نظم ”تاتاری کا خواب“ از علامہ اقبال
فہرست
تعارف
علامہ اقبال کی نظم ”تاتاری کا خواب“ ایک خواب کی صورت میں پیش کی گئی ہے اور اس خواب کے ردِعمل کی مظہر ہے۔ تاریخ کے مطابق، تاتاری قبائل وسطی ایشیا میں بڑے اثر و رسوخ کے حامل تھے اور کئی دہائیوں تک اپنے مضبوط قبائلی اتحاد اور جنگی قوت کی بدولت علاقے پر حکمرانی کرتے رہے۔ لیکن داخلی اختلافات، قبائلی جھگڑے، اور روحانی و سیاسی رہنماؤں کی ناکامی نے ان کی طاقت کو کمزور کر دیا۔ اِسی وجہ سے اُن کی سلطنتیں باہمی رزم و پیکار کے باعث زوال پذیر ہوئیں، اور بعد میں روس نے یکے بعد دیگرے اُنہیں مسخر کر لیا۔ نظم کے پہلے بند میں ایک تاتاری کی زبان سے اُن مصائب کی تفصیل بیان کی گئی ہے جو باشندگانِ ترکستان پر روسیوں کے تسلّط کے بعد نازل ہوئے۔ اقبالؔ نے محض تاتاری قبائل کے مابین نفاق کو ہی ان کی کمزوری اور عدم استحکام کا سبب قرار نہیں دیا بلکہ اس طرح سے پوری ملتِ اسلامیہ کے بارے میں بنیادی صورتِ حال کی نشاندہی کی۔
نظم ”تاتاری کا خواب“ کی تشریح
بند نمبر 1
کہیں سجّادہ و عمّامہ رہزن
کہیں ترسا بچوں کی چشمِ بے باک!

حلِ لغات:
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| سجادہ | جائے نماز، مصلا، دری |
| عمامہ | پگڑی، دستار |
| رہزن | راہ مار، لُٹیرا |
| ترسا | آتش پرست، عیسائی، یہودی وغیرہ |
| ترسا بچہ | وہ نو عمر خوبصورت لڑکے جو ساقی گری کا کام کرتے تھے |
| چشمِ بیباک | بے خوف اور نڈر نِگاہ |
تشریح:
تاتاری خواب میں کہتا ہے کہ قبائل و ملت کی رہنمائی جن علماء اور صوفیاء کی ذمہ داری تھی وہ نہ صرف خود اِس منصب کو بھول بیٹھے بلکہ اُن کو غلط راہ پر لگا رہے ہیں اور کہیں ساقی گری کرنے والے خوبصورت لڑکوں کی بیباک نگاہیں ایمان کی دولت پر ڈاکے ڈال رہی ہیں۔ (ترسابچہ: یہ لفظ عموماً شراب فروشوں کے ملازموں کے لیے استعمال ہوتا رہا، جنہیں حُسن و جمال میں امتیاز کی بنا پر ساقی گری کے کام پر لگایا جاتا تھا۔ چونکہ اُس دور میں شراب فروشی کا پیشہ عموماً یہودیوں اور عیسائیوں سے متعلق ہوتا تھا، اس لیے یہ لڑکے بھی انہیں کے ہم قوم ہوتے تھے۔)
ردائے دِین و ملّت پارہ پارہ
قبائے ملک و دولت چاک در چاک!

حلِ لغات:
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| رِدا | چادر |
| پارہ پارہ | ٹکڑے ٹکڑے |
| قبا | ایک قسم کا کھُلا لباس |
| چاک در چاک | جگہ جگہ سے پھٹی ہوئی، پُرزے پُرزے |
تشریح:
دین اور مِلت کی چادر ٹکڑے ٹکڑے ہو چُکی ہے، یعنی مذہبی اور قومی وحدت بکھر گئی ہے، اُن میں تفرقہ پڑ گیا ہے، وہ مختلف فرقوں اور گروہوں میں بٹ گئے ہیں اور اُن کی اجتماعیت ختم ہو چکی ہے۔ اسی طرح ملک اور دولت کا لباس بھی بُری طرح پھٹ چکا ہے، یعنی سیاسی طاقت ختم ہو گئی، مُلک غیروں کے قبضے میں چلا گیا، دولت لُٹ گئی اور وہ معاشی طور پر بھی بالکل تباہ ہو گئے ہیں۔
مرا ایماں تو ہے باقی و لیکن
نہ کھا جائے کہیں شُعلے کو خاشاک!

حلِ لغات:
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| خاشاک | گھاس پھونس |
تشریح:
بیشک میرا ایمان باقی ہے لیکن مجھے یہ غم کھائے جا رہا ہے کہ کہیں فِتنوں کا گھاس پھوس ایمان کے شعلے کو بُجھا کر نہ رکھ دے۔ شاید کسی کے دل میں یہ شبہ پیدا ہو کہ گھاس پھوس شعلے کو نہیں بُجھا سکتا لیکن شعلہ معمولی ہو اور گھاس پھونس کا انبار ایک دم اُس پر ڈال دیا جائے تو شعلہ دب کر افسردہ ہو جاتا ہے۔ اس بات سے اقبالؔ کا مطلب صرف یہ ہے کہ ایمان اگرچہ باقی رہ گیا ہے، تاہم فتنوں نے جو قیامت بپا کی ہے‘ اُس میں یہ باقی رہتا نظر نہیں آتا۔
ہوائے تُند کی موجوں میں محصور
سمرقند و بخارا کی کفِ خاک!

حلِ لغات:
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| تُند | تیز، سخت، شدید، پُرزور |
| محصور | گھِری ہوئی، پابند، قید |
| کفِ خاک | مٹی کی مُٹھی، مراد لوگ |
تشریح:
تاتاری قبائل آپس میں دست و گریباں ہیں۔ دشمن اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہو چکے ہیں اور وہ سمرقند و بخارا پر یلغار کے لیے صف آرائی پر مصروف ہیں۔ تاتاریوں کی غفلت کے باعث ملک و سلطنت دونوں خطرات میں گھِر کر رہ گئے ہیں۔ اب بھی اگر اُنہیں اِس حقیقت کا احساس نہ ہوا تو تباہی ان کا مقدر بن جائے گی۔
’بگرداگردِ خود چندانکہ بینم
بلا انگشتری و من نگینم‘

حلِ لغات:
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| بِگرداگرد | چاروں طرف سے |
| خود | اپنا آپ |
| چندانکہ | اس قدر کہ |
| بینم | دیکھتا ہوں |
| انگشتری | انگوٹھی |
| نگینم | نگینہ |
تشریح:
یہ فارسی کا شعر ہے جس میں تاتاری اپنی بے بسی اور لاچاری کا اظہار کر رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ”میں اپنے گرد و پیش جتنا بھی دیکھتا ہوں، ہر طرف مصیبت اور آفت نظر آتی ہے، اور میں بالکل بے بس ہوں جیسے انگوٹھی میں نگینہ۔“ یہاں انگوٹھی اور نگینے کی تشبیہ بڑی معنی خیز ہے۔ جس طرح نگینہ انگوٹھی میں جڑا ہوتا ہے اور اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتا، بالکل اسی طرح تاتاری خود کو چاروں طرف سے مصائب میں گھِرا ہوا محسوس کر رہا ہے اور کوئی راستہ نہیں ملتا۔ وہ اپنی قوم کی تباہی دیکھ رہا ہے، ہر سمت مشکلات ہیں، لیکن اس کے پاس کوئی حل نظر نہیں آتا۔ یہ مایوسی اور بے چارگی کی انتہا ہے جو تاتاری کی ذہنی کیفیت کو ظاہر کرتی ہے۔
بند نمبر 2
یکایک ہِل گئی خاکِ سمرقند
اُٹھا تیمور کی تُربت سے اک نور

حلِ لغات:
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| خاک ہِل جانا | زلزلہ سا آجانا، بھونچال آنا |
| تمیور | مشہور مسلمان فاتح، امیر تیمور |
| تُربت | قبر |
تشریح:
خواب دیکھتے دیکھتے اچانک ایک عجیب نظارا سامنے آیا یعنی سمرقند کی سرزمین میں بھونچال سا آ گیا اور وہ لرزنے لگی۔ یَکایَک تیمور کی قبر سے نور کی ایک لہر اُٹھی۔
شفَق آمیز تھی اُس کی سفیدی
صدا آئی کہ “مَیں ہوں رُوحِ تیمور

حلِ لغات:
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| شفق آمیز | سُرخی مائل |
تشریح:
تیمور کی قبر سے جو شعاع برآمد ہوئی ہر چند کہ اُس کا رنگ کافی حد تک سفید تھا پھر بھی اس میں یوں لگتا تھا کہ شفق کی سُرخی کی کسی حد تک آمیزش ہے۔ یہی نہیں بلکہ اُس شعاع میں سے ایک صدا برآمد ہوئی کہ ”میں روحِ تیمور ہوں! اور تاتاری قبائل میں عدم اتحاد و نفاق کے سبب ہر لمحہ پریشان اور بے چین رہتی ہوں!“
اگر محصُور ہیں مردانِ تاتار
نہیں اللہ کی تقدیر محصور

حلِ لغات:
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| محصُور | گھِرا ہوا، پابند، قید |
تشریح:
اگر تاتار کے مردانِ مجاہد مصیبتوں میں گھِر گئے ہیں اور فتنوں کی سَیل نے اُنہیں نرغے میں لے لیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ خدا کی تقدیر بھی گھِر سکتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کائنات کا کوئی فتنہ خدا کی تقدیر پر اثر انداز نہیں ہو سکتا لیکن اس سے وہی لوگ فائدہ اُٹھا سکتے ہیں جو خدا کے احکام پر چلیں اور اُس کے مقرر کیے ہوئے قاعدوں کے پابند رہیں۔ اگر تاتاری اِن مصیبتوں سے نجات پانا چاہتے ہیں تو اُنہیں خدا کے احکام کا پابند ہونا چاہیے اور اپنی قوتوں کو متحد کر کے مجاہدوں کی طرح فتنوں کا مقابلہ کرنا چاہیے۔
تقاضا زندگی کا کیا یہی ہے
کہ تُورانی ہو تُورانی سے مہجور؟

حلِ لغات:
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| تقاضا | منشا، مقصد |
| مہجُور | مراد جُدا جُدا / دُور کِیا گیا / الگ الگ |
تشریح:
تاتاریوں کی حالت کیا ہے؟ وہ ایک دوسرے سے جدا جدا اور باہم دگر ٹکڑوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ میں (روحِ تیمور) پوچھتی ہوں کہ کیا عزت کی زندگی کا تقاضا یہی ہے؟ کیا قومیں پھوٹ ہی کے ذریعہ سربلند ہوتی ہیں اور اپنے آپ کو فِتنوں اور مصیبتوں کے طوفان سے بچاتی ہیں؟ گویا تیمور کے نزدیک تاتاری اپنی مصیبتوں کے آپ ذمہ دار ہیں۔ وہ متحد ہو جائیں تو اُنہیں کسی فتنہ کا ڈر نہیں ہو سکتا
خودی را سوز و تابے دیگرے دہ
جہاں را انقلابے دیگرے دہ“

حلِ لغات:
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| سوز | آگ، تپش |
| تاب | حرارت، شِدت |
| دیگرے | دوسرا، نیا |
| جہاں | دنیا |
| انقلاب | تبدیلی، اُلٹ پلٹ |
تشریح:
تیمور کی روح اپنا پیغام مکمل کرتے ہوئے تاتاریوں کو حتمی حکم دیتی ہے کہ اپنی خودی کو ایک نیا سوز و تاب، ایک نیا جوش اور ولولہ عطا کرو۔ اپنے اندر کی قوت کو بیدار کرو، اپنے وجود میں نئی آگ اور حرارت پیدا کرو اور اس کے بعد دُنیا میں انقلاب برپا کر دو۔
یعنی صرف اپنے آپ کو بدلنا کافی نہیں، بلکہ پوری دنیا میں تبدیلی لانی ہے، نظام کو بدلنا ہے، حالات کو تبدیل کرنا ہے۔ یہ محض اصلاح کا نہیں بلکہ مکمل انقلاب کا مطالبہ ہے۔ اقبالؔ کا پیغام واضح ہے کہ پہلے اندرونی تبدیلی ضروری ہے، خودی کو مضبوط کرنا لازم ہے، اور پھر اس مضبوط خودی کے ذریعے دنیا میں انقلاب برپا کرنا ہے۔ یہ محض مایوسی اور شکایت کا وقت نہیں بلکہ عمل اور تعمیر کا وقت ہے۔
حوالہ جات
- شرح بالِ جبریل از پروفیسر یوسف سلیم چشتی
- شرح بالِ جبریل از ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی
- شرح بالِ جبریل از اسرار زیدی
- شرح بالِ جبریل از پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی
- مطالبِ بالِ جبریل از مولانا غلام رسول مہر






