Skip to content
Home » ضربِ کلیم 6: تن بہ تقدیر

ضربِ کلیم 6: تن بہ تقدیر

”تن بہ تقدیر“ از علامہ اقبال

تعارف

ضربِ کلیم کی نظم ”تن بہ تقدیر“ میں علامہ اقبال نے مسلمانوں کے رہبانہ طرزِ زندگی کو موضوع بنانے کے ساتھ ساتھ اس کے اسباب سے روشناس فرمایا ہے۔

نظم ”تن بہ تقدیر“ کی تشریح

اسی قُرآں میں ہے اب ترکِ جہاں کی تعلیم
جس نے مومن کو بنایا مہ و پرویں کا امیر

حلِ لغات:

ترکِ جہاںدُنیا چھوڑ دینا، یعنی دُنیا سے الگ تھلگ زندگی بسر کرنا۔ رہبانیّت
مہ و پروینچاند اور ثریّا یا ستارے
حلِ لغات (ضربِ کلیم 6: تن بہ تقدیر)

تشریح:

وہ قرآن جس نے مسلمانوں کو چاند اور ستاروں کا راہبر بنایا تھا یعنی قرآن پر عمل کی بدولت مسلمان علوم و فنون میں اس قدر آگے تھا کہ چاند ستارے (مہ و پروین) جب سفر شروع کرتے تو اُن کی نگاہ اِن کی منزلوں پر ہوتی تھی۔ لیکن آج کے مسلمانوں نے اپنی غلط تاویلوں سے قرآن سے ایسے معانی اخذ کرنے شروع کر دیے ہیں جن سے مُراد دنیا ترک کرنا تھا۔

واضح رہے کہ قرآن مجید نے مسلمانوں کو ایمان کے ساتھ، عملِ صالح، جد و جہد، سعیِ پیہم اور جہاد کا حُکم دیا تھا۔ چنانچہ اس تعلیم کی بدولت مسلمان دنیا میں حُکمران بن گئے، لیکن غیر اسلامی تصوّف کے زیرِ اثر آکر مسلمانوں نے قرآنی تعلیمات کو پسِ پُشت ڈال دیا اور ترکِ دُنیا کا غلط اصول اختیار کر لیا۔ حالانکہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ پہلے دُنیا کو فتح کرو، تاکہ اسلامی نظامِ حکومت قائم ہو سکے، پھر دنیا اور اُس کی لذت کو اللہ کی خوشنودی کے لیے قربان کردو۔ چنانچہ فاروقِ اعظمؓ کی سطوَت کے سامنے قیصر و کسریٰ لرزہ براندام تھے لیکن آپؓ پیوند لگی ہوئی قمیض پہنتے تھے اور چٹائی پر سوتے تھے۔


’تن بہ تقدیر‘ ہے آج اُن کے عمل کا انداز
تھی نہاں جن کے ارادوں میں خدا کی تقدیر

حلِ لغات:

تن بہ تقدیرتقدیر کے غلط مفہوم پر یقین کر کے کُچھ نہ کرنا، اللہ کے کیے پر راضی رہنا کہ جو کُچھ ہوگا، ہو جائے گا، ہمیں عمل کرنے کی ضرورت نہیں
نہاںپوشیدہ، چھُپی ہوئی
حلِ لغات (ضربِ کلیم 6: تن بہ تقدیر)

تشریح:

ایک زمانہ تھا، جب مسلمان، اللہ کے لیے زندگی بسر کرتے تھے اور اس کا صِلہ اُنہیں اللہ نے یہ دیا تھا کہ ان کے ارادوں میں مشیتِ ایزدی (اللہ تعالی کی مرضی) پوشیدہ تھی، یعنی وہ جس طرف نکل جاتے تھے، تائیدِ ایزدی (اللہ کی مدد) اُن کے ساتھ ہوتی تھی۔ ان کی قوتِ عمل سے نظامِ کائنات میں وہ تبدیلیاں ظہور پذیر ہوتی تھیں جنہیں واقعی خدا تبدیل کرنا چاہتا تھا اور خدا کے پروگرام میں شامل تھیں، گویا خدا کے پروگرام کو عملی جامہ پہنانے والے مسلمان ہی تھے اور خدا کی تقدیر ان کے ارادوں سے ثابت ہوتی تھی۔ لیکن جب مسلمانوں نے احکامِ الہی سے روگردانی کرلی تو اللہ نے بھی اُن کو بھلا دیا۔ اور آج ان کی حالت یہ ہے کہ عملِ صالح سے کنارہ کرکے، تقدیر پر بھروسہ کیے بیٹھے ہیں، حالانکہ خدا کی تقدیر یعنی اس کا قانون ہے کہ وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ یعنی انسان کو اللہ وہی عطا کرتا ہے، جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے۔ چنانچہ اسی مضمون کو اقبالؔ نے ایک جگہ یوں ادا کیا ہے:-

؎ عزم او خلاق تقدیرِ حق است
روزِ ہیجا تیرِ او تیرِ حق است!

اس (مردِ مومن) کا ارادہ حق تعالی کی تقدیر کا خالق ہے۔ جنگ کے دِن اس کا تیر حق تعالی (اللہ تعالی) کا تیر بن جاتا ہے۔ قرآن کریم کی ایک آیت میں حضور اکرم ﷺ سے خطاب ہے؛ ارشادِ خداوندی ہے کہ ” (اے سپاہیانِ لشکرِ اسلام!) اِن کافروں کو تم نے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کر دیا، اور (اے حبیبِ محتشم!) جب آپ نے (ان پر سنگ ریزے) مارے تھے (وہ) آپ نے نہیں مارے تھے بلکہ (وہ تو) اللہ نے مارے تھے۔ سورۃ الانفال؛ آیت نمبر 17“۔ علامہ نے اسی پس منظر میں یہ شعر کہا ہے۔

(حوالہ: جاوید نامہ: فلک مشتری: زندہ رود مشکلات خود را پیش ارواح بزرگ میگوید)

؎ عبث ہے شکوۂ تقدیرِ یزداں
تُو خود تقدیرِ یزداں کیوں نہیں ہے
(حوالہ: ارمغانِ حجاز)

؏ اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زِندوں میں ہے
(حوالہ: بانگِ درا: خضرِ راہ)


تھا جو ’ناخُوب، بتدریج وہی ’خُوب‘ ہُوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

حلِ لغات:

ناخُوبجو اچھا نہ ہو
بتدریجدرجہ بدرجہ، آہستہ آہستی
ضمیردِل، فطرت، سرِشت
حلِ لغات (ضربِ کلیم 6: تن بہ تقدیر)

تشریح:

اب اقبالؔ اس بات کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوا؟ جو لائحۂ عمل ایک بندۂ مومن کے لیے زہرِ قاتل تھا، جو مِلتِ اسلامیہ کے لیے موت کا پیغام تھا، وہ مسلمانوں کے  کے لیے قابلِ قبول کیونکر ہوگیا؟ بے عملی جو بہت بُری بات تھی وہ مسلمانوں کے لیے اچھی کیسے ہو گئی؟ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ غلامی ایسی لعنت ہے کہ اس میں قوموں کا ضمیر بدل جاتا ہے یعنی جب کوئی قوم بداعمالیوں کی بدولت، غلام بن جاتی ہے تو اُس کا معیارِ خیر و شر بھی بدل جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اچھی باتوں کو  بُرا اور بُری باتوں کو اچھا سمجھنے لگتی ہے۔ آج کے مسلمانوں کو دیکھ لو۔۔ جہالت، بُت پرستی، تقلیدِ کور (اندھی تقلید)، اسراف (فضول خرچی)، تن آسانی، عیاشی، یہ سب بُری باتیں ہیں لیکن مسلمان ان کو اچھا سمجھتے ہیں۔ علم، ایثار، اتحاد، کفایت شعاری اور ایمانداری، یہ سب اچھی باتیں ہیں لیکن مسلمان ان سب باتوں سے دُور بھاگتے ہیں۔ اسی لیے کہ مسلمان غلامی کے خوگر ہوگئے۔ کھُلی فضا میں اُڑ کر تلاشِ رزق کرنے کی بجائے قفس کے آب و دانہ کو پسند کر لیا۔

حوالہ جات

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments