غزل ”کُشادہ دستِ کرم“ از علامہ اقبال
فہرست
تعارف
علامہ اقبال کی غزل ”کُشادہ دستِ کرم“ 1904ء کے ”مخزن“ میں شائع ہوئی تھی اور اس کے چودہ شعر تھے۔ بانگِ درا میں شامل کرتے وقت پانچ قلمزد کردی گئے۔
غزل ”کُشادہ دستِ کرم“ کی تشریح
کُشادہ دستِ کرم جب وہ بے نیاز کرے
نیاز مند نہ کیوں عاجزی پہ ناز کرے

حلِ لغات:
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| کُشادہ | کھُلا ہ وا |
| دستِ کرم | کرم کا ہاتھ |
| بے نیاز | مراد اللہ تعالیٰ، جو کسی کا محتاج نہیں اور سب اُس کے محتاج ہیں |
| نیازمند | حاجت مند |
| عاجزی | انکساری |
| ناز کرنا | فخر کرنا |
تشریح:
جب اللہ تعالی، جو خود بے نیاز اور غنی ہے اپنی رحمت و کرم کا دروازہ کھول کر بندے کی طرف التفات فرماتا ہے تو اُس لمحے بندے کی عاجزی اور نیاز مندی ایک قابلِ فخر وصف بن جاتی ہے۔ یعنی عاجزی وہ وسیلہ ہے جس کے ذریعے خدا کا کرم نازل ہوتا ہے اور جب کرم نازل ہو تو عاجزی پر ناز کرنا بالکل فطری اور بجا ہے۔ اقبالؔ یہاں ایک لطیف نکتہ یہ بھی بیان کر رہے ہیں کہ خدا کا بے نیاز ہونا اور بندے کا نیاز مند ہونا ایک دوسرے کے متضاد نہیں بلکہ یہ دونوں مل کر اس الٰہی رشتے کو مکمل کرتے ہیں۔ خدا کا کرم اُسی وقت ظاہر ہوتا ہے جب بندہ اپنی بے چارگی اور احتیاج کا اعتراف کرے۔
بِٹھا کے عرش پہ رکھّا ہے تو نے اے واعظ!
خدا وہ کیا ہے جو بندوں سے احتراز کرے

حلِ لغات:
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| واعظ | وعظ کرنے والا، نصیحت کرنے والا، اخلاق کا درس دینے والا |
| احتراز | دُور رہنا، پرہیز کرنا |
تشریح:
اِس شعر میں اقبالؔ نے واعظ کے اُس محدود تصورِ خدا پر طنز کیا ہے جس میں خدا کو صرف عرش تک مقید سمجھا جاتا ہے۔ اقبالؔ کہتے ہیں کہ وہ خدا ہی کیا جو اپنی مخلوق سے کترائے اور دور رہے، کیونکہ قرآن خود کہتا ہے کہ اللہ انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ واعظ نے اپنے وعظ میں خدا کو آسمان پر بٹھا کر اُسے مخلوق سے بے تعلق اور الگ تھلگ کر دیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ خدا کا جلوہ کائنات کی ہر شے میں جاری و ساری ہے۔ یوں واعظ نے لاعلمی میں خدا کے لامحدود وجود کو محدود کر دیا ہے اور یہی اُس کی کج فہمی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
مری نگاہ میں وہ رند ہی نہیں ساقی
جو ہوشیاری و مستی میں امتیاز کرے

حلِ لغات:
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| رِند | شراب پینے والا |
| ساقی | شراب پِلانےوالا |
| ہوشیاری | ہوش میں ہونا |
| مستی | ہوش میں نہ ہونا |
| اِمتیاز کرنا | فرق کرنا |
تشریح:
اِس شعر میں علامہ نے رِندی کی حقیقی روح کو بیان کیا ہے۔ اُن کے نزدیک سچا رِند وہ ہے جو ہر لمحہ مستِ عشق رہے اور جس کی یہ مستی اُس کی مستقل کیفیت بن جائے۔ جو شخص ہوشیاری اور مستی میں فرق محسوس کرے وہ درحقیقت ابھی عشق کی اُس منزل تک پہنچا ہی نہیں جہاں سالِک فنا ہو جاتا ہے اور محبوب کی یاد کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا۔ اقبالؔ کے تصور میں رِندی عشقِ الٰہی میں اس طرح ڈوب جانا ہے کہ ہوش و بے ہوشی کی تمیز ہی جاتی رہے۔ یہ وہی کیفیت ہے جسے صوفیا فنا فی اللہ کہتے ہیں کہ بندہ اپنے آپ کو بھول کر محض اپنے محبوب میں گُم ہو جائے۔
مدام گوش بہ دل رہ، یہ ساز ہے ایسا
جو ہو شکستہ تو پیدا نوائے راز کرے

حلِ لغات:
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| مدام | ہمیشہ |
| گوش بہ دِل | دِل کی آواز پر کان لگانا |
| شِکستہ | ٹوٹا ہوا |
| نوائے راز | راز کا گیت، دَلی راگ |
تشریح:
دِل ایک ایسا ساز ہے کہ شِکستگی اُسے خاموش نہیں کرتی بلکہ اِس سے راز کے نغمے پھوٹنے لگتے ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ ہر وقت اپنے دل کی کیفیت پر نظر رکھے اور اُس کی آواز سننے کے لیے ہمیشہ متوجہ رہے۔ جب دِل درد و غم اور عشق کی شکستگی سے گزرتا ہے تو اُس میں سوز و گداز کی وہ کیفیت پیدا ہوتی ہے جو اسرارِ حیات کو منکشف کرتی ہے۔ یعنی ناکامیاں اور تکالیف دراصل انسان کو حقیقت سے قریب کرتی ہیں اور دِل اُسی وقت خانۂ خدا بنتا ہے جب وہ ٹوٹ کر سوز سے بھر جائے۔
؎ تُو بچا بچا کے نہ رکھ اِسے، تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں
(بانگِ درا: کبھی اے حقیقتِ منتظر)
کوئی یہ پُوچھے کہ واعظ کا کیا بگڑتا ہے
جو بے عمل پہ بھی رحمت وہ بے نیاز کرے

حلِ لغات:
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| واعظ | وعظ کرنے والا، نصیحت کرنے والا، اخلاق کا درس دینے والا |
| بے عمل | عمل نہ کرنے والا |
| بے نیاز | مراد اللہ تعالیٰ، جو کسی کا محتاج نہیں اور سب اُس کے محتاج ہیں |
تشریح:
اِس شعر میں واعظ کے اُس رویے پر طنز کیا ہے جس میں وہ خدا کی رحمت کو صرف باعمل لوگوں تک محدود سمجھتا ہے۔ اقبالؔ کہتے ہیں کہ کوئی واعظ سے یہ سوال تو کرے کہ اگر خدائے بے نیاز اپنی لامحدود رحمت سے کسی بے عمل کو بھی بخش دے تو اُس میں واعظ کا کیا نقصان ہے۔ خدا قادرِ مطلق ہے اور اُس کی رحمت کسی کی اجازت یا شرط کی محتاج نہیں۔ واعظ نے اپنے وعظ میں خدا کو ایک سخت محاسب کے روپ میں پیش کر کے اُس کی رحمت و کرم کے پہلو کو نظر انداز کر دیا ہے۔ اقبالؔ یہ بھی باوَر کراتے ہیں کہ عبادت اور نیک عمل بے شک ضروری ہیں لیکن آخری فیصلہ خدا کا ہے اور اُس کی رحمت واعظ کے مقرر کردہ معیاروں کی پابند نہیں۔
سخن میں سوز، الٰہی کہاں سے آتا ہے
یہ چیز وہ ہے کہ پتھّر کو بھی گداز کرے

حلِ لغات:
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| سُخن | بات، شعر، کلام |
| شوز | تپِش، گرمی، جلن |
| گُداز کرنا | پِگھلا دینا |
تشریح:
اس شعر میں اقبالؔ نے تجاہلِ عارفانہ کے انداز میں خدا سے سوال کِیا ہے کہ شعر و سُخن میں یہ سوز و گداز کہاں سے آتا ہے۔ یہ سوز اتنی طاقتور شے ہے کہ سنگ دل انسان کو بھی موم کر دیتی ہے اور پتھر جیسے دلوں میں بھی گداز پیدا کر دیتی ہے۔ علامہ سے بڑھ کر کون اس حقیقت سے آگاہ ہو سکتا ہے کہ سُخن کا سوز دراصل شاعر کے دل کی تڑپ اور عشقِ الہی کا عطیہ ہے۔ یہ سوز کوئی فن یا مہارت سے حاصل ہونے والی چیز نہیں بلکہ خداداد نعمت ہے جو وہ بے نیاز جسے چاہے عطا کر دے۔ یوں یہ شعر اس حقیقت کا اظہار ہے کہ حقیقی شاعری وہی ہے جس میں دل کا سوز ہو اور وہ سوز بھی انسان کی اپنی کمائی نہیں بلکہ خدا کی بخشش ہے۔
تمیزِ لالہ و گُل سے ہے نالۂ بُلبل
جہاں میں وا نہ کوئی چشمِ امتیاز کرے

حلِ لغات:
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| تمیز | فرق |
| لالہ و گُل | مختلف قسم کے پھول |
| نالۂ بُلبُل | بُلبُل کی فریاد |
| وا کرنا | کھولنا |
| چشمِ امتیاز | فرق کرنے والی آنکھ |
تشریح:
اِس شعر میں بلبل اور پھولوں کی مشہور علامت کو ایک نئے زاویے سے برتا گیا ہے۔ بلبل کا نالہ اس لیے ہے کہ وہ لالہ اور گلاب میں فرق کرتی ہے اور صرف گلاب سے محبت رکھتی ہے، چنانچہ جب گلاب نہ ملے تو فریاد کرتی ہے۔ اقبالؔ اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ امتیاز اور فرق کرنے کی عادت ہی دکھ اور محرومی کا اصل سبب ہے۔ اگر نظر تمام پھولوں کو یکساں دیکھے تو نہ ہجر ہو نہ فریاد۔ اِس شعر میں علامہ نے فرقہ واری اور گروہ بندی کی لطیف مذمت کی ہے کہ جب انسان رنگ، نسل یا مسلک کی بنیاد پر امتیاز برتتا ہے تو تفرقہ اور پریشانی لازماً پیدا ہوتی ہے۔ حقیقی نظر وہ ہے جو ظاہری فرق سے بالاتر ہو کر سب میں ایک ہی حقیقت کو دیکھے۔ راقم یزدانی کے بقول:-
واعظ تجھے مبارک تیری پانچ وقتی ورزِش
یہ زباں بھی ہو مبارک جو چھُری سے کم نہیں ہے
تجھے کیا خبر کہ کیا ہے رہ رسمِ اُنس و اُلفت
تیرا دِل ہے پُر خشونت، تیری آنکھ نم نہیں ہے
غرورِ زُہد نے سِکھلا دیا ہے واعظ کو
کہ بندگانِ خدا پر زباں دراز کرے

حلِ لغات:
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| غرورِ زہد | عبادت و ریاضت کا غرور |
| واعظ | وعظ کرنے والا، نصیحت کرنے والا، اخلاق کا درس دینے والا |
| زباں دراز کرنا | بُرا بھلا کہنا، گالیاں دینا |
تشریح:
علامہ نے یہاں واعظ کی اُس نفسیاتی کمزوری کو بے نقاب کیا ہے جو زہد و عبادت کے غرور سے جنم لیتی ہے۔ واعظ اپنی پرہیزگاری کو اتنا بڑا سمجھتا ہے کہ وہ دوسرے بندگانِ خدا کو حقیر جانتا ہے اور اُن پر زبان دراز کرنے میں کوئی عار نہیں سمجھتا۔ اقبالؔ کہتے ہیں کہ یہ رویہ دراصل عبادت کا ثمر نہیں بلکہ تکبر کی علامت ہے کیونکہ سچی عبادت انسان کو عاجز بناتی ہے نہ کہ مغرور۔ واعظ بھول جاتا ہے کہ جن لوگوں پر وہ طنز کرتا ہے وہ بھی اُسی خدا کے بندے ہیں اور اُن کا حساب کتاب خدا کے ذمے ہے نہ کہ واعظ کے۔ یوں غرورِ زہد نے واعظ کو نیکی کے راستے سے ہٹا کر تکبر اور دلآزاری کی راہ پر ڈال دیا ہے۔
ہوا ہو ایسی کہ ہندوستاں سے اے اقبالؔ
اُڑا کے مجھ کو غبارِ رہِ حجاز کرے

حلِ لغات:
| الفاظ | معنی |
|---|---|
| غبار | گرد، مٹی |
| رہِ حجاز | حجاز کا راستہ، خانہ کعبہ اور رسول کریم ﷺ کے مزارِ انور کی زیارت کی خواہش |
تشریح:
اِس شعر میں اقبالؔ نے عشقِ رسول ﷺ کی اپنی گہری تڑپ کو نہایت دلکش انداز میں بیان کیا ہے۔ وہ آرزو کرتے ہیں کہ کوئی ایسی ہوا چلے جو اُنہیں ہندوستان سے اُٹھا کر حجاز کے راستے کا غبار بنا دے، یعنی راہِ حجاز میں فنا کر دے۔ غبار کی تشبیہ خاص طور پر معنی خیز ہے کہ غبار ہوا کے ساتھ بے اختیار اُڑتا ہے، اپنی کوئی مرضی نہیں رکھتا، یوں اقبالؔ عشق میں مکمل فنا اور بے اختیاری کی تمنا کر رہے ہیں۔
یہ شعر 1904ء کے لگ بھگ کا ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عشقِ رسول ﷺ کا رنگ اقبال کے دل میں جوانی ہی سے کارفرما تھا۔ یہ سچ ہے کہ وہ حجاز نہ جا سکے لیکن عشقِ رسول ﷺ کی بدولت لاکھوں مسلمانوں کے محبوب ضرور بن گئے۔ اُنہوں نے اپنے آپ کو سرکارِ دوعالم ﷺ کے عشق میں فنا کر دِیا تو حضور ﷺ نے بھی اُن کو زندۂ جاوید کر دِیا۔
حوالہ جات
- شرح بانگِ درا از پروفیسر یوسف سلیم چشتی
- شرح بانگِ درا از ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی
- شرح بانگِ درا ا ڈاکٹر شفیق احمد
- شرح بانگِ درا از اسرار زیدی
- شرح بانگِ درا از پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی
- مطالبِ بانگِ درا از مولانا غلام رسول مہر
- آوازِ اقبال – بانگِ درا مع مطالب از نریش کمار شادؔ






