بات کو ذاتی اعتراف کے بجائے ایک آفاقی تجربہ بنا دیتا ہے، گویا وہ عشق کی اُس فطری تڑپ (بلبل) کو گواہ بنا کر اپنے انجامِ جستجو کا ذکر کر رہا ہو۔
دوسرے مصرعے میں ”خوبیِ قسمت“ کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ حصول محض ذاتی کوشش کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک عطا، ایک نعمت اور ایک عنایت ہے جو اوپر سے ملتی ہے۔ یہاں گُل کا ”مِل جانا“ صرف ظاہری یا جسمانی وصال نہیں بلکہ اُس حقیقت تک رسائی ہے جس کی تلاش شاعر کو بے چین رکھتی تھی۔ ”آخر“ کا لفظ اُس طویل انتظار، اُس لمبے سفر، اور اس مسلسل کوشش کی طرف اشارہ ہے جو اس ملاپ سے پہلے سرزد ہوئی۔ گویا یہ فوری حصول نہیں بلکہ ایک صبر آزما عمل کے بعد ملنے والا انعام ہے۔ یوں یہ شعر عشق کے اُس مرحلے کو ظاہر کرتا ہے جہاں جستجو اپنے مقصد کو پا لیتی ہے، مگر اُس پانے میں غرور کے بجائے شکر اور تعجب کی کیفیت غالب رہتی ہے۔
خود تڑپتا تھا، چمن والوں کو تڑپاتا تھا میں
تجھ کو جب رنگیں نوا پاتا تھا، شرماتا تھا میں

حلِ لغات:
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| چمن | باغ |
| رنگیں نَوَا | خوش بیاں، اچھی آواز سے گانا |
تشریح:
اب شاعر وِصال سے پہلے کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وِصال سے پہلے میں خود بھی تڑپتا تھا اور میری بے قراری، میری آہ و فغاں دوسروں میں بھی بے چینی پیدا کر دیتی تھی۔ یہ عاشق کی وہ کیفیت ہے جب اُس کا غم اتنا شدید ہوتا ہے کہ سننے والے بھی متاثر ہو جاتے ہیں، اس کی محرومی دیکھ کر دوسرے بھی دکھی ہو جاتے ہیں۔ یہاں ”چمن والے“ وہ لوگ ہیں جو اُس کے گرد و پیش میں ہیں، جو اس کی کیفیات کے گواہ ہیں۔ شاعر کا یہ کہنا کہ وہ دوسروں کو تڑپاتا تھا، عشق کے درد کی شِدت اور ِاظہار کی قوت دونوں کو ظاہر کرتا ہے۔
اے بلبل! جب میں تجھے رنگین آواز، خوبصورت نوا پاتا تھا، تو شرمندہ ہو جاتا تھا۔ یہاں بلبل کی ”رنگیں نوا“ سے مراد اُس کا بے ساختہ، خوبصورت، اور کامل گیت ہے۔ شاعر کہہ رہا ہے کہ جب وہ بلبل کی پُرسوز آواز سنتا تھا، جو عشق میں اتنی مکمل اور کامل تھی، تو اُسے اپنی ناکافی آواز پر شرم آتی تھی۔ ”شرماتا تھا مَیں“ میں ایک تواضع ہے، ایک احساس کہ میری محبت ابھی اس مقام پر نہیں پہنچی جہاں بلبل کی محبت ہے۔ یہ وصال سے پہلے کی وہ کیفیت ہے جب عاشق اپنے آپ کو ناکافی، نامکمل، اور کمزور محسوس کرتا ہے۔ یہ دونوں مصرعے مل کر ایک ایسے عاشق کی تصویر بناتے ہیں جو ایک طرف اپنے درد کی شدت سے خود بھی تڑپ رہا ہے اور دوسروں کو بھی تڑپا رہا ہے، لیکن دوسری طرف اپنی محبت کی ناکافی ہونے پر شرمسار بھی ہے۔
میرے پہلو میں دلِ مضطر نہ تھا، سیماب تھا
ارتکابِ جُرمِ الفت کے لیے بے تاب تھا

حلِ لغات:
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| پہلو | مراد سینہ |
| دِلِ مضطر | بے تاب دِل |
| اِرتکاب | کسی کام کو عمل میں لانا |
| جُرمِ اُلفت | محبت کرنے کا جرم |
| بے تاب | بے چین، بے قرار، مضطرب |
تشریح:
اِس شعر میں بھی وِصال سے پہلے کی کیفیت بیان ہوئی ہے۔ فرماتے ہیں کہ اُس وقت میرے سینے میں محض مضطرب دل نہیں تھا بلکہ سیماب تھا۔”مضطر“ کا مطلب ہے بے چین، لیکن شاعر اس لفظ کو مسترد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ نہیں، یہ محض اضطراب نہیں تھا، بلکہ”سیماب“ تھا۔ سیماب یعنی پارا (mercury) جو ایک ایسی دھات ہے جو کبھی ساکن نہیں رہتی، ہمہ وقت حرکت میں رہتی ہے، ایک جگہ ٹھہرتی نہیں۔ یہ تشبیہ بے قراری کی انتہائی شدید صورت کو ظاہر کرتی ہے – ایسا دل جو ایک لمحے کے لیے بھی سکون نہیں پاتا، جو مسلسل تڑپ رہا ہو، جھٹکے کھا رہا ہو۔ یہ محض ذہنی بے چینی نہیں بلکہ جسمانی اور روحانی دونوں سطحوں پر ایک ایسی حالت ہے جس میں کوئی قرار نہیں۔ شاعر نے ”نہ تھا“ کے بعد ”سیماب تھا“ کہہ کر ایک gradation دکھایا ہے – گویا کہہ رہا ہے کہ اضطراب تو معمولی لفظ ہے، حقیقت اس سے کہیں زیادہ شدید تھی۔
دوسرے مصرعے میں اِس بے قراری کی وجہ بیان ہوتی ہے۔ ”ارتکابِ جُرمِ الفت کے لیے بے تاب تھا“۔ یہاں ”جرم“ کا لفظ نہایت اہم ہے۔ محبت کو ”جرم“ کہنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عشق معاشرے کی نظر میں، دنیا کی نظر میں، یا شاید خود اپنی نظر میں ایک ممنوع، خطرناک، اور جرأت کا کام ہے۔ لیکن شاعر کا دل اُس ”جرم“ کے ارتکاب کے لیے ”بے تاب“ تھا- یعنی اُسے کوئی پرواہ نہیں تھی کہ یہ جرم ہے، وہ اسے کرنے کے لیے بے صبر تھا۔ ”بے تاب“ میں ایک جوش، ایک بے قابو پن، ایک ایسی شدت ہے جو رکاوٹوں کی پرواہ نہیں کرتی۔ یہ وہی دل ہے جو سیماب کی طرح ہر لمحہ حرکت میں تھا، اور اُس کی حرکت کی سمت صرف ایک تھی یعنی محبت کا ”جرم“ کر گزرنا۔ اِس شعر میں ماضی کے تمام افعال (”تھا“) واضح کرتے ہیں کہ یہ وصال سے پہلے کی حالت ہے، جب دل میں طوفان تھا، جب صبر ممکن نہیں تھا، جب عشق کی آگ نے سکون کو جلا ڈالا۔
نامرادی محفلِ گُل میں مری مشہور تھی
صُبح میری آئنہ دارِ شبِ دیجور تھی

حلِ لغات:
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| نامُرادی | ناکامی، محرومی |
| محفلِ گُل | پھولوں کی محفل |
| آئینہ دار | عکس دِکھانے والی |
| شبِ دیجور | اندھیری رات |
تشریح:
یہ شعر بھی وصال سےس پہلے کے ماضی کی اُس تلخ حقیقت کو بیان کرتا ہے جب شاعر کو وصال نصیب نہیں ہوا تھا اور وہ مسلسل ناکامی کا شکار تھا۔ پہلے مصرعے میں ”نامرادی محفلِ گُل میں مری مشہور تھی“، یعنی گُلستان میں، محبت کی محفل میں، عشاق کی جماعت میں میری پہچان صرف یہ تھی کہ میں نامراد ہوں، مجھے کامیابی نہیں ملی۔ ”محفلِ گُل“ سے مراد محبت کی دنیا ہے، جہاں عاشق اور معشوق موجود ہیں، اور اِس محفل میں شاعر کا مقام ایک ناکام، محروم عاشق کا تھا۔ یہ محض ذاتی احساس نہیں بلکہ ایک عوامی پہچان بن چُکی تھی اور لوگ اُسے نامرادی کی وجہ سے جانتے تھے۔
دوسرے مصرعے میں ”صُبح میری آئنہ دارِ شبِ دیجور تھی“ ایک بہت گہرا اور تلخ استعارہ ہے۔ ”شبِ دیجور“ کا مطلب ہے تاریک، اندھیری، بے نور رات، ایسی رات جس میں کوئی روشنی نہیں، کوئی امید نہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ میری صبح اس تاریک رات کا آئینہ تھی، یعنی میری صبح بھی رات کی طرح تاریک تھی، میری امید بھی مایوسی سے بھری ہوئی تھی۔ ”آئنہ دار“ کا مطلب ہے عکس دکھانے والا، گویا میری نئی صبح، میرا نیا دن بھی اُسی پرانی تاریکی کی تصویر تھا۔ یہ ایک paradox ہے کیونکہ صبح تو روشنی کا وقت ہوتا ہے، امید کا وقت ہوتا ہے، لیکن شاعر کی صبح میں بھی رات کا اندھیرا موجود تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی تبدیلی نہیں آتی تھی، ہر نیا دن پرانی مایوسی کو دہراتا تھا، ہر نئی امید ٹوٹ جاتی تھی۔ یہ شعر مل کر ایک مکمل تصویر بناتا ہے اُس ماضی کی جب شاعر نامراد تھا، جب اس کی زندگی میں امید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی تھی۔
از نفَس در سینۂ خوں گشتہ نشتر داشتم
زیرِ خاموشی نہاں غوغائے محشر داشتم

حلِ لغات:
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| نَفَس | سانس |
| خوں گشتہ | خون آلود |
| نشتر | خنجر، کانٹا، نیزہ |
| داشتم | مَیں رکھتا ہوں |
| نہاں | چھُپا ہوا |
| غوغا | شور، ہنگامہ |
| محشر | قیامت |
تشریح:
یہ شعر پہلے بند کا اختتامیہ ہے جو وصال سے پہلے کی انتہائی تکلیف دہ کیفیت کو بیان کرتا ہے۔ یہ مکمل طور پر فارسی میں ہے جو اس کیفیت کی شدت اور گہرائی کو مزید اُجاگر کرتا ہے۔ پہلے مصرعے میں ”از نفَس در سینۂ خوں گشتہ نشتر داشتم“ سے مراد ہے کہ ” میرے زخمی دل پر ہر سانس نِشتر کی طرح لگتی تھی“، یہاں ”نشتر“ سے مراد ہے کانٹا، یا نیزہ۔۔ جو سینے میں چُبھا ہوا ہے۔ لیکن یہ معمولی کانٹا نہیں، یہ ”خوں گشتہ“ ہے یعنی خون میں بھیگ گیا ہے۔ ”از نفَس“ یعنی سانس لینے سے، یہ بتاتا ہے کہ ہر سانس تکلیف کا باعث تھی، ہر لمحہ درد تھا۔ سانس لینا جو زندگی کی علامت ہے، وہ بھی عذاب بن گیا تھا۔ یہ عشق کے زخم کی تصویر ہے جو اتنا گہرا ہے کہ وہ سینے میں خون آلود کانٹے کی طرح ہے، اور ہر سانس اُسے مزید چبھوتی ہے۔ یہ محض جذباتی تکلیف نہیں بلکہ جسمانی اور روحانی دونوں سطحوں پر ایک دائمی زخم ہے جس سے نجات نہیں، جو ہر لمحے یاد دلاتا ہے کہ محبوب نہیں ملا۔
دوسرے مصرعے میں ”زیرِ خاموشی نہاں غوغائے محشر داشتم“ کا ترجمہ ہے: ”میری خاموشی میں قیامت کا شور چھُپا ہوا تھا“۔ یہاں ایک شدید تضاد ہے، باہر خاموشی ہے، لیکن اندر ”غوغائے محشر“ یعنی قیامت کا شور و غل، ہنگامہ، طوفان۔ باہر سے شاعر خاموش دکھائی دیتا تھا، لیکن اندر ایک طوفان برپا تھا، ایک ایسا ہنگامہ جو قیامت کے دن کے شور سے کم نہیں۔ یہ عشق کی وہ کیفیت ہے جب انسان باہر سے سنبھلا ہوا، خاموش دکھائی دیتا ہے، لیکن اندر سے ٹوٹ رہا ہوتا ہے، تڑپ رہا ہوتا ہے۔ یہ دونوں مصرعے مل کر پہلے بند کی تمام بے چینی، تمام تڑپ، تمام درد کو ایک نقطے پر لے آتے ہیں – سینے میں خون آلود کانٹا اور دل میں قیامت کا شور۔ یہ وصال سے پہلے کی انتہائی کیفیت ہے۔
بند نمبر 2
اب تاثّر کے جہاں میں وہ پریشانی نہیں
اہلِ گُلشن پر گراں میری غزل خوانی نہیں

حلِ لغات:
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| تاثر | اثر، اثر قبول کرنا |
| پریشانی | فکرمندی، اِنتشار |
| اہلِ گُلشن | باغ کے لوگ |
| گِراں | بھاری، ناگَوَار |
| غزل خوانی | غزل پڑھنا، گانا |
تشریح:
یہ شعر دوسرے بند کا آغاز ہے اور یہاں ”اب“ کا لفظ ایک واضح موڑ، ایک بڑی تبدیلی کا اعلان ہے۔ یہ وصال کے بعد کی کیفیت کا بیان ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اب جذبات اور احساسات کی دنیا میں وہ بے چینی، وہ اضطراب، وہ بے قراری نہیں رہی جو پہلے تھی۔ ”تاثّر“ سے مراد جذباتی کیفیات، احساسات اور تاثرات کی دنیا ہے۔ ”وہ پریشانی“ سے اشارہ ہے پہلے بند میں بیان کی گئی اُس شدید بے چینی کی طرف۔۔ وہ سیماب کی طرح تڑپتا دل، وہ جرمِ الفت کے لیے بے تابی، وہ نامرادی۔ ”نہیں“ کی نفی بتاتی ہے کہ اب سکون آ گیا ہے، اب وہ طوفان تھم گیا ہے۔ لیکن یہ محض خاموشی یا موت کا سکون نہیں، بلکہ تکمیل کا سکون ہے۔ جب منزل مل جائے تو بے قراری خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔ اب جذبات میں ایک توازن ہے، ایک اطمینان ہے، کیونکہ جو چیز تڑپاتی تھی وہ مِل گئی۔
دوسرے مصرعے میں ایک اور اہم تبدیلی کا اظہار ہے۔ پہلے شاعر ”چمن والوں کو تڑپاتا تھا“، اپنی رنگیں نوا پر ”شرماتا تھا“، اور اُس کی ”نامرادی مشہور تھی“۔ لیکن اب صورتِحال بدل گئی ہے۔ اب گلشن کے لوگوں پر، محبت کی محفل والوں پر اُس کی غزل خوانی ناگوَار نہیں گزرتی۔ پہلے شاید اُس کا نوحہ، اُس کی آہ و فغاں، اُس کی شکایت سننے والوں کے لیے تکلیف دہ تھی کیونکہ وہ محرومی کی داستان تھی۔ لیکن اب جب وصال ہو گیا تو اس کی غزل خوانی میں وہ شکوہ نہیں، وہ تلخی نہیں، وہ بے چینی نہیں، بلکہ شاید ایک خوشی، ایک کامیابی، ایک تکمیل کا اظہار ہے جو سننے والوں کے لیے قابلِ قبول ہے۔ یہ دونوں مصرعے مل کر بتاتے ہیں کہ وصال کے بعد شاعر کی داخلی اور خارجی دونوں دنیاؤں میں تبدیلی آ گئی ہے۔ اندر سکون ہے اور باہر قبولیت۔
عشق کی گرمی سے شُعلے بن گئے چھالے مرے
کھیلتے ہیں بجلیوں کے ساتھ اب نالے مرے

حلِ لغات:
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| چھالا | آبلہ |
| نالہ | فریاد، رونا |
تشریح:
یہ شعر وِصال کے بعد کی ایک حیرت انگیز تبدیلی کو بیان کرتا ہے۔ یہ محض سکون کا بیان نہیں بلکہ ایک نئی قوت، ایک نئی توانائی کا اظہار ہے۔ عاشق کے جو زخم تھے، جو چھالے تھے، جو تڑپ اور درد کے نشان تھے، وہ اب شعلے بن گئے ہیں۔”چھالے“ عشق کی آگ سے جلنے کے نشان ہیں، یہ وہ زخم ہیں جو محبت کی تپش نے دیے تھے، یہ تکلیف کی علامتیں تھیں۔ لیکن ”شُعلے بن گئے“ کہہ کر شاعر ایک حیرت انگیز تبدیلی دکھا رہا ہے۔ وہ زخم جو کمزوری تھے، اب طاقت بن گئے ہیں۔ وہ درد جو تکلیف تھا، اب نور اور توانائی کا سرچشمہ بن گیا ہے۔ شعلے صرف جلاتے نہیں بلکہ روشنی بھی دیتے ہیں، توانائی بھی۔ یہ ایک transformation ہے۔ جب عشق اپنی تکمیل کو پہنچتا ہے تو زخم بھی برکت بن جاتے ہیں، درد بھی طاقت میں بدل جاتا ہے۔
دوسرے مصرعے میں”اب“ کا لفظ پھر موجود ہے جو ماضی سے موازنہ کرا رہا ہے۔ پہلے وہ نالے تھے جو تڑپ اور درد کا اظہار تھے، کمزوری اور بے بسی کی آواز تھے۔ لیکن اب وہ نالے بجلیوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ ”بجلی“ انتہائی طاقتور، خطرناک، اور تیز رفتار قوت کی علامت ہے۔ اور ”کھیلنا“ ایک آزادی، ایک بے خوفی، ایک mastery کو ظاہر کرتا ہے۔ گویا شاعر کہہ رہا ہے کہ میری آہ اور فریاد اب کمزوری کی نشانی نہیں بلکہ اتنی طاقتور ہو گئی ہے کہ بجلی جیسی خطرناک چیز کے ساتھ کھیل سکتی ہے۔ یہ خوف سے آزادی ہے، یہ کمزوری سے طاقت میں تبدیلی ہے۔ یہ دونوں مصرعے مل کر یہ بتاتے ہیں کہ وصال کے بعد شاعر کی کیفیت میں صرف سکون نہیں آیا بلکہ ایک نئی، زبردست، الہٰی قوت آ گئی ہے – زخم نور بن گئے، کمزوری طاقت بن گئی، خوف بے خوفی میں بدل گیا۔
غازۂ اُلفت سے یہ خاکِ سیہ آئینہ ہے
اور آئینے میں عکسِ ہمدمِ دیرینہ ہے

حلِ لغات:
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| غازہ | سُرخی پاؤڈر، اُبٹن |
| اُلفت | محبت |
| خاکِ سیہ | کالی مٹی۔ مراد جسمِ مادی |
| آئینہ ہونا | مراد بہت صاف شفاف ہونا |
| ہمدمِ دیرینہ | پرانا ساتھی، قدیم دوست |
تشریح:
یہ شعر نظم کے سب سے اہم اور گہرے شعروں میں سے ایک ہے جو وصال کی حقیقی نوعیت کو بیان کرتا ہے۔ ”غازہ“ ایک خاص قسم کی مٹی یا پاؤڈر ہے جسے آئینے کو صاف کرنے، چمکانے اور جلا دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ”غازۂ الفت“ یعنی محبت کی صفائی، محبت کی جھاڑ پونچھ۔ شاعر کہہ رہا ہے کہ محبت نے میری ”خاکِ سیہ“ یعنی سیاہ مٹی، میری حقیر، تاریک ذات کو صاف کر کے آئینہ بنا دیا ہے۔ یہ ایک حیرت انگیز تبدیلی ہے، جو چیز مٹی تھی، تاریک تھی، وہ اب آئینہ بن گئی، چمکدار بن گئی، صاف بن گئی۔ یہاں شاعر اپنی ذات کو ”خاکِ سیہ“ کہہ رہا ہے جو تواضع بھی ہے اور حقیقت کا اعتراف بھی کہ انسانی ذات اصل میں مٹی ہے، ناقص ہے، تاریک ہے۔ لیکن محبت کی تطہیر نے اُسے بدل دیا، اُسے ایک ایسی سطح بنا دیا جو عکس دِکھا سکے۔
دوسرے مصرعے میں اصل رمز کھُلتا ہے۔ جب دِل آئینہ بن گیا تو اُس میں ”ہمدمِ دیرینہ“ یعنی قدیم ساتھی، ازلی رفیق کا عکس نظر آنے لگا۔ یہاں ”ہمدمِ دیرینہ“ سے مراد وہ محبوب ہے جس کا رشتہ ازل سے ہے، یہ صوفیانہ تصور ہے کہ روح اور خدا کا رشتہ ازلی ہے، ”الستُ بربّکم“ کے عہد سے ہے۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ محبوب خود براہ راست موجود نہیں، بلکہ ”عکس“ ہے، یعنی شاعر کی اپنی ذات میں، اُس کے اپنے آئینے میں محبوب کی تصویر نظر آ رہی ہے۔ یہ وصال کی وہ کیفیت ہے جہاں محبوب کو باہر تلاش کرنے کی ضرورت نہیں رہتی، وہ اندر مل جاتا ہے۔ جب دل صاف ہو جائے، گردوغبار دھُل جائے، تو اس میں محبوب کا عکس جھلکنے لگتا ہے۔ یہ دونوں مصرعے مل کر صوفیانہ وحدت کا بیان ہیں۔ عاشق خود آئینہ بن جاتا ہے اور معشوق اُس میں جھلکتا ہے، دونوں الگ نہیں رہتے۔
قید میں آیا تو حاصل مجھ کو آزادی ہوئی
دل کے لُٹ جانے سے میرے گھر کی آبادی ہوئی

حلِ لغات:
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| حاصل ہونا | مِلنا |
| دِل کا لُٹ جانا | کسی سے محبت ہو جانا |
تشریح:
یہ شعر عشق کے paradoxes کا، اُس کی الٹی منطق کا شاندار بیان ہے۔
پہلے مصرعے میں ”قید میں آیا تو حاصل مجھ کو آزادی ہوئی“ ایک ایسا تضاد ہے جو عقل کو حیران کر دے۔ قید اور آزادی ایک دوسرے کی ضد ہیں، لیکن شاعر کہتا ہے کہ جب میں قید میں آیا تب مجھے آزادی ملی۔ ”قید“ سے مراد عشق کی قید ہے، محبوب کی محبت میں جکڑ جانا، اپنی مرضی کو اُس کی مرضی کے تابع کر دینا۔ یہ ایک رضاکارانہ قید ہے، ایک خوشی سے قبول کی گئی پابندی ہے۔ لیکن اس قید میں ”آزادی“ کیسے ہے؟ یہ صوفیانہ تصور ہے کہ جب انسان اپنی خواہشات کی غلامی سے نکل کر محبوبِ حقیقی کی بندگی میں آ جاتا ہے تو اصل آزادی ملتی ہے۔ جب تک انسان اپنے نفس کا غلام ہے، اپنی خواہشات کا اسیر ہے، تب تک وہ آزاد نہیں، لیکن جب وہ عشق کی قید میں آ جاتا ہے، جب وہ اپنی مرضی کو ترک کر دیتا ہے، تب حقیقی آزادی ملتی ہے۔ نفس کی غلامی سے آزادی، خواہشات کی قید سے آزادی۔
دوسرے مصرعے میں ”دل کے لُٹ جانے سے میرے گھر کی آبادی ہوئی“ ایک اور حیرت انگیز paradox ہے۔ ”لُٹ جانا“ تباہی ہے، نقصان ہے، ختم ہو جانا ہے، لیکن شاعر کہتا ہے کہ میرا دل لُٹ گیا تو میرا گھر آباد ہو گیا۔ یہاں ”دل کا لُٹنا“ سے مراد ہے دل کا مکمل طور پر محبوب کو دے دینا، اپنے آپ کو فنا کر دینا، اپنی ہستی کو قربان کر دینا۔ اور ”گھر کی آبادی“ سے مراد ہے دل کا بھر جانا، سکون ملنا، حقیقی خوشی حاصل ہونا۔ جب تک دل اپنی ملکیت میں تھا، اپنی مرضی سے چلتا تھا، تب تک خالی تھا، ویران تھا لیکن جب اُسے محبوب کے حوالے کر دیا، جب اسے ”لُٹا“ دیا، تب وہ بھر گیا، آباد ہو گیا۔ یہ دونوں مصرعے مل کر عشق کی اُس اعلیٰ منطق کو بیان کرتے ہیں جہاں ہار جیت بن جاتی ہے، نقصان نفع بن جاتا ہے، قید آزادی بن جاتی ہے – کیونکہ جب انسان اپنے آپ کو کھو دیتا ہے تو اصل میں اپنے آپ کو پا لیتا ہے، جب محبوب میں فنا ہو جاتا ہے تو بقا حاصل کر لیتا ہے۔
ضَو سے اس خورشید کی اختر مرا تابندہ ہے
چاندنی جس کے غبارِ راہ سے شرمندہ ہے

حلِ لغات:
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| ضَو | روشنی |
| خورشید | سورج۔ مراد محبوبِ حقیقی |
| اختر | ستارہ۔ مراد دِل |
| تابِندہ | روشن، چمکدار |
| غبارِ راہ | راستے کی گرد/خاک |
تشریح:
یہ شعر محبوب کی عظمت اور اُس کی روشنی سے شاعر کی ذات کی منور ہونے کی تصویر کشی کرتا ہے۔
پہلے مصرعے میں ”ضَو“ کا مطلب ہے روشنی، چمک، تابانی، ”خورشید“ یعنی سورج محبوب کی علامت ہے: وہ ذاتِ کامل جو خود روشنی کا سرچشمہ ہے اور ”اختر“ یعنی ستارہ خود شاعر کی ذات ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ میرا ستارہ، میری ذات اُس سورج کی روشنی سے چمک رہا ہے، تابندہ ہے۔ گویا شاعر تواضع سے کہہ رہا ہے کہ میری اپنی کوئی روشنی نہیں، میری اپنی کوئی قابلیت نہیں، مَیں جو کچھ میں ہوں، جو چمک میرے اندر ہے، وہ سب محبوب کی روشنی کی عطا ہے۔ میں خود تو تاریک تھا، لیکن اُس کے نور نے مجھے روشن کر دیا۔ یہ صوفیانہ تصور ہے کہ بندے کی اپنی کوئی حقیقت نہیں، جو کُچھ ہے خدا کی عطا ہے۔
”چاندنی جس کے غبارِ راہ سے شرمندہ ہے“ محبوب کی عظمت کو اور بھی بلند کر دیتا ہے۔ ”غبارِ راہ“ یعنی راستے کی گرد و غبار، دھول: یہ حقیر ترین چیز ہے، جسے لوگ پاؤں تلے روندتے ہیں۔ لیکن شاعر کہتا ہے کہ اُس خورشید (محبوب) کے راستے کی دھول بھی اتنی روشن ہے، اتنی پاکیزہ ہے کہ ”چاندنی“ جیسی خوبصورت اور روشن چیز بھی اُس سے شرمندہ ہو جاتی ہے۔ چاندنی کو عام طور پر خوبصورتی، پاکیزگی اور نرم روشنی کی علامت سمجھا جاتا ہے، لیکن شاعر کہتا ہے کہ میرے محبوب کے قدموں کی دھول بھی چاندنی سے زیادہ روشن اور پاکیزہ ہے۔ یہ محبوب کی انتہائی بلند مرتبت کا بیان ہے – اُس کی ہر چیز، حتیٰ کہ اُس کی راہ کی گرد بھی دنیا کی بہترین چیزوں سے بہتر ہے۔ یہ دونوں مصرعے مل کر یہ بتاتے ہیں کہ شاعر کی تمام روشنی، تمام عظمت، تمام خوبی محبوب کی عطا ہے، اور محبوب کی ذات اتنی عظیم ہے کہ اُس کی ادنیٰ سے ادنیٰ چیز بھی دنیا کی بہترین چیزوں سے افضل ہے۔
یک نظر کردی و آدابِ فنا آموختی
اے خُنک روزے کہ خاشاکِ مرا واسوختی

حلِ لغات:
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| یَک | ایک |
| کردی | کی |
| آدابِ فنا | فنا کے آداب / طریقے / اصول |
| آموختی | سِکھا دیے |
| خُنک | ٹھنڈا |
| روزے | دِن |
| کہ | جو |
| خاشاک | تِنکے، خس و خاشاک |
| واسوختی | جلا دیے، راکھ کر دیے |
تشریح:
یہ علامہ اقبال کی اس نظم کا اختتامیہ شعر ہے جو وصال کی انتہائی منزل، یعنی فنا کو بیان کرتا ہے۔ پہلے مصرعے میں فارسی ترکیب کا مطلب ہے ”تُو نے ایک نظر ڈالی اور (مجھے) فنا کے آداب سکھا دیے“۔ ”یک نظر“ یعنی صرف ایک نظر، ایک جھلک، ایک لمحاتی ملاقات، لیکن یہ معمولی نظر نہیں بلکہ وہ نظر ہے جو زندگی بدل دے، جو تبدیلی لے آئے۔ محبوب کی ایک نظر کافی تھی، اس کے علاوہ کچھ درکار نہیں تھا۔ ”آدابِ فنا“ بہت اہم اصطلاح ہے،”فنا“ یعنی اپنی ہستی کا مٹ جانا، اپنے وجود کا ختم ہو جانا اور ”آداب“ یعنی طریقے، اصول، سلیقے۔ گویا محبوب نے ایک نظر سے یہ سکھا دیا کہ کیسے مٹنا ہے، کیسے فنا ہونا ہے، کیسے اپنے آپ کو کھو دینا ہے۔ یہ صوفیانہ تصور کی اعلیٰ ترین منزل ہے۔
دوسرے مصرعے میں فارسی ترکیب سے مراد ہے ”وہ دن کس قدر مبارک تھا جب تیرے عشق کی آگ نے میرے جسم کے خاشاک کو جلا کر راکھ کر دِیا“، ”خاشاک“ یعنی تِنکا، گھاس پھوس، ایک حقیر اور بے وقعت چیز، جو ہوا کے جھونکے سے اُڑ جاتا ہے اور ”واسوختی“ یعنی ”تُو نے جلا دیا“، ”تُو نے بھسم کر ڈالا“، یہ فنا کی تکمیل ہے۔ یہ تباہی نہیں، یہ شکایت نہیں، بلکہ یہ شکر گزاری ہے۔ خاشاک، جو کبھی بے قدر اور بے جان تھی، اب آگ کے اثر سے جل گئی ہے، یعنی ماضی کی کجی، اضطراب اور بے قراری فنا ہو گئی اور باقی صرف روشنی، سکون اور تابندگی ہے۔ شاعر خوش ہے کہ اُس کی حقیر ذات جل گئی، ختم ہو گئی، کیونکہ یہی وصال کی حقیقت ہے۔ یہ دونوں مصرعے مل کر پوری نظم کا نچوڑ بن جاتے ہیں – عشق کا سفر جستجو سے شروع ہوا، تڑپ سے گزرا، اور فنا پر ختم ہوا، جہاں عاشق کا اپنا وجود ختم ہو گیا اور وہ محبوب میں ضم ہو گیا۔ یوں یہ اشعار وصال کے بعد کی تکمیل اور فنا کی خوشی کو جامع اور مؤثر انداز میں پیش کرتے ہیں۔
حوالہ جات
- شرح بانگِ درا از پروفیسر یوسف سلیم چشتی
- شرح بانگِ درا از ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی
- شرح بانگِ درا ا ڈاکٹر شفیق احمد
- شرح بانگِ درا از اسرار زیدی
- شرح بانگِ درا از پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی
- مطالبِ بانگِ درا از مولانا غلام رسول مہر
- آوازِ اقبال – بانگِ درا مع مطالب از نریش کمار شادؔ






